رمضان المبارک کے مہینے میں انتخابات

مسعود جاوید

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے یہ سات مرحلوں میں ہوں گے۔ اس دوران رمضان المبارک کے ایام بهی آتے ہیں خاص طور پر آخر کے تین مرحلے 6 مئی 12 مئی اور 19 مئی اور یہ بهی اتفاق ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد والی ؛  مغربی بنگال 27فیصد  ، اتر پردیش 20فیصد  اور بہار 17فیصد آبادی والی ریاستوں میں تقریباً نصف ووٹنگ رمضان میں ہوں گے۔  بہار کی 40 نشستوں میں سے 21 کے لیے ، اتر پردیش کی 80 میں سے  41 کے لیے اور مغربی بنگال کی 42 نشستوں میں سے 24 کے لیے ووٹنگ رمضان میں ہوں گے۔

اسکرین شاٹ سے جیسا کہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر فرنگی محلی اور مسلم پرسنل لاء خواتین کی ممبر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مسلمانوں کے اس مقدس مہینے کا خیال رکهتے ہوئے تاریخ کا تعین کرنا چاہیے۔  لیکن اسی کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور امانت اللہ خاں نے اور ترنمول کانگریس کے فرہاد حکیم نے بهی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن تاثر یہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ بعض ممبران کے احساسات کے لیے  سرخی اور کیپشن یہ لگائے جارہے ہیں کہ  مسلم تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

1-  میں سمجهتا ہوں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ ووٹنگ کم ہونے صورت میں نقصان اپوزیشن کا ہوگا۔ اور اگر ایسا ہے تو پهر اپوزیشن پارٹیوں کے ذمے داروں نے خواہ ترمیم ہو یا نہ ہو  اپنا اعتراض درج کیوں نہیں کرایا ؟

2- ایسا لگتا ہے کہ پرسنل لاء بورڈ کے بعض ممبران موقع اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بیان بازی کے لیے تاک میں رہتے ہیں۔  مسلم پرسنل لاء بورڈ کی توجہ متعدد بار اس طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ وہ اپنے ممبران کو تاکید کرے کہ اس طرح کے مسائل پر میڈیا سے بات کرنے سے قبل ذمے داروں کی رائے لے لیں یا میڈیا والوں کے سامنے واضح کردیں کہ ان کا ذاتی حیثیت کا ہے بورڈ کا نہیں ہے۔

رمضان المبارک ایک دن نہیں پورے مہینے کا معاملہ ہے۔ مکمل ایک مہینے کی رعایت یعنی انتخابات کو ایک مہینے کے لیے مقدم یا مؤخر کرنا آسان نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اس پوری مدت میں اہم تہواروں اور جمعہ کے دنوں کا خیال رکها گیا ہے۔

3 – اگر یہ تسلیم بهی کر لیا جائے کہ یہ بی جے پی کی سازش ہے جیسا کہ بعض لیڈروں نے کہا ہے، تو مسلمانوں کو اس سازش کو ایک مہمیز سمجهتے ہوئے پورے جوش و خروش سے زیادہ سے زیادہ ووٹ کرنا چاہیے۔ باد مخالف تو ہمیں اونچا اڑانے کے لیے ہے اس سے گهبرانا کیسا اس طرح کی عقابی صفت پیدا کرنے  اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔  سازش تو مخفی ہوتی ہے لیکن اب جبکہ کئی حلقوں نے اس کا انکشاف یا خدشے کا اظہار کر دیا ہے تو کیوں نہ اس کو ایک مزاحمتی شکل دے کر 99 فیصد مسلم ووٹنگ یقینی بنائی جائے۔

4- بدقسمتی سے ہمارے یہاں ان رائے عامہ ہموار کرنے والوں کی اکثریت ہے جو دوسروں کا ایجنڈا ہماری رگوں میں پیوست کرتے رہتے ہیں اور ہمارے اندر احساس کمتری ناامیدی اور تاریک مستقبل کے تصورات جنم دینے کے سبب ہوتے ہیں۔  حالات اور مسائل کا تجزیہ کرنا  ہم میں سے ہر علاقے کے ذی شعور طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے علاقوں کے لیے مناسب لائحہ عمل طے کرے۔

5- مسلمانان عالم حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے فرار کی راہ اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عالم عرب میں ہر مشکل کے پیچهے اسرائیل کا ہاتھ ڈهونڈ لیا جاتا ہے جس طرح ہمارے یہاں آر ایس ایس کا ہاتھ ڈهونڈ لیا جاتا ہے۔  اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ اسرائیل اور آرایس ایس کے ہاتھ نہیں ہوتے۔  لیکن کیا ہم ان ہاتھوں کی وجہ سے اپنا کام چهوڑ دیں؟

انتخابات میں حصہ لینا ایک قومی فریضہ ہے۔ جس عجلت اور شدت سے الیکشن کمیشن کی طے کردہ تاریخوں پر ہمارے بعض فرنگی محلی وغیرہ نے ردعمل ظاہر کیا ہے کیا اسی شدت سے وہ لوگ  مسلمانوں کی جانب سے 99 فیصد ووٹنگ کے لیے اپیل کریں گے جلسوں اور نکڑ میٹنگ اور سب سے اہم اور مؤثر یہ کہ  مساجد کے منبروں سے مسلم ووٹرز کی ذہن سازی کریں گے ؟

رمضان المبارک میں نواقض الصوم کے علاوہ کون سے ایسے کام ہیں جو مسلمان نہیں کرتا۔ نفس کی خلاف ورزی ہی تو عبادت ہے۔ روزے کا مطلب آرام کرنا اور بهوکے رہنا تو نہیں ہے۔  تو جب سارے کام کئے جا سکتے ہیں تو الیکشن جو پانچ سال میں ایک بار ہوتا ہے اس کے لیے چند صوبوں میں دو گهنٹے نکالنا اتنا بڑا مسئلہ کیوں؟  ہنگامہ ہے کیوں برپا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔