حدسے زیادہ خوداعتمادی اور ہٹ دھرمی لے ڈوبے گی

جاویدجمال الدین

ملک کو بس ایک ہی رنگ میں رنگنے اور اقلیتی فرقے کو قومی مسائل کے لیے ذمہ دار قرار دے کر بی جے پی پراکثریتی ووٹوں کی سیاست اپنانے کی دھن سوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چندروز قبل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ’ابا جان‘ والے بیان پر سیاست گرم ہوچکی ہے اور تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ مذکورہ بیان کی وجہ سے ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر سوشل میڈیا پریوگی آدتیہ ناتھ پریشانی میں مبتلا ہوتے نظر آئےہیں، پھر بھی وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور اس کی بنیاد پر اپوزیشن کو نشانہ بنا رہے ہیں،اس معاملہ میں بہار کے مظفر پور کی ایک عدالت میں داخل ایک عرضی پر سماعت کے لیے منظوری بھی مل گئی ہے۔ خیر اس کا حشر بھی سابقہ عرضی کی طرح ہی ہوگا۔

دراصل وزیر اعلیٰ یوگی پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے 12 ستمبر کو اپنے ایک بیان کو اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو پر حملہ ٹھہرایا جا رہا ہے، اس لیے پہلے تو سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ پر شدید حملہ کیا، اور پھر کانگریس، ٹی ایم سی اور نیشنل کانفرنس نے بھی ’ابا جان‘ والے بیان کی بھرپور مذمت کی۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس تعلق سے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ بی جے پی کے پاس فرقہ پرستی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت کے سوا دوسرا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔

ملک میں کچھ عرصے سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ بی جے پی کے ذمہ دار قائد جو دستوری عہدوں پر فائز ہیں وہ بھی اب کھلے عام فرقہ واریت کا مظاہرہ کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ویسے تو بی جے پی تقریباً تمام ہی قائدین اپنی اپنی سطح پر فرقہ پرستی کو فروغ دیتے ہوئے عوامی زندگی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں اور کئی لوگ اس کامیاب تجربہ کی وجہ سے ترقی کی منزلیں طے بھی کر چکے ہیں۔

تاہم پہلے دستوری عہدوں پر فائز افراد اس معاملے میں احتیاط سے کام لیا کرتے تھے ۔ان کا مکھوٹا ہوتا تھا،لیکن اب انہیں اس کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے اور وہ سب اپنے اصل چہرے کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ ان میں سرفہرست اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی ہیں۔وہ اشتعال انگیز بیانات دینے کیلیے شہرت رکھتے ہیں ۔بی جے پی۔کے ایم پی کے طورپر وہ اشتعال انگیزی کرچکے ہیں۔ حال میں آدتیہ ناتھ نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2017 سے پہلے غریبوں کو راشن ملنا مشکل تھا ۔ سارا راشن ابا جان کہنے والے لوگ ہضم کر جاتے تھے ۔ اب اکثریتی فرقے کوبھی حکومت سے راشن مل رہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک ریمارک ہے اور ایک دستوری عہدہ پر فائز ریاست کے سربراہ کو ایسے ریمارکس کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ تاہم بی جے پی قائدین اب عوامی زندگی میں کسی بھی طرح کے اقدار اور روایات کی پاسداری کیلیے تیار ہی نہیں ہیں ۔خودوزیراعظم نریندرمودی پربھی الزام لگایا جاتاہے کہ انتخابات کے دوران سماج میں انتشارپیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا یہ سلسلہ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے شروع کیاتھا۔ ایک انتخابی جلسہ میں مودی نے اس وقت کہا تھا کہ اگر گاوں میں ایک قبرستان بنتا ہے تو ایک شمشان بھی بننا چاہیے۔بجلی کی سپلائی ہولی اور عید کے موقع پر یکساں ہونا چاہیئے۔وزیراعظم کے ان ریمارکس پربھی تنقیدیں ہوئی تھیں، لیکن توقع کے مطابق ان کا کوئی اثرنہیں ہوا تھا۔معاشرہ میں تفریق پیدا کرتے ہوئے انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہی بی جے پی کا کامیاب ہتھیاربن گیا ہے۔ اس میں وہ ماہر ہوچکی ہے۔ ہر موقع پر مذہبی تفرقہ پیدا کرتے ہوئے عوام کے ووٹ حاصل کر لیتے ہیں اور پانچ سال تک عوام کا استحصال کیا جاتا ہے ۔

 اتر پردیش میں بھی آئندہ سال کے آغاز میں  اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس  کیلیے چند ماہ رہ گئے ہیں اور سیاسی پنڈت مذکورہ انتخابات میں بی جے پی کو بھاری نقصانات کی اور اس کی نشستیں کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے پاس عوام سے رجوع ہونے کیلیے کوئی ترقیاتی ایجنڈانہیں ہے۔ عوام کیلیے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیئے گئے ہیں۔ اس عرصے میں عوام کو بی جے پی اقتدار میں کافی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔روزمرہ کی اشیاءکی  قیمتیں دگنی تگنی ہوگئی ہے ۔ بیروزگاری کا برا حال ہے اور وزیراعظم مودی کی سالگرہ پر سارے ملک میں اپوزیشن نے احتجاج کیاہے۔کیونکہ سرکاری  کمپنیاں نجی اداروں کو بیچی جارہی ہیں اور اس کے سبب موجودہ ملازمتیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔مودی جی کاوعدہ وفا نہیں ہوسکا کہ ہرسال دوکروڑ ملازمتیں دی جائیں گی۔اس کے ساتھ دیڑھ دوسال سے کوویڈ19کی وجہ سے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن نے تجارت کو ٹھپ کردیا ہے اور تاجر بھی بے حال ہیں۔اس کے بعد جوحالات پیدا ہوئے ہیں، اس لیے بی جے پی نے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹاکر  ایک بار پھر فرقہ پرستی کا سہارا لیا ہے اور اس کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں ۔ اس کا سہارا اعلی اقتدار پر بیٹھے لیڈران لے رہے ہیں۔اس کا آغازآدتیہ ناتھ نے کردیا ہے ۔ ہندو مسلم تفرقہ پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہی بی جے پی کا ایک پرانا حربہ ہے اورانتخابات کی تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ اس میں شدت پیدا ہوجائے گی۔

 دراصل اس قسم کی کوشش ملک کے جمہوری نظام کو داغدار اورکھوکھلا کرنے کی وجہ بنتی ہیں اور ایسی کوششوں سے گریز کیا جانا چاہیے ۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کی دوسری معیاد ہے۔اتر پردیش میں بی جے پی حکومت اسمبلی انتخابات جیتنے کے لیے ہرحد پار کرنے میں لگی اورعوام کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کے بجائے رخ کو دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی توبی جے پی کی حدسے زیادہ خوداعتمادی اور ہٹ دھرمی اسے لے ڈوب سکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔