وزیر اعظم نے جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں

حفیظ نعمانی

ہم حیران ہیں کہ وزیراعظم پر اس کا اثر کیوں نہیں ہوتا کہ ہر صبح کے اخبار میں ایک خبر ضرور ایسی ہوتی ہے کہ جس میں وزیراعظم کی بات کو جھوٹ کہا گیا ہوتا ہے۔ پرسوں ایک وہ نامور صحافی جن پر بی جے پی فخر کرتی تھی اور جو اٹل جی کے زمانہ میں وزیر بھی رہے انہوں نے کہا کہ مودی جی ہر دن ایک جھوٹ بولتے ہیں اور دوسرے دن وہ پنکچر ہوجاتا ہے اور وہ راہل گاندھی جن کا وجود مودی جی ختم کرنے چلے تھے ان کے ہر صبح کے بیان میں پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے یہ جھوٹ کہا۔ 2017 ء میں جب اترپردیش اسمبلی کا الیکشن ہورہا تھا اس وقت مودی جی نے تقریروں میں بار بار اور جگہ جگہ کہا تھا کہ جب مسلمانوں کو قبرستان کے لیے زمین دی جارہی ہے تو ہندوئوں کے شمشان کے لیے بھی زمین دینا چاہیے اور جب رمضان میں بجلی دی جاتی ہے تو دیوالی میں بھی بجلی دینا چاہیے۔

مودی جی 12 برس گجرات کے وزیراعلیٰ رہنے کے بعد وزیراعظم بنے تھے انہوں نے ایک بار بھی اس کا ذکر نہیں کیا کہ اپنے اقتدار کے 12  برس میں انہوں نے کہاں کہاں جتنی زمین قبرستان کو دی اتنی ہی شمشان کو دی اور ہر شہر میں جتنی بجلی رمضان میں دی اتنی ہی دیوالی میں دی۔ وہ ان میں سے کوئی بات اس لیے نہیں کہہ سکتے تھے کہ بارہ برس میں نہ ان سے کسی نے قبرستان کے لیے زمین مانگی اور نہ شمشان کے لیے اور اس طرح نہ رمضان کے لیے بجلی مانگی اور نہ دیوالی کیلیے اس لیے کہ یہ اترپردیش یا گجرات نہیں کسی بھی ریاست کا مسئلہ نہیں ہے اور اگر اسے ہم نے یا کسی نے جھوٹ کہا تو اس لیے کہ یہ ان کو بھی معلوم ہے مگر وہ اکھلیش یادو کو صرف مسلمانوں کا دوست اور ہندوئوں کا دشمن ثابت کرنا چاہ رہے تھے۔ گجرات کے ہر ضلع میں نہیں لیکن جہاں مسلمان ہیں وہاں خوب ہیں اور مودی جی ان علاقوں سے خوب واقف ہیں اور بہت ان کے جاننے والے بھی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ رمضان میں مسلمان کبھی فاضل بجلی نہیں مانگتے اور دیوالی میں ہندو اتنی بجلی خرچ کرتے ہیں جس کا مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اور اسی کو سب جھوٹ کہتے ہیں۔

آج پھر راہل گاندھی نے اس کو دہرایا ہے کہ مودی جی نے کہا تھا کہ رافیل معاہدہ ایک خفیہ معاہدہ ہے اس لیے اسے ظاہر نہیں کیا جاسکتا اور جب فرانس نے کہہ دیا کہ وہ معاہدہ خفیہ نہیں ہے تو وہ جھوٹ بن گیا۔ راہل نے اس پر اعتراض کیا کہ سردار پٹیل کا مجسمہ چین میں کیوں بن رہاہے؟ اور یہ واقعہ ہے کہ یہ اپنے ملک کے فنکاروں کی توہین ہے۔ آخر اس مجسمہ میں کیا ہے جو ہندوستان میں نہیں بن سکتا جبکہ 2014 ء میں مودی جی نے اپنی انتخابی مہم میں زور پیدا کرنے کیلیے پوری قوم کو بھکاری بنا دیا تھا اور سب سے کہا تھا کہ جہاں سے ووٹ مانگنے جائو وہاں سے ٹوٹا پھوٹا لوہا بھی مانگ لینا۔ اور اس کے بعد اس کا ذکر کرنا بھی بند کردیا اور اب وہ غیرملکی لوہے سے بنے گا اور لوہ پرش کہلائے گا۔

راہل گاندھی شروع سے کہہ رہے ہیں کہ مودی جی نے انل امبانی کی نئی بنی فیکٹری کو رافیل کی دیکھ بھال کی ذمہ داری 30  ہزار کروڑ روپئے کے عوض دی ہے۔ مودی جی نے بار بار جھوٹ بولا کہ انل امبانی کو فرانس نے ٹھیکہ دیا ہے۔ اور آخر کار فرانس نے کہہ دیا کہ ہم کیا جانیں، انل امبانی کون ہے؟ حکومت ہند نے کہا ہم نے مان لیا۔ آخر کیا ہوگیا ہے وزیراعظم کو کیوں نہیں سوچتے کہ وزیراعظم 130  کروڑ انسانوں کی عزت ہیں اگر ان کا ایک بیان بھی جھوٹ ثابت ہوجائے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے اور ہمارے وزیراعظم ہیں کہ جھوٹ کی حمایت میں پلٹ وار کرنے والوں کو سامنے لاکر کھڑا کردیتے ہیں جو یہ نہیں کہتے کہ جسے جھوٹ کہا جارہا ہے وہ جھوٹ نہیں سچ ہے بلکہ ان کا پلٹ وار یہ ہوتا ہے کہ راہل کے بہنوئی نے اپنے ایک دوست کے لیے دیکھ بھال کا ٹھیکہ چاہا تھا اسے جب نہیں ملا تو راہل نے رافیل کا سودا ہی ختم کردیا۔ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ راہل کے بہنوئی یا راہل نے اگر کوئی غلط کام کیا تو وہ اس کی سزا میں ہی تو باہر ہیں۔ اب اگر شیکھاوت پلٹ وار کرتے ہیں تو وہ یا تو مودی کی ہر بات کو صحیح ثابت کریں یا جو سزا غلطی کی راہل بھگت رہے ہیں وہی سزا مودی جی کو دلائیں۔

پہلے مودی جی کی ہر بات کی حمایت میں وزیر قانون سب سے زیادہ بولتے تھے رافیل سودے کے جھوٹ اور انل امبانی کے لیے اتنا بڑا گناہ کرنے کا انجام یہ ہوا کہ ان کی بولتی بھی بند ہوگئی اور گردن جھکاکر انہوں نے صرف اتنا کہا کہ کسی پارٹی کے صدر نے اپنے ملک کے وزیراعظم کے بارے میں اتنی گھٹیا بات کبھی نہیں کہی ہوگی جتنی راہل گاندھی نے وزیراعظم کے لیے کہی۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کی مراد بار بار چور کہنے سے ہے۔ انہیں ہاردک پٹیل نے پہلے چور کہا تھا۔ اور یہ برسوں پرانی بات ہے جب لکھنؤ یونیورسٹی کے لڑکوں کے جلوس نکلا کرتے تھے اور ایک ہی نعرہ ہوتا تھا کہ یوپی میں تین چور۔ منشی گپتا نول کشور۔ کے ایم منشی گورنر تھے سی بی گپتا وزیراعلیٰ تھے اور نول کشور وزیرتعلیم تھے۔

ہمارے بڑوں نے گھر کے چھوٹے سے چھوٹے بچہ کو آپ آیئے کتاب لایئے کھانا کھالیجئے کہہ کر مخاطب کیا اور جواب میں ہر بچہ نے بڑوں کو آپ کہا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا رشتہ اپنے عوام کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو گھر کے بزرگ کا بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر بچے دیکھ اور سمجھ رہے ہیں کہ جھوٹ بولا جارہا ہے یا حقدار کا حق مارا جارہا ہے یا جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہورہا ہے تو

ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہو ویسی سنو

اگر وزیراعظم ایسے ہوں کہ ان کی دیانت کی قسم کھائی جاسکے تو پھر ہمارا فرض ہے کہ ہم قلم کو تلوار بنالیں اور ان کی حمایت کریں۔ اب تک یہی ہوا کہ وزیراعظم کے اوپر انگلی نہیں اٹھ سکتی لیکن جھوٹ ان کا شوق ہے اور اب یہ رافیل میں جو انہوں نے کہا تو کسی کی زبان نہیں پکڑی جاسکتی اور انہیں وہ سب سننا پڑے گا جو انہوں نے کیا ہے۔ ہر مسلمان کے دماغ میں یہ سوال ہے کہ طلاق شدہ بے پردہ مسلمان عورتوں کی تو اتنی فکر ہے کہ راجیہ سبھا نے ساتھ نہیں دیا تو آرڈی نینس لے آئے اور اس ہندو خاتون کے لیے کیوں نہیں سوچا جو خاتون اوّل ہے مگر اس نے ساری جوانی انگاروں پر کروٹیں بدل کر گذار دی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔