شرد پوار، مودی ملاقات: مہاراشٹرکی سیاست میں شہ مات کا کھیل  

نہال صغیر

۵؍اپریل کو شرد پوار نے اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ دیا جس میں حزب اقتدار و حزب اختلاف کے لیڈر و اراکین اسمبلی سمیت مرکزی وزیر نتن گڈکری بھی شامل ہوئے۔ اس سیاسی عشائیہ پر قیاس آرائیاں کی ہی جارہی تھیں کہ دوسرے دن ۶؍ اپریل کو اچانک شرد پوار کی نریندر مودی سے ملاقات نےسیاسی پنڈتوں کو بے چین کردیا۔ انہیں پریشانی ہے کہ اس ملاقات کی وجہ کیا تھی ؟ جو وجوہات شرد پوار نے بعد میں میڈیا کے سامنے بتائیں اس پر تجزیہ کار یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ خبروں کے مطابق شرد پوار نے کہا کہ وہ مہاراشٹر میں ای ڈی کے ذریعہ حکمراں جماعت اور اتحاد میں شامل لیڈروں کیخلاف کارروائی پر وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کرنے گئے تھے۔ مگر بڑے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شرد پوار جو کرتے ہیں وہ کہتے نہیں اور جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں ہے۔ وہ ایک ماہر اور شاطر سیاست داں ہیں، انہیں مہروں کو استعمال کرنا اور کامیابی کے ساتھ شہ سے کسی کو مات دینا آتا ہے۔ شرد پوار کے اس بیان پر ایک سینئر صحافی نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک بیس منٹ برباد کردیا۔ انہیں وزیر اعظم سے مل کر مہنگائی اور بے روزگاری پر بات کرنی چاہیے تھی۔ لیکن جب آگ گھر میں لگی ہو تو پہلے وہ آگ بجھائی جاتی ہے بعد میں کسی اور جانب توجہ کی جاتی ہے اور فی الحال مہاراشٹر میں ای ڈی کے ذریعہ آگ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ شرد پوار نے وہی کیا جو ان حالات میں کیا جاسکتا تھا۔ انسان کو کرنا بھی وہی چاہیے جو ہوسکے ناممکن کی طرف سفر اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔

آج ملک کی سیاسی فضا میں ایک سیاسی مثلث قائم ہے، عام طور پر مبصرین اسی کو مرکز میں رکھ کر کوئی سیاسی رائے قائم کرتے ہیں۔ اسی مثلث کا ایک زاویہ کالی داڑھی ہے جس میں اب سفیدی در آئی ہے اسے لوگ سیاست کا چانکیہ کہتے ہیں۔ اسے بہت بڑا ماہر کھلاڑی اور نہ جانے کیا کیا ماننے لگے تھے، لیکن مہاراشٹر میں بی جے پی، شیو سینا کے طلاق کے بعد اس چانکیہ کا سارا بھرم ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ اس سے قبل بھی شرد پوار کو مہاراشٹر اور ملکی سیاست میں ایک اہم مقام حاصلرہا ہے  لیکن گودی میڈیا کے پروپگنڈہ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شرد پوار کو سیاسی افق سے دور کردیا گیا ہے، مگر ۲۰۱۹ کے اسمبلی الیکشن کے بعد پوار نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ سے یہ ثابت کردیا کہ چانکیہ سفید داڑھی والا نہیں بلکہ مہاراشٹر کا یہ سیاست داں ہے۔ جو بولتا کم اور سیاسی بازی پلٹنے کی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے۔

دنیا میں جو موجودہ جمہوری نظام رائج ہے اور جس کے لوگ گرویدہ و عاشق ہیں، اس نظام میں حکومت کے حصول کیلیے سب سے بڑی ضرورت مالی وسائل کی ہے۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ کوآپریٹو بینک ہیں جس کے اسی فیصد مالکان یا ڈائریکٹر وغیرہ کا تعلق براہ راست سیاست سے ہے اور اس میں بھی اکثریت این سی پی کے قریبی  کی ہے۔ اسی کے ساتھ شوگر مل لابی کا تعلق بھی سیاست سے ہے اور اس کی بھی اکثریت شرد پوار کے خاص ہیں۔ جس کے ہاتھوں میں ہزاروں لاکھ کروڑ کا معاشی وسائل ہو نیز وہ سیاست کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہو اس کی قوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مہاراشٹر میں ۲۰۱۹ میں مہااگھاڑی حکومت کے ساتھ ہی بات ختم ہوجانی چاہیے تھی کہ سابق حکومت ماضی کا قصہ ہوگئی نیز بی جے پی اپوزیشن میں رہتے ہوئے مثبت سیاسی عمل کو جاری رکھتی مگر ان کے سابق وزیر اعلیٰ تقریباً ڈھائی سال تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ ہی وزیر اعلیٰ ہیں۔ بار بار وہ حکومت کے گرنے کی پیش گوئی کرتے رہے اور وقت آگے بڑھاتے رہے۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے کسی پین ڈرائیو میں پی ایم او کو حکمراں محاذ کے درجن بھر سے زائد لیڈروں کے تعلق سے بہت ساری معلومات جمع کرائی ہے جس میں یہاں کی سیاسی بدعنوانی کا سارا کچا چٹھا محفوظ ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی خبروں میں ہے کہ ای ڈی نے سپریم کورٹ میں پورے ملک کے سو سے زیادہ سیاست دانوں کی تفصیلات پیش کی ہیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ میں ای ڈی نے کہا کہ ان پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنتا ہے۔ یہ بھی ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ سارے بدعنوان غیر بی جے پی پارٹیوں میں ہیں اور سارے ایماندار بی جے پی میں، حد تو یہ ہے کہ جو خود کو بچانا چاہتا ہے وہ ادھر سے نکل کر ادھر چلا جاتا ہے اور نیٹ اینڈ کلین بن جاتا ہے۔

مطلب یہ کہ اگر مرکزکی مودی  حکومت کسی ریاست میں حکومت نہیں بناپائے گی تو وہ ای ڈی کا استعمال کرکے وہاں کے سیاست دانوں اور حکمراں جماعت کی اہم شخصیات کو بلیک میل کرکے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ فی الحال مہاراشٹر میں جو کچھ چل رہا ہے اس سے یہی سب کچھ سمجھ میں آرہا ہے۔ مرکزی حکومت کا اگلا نشانہ پنجاب اور بنگال ہوسکتا ہے۔ گذشتہ ہفتہ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمز میں ایک اکالی لیڈر کا انٹر ویو شائع ہوا اس میں انہوں نے کہا کہ تین ماہ میں پنجاب کی عام آدمی پارٹی کی حکومت کو پسینے چھوٹنے لگیں گے۔ یہ پسینے یقینی طور پر اس لیے چھوٹیں گے کہ عام آدمی کیخلاف فرضی اور جھوٹی تحقیقات کا سہارالیا جائے گا۔ واضح ہو کہ اکالی دل بی جے پی کے کافی قریب ہے۔ بہر حال بات مہاراشٹر کی سیاست کی چل رہی ہے درمیان میں پنجاب و بنگال تو برسبیل تذکرہ آگیا۔

ایک سینئر صحافی جن کا سیاسی تجزیہ یقینا بہت بہتر ہوتا ہے مگر وہ کسی نتائج پر پہنچانے کی بجائے ناظرین کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے آدھا گھنٹہ سے زیادہ کے تجزیاتی رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت مہاراشٹر کی حکومت گرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگر ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شرد پوار وقت سے پہلے کبھی نہیں کُھلتے ہیں یہی خصوصیت ان کو دیگر سیاست دانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ویسے بھی اب ڈھائی سال سے بھی کم بچا ہے مہاراشٹر کی موجودہ اگھاڑی محاذ کی حکومت کو اور گذشتہ ڈھائی برسوں میں سابق وزیر اعلیٰ کی پیش گوئیوں اور مرکز کی ایجنسیوں کے ذریعہ اسے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کے باوجود حکومت کو کسی بڑے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مرکز کی بے لگام حکومت کیلیے مہاراشٹر کی راہیں اتنی مشکل اس لیے ہیں کہ کئی ایسی باتیں ہیں جو حکومت مہاراشٹر کے حق میں ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات شرد پوار کی شخصیت ہے جس کا فی الحال کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ شرد پوار نریندر مودی سے کوئی سودا کرنے گئے تھے لیکن اس الزام میں کوئی سچائی نظر نہیں آتی۔ ایک شخص جو بادشاہ گر ہے وہ بادشاہ گر ہی رہنا چاہے گا اور اس کی یہی خواہش ہوگی کہ حکومت اسی کے محور کے گرد گھومتی رہے۔ اسے موجودہ حکومت سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے کہ اسے بلیک میل کرنے جیسا کوئی قدم اٹھائے اور مرکز ی حکومت نے ای ڈی کے ذریعہ شرد پوار کو نوٹس بھیج کر دیکھ لیا تھا کہ اس کے کیڈر کس طرح سڑکوں پر اتر آئے تھے جسے پوار کے علاوہ کوئی دوسرا ہینڈل بھی نہیں کرسکتا۔ ہاں اگر شرد پوار کی پکڑ اپنے کیڈروں پر نہیں ہوتی تب تو معاملہ آسان تھا، تو پہلی رکاوٹ یہی ہے جسکی وجہ سے ہاتھ پائوں مارنے کے باوجود مرکز کو کوئی کامیابی نہیں مل رہی ہے۔

دوسری وجہ حکومت کا عوامی مفاد پر توجہ دینا ہے۔ کووڈ لاک ڈائون میں بہتر کارکردگی سے لے کر عوامی اور طلبہ تحریک کو کہیں کھلے عام اور کہیں حکمت کے ساتھ حمایت دینا بھی موجودہ حکومت کے مفاد میں جاتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ مہاراشٹر سماجی مصلحین اور دلت تحریک کی سرزمین بھی رہی ہے جس کے اثرات آج بھی ہیں اور فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ حالانکہ راج ٹھاکرے کو اس کام کیلیے استعمال کیا گیا مگر ان کی اذان کیخلاف شر انگیزی کے ذریعہ درپردہ مہاراشٹر حکومت پر دبائو بنانے کی کوشش ایک فلاپ شو ثابت ہوئی۔ راج ٹھاکرے کی شر انگیزی کے اثرات ختم کرنے میں یقینا حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بجائے راج ٹھاکرے کیخلاف کارروائی کرنے کےجس نے بھی ہنومان چالیسہ کے ذریعہ شر انگیزی کرنے کی کوشش کی اسے وقت سے پہلے روک دیا گیا۔ جبکہ راج ٹھاکرے یہ چاہ رہے تھے کہ حکومت ان کے خلاف سخت قدم اٹھائے جس سے ان کے میڈیا پبلسٹی میں اضافہ ہو۔ مراٹھی کے صحافی ضمیر قاضی کہتے ہیں کہ راج ٹھاکرے کی سیاسی ہوا اکھڑ چکی ہےاور ان کی آواز پر کوئی کان دھرنے والا نہیں ہے۔ پونے کے سماجی کارکن انجم انعامدار اس کی وجہ یہاں کی دلت تحریکوں اور سماجی مصلحین کے اثرات کو مانتے ہیں۔ یہی کچھ وجوہات ہیں کہ کوئی یہاں کے امن و امان کی صورتحال پر مرکز کو رپورٹ پیش نہیں کرسکا کہ موجودہ حکومت دستوری فریضہ ادا کرنے کے لائق نہیں ہے۔ حالانکہ گورنر اور وزیر اعلیٰ میں ٹکرائو کی خبریں آتی رہتی ہے لیکن اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہوتی۔

بات چلی تھی شرد پوار کی ڈنر پارٹی اور وزیر اعظم سے ملاقات کے پس پردہ عوامل کے تعلق سے جس کے بارے میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا تھا کہ وہ کوئی سودا کرنے گئے تھے۔ لیکن جیسا کہ انہوں نے بیان دیا تھا، وہ یہ باور کرانے گئے تھے کہ مرکز کیلیے مہاراشٹر کی ڈگر بہت مشکل ہے وہ اس خیال سے بازآجائے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اور لیڈروں پر ای ڈی کی مہربانیاں ہوجائیں اور حکومت کو کچھ مزید پریشان کیا جائے کہ جس ریاست کی حکومت مرکز میں ہے وہ سب سے امیر ریاست کو کیسے اپنے مخالفین کے ہاتھوں میں آسانی سے رہنے دے گی۔ لیکن وقت یہ بتا رہا ہے کہ سب کچھ کے باوجود مہاراشٹر کی موجودہ حکومت مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر کھڑی ہے اور محاذ میں شامل پارٹیوں نے نوشتہ دیوار اچھی طرح پڑھ اور سمجھ لیا ہے۔

ساری سچائیوں کے باوجود اگر ای ڈی کے ذریعہ یہاں کی حکومت کو پریشان کرنے کی کوشش کی گئی تو شیو سینا کے انداز سے سبھی واقف ہیں کہ وہ سڑکوں پر اتر کرکس طرح اپنا دبائو بناتی ہے اور حکومت کو جھکنے پر مجبور کردیتی ہے اور اس بار صرف شیو سینا نہیں ہوگی اس کے ساتھ این سی پی کے کیڈر اور شوگر و کوآپریٹو بینک کی لابی بھی ہوگی جس سے نپٹنا انتہائی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ اس لیے مہاراشٹر میں اگھاڑی حکومت کے خاتمہ کی خبریں سنتے رہیں اور خاموشی کے ساتھ تماشہ دیکھیں اور کسی کی مجبوری اور بے بسی سے لطف اندوز ہونے کا موقع نہ گنوائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا