سبریمالا مندر میں خواتین کا داخلہ: بھاجپا کا رخ اورمجوزہ رام مندر

سید منصورآغا

سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی آئینی بنچ نے 28 ستمبر بروز جمعہ ایک کے مقابلہ چار کی اکثریت سے کیرالہ میں واقع سبری مالا کے ایپّا مندرمیں جوان خواتین کے داخلے پر روائتی روک کو غیرآئینی قراردے کر خارج کردیا تھا اور ہر عمر کی عورتوں کو مندرمیں داخلے کی اجازت کا فرمان جاری کردیا تھا۔ لیکن بھاجپا اس فیصلے کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے۔ پارٹی کے قومی صدرامت شاہ نے کیرالہ میں ایک تقریر کے دوران ریاستی حکومت کو دھمکی دی کہ اگراس نے اس فیصلے کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے والوں کی دھرپکڑ کی تو وہ ریاستی حکومت کواکھاڑ پھینکیں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’ناقابل عمل ‘ (impractical) قراردیتے ہوئے عدالتوں کو نصیحت کی کہ وہ اس طرح کے احکامات صادر نہ کیا کریں (جو ہندوآستھا کے خلاف ہوں)۔ سپریم کورٹ کے حکم سے ناخوش کچھ لوگوں نے اس پر ہنگامہ شروع کردیا۔ جبراًعورتوں کو راستے میں روک دیا۔ دھتکارکرواپس بھگادیا۔ لیکن جب ریاستی حکومت نے عدالت عالیہ کے حکم کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف روک تھام کی کاروائی کی اور کچھ لوگوں کو حراست میں لے لیا تو ریاست بھرمیں اس کے خلاف تحریک شروع ہوگئی۔ چندروز بعد بھاجپا کی ریاستی قیادت نے تسلیم کرلیا کہ اس تحریک کے پیچھے بھاجپاکا ہاتھ ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ریاست سے باہر بھی مہم چلانے کی دھمکی دی ہے۔ اس پر سنجیدہ طبقوں نے اپنی تشویش ظاہرکی ہے۔ مگر مسٹرامت شاہ نے آج (بدھ، 20 نومبر) پھرسپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی سبریمالا مندر کے معتقدین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جو مندرکی روایت کودل سے قریب رکھتے ہیں۔ ‘‘(اورنوجوان خواتین کے مندرمیں جانے کے خلاف ہیں۔ )

مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے صدر کے یہ بیان سخت قابل اعتراض ہیں۔ ووٹوں کی سیاست کے لیے بھاجپا نے کیرالہ میں جو راہ اختیار کی ہے، اورجس کے لیے ملک بھر میں مہم چلانے کی دھمکی دی ہے وہ سراسر عوام کو سپریم کورٹ سے ٹکرانے کی راہ ہے۔ غور کیجئے تو یہ ٹکراؤ سپریم کورٹ سے نہیں بلکہ آئین اورآئینی حکمرانی سے ہے۔ دہائیوں سے فروغ پانے والے مستحکم قومی اداروں کو سبوتاز کرنے کی یہ کوشش مودی سرکار بنتے ہی شروع ہوگئی تھی۔ پہلے پلاننگ کمیشن زد میں آیا۔ حق معلومات قانون کو کمزورکرنے کی کوشش ہوئی۔ قانون میں توترمیم نہیں کی جاسکی البتہ اس کے تحت قائم اداروں کو کمزورکیاجارہا ہے۔ چنانچہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن، جو اپیلوں کی سماعت کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے، جس میں 11کمشنرہونے چاہیں، اس ماہ کے آخر تک صرف 3 رہ جائیں گے، جب کہ 2500 اپیلیں سماعت کے لیے پڑی ہیں۔ 2014سے مودی سرکار نے خالی ہونے والی کسی جگہ کو بھرانہیں ہے۔ کم وبیش یہی حال عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا ہے۔ بنکوں کی کمرتوڑی جا چکی ہے۔ سی بی آئی کو بھی لنگڑالولا کیا جارہاہے۔ صاف نظرآرہا ہے کہ رشوت خوری اوررافیل معاملے کو دبانے کی کوشش ہے، جس میں اب بدقسمتی سے نیشنل سکیورٹی اڈوائزر اور پی ایم او کا نام بھی شک کے دائرے میں آگیا ہے۔ پہلے نوٹ بندی کے لیے آربی آئی کودبایا گیا اوراب مزید قرضے تقسیم کرنے کے لیے دباؤ ہے۔ 12جنوری 2018کو سپریم کورٹ کے چارججوں نے برملا کہا تھا کہ عدلیہ کے کام میں دخل اندازی ہورہی ہے۔ اب سبری مالا کے بہانے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھاجپا اورسنگھ پریوار براہ راست عدلیہ کو نشانہ بنانے کی تیاری میں ہیں۔ یہ آئینی اورقانونی حکمرانی کی جگہ اپنی من مانی کی طرف قدم ہے جس کو ہندتووا کا چولا پہنا دیاگیا ہے۔

سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کے خلاف بھاجپا کے اس موقف سے ایک سوال اوراٹھتا ہے جو بھاجپا کی کارکن اور ووٹر ہماری بہنوں کو پوچھنا چاہیے کہ اگرمجوزہ شری رام مندربن گیاتو ان کو اس میں جاکردرشن کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ یہی لوگ جو سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کے خلاف ہیں، کیا وہ ان کو شری رام مندر میں گھسنے دیں گے؟ اگروہ ہاں کہتے ہیں تو پوچھئے کہ سبری مالا میں پوجا ارچنا کی مخالفت کیوں؟

تبصرے بند ہیں۔