دہلی دربار میں کل جماعتی اجلاس اور جموں کی سیاسی قیادت

الطاف حسین جنجوعہ

5/اگست2019کے بعد قائم تعطل کو توڑ کرجموں وکشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی اور مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی غرض سے وزیر اعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس میں جموں وکشمیر سے7سیاسی جماعتوں کے 14لیڈران کو مدعو کیاگیاہے۔ ان میں 4 سابقہ وزراء اعلیٰ، چار نائب وزرا ء اعلیٰ اور پانچ مختلف سیاسی جماعتو ں کے سربراہان ہیں۔ مدعو لیڈران میں کوشش کی گئی ہے کہ جموں وکشمیر کے سبھی خطوں وذیلی علاقوں کی بھی نمائندگی ہوجائے۔جنوبی کشمیر، شمالی کشمیر، وسطی کشمیر، جموں، وادی چناب اور پیر پنچال سے تعلق رکھنے والے لیڈران شامل ہیں۔ سابقہ وزرء اعلیٰ میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ(نیشنل کانفرنس)، غلام نبی آزاد(کانگریس)، محبوبہ مفتی (پی ڈی پی)، عمر عبداللہ (نیشنل کانفرنس)، نائب وزراء اعلیٰ میں مظفر حسین بیگ جوکہ اب پیپلز کانفرنس کا حصہ ہیں، تاراچند(کانگریس)، کاویندر گپتا(بی جے پی)، ڈاکٹر نرمل سنگھ (بی جے پی)کے علاوہ نیشنل پینتھرز پارٹی کے پروفیسر بھیم سنگھ، پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون، کانگریس کے غلام احمد میر، بھارتیہ جنتا پارٹی کے راویندر رینہ، سی پی آئی(ایم)سنیئر رہنما محمد یوسف تاریگامی اور جموں وکشمیر اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری شامل ہیں اور یہ سبھی لیڈران سابقہ اراکین ِ قانون سازیہ یاسنیئر کابینہ وزرا ء رہ چکے ہیں۔ چھ لیڈران کا صوبہ جموں اور آٹھ کا تعلق کشمیر صوبہ سے ہے۔

          کل جماعتی اجلاس کا اعلان ہونے کے بعد سے جموں میں متعدد سیاسی تنظیموں اور لیڈران کی طرف سے اعتراضات، احتجاج کئے جارہے ہیں کہ اُنہیں کیوں دعوت نہ دی گئی۔ڈوگرہ سوابھمیان سنگٹھن کے چوہدری لال سنگھ، ایک جُٹ کے انکور شرما، ڈوگرہ صدرسبھا کے چیئرمین گل چین سنگھ چاڑک کے علاوہ کانگریس، پینتھرز پارٹی سے بھی آوازیں بلند ہوئیں۔ پینتھرز پارٹی چیئرمین ہرشدیو سنگھ نے احتجاج بھی کیا جن کا کہناتھاکہ جموں سے صرف ایک لیڈر بھیم سنگھ کو مدعو کیاگیا ہے، باقی جو لیڈران ہیں، وہ نیشنل پارٹیوں سے ہیں اور وہ مقامی مفادات متعلق بات نہیں کریں گے جبکہ کشمیر کی علاقائی سیاسی جماعتوں سے مدعو لیڈران کی تعدادزیادہ ہے۔کئی حلقوں سے یہ آوازیں بھی اُجاگر ہوئیں کہ گوجر بکروال طبقہ اور پہاڑی قبیلہ کو نظر انداز کیاگیا اور اِن کی نمائندگی کے لیے کسی لیڈر کو کیوں نہ بُلایاگیا۔اگر چہ بظاہربھاجپااور این سی لیڈران کچھ نہ بھولے لیکن متعددخفا ہیں۔

          پچھلے چند روز سے سوشل میڈیا پر ’’24جون کے کل جماعتی اجلاس‘‘کو لیکر خوب چرچا ہورہی ہے۔کئی بحث ومباحثے، مذاکرے ہورہے ہیں اور ہرکوئی الگ الگ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ مختلف سیاسی،سماجی تنظیموں سے وابستہ لیڈران وکارکنان، سول سوسائٹی ممبران یا دیگر پریشرگروپوں کے زعماء کے فیس بک وٹوئٹر تبصرے آپ پڑھیں اور غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بیشتر نے جموں سے مدعو لیڈران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اُن کی ترجمانی نہیں کرسکیں گے کیونکہ بقول اُن کے اِن میں بیشترلیڈران ایسے ہیں جن کا ایسا وژن نہیں جوصوبہ کے وسیع ترمفادات کی عکاسی کرتاہو۔ زیادہ ترلیڈران اپنی آئیڈیالوجی اور ایک مخصوص حلقہ تک محدود ہیں۔ اگر آپ ماضی پر نظر دوڑائیں تو تاریخ کے چند اوراق پلٹیں تو آپ پر یہ حقیقت عیاں ہوگی کہ ’جموں کی سیاسی قیادت‘کو لیکر آج کا رونانہیں، بلکہ یہ معاملہ عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔ یہاں کوئی بھی ایسا لیڈر پیدا نہ ہوسکا جس کو پورے صوبہ میں عوامی مقبولیت،سبھی حلقوں کا اعتماد حاصل ہو اور اُس کو خطہ کی معتبر آواز سمجھا جائے۔معصر لیڈران میں غلام نبی آزاد واحد ایسے لیڈر ہیں جن کا صوبہ کے ہر ضلع اور ہر حلقہ کے اندراعتباریت ہے، اُس کے علاوہ دیگر کوئی بھی لیڈرپورے جموں صوبے کے دس اضلاع کی بات کرنے یا وہاں کے لوگوں کی ترجمانی کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں ہمیشہ یہ مسئلہ رہا ہے مختلف سیاسی جماعتوں کے وہ لیڈران جوخود کوخطہ کا بڑا لیڈر سمجھتے ہیں یا تھے،زمینی حقائق سے نظریں چُرا کر ایک مخصوص نظر سے حالات وواقعات کو دیکھنے، پرکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی۔سرمائی راجدھانی جموں کے لیڈران کا نظریہ بھی چند اضلاع اور قصبہ جات تک ہی محدود رہتا ہے اور رہا ہے اور اِس سے وہ باہر نہیں نکل سکے اور نہ کبھی کوشش کی۔

          دس اضلاع پر مشتمل صوبہ جموں میں خطہ پیر پنچال کے دو اضلاع(راجوری، پونچھ)، وادی چناب کے (کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، ریاسی)کے علاوہ اودھم پور، ریاسی، کٹھوعہ، سانبہ اور جموں شامل ہیں۔ خطہ پیر پنچال اور وادی چناب کے علاقائی سیاسی وترقیاتی مسائل پر جب کبھی آواز اُٹھی تو اُس کا جموں کے لیڈر نے ساتھ تو دور کی بات، بیان تک بھی مشکل سے نہ دیا۔ اِس کی تازہ مثال آپ دیکھیں مغل شاہراہ اور سنتھن سڑک کھولنے پر مقامی سطح پر احتجاج ہوئے، لگاتار لوگ آوزایں بلند کرتے رہے لیکن جموں کے لیڈران کی طرف سے اِس پر توجہ نہ دی گئی۔اگر کہیں مجبوراًذکرکرنا بھی پڑجائے تو چنا ب اور پیر پنچال اضلا ع کا ذکر وغیرہ میں آتاہے۔وہاں لوگ کن کن مشکلات سے دو چار ہیں، کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی، صرف الیکشن کے دوران مجبوراً دور ہ کرنے جاتے ہیں اور پھر بے آبرو ہوکر لوٹنا پڑتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اِ ن دونوں خطوں کے لوگوں کی نظریں ہمیشہ کشمیری لیڈرشپ پر رہتی ہے۔

          یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جموں کی سیاسی قیادت وادی چناب اور پیر پنچال کی سیاسی لیڈرشپ کو اعتماد میں لیے بغیر اوراُن کے ساتھ کے بغیر کچھ بھی نہیں مگر اِن دونوں خطوں کو ہمیشہ نظر انداز کیاگیا۔ کبھی بھی صوبہ کے مختلف خطوں کی سیاسی قیادت نے آپس میں بات چیت کرنے، اقتصادی، سیاسی وسماجی مسائل پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھی۔ پوری کارروائی جموں شہر میں رہ کر اخباری بیانات، پریس کانفرنسیں کرنے سے پورے صوبہ کا لیڈر نہیں بناجاسکتا، اس کے لیے ہر جگہ کے لوگوں کی سیاسی، سماجی ومعاشی مشکلات کا مکمل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں کی مقامی قیادت کا تعاون وتال میل بھی ضرورر ہے۔کشمیر میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘تشکیل دیاگیا تو قاضی گنڈ سے لیکر کنگن گاندربل تک سبھی یک زباں ہوگئے، اُس کی دیکھا دیکھی ’جموں ڈکلیریشن ‘کی باتیں کی گئیں، مگر یہ صرف باتوں تک محدود رہا، لیڈران اس کے لیے ایک جگہ کوئی ایک نشست کرنے پر بھی اتفاق رائے قائم نہ کرسکے۔لیڈر تو وہ ہوتا ہے جوسبھی کو ساتھ لیکر چلے، سبھی کے احساسات وجذبات کا احترام کرے۔ جموں میں مختلف سیاسی جماعتوں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، اپنی پارٹی، پینتھرز پارٹی وغیرہ شامل ہیں، کے لیڈران اپنی جماعت کے نظریہ سے اِس قدر چپکے ہیں، کہ اُس کے باہر اُنہیں صحیح غلط کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لوگوں کے سیاسی، سماجی واقتصادی مطالبات اور خطہ کی جامع ترقی وبااختیاری کے لیے کوئی قابل ِ عمل کم سے کم لائحہ عمل نہیں۔ اعتماد تو تب قائم ہوگا جب آپ کو خود بھی کسی پر اعتماد ہوگا۔ وہ لیڈران جوخود کو جموں کا عوامی لیڈر سمجھتے ہیں، سے ایک عام شہری کے طور یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا خطہ کی سیاسی واقتصادی ترقی کو لیکر آپ کے پاس ایسا کوئی وژن ہے کہ جس کو سبھی اضلاع میں عوامی مقبولیت حاصل ہو، کوئی ایسی بات جوپورے خطہ کے عوامی مفاد میں ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جموں صوبہ میں سیاسی قیادت کا بحران رہا ہے اور اب بھی موجود ہے۔لیڈر وہ ہے جو لوگوں کے احساسات وجذبات کی نبض سمجھ کر اُس حساب سے اپنی حکمت ِ عملی طے کرے اور سبھی کو ساتھ لیکر چلے لیکن جموں میں تو لیڈران اپنی بات، اپنی سوچ، آئیڈیالوجی، ایجنڈا لوگوں پر زبردستی ٹھونسنا چاہتے ہیں جوکہ کسی کو بھی قبول نہیں ہوتا۔ بھیڑبکریوں کی طرح ہانکنے سے یہ لوگ تو ساتھ چلنے والے نہیں۔ جموں صرف کچی چھاؤنی سے لیکر پکے ڈنگے تک نہیں۔

          مبصرین کا خیال ہے کہ جموں کی سیاسی لیڈرشپ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے اور اِن وجوہات کی تلاش کر کے سدباب نکالناچاہیے کہ کیا وجوہات ہیں کہ وہ عوامی اعتماد حاصل نہیں کرپارہے۔کشمیر کا کوئی بھی لیڈرچاہیے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اُس پر وہاں کی عوام کو یہ اعتماد ضرور ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، جس بھی پلیٹ فارم پر جائیں گے، پورے کشمیر کے لوگوں کے مفادات کی بات کریں گے، کیونکہ وہ وسیع نظریہ رکھتے ہیں اور یہ کسی خاص مذہب، عقیدہ، طبقہ کیلیے نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے ہے۔ اس کے برعکس جموں کے لوگوں کو اعتماد ہی نہیں اور اِس کا اندازہ پچھلے چند دنوں سے لگاتار سوشل میڈیا پر جاری بحث سے لگایاجاسکتا ہے جہاں لوگ اپنے حدشات وتحفظات ظاہر کر رہے ہیں کہ اُن کے مطالبات کی ترجمانی ایک لیڈر بھی نہیں کرسکتا۔جموں کی مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو چاہیے کہ اُن کا کم سے کم مشترکہ لائحہ عمل ہو جس پر وہ مل بیٹھ سکیں۔ اعتماد تو تبھی ہوگا کم سے کم ایک مرتبہ اگھٹے لوگوں کے مسائل کو لیکر بیٹھیں تو سہی جس کے آثارنظر آتے نہیں۔ ہاں اگر مذہبی ونظریاتی تعصب کی عینک اُتار کر بلالحاظ سب کی سیاسی، معاشی وسماجی بااختیاری کے لیے کچھ کریں تو اُس کی عوامی حلقوں میں پذیرائی یقینی ہے۔ توقع ہے کہ آج کے اجلاس میں جموں کے لیڈران عوامی خدشات کے برعکس موثر نمائندگی کا حق ادا کریں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔