مودی: ملک کے سب سے ناکارہ اور نا اہل وزیر اعظم

سرفراز احمد قاسمی

         روس یوکرین کی جنگ جاری ہے اور ہرروز وہاں حملے تیز ہوتے جارہے ہیں، گذشتہ ایک ہفتے سے یہ سلسلہ جاری ہے، آج جبکہ یہ تحریر لکھی جارہی ہے جنگ زدہ ملک کا یہ ساتواں دن ہے یعنی ایک ہفتے یورے ہوگئے، اس جنگ کا انجام کیا ہوگا؟یوکرین پرروس کی مسلط کردہ جنگ کب تک چلے گی، ابھی اس معاملے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس جنگ نے بہت سے چہروں سے نقاب اٹھادیاہے اور منافقت واضح ہوگئی ہے، یوکرین پر روسی فوجی کارروائی  کےلیے ایک افسوسناک پیش رفت میں  کرناٹک کے ایک نوین ایس جی کی فائرنگ میں موت بھی  ہوگئی، ادھر اپنا ملک بھارت جو پہلے سے بے تحاشہ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہے، آج اس میں مزید اضافہ ہوگیا، اب کمرشیل پکوان گیس سلنڈر کی قیمت میں 105 روپے کا مزید بوجھ عوام کے کاندھوں پر ڈال دیا گیاہے، اسی طرح دودھ کی قیمت بھی بڑھادی گئی ہے، یہ سب ایک ناکام اور ناکارہ حکومت کی پالیسی کا نتجہ ہے، جس حکومت کا کام ملک میں نفرت پھیلاناہو، مذہب کے نام پر لوگوں کو بلیک میل کرکے ووٹ حاصل کرنا ہو ظاہر ہے ایسی حکومت سے کسی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی، ایل پی جی اور دودھ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پر راہل گاندھی نے شدید تنقید کی ہے، انھوں اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے آخری دور سے پہلے ہی حکومت نے ایل پی جی سلنڈر اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عام عوام کے تئیں بے حسی کا مظاہرہ کیاہے، لیکن ہماری پارٹی اسکے خلاف تحریک چلاکر عوام کو مہنگائی سے نجات دلائے گی۔

 راہل گاندھی نے مزید کہاکہ ایل پی جی کی قیمت ایک بار پھر بڑھاکر مودی حکومت نے ایک بار اور صاف کردیاہے کہ اسے عام لوگوں کی تکالیف اور مصیبت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کانگریس ترجمان الکالامبا نے بھی بڑھتی قیمتوں پر شدید تنقید کی ہے، انھوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے مخاطب ہوکر کہاکہ بی جے پی کا مقصد صرف الیکشن جیتنا رہتاہے اوراسے عوام کی حالت زار سے کوئی لینا دینا نہیں، الیکشن شروع ہونے سے پہلے اس نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی تھی لیکن الیکشن ختم ہونے سے پہلے ہی ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھادی، انھوں نے یہ بھی کہاکہ اترپردیش کے ساتھ ساتھ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت  اب گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھانے کا منصوبہ بنارہی ہے، الکالامبا نے مزید کہاکہ بی جے پی تمام ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہاررہی ہے اسلیے اس نے انتخابات کے آخری مرحلے کا انتظار کئے بغیر قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کردیاہے۔

 بی جے پی حکومت کے وزراء اور ممبران اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کی مہم میں مصروف ہیں، مودی اور انکی پارٹی کو صرف الیکشن جیتنے کی فکر ہے اسے اپنے شہریوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے، مودی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے یعنی 2014 سے اگر انکی گذشتہ پالیسیوں کا جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ انکی ساری پالیسیاں عوام مخالف ہیں، انھوں نے عوام کی فلاح وبہبود اور انکی راحت وآرام کا کوئی خیال نہیں رکھا، انکے دل میں جب آیا انھوں نے اپنا فیصلہ ملک کے عوام پر مسلط کردیا، اب اس تاناشاہی فیصلے کی وجہ سے کسی کی جان چلی جائے، کسی کا مال اور کسی کا کاروبار برباد ہوجائے، کسی کی عزت آبرو خطرے میں پڑ جائے اس سے انھیں کوئی مطلب نہیں، مودی جس حکومت کے وزیر اعظم ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت اور وزیراعظم ملک کی تاریخ کے سب سے ناکارہ اور نا اہل وزیر اعظم ہیں، ملک میں ابتک 15 وزرائے اعظم ہوئے لیکن دیکھاجائے تو ملک کے سب سے ناکام وزیراعظم کی لسٹ میں مودی پہلے نمبرپر ہیں، منموہن سنگھ کو سب سے کمزور اور ناکام وزیراعظم کہنے والے مودی جی نے اپنے فیصلوں سے یہ ثابت کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ تو کمزور اور ناکام نہیں تھے لیکن میں انتہائی ناکارہ وزیراعظم ہوں، اسکے باوجود میرے اندر شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یقین نہ آئے تو میرے ان الٹے سیدھے فیصلوں کو دیکھ لو جو میں نے گذشتہ 8سالوں میں کئے ہیں، چاہے وہ نوٹ بندی ہو، جی ایس ٹی ہو، پلوامہ حملہ ہو، کووڈ وباء ہو، یاپھر لاک ڈاؤن کا معاملہ ہو، کشمیر کا370 ہو، یا سی اے اے اور این آرسی کا معاملہ ہو، طلاق بل ہو یا کسانوں کے خلاف قانون ہو، اس طرح کے درجنوں ایسے معاملے میں جس میں لوگوں کو تکالیف ومشقت کا سامنا پڑا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

آپ کو یاد ہوگا نوٹ بندی نے لوگوں کی کمر توڑدی تھی اور یہ ایسا فیصلہ تھا جو بغیر سوچے سمجھے اسکے مضمرات کا جائزہ لیے بغیر ملک پر مسلط کردیاگیا، رات 8بجے اچانک مودی جی منظر عام پر آتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں بھائیو بہنو! کل سے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ بند ہوجائیں گے، اس اعلان کے بعد جس طریقے سے پورے ملک میں افراتفری مچی، سینکڑوں لوگوں کی جانیں گئی، لوگوں کو لمبی لمبی لائن میں لگنا پڑا، یہ سب صرف ایک تاناشاہی فیصلے کی وجہ سے ہوا، جبکہ اس فیصلے کےلیے نہ کابینہ کی کوئی میٹنگ بلائی گئی نہ کوئی مشورہ کیاگیا بس ایک تنہا شخص کا فیصلہ جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی، ٹھیک یہی صورتحال دوسرے فیصلوں سے بھی پیدا ہوئی، جس سے آج تک لوگ باہر نہیں نکل سکے، کشمیر میں اسوقت جوکچھ ہورہاہے اور جس طریقے سے وہاں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہاہے اس سے ملک واقف ہے آخر 370کی برخواستگی کا فائدہ کیاہوا؟تین سال گذرجانے کے بعد آج تک وہاں امن قائم نہیں ہوسکا، وقت کے تقاضے کے مطابق اور بروقت فیصلہ لینا یہ ایک ایسی صفت ہے جو بہت سی ناگہانی اور مصائب ومشکلات کو ٹال دیتی ہے، ایک کامیاب قیادت سے لوگ یہی امید کرتے ہیں کہ وہ مصیبت و ابتلاء اور بحران کی سنگین گھڑی میں قوم کے اجتماعی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بروقت اور درست فیصلے کرے گی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مودی حکومت نے کبھی بھی اس عام تصور کو حقیقت کا جامہ نہیں پہنایا۔

 روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے حوالے سے بھی  یہی امید کی جارہی تھی کہ  حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے وہاں موجود ہندوستانی شہریوں کے انخلاء کی بروقت کارروائی کرےگی اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے شہریوں کو بحفاظت ملک لےآئےگی، لیکن ایسا نہیں ہوا، یہ تاخیر کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمارے شہری جن میں طلباء وطالبات کی اکثریت ہے، جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں، کہنے کو تو حکومت نے یوکرین میں پھنسے ہوئے شہریوں کو لانے کےلیے’گنگا آپریشن شروع کیاہے، لیکن اب تک کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں ایئرانڈیا نے صرف8چکر ہی لگائے ہیں، اور ہر چکر میں صرف 240 افراد کو ملک لایاجاسکاہے، آج جنگ کے ساتویں دن بھی ہزاروں ہزار ہندوستانی شہری اپنی حکومت اور سفارت خانہ کی امداد کے منتظر ہیں۔

 اوپر لکھ چکا ہوں کہ یہ فیصلے کی تاخیر اور غلط پالیسی کے نتیجے میں 21سالہ نوین جسکا تعلق کرناٹک سے ہے یوکرین میں ہلاک ہوگیا، ایک اور موت کی میڈیا کے ذرائع نے تصدیق کی ہے، خبروں کے مطابق پنجاب کے برنالہ سے تعلق رکھنے والے چندن جندال 21 سال جو یوکرین میں میڈیکل سائنس کی تعلیم حاصل کررہاتھا 2مارچ کو ہونے والے دھماکے میں چندن کو شدید چوٹیں آئی تھی، جسکے بعد اسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرایاگیا، دوران علاج اسکی موت ہوگئی، وزارت خارجہ نے چندن کے موت کی تصدیق کردی ہے، اب حکومت روس اور یوکرین کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ میں طلب کرکے ان سے جواب مانگ رہی ہے جسکا بظاہر کوئی حاصل نہیں ہے، کیونکہ جب کہیں جنگ ہوتی ہے تو صرف فریقین کو ہی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا، بلکہ غیر متعلقین بھی اس جنگ کا ایندھن بنتے ہیں، دوراندیشی کا تقاضا تو یہ تھاکہ حکومت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے ہزاروں شہریوں کو وہاں سے واپس بلالیتی، لیکن ایسا نہیں ہوسکا، ترنمول کانگریس کے رہنما نے مودی حکومت کو یاددلایاہے کہ 1990 میں خلیجی جنگ کے دوران ہندوستان نے بڑی تعداد میں اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالاتھا، یوکرین میں پھنسے ہوئے طلباء کی ممکنہ تعداد صرف 18ہزار کے قریب ہے، واجپئی کی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے یشونت سنہا نے کہاکہ ماضی میں ہندوستان کی طرف سے کی گئی ایئرلفٹ کے مقابلے میں یوکرین کی تعداد بہت بڑی نہیں ہے، انھوں نے کہاکہ ہندوستان نے اگسٹ سے اکٹوبر 1990 کے درمیان ایک لاکھ 70 ہزار لوگوں کو کویت سے نکالاتھا، انھوں نے نشاندہی کی کہ اس پورے عمل کی نگرانی سابق وزیراعظم آئی کے گجرال نے کی تھی، جواس وقت وزیر خارجہ تھے، ٹی ایم سی لیڈر نے مزید کہاکہ یوپی میں ابھی انتخابات ہورہے ہیں، اور وہ اس موقع کا استعمال مہم چلانے کےلیے کررہے ہیں، مودی حکومت نے کریڈٹ لینے کا یہ شاندار کام  کیاہے، وزیراعظم کا یوپی میں انتخابی ریلیوں میں اس بارے میں بات کرنا اچھی بات نہیں ہے، یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے یہ تو حکومت کا فرض ہے، انھوں نے مزید کہاکہ حکومت کو معلوم تھاکہ بحران آنے والا ہے تو جب یوکرین کی فضائی حدود کھلی تھی، اسی وقت وطن واپسی کے خواہش مندوں کو واپس لانے کےلیے بروقت قدم اٹھانا چاہیے تھا، حکومت نے اب جاکر چار وزراء کو یوکرین کے پڑوسی ممالک بھیجنے کا فیصلہ کیاہے، یہ چاروں وزراء طلباء کو بحفاظت لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

یہ آنے والے چند دنوں میں معلوم ہوجائے گا، ابھی تو چاروں وزراء وطن واپس آنے والے کچھ طلباء کے ساتھ سیلفیاں لیکر خود کو پروموٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جو جنگ جاری ہے یہ اچانک شروع نہیں ہوئی، کئی دنوں سے کشیدگی کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو الرٹ کردیا تھا اور وہاں سے نکل جانے کےلیے کہہ دیاتھا، لیکن بھارت کی حکومت نے آگ لگنے کے بعد کنویں کی کھدائی کے انداز میں بہت تاخیر سے ہدایات جاری کیں، ہندوستان کے پاس اتنا وقت تھاکہ وہ اس مدت میں اپنے تمام شہریوں کو واپس لاسکتاتھا، لیکن ایک بے حس اور بے شرم حکومت کوکیاکہاجائے؟

آپ کسی انجان اورنامعلوم  راستے میں  چل رہے ہوں تو آپ کو پہلے سے الرٹ رہناہوگا کہ راستے میں کہیں کوئی خطرہ بھی پیش آسکتاہے، کوئی نالہ اورندی وغیرہ بھی آپ کو عبور کرنا پڑسکتاہے، ظاہر ہے اسکےلیے آپ کو پہلے سے تیاری کرنی ہوگی اور اس ندی کو پارکرنے کےلیے کپڑے وغیرہ بدن سے نکالنے ہونگے، یہی عقلمندی اور سمجھ داری کی نشانی ہے بیچ ندی میں جاکر جسم سے کپڑے نکالنا دانشمندی نہیں ہے، خطرات جب آنے والے ہوں اس سے پہلے ہی بچنے کی تدابیر اختیار کرنا ہی دوراندیشی کہلاتا ہے، یوکرین پر جب خطرات کے بادل منڈلا رہے تھے، اور کشیدگی بڑھ رہی تھی تب ہمارے وزیراعظم اور انکی پوری ٹیم یوکرین میں پھنسے ہوئے شہریوں کولانے کے بجائے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں مصروف تھے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ہندوستان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کو سلجھانے میں سرگرم اور اہم کردار اداکرتا، لیکن افسوس بھارت اپنا کردار اداکرنے کے بجائے اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے میں بھی ناکام رہا، شاید آپ کے ذہن میں ہو کہ ایسے کئی موقع پر مودی حکومت نے لوگوں کو مرنے کےلیے چھوڑدیا، چاہے لاک ڈاؤن کا موقع ہو یا نوٹ بندی کے علاوہ دوسرے مواقع رہے ہوں، ہزاروں لوگوں نے اپنی جان دیدی اور مودی حکومت تماشائی بنی رہی، کیونکہ اس حکومت کو لوگوں کی جان ومال کی کوئی پرواہ نہیں، شاید حکومت کا یہی خیال یوکرین کے بارے میں بھی ہو، اسی لیے وہاں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی، اور لوگوں کو بے یارو ومددگار چھوڑدیاگیا، حکومت کی اس ناکامی کو چھپانے کےلیے سوشل میڈیا پر یہ تشہیر کی جارہی ہے کہ یوکرین کی فوج یاپولس ترنگا دیکھ کر ہی ہندوستانی شہریوں کو سرحد پر لے جارہی ہے، لیکن اسی سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز اور تصاویر بھی آچکی ہیں جو مودی حکومت کی ناکامی اور یوکرین میں موجود ہندوستانی سفارت خانہ کے اہلکاروں کی بے حسی کو واضح اور ظاہر کررہی ہیں۔

روس کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد سے ہندوستان کی دوری پر ناراض یوکرین کے فوجی ہندوستانی شہریوں اور طلباء کے ساتھ اچھا سلوک بھی نہیں کررہے ہیں، کچھ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھاگیاہے کہ ہندوستانی طلباء کو پولینڈ جیسے ممالک کی سرحد تک پہونچنے کےلیے کہاجارہاہے، لیکن جنگ زدہ ملکوں میں دھماکوں کے درمیان سینکڑوں کیلومیٹر کا سفر کتنا آسان ہوگا؟ اسکا صرف تصور ہی کیاجاسکتا ہے، دوسری جانب یوکرین میں موجود ہمارا سفارت خانہ بھی طلباء کی مطلوبہ مدد میں پوری طرح ناکام نظر آرہاہے، غیر ملکی سرزمین پر اپنے ملک کا سفارت خانہ تارکین وطن کےلیے گھر کے صحن جیسا ہوناچاہیے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کرسکیں، سفارت خانہ اور اسکے اہلکاروں کا کام صرف دوممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا نہیں بلکہ شہریوں کے تئیں بھی انکی کچھ ذمہ داریاں ہیں، لیکن یوکرین میں زیرتعلیم ہندوستانی طلباء کی حالت زار بتارہی ہے کہ ہندوستان کا سفارت خانہ اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے میں پوری طرح ناکام ہے، بلکہ مودی حکومت کے8سالہ دورحکومت، انکے فیصلے اور پالیسیوں پر نظرڈالی جائے تو اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ حکومت ملک کی تاریخ کی سب سے بدترین اور ناکارہ حکومت ہے اور مودی جی سب سے ناکام اور نااہل وزیراعظم ہیں، اور وہ خود  شاعر کی زبانی یہ کہلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ

کاش ہم ناکام بھی کام آئیں تیرے عشق میں

مطلقاً ناکارہ ہیں دنیا ودیں کے کام سے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔