سیاسی غنڈہ گردی کا علاج؟

ڈاکٹر علیم خان فلکی

واٹس اپ پر ایک آڈیو گشت کررہی ہے جس میں ایک MLA کے ڈاکٹر فرزند اپنی ہی پارٹی کے کسی کارکن سے گالی گلوج کررہے ہیں۔ معاملہ کسی کی جائیداد کا ہے۔ کارکن نے دلالی کرکے ڈاکٹرکے نام پر پندرہ لاکھ کا مطالبہ کیا، بارہ لاکھ میں ڈیل ہوئی، ڈاکٹر کو سات لاکھ دیئے گئے، اور مابقی دوسرے بروکرز نے آپس میں تقسیم کرلیئے۔ بروکرز کو یہ یقین تھا کہ جو کچھ وصول ہوا،اس رشوت میں حصہ داری 50-50 نہیں تو کم سے کم 60-40  تقسیم ہونی چاہیے،۔ ڈاکٹر صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور جس زبان میں تقریباً 17 منٹ تک انہوں نے کارکن کو غلظیات سے بھرپور زبان میں نوازا،اور یہ دھمکی دی کہ اگر باقی پیسے فوری ادا نہ کئے گئے تو وہ آکر کارکن کی ماں اور بہن کو بے آبرو کردیں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ ابّا سے ACP کو کہلواکر انہیں بند کروادیں گے اور متعلقہ بلڈنگ کو منہدم بھی کروادیں گے۔

یہ آڈیو کسی بھی شریف انسان کے لیے دو منٹ سے زیادہ سننے کے لائق نہیں۔ کارکن بھی اتنا چالاک ہے کہ چونکہ وہ ڈاکٹر کی غلظیات کو ریکارڈ کررہا تھا، اس لیے اس نے ان تمام شرمناک گالیوں کے جواب میں کہیں بھی گالی نہیں بکی، ہر گالی کو اپنا حق سمجھتے ہوئے، ”بھائی بھائی گالیاں کیئکو دیرے، گالیاں مت دو بھائی”، کی رٹ لگا تا رہا۔ یہ ڈرامے نئے نہِیں ہیں۔ کل تک پارٹی کے جو سینئر اسی طرح کی غنڈہ گردی کرکے بڑے لیڈر بن چکے ہیں، اب وہ لاکھوں کی نہیں بلکہ کروڑوں کی وصولی کے کاموں میں لگ گئے ہیں، اس لیے لاکھوں کی ڈیلس کرنے کا کام جونیئرس کے حوالے کردیا گیاہے۔ تاکہ لوٹ کی تقسیم میں انصاف قائم رہے۔ایسی غلظیات پارٹی کے دوسرے MLAs  اور کارکنوں کی زبان سے مختلف موقعوں پر منظرِعام پر آچکی ہیں۔ لوٹ مار کے مختلف ہتھکنڈے، سوال کرنے والوں سے بدسلوکی اور سبق سکھانے کے غیراخلاقی طریقے اور  الیکشن میں مخالف امیدواروں کی کردار کشی کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ عوام بھی گونگی بہری اوربے حِس ہوچکی ہے۔ ہر آدمی لعنت ضرور بھیجتا ہے لیکن اپنی عزت بچانے کچھ کرنا نہیں چاہتا۔ یہ حالات صرف ایک شہر کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں رائج ہیں۔ بی جے پی بھی یہی کررہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جئے شری رام کے نام پر کررہے ہیں، اور ہماری پارٹیاں نعرہ تکبیر بلند کرکے کررہی ہیں۔

کیا یہ سسٹم کبھی بدلے گا؟ نہیں۔ یہ سسٹم اور مضبوط ہوگا۔ حکومت کے بدل جانے سے یا پارٹی یا افرادکے بدل جانے سے یہ نظام کبھی بدلنے والا نہیں۔ اگر کوئی اس نظام کو بدلنے کی واقعی ہمت رکھتا ہے تو وہ اِس مضمون کو آگے پڑھے ورنہ یہیں ختم کردے۔ جمہوریت میں اکثریت خریدی جاتی ہے۔ اچھی طرح یاد رہے کہ اصول یا قانون کے زور پر اب کوئی لیڈر نہیں بن سکتا بلکہ مستقبل کا سیاسی لیڈر وہی ہوگا جس کے پاس دولت ہو، یا پھر کوئی امبانی یا اڈانی اس کے لیے خرچ کرنے تیار ہوں۔ ایک اسمبلی یا پارلیمنٹ کا الیکشن جیتنے کئی کروڑ درکار ہیں، کوئی اتنا بے وقوف نہیں ہوتا کہ گاندھی یا ابوالکلام آزاد بننے کے چکّر میں عوام کی خدمت کے لیے اپنا سرمایہ داو پر لگا دے۔ اس کودوبارہ الیکشن جیتنے کے لیے کئی گُنا زیادہ نفع کے ساتھ اپنا سرمایہ واپس نکالنا بھی لازم ہے۔ اس دور میں لیڈری ایک ہنر ہے۔ صرف دولت پاس رہنے سے کوئی طاقت حاصل نہیں کرلیتا، تاوقتیکہ اُسے ووٹرس کو ہی نہیں بلکہ غنڈوں، مذہبی ٹھیکیداروں اور فراڈیوں کو خریدنے کا فن نہ آئے۔ عوام جاہل ہوتی ہے۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے امیدوار کی قابلیت اور تہذیب نہیں دیکھتی، جو لیڈر لاکھوں روپیہ ایک ایک جلسہ پر خرچ کرکے ان پڑھوں کی بھیڑ جمع کرے، جس کے پاس عالیشان کار، گھر اور بدعنوان سرکاری عہدہ داروں تک رسائی رکھتا ہو، اسی کو ووٹ ڈالتی  ہے۔

جو لوگ اس سسٹم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، وہ اچھی طرح جان لیں کہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب Masses یعنی سمجھدار اور تعلیم یافتہ عوام کی طاقت  آپ کے ساتھ ہو۔ لیکن سمجھدار، تعلیم یافتہ لوگ اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ سسٹم کو تبدیل کرنے پیارے پیارے دانشورانہ مضامین لکھ کر یا پرانے شہر میں تقریریں کرکے سوشیل میڈیا یا اخبارات میں شائع کرواکر خوش ہوجاتے ہیں، گویا انقلاب برپا کردیا،  جبکہ ان کے مضامیں پڑھنے والے ہزار میں ایک یا دو وظیفہ یاب بوڑھے ہوتے ہیں۔ ایسے تمام خودساختہ مصلحینِ قوم کو ان کی اپنی حیثیت کا علم ہی نہیں۔ اگر ان کو پولیس اٹھا کر لے جائے یا  ایسی بدتہذیب پارٹیوں کے غنڈے بیچ سڑک پر ان کی بے عزتی کردیں  تو ان کی دفاع میں دس لوگ بھی نہیں پہنچتے۔ پھر معمولی پولیس والے جیسی چاہے FIR پھاڑتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے ان سادہ لوحوں پر جو ”اسلامی نظامِ حکومت”، ”جنگِ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ”، ”مسلمانوں کی تاریخ”، ”اسلام میں حقوقِ انسانی، حقوقِ نسواں، جمہوریت، معاشی نظام، سیاسی نظام” وغیرہ وغیرہ  پر کئی کئی راتیں صرف کرکے لکھتے رہتے ہیں، یا پھر ان موضوعات پر پندرہ بیس لوگوں کو جمع کرکے جلسہ، سیمینار وغیرہ کرلیتے ہیں۔ ان بے شمار متحرک ذہین نوجوانوں پر بھی افسوس ہوتا ہے جو دو دو چار چار مل کر فلاحی کام شروع کردیتے ہیں۔ کئی ایک نوجوان سیاسی جماعتوں میں دلالی اور چمچہ گری کے ذریعے حقیر عہدوں کی تمنّا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کوئی سوشیل میڈیا پر گروپ ایڈمن بن جاتا ہے، کوئی Motivational  اسپیکر یا رائٹر بن جاتا ہے، اس طرح ذہین اور متحرک نوجوانوں کی ایک فوج جو مل کر ایک انقلاب لاسکتی تھی، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر ملت کو نہیں بلکہ دشمنوں کو طاقت بخشتی ہے۔ وہ فوج کیا خاک جنگ جیتے گی جو صف آرائی پر مائل نہیں ہوتی بلکہ الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ کر جنگ لڑنا چاہتی ہے۔ طالبان اور آریس یس کے اقتدار میں آنے کے راز کو سمجھئے۔ اپنی اپنی انا کو دفن کرکے اپنی اپنی صلاحیتوں کو پیش کرکے ایک طاقت کو پیدا کرنے پر اپنا سارا زور صرف کردینے والے افراد ہی انقلاب لاسکتے ہیں۔جب تک  اپنے آپ کو ایک امیر اور ایک جماعت کے حوالے نہیں کرینگے، آپ کی طاقت کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ آپ ہر جگہ انقلاب لانا چاہتے ہیں، کوئی مسجدوں، مدرسوں اور درگاہوں کے نظام کو بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاسی اور سرکاری نظام کو بدلنا چاہتا ہے۔ کوئی اکنامک Empowerment پر کام کرنا چاہتا ہے تو کوئی ایجوکیشنل ریفارمس کی بات کررہا  ہے۔ کوئی دعوت و تبلیغ کے ذریعے پورے ہندوستان کو کلمہ گو بنادینے کا خواہشمند ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ تمام شعبے ایک عمارت کے کمرے ہیں۔  ہر کمرہ انتہائی اہم ہے، لیکن عمارت بغیر Pillars کی ہے  یعنی اس عمارت کی بنیاد کوئی نہیں۔ ہر کمرہ کتنے دن تک باقی رہے گا اس کا اندازہ لگالیجئے۔ Mass strength اصل بنیاد ہے۔

اگر کسی ایک جماعت اور ایک امیر کے پیچھے چل کر بنیاد کو پہلے مضبوط کریں گے تو عمارت کا ہر کمرہ محفوظ بھی رہے گا، اور ہر گروہ  اپنے مقاصد کی ضرور تکمیل کرے گا، ورنہ وہ سارے منہدم ہوں گے جو اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر انقلاب لانا چاہتے تھے۔ عوام ہوں کہ خواص، علما ہوں کہ دانشور، ڈاکٹر ہوں کہ انجینئر، سب کو ایک والنٹئر بن کر میدان میں آنا ہوگا، ہر شخص اپنی اپنی بولی  بولنابند کرے، اور ایک آواز ہوجائے، تب آپ کی آواز سن کر پولیس ہو کہ سرکاری محکمے، اسمبلی ہو کہ پارلیمنٹ، ہر جگہ آپ کی آواز سنی جائے گی، بلکہ آپ کی آواز سے ان کے درودیوار لرزنے لگیں گے۔ ورنہ ہر شخص قائد بننے کی چکّر میں اپنی اپنی بولی بولتا رہے گا تو اس سے شور پکارا ہوگا، کسی کو کان پڑے آواز سنائی نہ دے گی، اور آپ جانتے ہیں شور کو بند کرنے کے لیئے کسی بھی حکومت کو کیا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کے پاس ایسی اجتماعی طاقتیں جیسے پاپولر فرنٹ، SDPI، جماعت اسلامی، جمیعتہ العلماء، سنی تحریک، اِمپار، مسلم راشٹریہ منچ، کانگریس، ایم آئی ایم، بی جے پی، کمیونسٹ، لوکل سیاسی پارٹیاں، وغیرہ موجود ہیں۔ تلاش کیجئے کہ کون سی جماعت حق اور انصاف کے لیے لڑسکتی ہے، مساوات قائم کرنے، ذات پات، رنگ، نسل اور مذہبوں کیتعصّبات کو ختم کرکے انسانوں کو انسانوں ہی کی غلامی سے نکال کر ہر ایک کو جینے کا مساوی حق یعنی حقیقی حقوقِ انسانی دِلا سکتی ہے، اس اجتماعیت میں فوری شامل ہوجایئے۔ ہوسکتا ہے آپ کو دہشت گرد کہا جائے، غدّار اور ملک دشمن کہا جائے کیونکہ فاشزم اور قانون کے دشمن ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ انکے سامنے آپ کی نسلیں سر اٹھا کر چلیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی نسلیں غنڈہ گردی اور فرقہ پرستی کی غلامی سے آزاد ہوجائیں تو آپ کو قربانیاں دینے اپنی انا کو دفن کرکے ایک جماعت اور ایک امیر کے آگے جھکنا ہوگا اور اپنی Mass strength پیدا کرنی ہوگی۔ ورنہ کل بھی یہی سیاسی اور مذہبی قیادت قائم رہے گی، اور اس کے خلاف بولنے والے سب سے زیادہ عتاب کا شکار ہوں گے۔  کوئی مدد کو نہیں آئے گا۔ اور قوم کی بربادی کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جو بس  اپنی نماز، اپنے گھر،اور  اپنی اولاد کے مستقبل کی فکرمیں ڈوب کر اپنی جان کو جوکھم میں ڈالے بغیر زندگی گزاریں گے،نہ کسی تبدیلی کے لیے ایک روپیہ جیب سے نکالیں گے، نہ ایک گھنٹہ دیں گے اور نہ اپنی توانائیاں صرف کریں گے،  بس دیوان خانہ میں بیٹھ کر یا تو مشورے دیتے رہیں گے، یا سوشیل میڈیا پر دو کوڑی کی دانشوری پیش کرتے رہیں گے۔

نہ بچا بچا کے تو رکھ اِسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔