مسئلہ رادھا کا نہیں نو من تیل کا ہے

حفیظ نعمانی

جس کے ہاتھ میں قلم ہو سامنے کا غذ ہو اور مشغلہ ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کسی اخبار کا پیٹ بھرنے کیلئے لکھنا ہو اس کے لئے یہ کتنی بڑی آزمائش ہے کہ جو اس نے چھ مہینے سے اب تک لکھا ہو اسی پر وہ اپنے ہی قلم سے کالک پوتے؟ قارئین کرام کیلئے یہ اشارہ کافی ہوگا کہ اب کانگریس کے صدر راہل گاندھی جس راستے پر چل پڑے ہیںاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف آئینہ دیکھ رہے ہیں اور کسی کو بھی سامنے سے گذرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔

انہیں کیوں یہ اندازہ نہیں ہوا کہ ان کی پارٹی کی جو تین صوبوں میں حکومت بنی اس میں اس ہوا کا سب سے زیادہ دخل تھا جو اُترپردیش کے گورکھ پور، پھول پور، نور پور اور کیرانہ میں آندھی کی طرح چلی اور اس نے ثابت کیا کہ مودی ایسے پہلوان نہیں ہیں کہ ان کو پچھاڑا نہ جاسکے اور اس آندھی نے ہی راہل کی گود میں تین صوبے ڈال دیئے۔ انہوں نے ان تین صوبوں میں بی ایس پی اور ایس پی کی طاقت کا اندازہ کرلیا کہ وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور یہ بھول گئے کہ جن دو پارٹیوں کو انہوں نے تین صوبوں میں دیکھا تھا وہ وہاں گیدڑ تھیں اور اترپردیش میں وہ شیر ہیں۔ راہل گاندھی نے شاید غور نہیں کیا کہ آندھی اگر لکھنؤ میں آتی ہے تو وہ مدھیہ پردیش یا پنجاب میں نہیں جائے گی دو چار بستیوں میں وہ زور دکھاکر ہانپنے لگتی ہے۔

ہم نے تینوں صوبوں کے الیکشن کے موقع پر مایاوتی اور اکھلیش یادو کو آواز دے کر کہا کہ وہاں ٹانگ نہ اَڑاؤ اور یہ حقیقت ہے کہ ان دونوں نے تین صوبوں میں جیت کو ایسا نہیں ہونے دیا جیسی وہ ہوسکتی تھی لیکن اب اندازہ ہوتا ہے کہ راہل گاندھی نے اسے قابل سزا جرم سمجھا اور فیصلہ کیا کہ ان کو اُترپردیش میں جہاں وہ فولاد کی طرح ہیں کمزور کرنا ہے۔ اور انہوں نے اپنے دو نئے جنرل سکریٹری بنائے جس میں ایک بہن بھی تھیں اور دونوں کو اترپردیش کا آدھا آدھا حصہ دے کر حملہ کردیا۔

راہل کا خیال تھا کہ پرینکا نہیں آندھی آجائے گی لیکن صرف ایک ہفتہ انہوں نے دیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ 80  سیٹوں پر لڑیں گے اور الیکشن شباب پر آگیا اور حالت یہ ہے کہ متھرا سے سپنا ڈانسر نے ٹکٹ واپس کردیا اور امروہہ سے وہ راشد علوی جو مراد آباد سے بھی اُمیدوار تھے اور پھر امروہہ سے ان کا اعلان ہوا وہ بیماری کا عذر کرکے گھر بیٹھ رہے۔ شاید راہل گاندھی کو یہ معلوم نہ ہو کہ امروہہ کے مسلمانوں نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اپنی آبرو خراب نہ کریں مسلمان صرف سپا بسپا کو ووٹ دیں گے۔

ایک طرف یہ حالت ہے کہ دس دس کروڑ میں ٹکٹ خریدے جارہے ہیں اور دوسری طرف یہ حال ہے ٹکٹ پھینک پھینک کر بھاگ رہے ہیں اور پارٹی کے صدر فرما رہے ہیں کہ اگر ان کی حکومت بنی تو غریب کنبوں کی کم از کم آمدنی 12  ہزار روپئے مہینہ بنانا ہے۔ اور 21  ویں صدی میں غریبی کے خلاف آخری لڑائی لڑنا ہے۔ ہم میدان میں نہیں ہیں، ہم نہیں جانتے کہ کیا ملک کی فضا اتنی بدل گئی کہ جس پارٹی کو اترپردیش میں سنجیدہ اور ذمہ دار سیاسی اُمیدوار نصیب نہیں ہورہے جو بہار اور بنگال میں پانچ پانچ سیٹیں بھی حاصل کرلے تو غنیمت ہوگا جو خود امیٹھی سے مطمئن نہیں ہے اور کیرالہ سے الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہے وہ اپنی حکومت کی بات کررہا ہے اور ایسے فیصلہ کا اعلان کررہا ہے جس کے لئے کم از کم 200  ممبر اس کی پارٹی کے ہوں اور باقی وہ ہوں جو حمایت کریں۔

اس درمیان راہل گاندھی کے ایک بیان پر ناراض ہوکر مایاوتی نے کہہ دیا تھا کہ اب ہم امیٹھی اور رائے بریلی میں بھی اپنے اُمیدوار کھڑے کریں گے۔ لیکن اس کی اُمید نہیں مگر ایک بات بالکل صاف ہے کہ ان دونوں حلقوں میں ووٹر جیسی لگن سے ان کو ووٹ دیتے تھے وہ لگن اور جوش نظر نہیں آئے گا جبکہ وزیراعلیٰ یوگی ان دونوں سیٹوں پر کچھ بھی کریں ان کو ہرانا چاہیں گے اور سونیا گاندھی جو نہ صرف اب بزرگ ہوگئی ہیں بلکہ بیمار بھی ہیں ان کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا جھٹکا ہوگا۔ ہم نہیں جانتے کہ راہل گاندھی کے مشیر کون کون ہیں اور وہ اتنے بے خبر کیوں ہیں اور انہوں نے اپنے لیڈر کو اترپردیش کو نشانہ بنانے کی تجویز کی تائید کیوں کی؟

ہم بتا چکے ہیں کہ ہم سنبھل کے رہنے والے ہیں جو چند برس پہلے مراد آباد کی تحصیل تھی امروہہ ہمارے نانہال کا پڑوسی ہے، رام پور میں رشتہ داریاں ہیں بریلی میں 14  برس رہ چکے ہیں اور پورے ملک میں کوئی شہر ایسا نہیں ہے جس سے مضامین کی وجہ سے رابطہ نہ ہو اور ملک کا کوئی بڑا شہر نہیں ہے جہاں اُترپردیش والے نہ ہوں۔ ہر جگہ سے ایک ہی اطلاع آرہی ہے کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ جو بی جے پی کو ہراسکے اسے ووٹ دیا جائے۔ اگر پورے ملک میں اس پر عمل ہوا بھی تو کانگریس کو 200  سیٹیں کیسے مل جائیں گی اور سب ان کی حکومت کیوں بنوا دیں گے جبکہ ایک متبادل غیربی جے پی اور غیرکانگریسی بھی تذکرہ میں ہے؟

تبصرے بند ہیں۔