مودی کی مقبولیت میں کمی کی باتیں: حقیقت یا سَراب

جاوید جمال الدین

ملک میں کوروناوباء کی ایک اور لہر آنے کے اندیشے اور بحث، کمرتوڑ مہنگائی پر عوامی پریشانی اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کی خبر کے درمیان سے ایک ایسی خبر بلکہ سروے سامنے آیا ہے،جس کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی ہمنوا تنظیموں اور جماعتوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ان کا ایجنڈا ہے اور اسی پر کام کرتے ہیں۔

البتہ یہ سچ ہے کہ سروے ایک معتبر میڈیا ہاؤس نے کرایا ہے اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ملک کے  وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت ایک سال میں 66فیصد سے کم ہو کرمحض  24 فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی اگر تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوگا کہ انڈیا ٹوڈے کے ذریعہ انجام دیئے گئے مذکورہ سروے کے مطابق مودی اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈران اور اپوزیشن کے کئی قومی لیڈر نے عوام اپنی پکڑبنالی ہے، جنہیں وہ وہ اور ان کی پارٹی ذلیل وخوار کرتی رہے۔

اس سے پہلے کئے گئے سروے  میں کورونا وائرس کی پہلی لہر سے پیدا شدہ حالات سے بہترین طریقے سے نمٹنے کی وجہ سے  امسال کے آغاز میں جنوری 2021 میں وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت 73 فیصد تک پہنچ گئی تھی،حالانکہ تب عوام کو دشواریوں اور پریشانیوں کا شدید سامنا کرنا پڑا تھا اور کئی شہریوں سے ہجرت کرکے اپنے آبائی شہر پہنچنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ سرکاری سطح پر پہلے تو چشم پوشی برتیں گئی، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تب مودی حکومت نے عوامی بہتری وفلاح کے لیے اقدامات کیے تھے۔ جس کا کریڈٹ حسب معمول مودی نے لیاتھا۔

 لیکن مودی حکومت کے لیے دوسری لہر خطرناک ثابت ہوئی اور اس نے بیڑہ غرق  کر کے رکھ دیا، یہی وجہ ہے کہ مودی کی مقبولیت میں ایک دو نہیں بلکہ 49 فیصد تک کی کمی واقعی ہوئی۔ جوکہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس سروے نے پارٹی لیڈرشپ کی نیندیں حرام کردیں ہیں اور جونقصان پہنچا ہے، اس کی بھرپائی کے لیے ہاتھ پیر مارے جارہے ہیں، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس سلسلہ میں اترپردیش اسمبلی انتخابات کے قبل کئی نئے حربے اور طریقے اپنائے جائیں گے تاکہ سروے میں کورونا وباء کی پہلی لہر کے دوران ہوئے نقصان کو کم کیا جاسکے۔

مذکورہ  سروے کے بار ے میں ذکرکیا جاچکاہے، جوکہ کیونکہ انگریزی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے اسے انجام دیا ہے اور اس لیے اس کی حقیقت سے انکار یا اس کو مسترد بھی نہیں کیاجاسکتا ہے، یہ چینل کے موڈ آف دی نیشن پول کا سروے ہے، جوکہ 10 جولائی سے 20 جولائی 2021 کے درمیان کیاگیا ہے اور ملک کی 19 ریاستوں کے 115 پارلیمانی حلقوں اور 230 اہم ترین  اسمبلی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ سروے میں شامل لوگوں سے مختلف سوالات پوچھےگئے اور اس کے نتائج حیران کن کہہ جاسکتے ہیں، کیونکہ مودی کی مقبولیت میں زبردست کمی کے ساتھ ہی اترپردیش کے وزیراعلی یوگی ادیتیہ ناتھ اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی مقبولیت میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے، یہ نتائج مودی کانام بھرنے والوں کے لیے سانپ سونگھنے جیسا ہے۔ دراصل اترپردیش میں آئندہ سال کے اول میں اسمبلی کے انتخابات ہیں اور مودی کے بجائے یوگی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگے گا، یہی پارٹی کے  ایک طبقہ کے لیے سردرد ثابت ہوسکتا ہے۔

سروے کاجائزہ لیا جائے تویہ بتا یا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں یہ بڑی کمی محض آٹھ دس مہینے میں واقع ہوئی ہے۔ بلکہ عوام انہیں پسندیدہ وزیراعظم بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عالمی وبا کورونا کی دوسری لہرسے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کی وجہ سے نریندر مودی کی مقبولیت 66 فیصد سے گھٹ کر 24 فیصد پر آ گئی ہے۔ سروے کے مطابق 27 فیصد افراد نے بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور انتخابی ریلیوں کو کورونا کی دوسری لہر کی وجہ قرار دیا،ظاہری بات ہے کہ کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طورپر مغربی بنگال میں کوروناوباء کی پرواہ کیے بغیر مودی اور شاہ نے بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم میں حصہ لیا اور آخر دور میں عدالت کی مداخلت اور وباء کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے نتیجے میں اپنے پاؤں پیچھے کھینچ لیے۔ جبکہ نتائج بھی پارٹی کے دعووں کے برعکس نکلے تھے۔ اس لیے عوام کے 26 فیصد کا خیال تھا کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس کی شدت کو نظر انداز کیا گیا۔ اس

سروے میں شامل 71، فیصد افراد نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ کورونا کے باعث ہونے والی اموات سرکاری اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہیں، جبکہ 44 فیصد نے اس دوران پیدا ہوئے صحت کے مسائل کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کوذمہ دار ٹھہرایا۔ ظاہر ہے کہ مہنگائی بھی اس میں ایک اہم جز رہا ہے،29 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی مودی حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ رہی ہیں جبکہ 23 فیصد افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے بے روزگاری کو حکومت کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ قرار دیاہے۔ ان دونوں مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف قسم۔ کے حربے اپنائے جارہے ہیں۔

ایک سال قبل مودی کو اگست 2020 میں 66 فیصد عوام نے اپنی پہلی پسند سمجھاتھا، لیکن اگست 2021 میں یہ تعداد گھٹ کرصرف 24 فیصد رہ گئی ہے۔ ابھی 8 مہینے قبل مودی جنوری 2021 میں  38 فیصد لوگوں کی پسند تھے- ہاں ہندوستان کیلیے آئندہ وزیر اعظم کی دوڑ میں ان کی اپنی پارٹی کے دو رہنماء کی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا ہے- یوپی کے وزیراعظم یوگی آدتیہ ناتھ کو اگست 2021 میں 11 فیصد شرکاء نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے بہترین قراردیاہے، جبکہ جنوری 2021 میں یہ تعداد 10 فیصد ہی تھی اور اگست 2020 میں تو صرف تین فیصد  نے انہیں اس لائق  سمجھاتھا،البتہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ان کی مقبولیت یوگی سے کم ہوئی ہے۔ جوکہ یوپی انتخابات کے پیش نظر یوگی کے حق میں ہے۔ حالانکہ جہاں تک یوپی اسمبلی انتخابات کا تعلق ہے،پی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے حسب معمول فرقہ پرست ایجنڈےپر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، بلکہ عمل پیراہیں۔

 جہاں تک اپوزیشن لیڈروں کی مقبولیت کا سوال ہے،کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کو میڈیا اور بی جے پی لیڈرشپ جس انداز میں بھی پیش کرتی رہے، اس سے ہٹ کر ان کی مقبولیت اگست2021میں 10فیصد تک پہنچ گئی ہے- جوکہ جنوری2021میں سات فیصد ہی تھی،البتہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی مقبولیت میں بھی پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے-

ہم سب اس سچائی سے بخوبی واقف ہیں کہ ہماراملک ہندوستان اس وقت دنیا میں عالمی وباء کورونا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک ہے، یہاں اب تک کورونا کے باعث 3 کروڑ 23 لاکھ 58 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بی جے پی قیادت بڑی چالاکی اور چپی کے ساتھ آئندہ سال کے آغاز کے مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طور پر یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے کمربستہ ہے اور اپنے ایجنڈے پر کام کرنے کابھی من بنا لیا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی اس قسم کے سروے بھی شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں کہ کہیں ‘بھکتوں ‘میں جوش بھرنے کے لیے منصوبہ بندی تو نہیں کی گئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔