مودی، مولوی اور مسلمان

مدثراحمد

7 ملک میں برسرِ اقتدار حکومت کے آنے کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے۔ حکومت کے نظم ونسق میں تبدیلیاں  آنے کے علاوہ عام لوگوں  میں بھی بہت بڑی تبدیلیاں  آچکی ہیں۔ عام لوگوں  کے ساتھ ساتھ مسلمانوں  کے علماء وتنظیموں  میں بھی کافی تبدیلیاں   آچکی ہیں۔ ان تبدیلیوں  کے تعلق سے جو قیاس آرائیاں  پیش کی جارہی ہیں وہ واقعی میں فکر آمیز باتیں   ہیں۔ ملک کے جمہوری نظام میں آزادی کے بعد سے اب تک ہر شہری کو حکومت کی تنقید کرنے، حکومت کو مشورہ دینے اور حکومت کے خلاف آوازبلند کرنے کا حق دیاگیا تھا۔ جمہوری نظام میں آئین سب سے بڑا ہتھیار ہے اور اسی ہتھیارمیں صاف صاف کہہ دیاگیا ہے کہ ہندوستان کے ہر شہری کو بولنے کا حق کہنے کا حق، مساوات کا حق، زندگی گذارنے کا حق اور اپنی پسند کے مطابق حکومتیں چننے کا حق دیاگیا ہے۔ اسی حق کے تحت ہندوستانیوں  نے آج تک حکومتوں  کی اصلاح بھی کی ہے، تنقید بھی کی ہے، لیکن ملک میں وزیر اعظم نریندرمودی یا بی جےپی حکومت اقتدار پر آنے کے بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ اب تنقیدنہیں کی جاسکتی نہ حکومت سے سوال کیا جاسکتا ہے۔

اگر حکومت سے سوال کیا جائے تو سوال کرنے والاملک کادشمن کہلاتا ہے اور اس پر غداری کامقدمہ عائدکیا جاتا ہے، اگرقانونی اعتبار سے سوال کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتاتو گوری لنکیش اور پانسرے جیسے قلمکاروں کی جو حالت ہوئی ہے وہیں حالت سوال کرنے والوں کی بھی ہورہی ہے۔ یا تو انہیں قتل کردیا جاتا ہے یا پھر ان کے ساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے، سوشیل میڈیا اور اخبارات میں ان کے ساتھ بدتمیزیاں کی جاتی ہیں، اگر بدتمیزی کرتے ہوئے اطمینان نہ ہوا تو گالی گلوچ کی جاتی ہے، اس پر بھی اطمینان نہ ہو اتو بھگت  مارپیٹ کرنے لگتے ہیں اور اپنے قدم کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے ملک کی حالت کہ اپنے ہی ملک میں ہم حکومت سے سوال نہیں کرسکتے۔ حکومت کے غلط رویہ کوسدھارنے کیلئے مشورہ تک نہیں دے سکتے۔ دوچار حروف کیا لکھیں جائیں، اس پر قانونی کارروائی کا سامنا کرناپڑتا ہےیا غنڈوں  کے ہاتھوں مارکھانے کیلئے تیار رہنا پڑتا ہے۔

ایک طرف ملک میں ان حکومتوں کے تعلق سے عام لوگوں کو تشویشناک حالات کا سامنا کرناپڑرہا ہے اور ان حالات کو پیدا کرنے والوں  کو مودی بھگت کہا جاتا ہے۔ تو دوسری جانب مسلمانوں   کو بھی اپنی ہی قوم میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو کسی عالم پر سوال اٹھاتے ہیں یا اُس کی تنقید کرتے ہیں۔ جب بھی کسی عالم کی تنقید کیلئے سوال اٹھایا جاتا ہے، مسجد کے منبر پر خطبہ دینے والے عالم کی غلطی پر سوال اٹھایاجاتا ہے، کسی تنظیم کے سربراہ عالم پر تنقید کی جاتی ہے تو ان کے چاہنے وماننے والے یا یوں  کہیے کہ ان کی پرسرتش کرنے والے اس طرح آگ بگولہ ہوجاتے ہیں مانوکہ تنقید کرنے والے نے دین کی بہت بڑی توہین کردی ہے۔ آج کسی بھی عالم کو سوال کرنا گناہ قرار دیاجاتا ہے اور اُس عالم کے چاہنے والے سوال کرنے والے کے ساتھ گالی گلوچ کرتے نظرآتے ہیں۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ کی خلافت کا واقعہ ہے جس وقت حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تھا، اُس وقت منبر پر کھڑے ہوکر سب سے پہلے انہوں نے یہ خطبہ دیا تھاکہ”اے مسلمانو!آج سے میں مسلمانوں  کا خلیفہ چنا گیا ہوں ، اگر میں کسی وجہ سے غلط راہ اختیار کرلوں  تو میرا ہاتھ پکڑلو اور میری اطاعت سے گریز کرو اور مجھ سے سوال کرو، کیونکہ میں بھی انسان ہوں “۔

حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے عظیم المرتبہ صحابی رسول نے ہی اپنے تعلق سے اس طرح کی رائے قائم کی تھی تو آج کل کے علماء پر سوالات اٹھانے سے کیوں منع کیا جاتا ہے، حالانکہ علماء کی تعظیم کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، لیکن علماء جب راہِ راست سے ہٹنے لگیں او ر اپنے الگ راستے بنانے لگیں تو ان کی تقلید کس بنیاد پر کی جائے؟۔ ایسے سوالات کرنے والوں   پر علماء نہ سہی علماء بھگت تہمتیں لگاتے ہوئے ملحد، کافر، منافق جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے حقیقتوں کوچھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا علماء سوالات کے دائرے سے باہر ہیں ؟کیا علماء پر تنقید نہیں کی جاسکتی؟کیا ہر عالم عالمِ حق ہے؟کیا علماء نفس کی بات نہیں مانتے؟اگر اتنے ہی صحیح علماء ہوں  تو وہ آخر سوال کا جواب دینے سے کیوں کتراتے ہیں ؟۔

علماء کی طرح ہماری تنظیمیں بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرنے لگے ہیں، انہیں بھی سوالات سے الرجی ہے، اگر اُن کے یہاں  اکٹھا کئے جانے والے چندے کے تعلق سے سوال کیاجاتا ہے تو سوال کرنے والے کو قوم کادشمن کہہ دیا جاتا ہے، قوم کی مخبری کرنے والاکہہ دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس قوم کی جانب سے کسی تنظیم یا ادارے کو اس کی آمدنی واخراجات کے تعلق سے خود قوم سوال کرے تو اس میں برائی کیا ہے؟۔ آخر کیونکر ان سولات کے جوابات نہیں دئیے جاتے اور سوالات پوچھنےوالے کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟۔ جب تنظیمیں قوم کے نام پر بنائی جاتی ہے تو قوم کا حق ہے کہ ان سے سوالات کریں اور تنظیمیں ان کے سوالات کے جوابات دیں۔ افسوس کی بات ہے کہ آج تنظیمیں پرائیوئٹ لمیٹیڈ بن چکی ہیں اور ان سے سوالات کرنا گناہ بن چکا ہے۔ قوم کو چاہیے کہ وہ حق اور ناحق کی پہچان کریں اور کہیں کچھ غلط ہورہا ہو تو اُس پر سوال کرتے ہوئے اُس کی اصلاح کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔