ریاستی انتخابات کے نتائج اور مسلمانوں کا رد عمل

مسعود جاوید

کل کے اسمبلی انتخابات کے نتائج  کے تناظر میں مسلمان ، دیگر اقلیتوں اور اکثریتی طبقہ کے انصاف پسند لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑنا ایک فطری شئے ہے۔ تاہم خوش ہونے، اطمینان کی سانس لینے اور پر امید ہونے کی مختلف طبقوں کی مختلف وجوہات ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور ضرورت ترجیحات کو طے کرتی ہے۔ جس کی جیسی ضرورت ہوتی ہے کسی واقعہ کو وہ  اسی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ محبت کرنے والوں کے لیے چاند محبوب کا چہرہ ہے جس میں ہلکا سا داغ ہے۔

” چاند سے ان کو تشبیہ دینا کم نگاہی نہیں تو کیا ہے،
چاند میں داغ دیکھا ہے میں نے، ان کے چہرے پہ دھبہ نہیں ہے۔ "

بچوں کے لیے چاند ایک کهلونہ اور چندا ماما ہے جس کے پاس نانی اماں بیٹهی ہیں اور بچے کو تیل مالش کر رہی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر ایک بھوکے شخص کے لیے چاند ایک روٹی ہے جو تھوڑی جل گئی ہے اور وہ اس کی طرف للچائی نظر سے دیکھتا ہے کہ کاش وہ گرے اور میں شکم کی آگ بجھاؤں۔

جس طرح ایک ہی چاند کے بارے میں مختلف لوگوں کا الگ الگ نظریہ اور رائے ہے اسی طرح کل کے نتائج پر خوشی کی الگ الگ توجیہ ہے۔

اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی سب بڑی ضرورت امن و امان اور لاء اینڈ آرڈر کی بالادستی ہے جس کے فقدان کا احساس موجودہ دور حکومت میں شدت سے ہوا۔ ہندو مسلم منافرت کی ایسی فضا شاید ملک کی تقسیم کے وقت بھی نہیں تھی اور اگر تھی بھی تو اس کے لیے اس وقت کے حالات ذمہ دار تھے۔ مگر پچھلے چند سالوں میں جس طرح کی زہر آلود فضا کو پهلنے پهولنے دیا گیا وہ حالات کی پیداور نہیں ہے۔وہ متعصب عناصر اور جماعت کی ایک منظم سازش اور منصوبہ کی پیداوار ہے جس سے نہ صرف مظلوم اقلیت بلکہ اکثریتی طبقہ کے انصاف پسند لوگ بھی نالاں ہیں لیکن ماحول کچھ ایسا بگاڑ دیا گیا کہ یہ لوگ بھی زبان کھولنے میں متذبذب رہے مبادا ان کو ” دیش دروہی ” کا خطاب نہ مل جائے۔

خوشی منانے والے دوسرے وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ملک کی پالیسیاں صحیح سمت میں گامزن نہیں ہیں  جس کے نتیجے میں تجارت، صناعت، ملازمت اور زراعت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں بھاری گراوٹ، اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ،  صنعتی پیداوار میں کمی، فیکٹریوں سے کاریگروں کی چھٹی  ملازموں کی برطرفی اور کسانوں کی خودکشی ایک جانب اور دوسری طرف بڑے سرمایہ کاروں اور کارپوریٹس کی کمائی میں ناقابل یقین حد تک اضافہ بینکوں کا عام لوگوں کو قرض دینے میں حیل و حجت لیکن بڑے سرمایہ کاروں کو ضابطوں کو نظر انداز کرکے آسان شرائط پر قرض مہیا کرنا اور بعد میں کوئی معقول یا غیر معقول عذر پیش کر کے قرضوں یا انٹرسٹ  معاف کرا نے کی کوشش۔ ۔۔ اور دوسری طرف چھوٹی چھوٹی رقم کے لیےکسانوں اور غریبوں کو ٹارچر کرنا۔ ایسے لوگ کل کے نتائج سن کر اگر ڈھول باجے کے ساتھ رقص نہیں کئے تو راحت کی سانس ضرور لیے کہ چلو اس اندھیری رات سے صبح کا سفر  کی ابتداء تو ہوئی اب 2019 کے نتائج اپوزیشن پارٹیوں کا مشترکہ لائحہ بنانے یا نہ بنانے پر منحصر ہے ۔

ایسی بات نہیں ہے کہ مسلمانوں کو بڑھتی مہنگائی نوٹ بندی اور دیگر ملکی امور میں دلچسپی نہیں ہے۔ دلچسپی تو ہے اور ہونی بھی چاہیئے اس لیے کہ مین اسٹریم سے ہم الگ نہ رہیں لیکن  ترجیحات میں اول درجہ ہماری سیکورٹی  ہے ” جان ہے تو جہان ہے”۔ سیکورٹی مسلمانوں کی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے۔ یہی وہ دکھتی رگ ہے جس پر لالو پرساد یادو نے ہاتھ رکھا ہماری کمزوری کو سمجھا  اور تقریباً بیس سال اقتدار میں رہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک المیہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں کہ ان کی ساری توانائی بس ایک امن کی حصولیابی میں صرف ہوتی ہے اور ہم دوسرے میدانوں میں خاطر خواہ ہیش قدمی نہیں کرپاتے اور نہ ہی ارباب اقتدار کے ساتھ برابری کے سطح پر بیٹھ کر بارگیننگ کر پاتے ہیں۔ سارا دن اسی کا گن گان کرتے رہتے ہیں کہ اس کے دور اقتدار میں کم از کم فرقہ پرستی کی زہر آلود فضا نہیں تھی۔ یہ ” کم از کم”  کیوں ؟ کیا لاء اینڈ آرڈر کو مینٹین کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں ہے ؟ بے شک ہے لیکن اس کے لیے اقتدار کہ راہداریوں میں ہمارا وجود لازم ہے  ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو صاحب اقتدار کو یاد دہانی کراتے رہیں اور استعفیٰ اپنی جیبوں میں تیار رکھیں۔

بہت سوچی سمجھی اس اسکیم کے تئیں متنبہ رہنے کی ضرورت ہے کہ "ان کو جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی فکر میں ایسا مشغول کردو کہ انہیں اپنے دستوری حقوق  مانگنے کا وقت ہی نہ ملے اور نہ خود وہ اس کے لیے فارغ ہوں کہ اپنی تعلیمی اور معاشی حالات میں بہتری لانے کے لیے کوئی لائحہ عمل بنا سکیں اور اسے عملی جامہ پہنا سکیں "۔

اس لیے وقت کی ایک اہم ترین ضرورت یہ بھی ہے کہ مختلف ملی جماعتیں اپنے اغراض و مقاصد کا دوبارہ جائزہ لیں اور duplication , repeatation سے بچیں ۔ ہر ملی تنظیم سیلاب سے متاثرین کے لیے ریلیف کا کام کیوں کرے۔ ہر قسم کے آفات ناگہانی کے لیے ریلیف کا کام کے لیے کوئی ایک جماعت کا اختصاص ہو۔ قانونی امداد اور عدالتوں میں پیروی کے لیے ایک تنظیم۔ تعلیمی اداروں کے قیام اور تعلیمی خدمات کے لیے کوئی ایک تنظیم ہو۔

آسان شرائط پر بلاسودی قرض مہیا کرانے اور بلاسودی کوآپریٹو بینک پورے ملک میں قائم کرنے کے لیے کوئی ایک تنظیم اور  مختلف کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع پر اپنے لوگوں کو لگانے کے لیے ایمپلائمنٹ ایکسچینج employment exchange۔  اور placement cell کے لیے ایک تنظیم۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔