ملک مخالف نعرے یا گندی سیاست؟

 ڈاکٹر عابدالرحمن

بہار کے ارریہ سے تین مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ارریہ میں لوک سبھا کے ضمنی چناؤ میں راشٹریہ جنتادل کر سرفراز عالم کی جیت کا جشن مناتے ہوئے انہوں نے ملک مخالف نعرے لگائے۔بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ’پاکستان زندہ باد ‘ اور’ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ‘ کے نعرے لگائے۔ یہ گرفتاریاں علاقے کے ایس ایچ او پولس افسر کے از خود نوٹس لے کر یعنی کسی شکایت کے بغیر یا اس کا انتظار کئے بغیر خود اپنے طور پر ایف آئی آر درج کر نے کے بعد کی گئیں۔ حالانکہ ارریہ سے الیکشن ہارے بی جے پی کے امیدوار نے اس ضمن میں ایف آئی آر کا مطالبہ کیا تھا۔

ملک مخالف نعرے لگانے والے، ملک کے ٹکڑے ہوں گے کی دہائی دینے والے اور ہمارے دشمن ملک پاکستان کے لئے زندہ باد کا نعرہ لگانے والے وطن عزیز کے دشمن ہیں ان سب کی جانچ ہو نی چاہئے اور اگر واقعی وہ اس جرم عظیم کے مرتکب پائے گئے تو ان پر سخت ترین قانونی کارروائی ہو نی چاہئے اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ وطن عزیز کی پولس حساس معاملات کا از خود نوٹس لینے اور کسی کے شکایت کروانے کا انتطار کئے بغیر اس پر کارروائی کر نے تک پہنچ گئی ہے امید ہے کہ پولس کی یہ مستعدی ہر ہر معاملہ میں بغیر کسی ذاتی و مذہبی بھید بھاؤ کے رہے گی جہاں ملک میں مذہب علاقے اور زبان کے نام پر نفرت پھیلانے والوں ، اپنے بیانات، تقاریر اور تحاریر سے عوام کو فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے اکسانے والوں اور مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کر ملک کی عوام کو مذہب کے نام پر بانٹنے والوں کے خلاف متعلقہ علاقے کے پولس افسران از خود نوٹس لے کر ان پر قانونی کارروائی کر کے انہیں نمونہء عبرت بنائیں گے۔لیکن ایسا ہوتا نہیں، ارریہ کے معاملہ میں ہی دیکھ لیجئے، یہاں انتخابی پرچار مہم کے دوران بی جے پی کے ریاستی صدر نے ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ اگر ارریہ میں راشٹر یہ جنتا دل کے سرفراز عالم جیت گئے تو ارریہ آئی ایس آئی ایس (عراق و شام کی دہشت گرد تنظیم جس کو داعش بھی کہا جاتا ہے اور روس کی بمباری نے شام میں جس کا صفایا کردیا ہے )کا اڈا بن جائے گا ( جبکہ )یہاں ہمارے امیدوار پردیپ سنگھ کی جیت دیش بھکتوں کا اڈا رہے گا۔مطلب صاف ہے کہ انہوں نے دراصل دہشت گردی کا حوالہ اور آئی ایس آئی ایس کا اڈا صرف اس لئے کہا کہ ارریہ لوک سبھا حلقہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور مخالف پارٹی راشٹریہ جنتا دل کا امیدوار بھی مسلم تھا یعنی اپنی تقریر کے بین الصطور میں انہوں نے مسلمانوں کو دہشت گرد اور آئی ایس آئی ایس کے حامی اور سرفراز عالم کو دہشت گردوں کو پناہ دینے والا لیڈر کہا ہے۔

 اسی طرح ارریہ میں سرفراز عالم کی جیت کے بعدبی جے پی کے ایک اور ایم پی اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے بھی کہا تھا کہ اس سے ارریہ دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا۔ بہاربی جے پی کے صدر کے بیان پر تو ان کے شکایت درج کی گئی تھی لیکن محض انتخابی ضابطہء اخلاق کی خلاف ورزی کی اور اس میں بھی جس طرح مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے لگانے والوں کو فوراً گرفتار کر لیا گیا ان کے خلاف اسی طرح تو چھوڑئیے کوئی معمولی عملی کارروائی کی بھی کوئی خبر نہیں ہے اور مرکزی وزیر کے خلاف تو ابھی تک ایف آئی آر کی بھی خبر نہیں ہے۔ پولس جب بھی کسی معاملہ میں کوئی فوری کارروائی کرتی ہے تو اس طرح کے معاملات اسے منھ چڑھاتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کا باطن ظاہر ہو جاتا ہے۔

مذکورہ ویڈیو کے متعلق بھی ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ویسے بھی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہوئے کنہیا کمار اور عمر خالد کے معاملہ میں وائرل کئے گئے ویڈیو کے ڈاکٹرڈ (Doctored ) چھیڑ چھاڑ کر اس میں اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ اور ملاوٹ کئے جانے کا انکشاف ہونے کے بعد اس طرح کا ہر ویڈیو نا قابل اعتبار ہی رہے گا جب تک کہ کسی آزادانہ جانچ ایجنسی (فارنسک لیب ) سے اسکی جانچ نہیں کر لی جاتی۔ ۱۸، مارچ کے آن لائن انڈین ایکسپریس کے مطابق ’اس معاملہ کے ملزمین کے گھر والوں نے کہا ہے ان کے بچوں نے ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا جو ملک مخالف ہو۔انہوں نے الزام لگایا کہ جو ویڈیو وائرل ہوا اس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اس میں ’پاکستان زندہ باد ‘ اور’ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ‘شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اصل ویڈیو بھی پولس کے پاس جمع کروایا ہے اور سنڈے ایکسپریس نے اسے دیکھا ہے کہ اس میں مذکورہ نعرے نہیں ہیں۔ ‘

 ویسے بھی اس ویڈیو دیکھ کر ہی صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ملک مخالف نعرے ان لوگوں نے نہیں لگائے جو ویڈیو میں ہیں بلکہ وہ بیک گراؤنڈ کی آواز ہے اورایک نیوز پورٹل الٹ نیوز ( www.altnews.in) نے اس ویڈیو کو یوٹیوب، واٹس ایپ اور ایک ٹویٹر ہنڈل سے حاصل کر کے جانچ پڑتال کر کے اس کی حقانیت پر سوال اٹھائے ہیں کہ نعروں کے وقت ویڈیو کی اصل آواز اور بیک گراؤنڈ آواز بند ہے اسی طرح نعروں کے وقت ویڈیو میں موجود افراد کے ہونٹوں کی حرکت اور نعروں کی آواز بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھارہی ہے یعنی ان کے ہونٹوں اور منھ کی حرکت وہ نہیں ہے جو مذکورہ نعروں کے لئے درکار ہے۔ اب ملزمین کے گھر والوں کے بیان، ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کا الزام اور اصل ویڈیو کلپ پولس کے سپرد کر نے اور الٹ نیوز کی مذکورہ رپورٹ کے بعد یہ ضروری ہے کہ ویڈیو میں موجود افراد کی تفتیش سے پہلے یا کم از کم ان کی تفتیش کے ساتھ ساتھ اس ویڈیو کی بھی جانچ ہو کہ یہ صحیح بھی ہے یا نہیں یا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر اس میں ملک مخالف نعرے باہر سے شامل کئے گئے ہیں اور اگر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے تو کس نے اور کس منشاء سے کی ہے ؟اس ضمن میں بی جے پی کے مذکورہ دونوں لیڈران کی بھی جانچ ہو نی چاہئے کہ کہیں اپنی دہشت گردی والی بات ثابت کر نے کے لئے انہوں نے تو اس ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی یا کروائی ہے؟

 ہمیں ملک مخالف نعرے لگانے والوں سے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں ہے اور اگر کوئی اس طرح کی حرکت کرتا ہے تو اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہئے،ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس طرح کی جھوٹی باتیں پھیلانے والے لوگ ملک دشمن نعرے لگانے والوں سے کہیں زیادہ ملک دشمن ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔