وکاس ایودھیا پہنچ گیا!

 عابد الرحمن

 ترقی گڈ گورننس، کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے اور کالے دھن کی واپسی اور اچھے دنوں کے نعرے اور وعدوں کے ساتھ بی جے نے لوک سبھا کا الیکشن جیتا تھا۔مودی جی نے ان وعدوں کی تکمیل کے لئے میک ان انڈیا اسٹار ٹپ انڈیا وغیرہ اقدامات کئے اور بلیک منی اور بدعنوانی اورجعلی کرنسی اور دہشت گردی کے خلاف بزعم خود نوٹ بندی کا ایسا انقلابی اقدام کیا کہ جس سے ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا تھالیکن دیش کے لئے انہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر اس سمت میں آ گے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ لوگوں نے اسی وقت اچھے دنوں اور نوٹ بندی کے فوائدکو جراف پر چڑھ کر دیکھنا شروع کر دیاتھا لیکن نہ اچھے دن دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی ان کے آنے کے کچھ آثار، بلکہ نوٹ بندی سے تو فوری طور پر برے دنوں کی شروعات ہو چکی تھی، لوگ کام دھندے چھوڑ کر بنکوں کی لائنوں میں لگنے کو مجبور ہو گئے تھے جس میں کئی لوگوں ’دیش کے لئے ‘ اپنی جان گنوا کر شہید بھی ہوگئے یہ الگ بات کہ حکومت نے انہیں شہادت کا سرکاری درجہ نہیں دیا اسی طرح مارکیٹ میں کیش اتنا کم ہوگیا تھا کہ کاروبار ٹھپ ہو گئے تھے، اور جونئے نوٹ لائے گئے تھے وہ دو ہزار کے ہونے کی وجہ سے بجائے خود ایک نئی پریشانی بن گئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود حکومت اصرار کر رہی تھی کہ انتظار کیا جائے اچھے دن آئیں گے اور صاحب ابھی نوٹ بندی سے آنے والے اچھے دنوں کی کوئی معمولی خبر تو دور اس کے برے دن بھی پوری طرح ختم بھی نہیں ہو پائے تھے    کہ مودی جی نے جی ایس ٹی کے نام اپنا دوسرا انقلابی قدم بھی اٹھا دیا۔ اور اب دونوں انقلابی اقدامات نے ملکی معیشت کو طوفانی انقلاب سے دو چار کردیا ہے جس نے چھوٹے اور متوسط بیوپاریوں اور عام شہریوں کو پریشانی ہراسانی اور بے روزگاری کے ذریعہ نقصان میں مبتلا کر معیشت کو پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے۔

 اسی کے چلتے سرکار کی پالسی پر سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں جو حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ خود بی جے پی کے اندر کے لوگوں کی طرف سے بھی اٹھ رہے ہیں۔ حالانکہ پچھلے لوک سبھا انتخابات کے وقت سے بی جے پی پوری طرح مودی پی ہو چکی ہے جس میں مودی جی کے علاوہ اور کسی کی کوئی اوقات نہیں ہے پھر بھی بی جے کے سینئرلیڈران جو پارٹی کی نظر میں غیر اہم ہی سہی ان کا سوال اٹھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی میں سب ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات اب عوام کی بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مودی جی نے وکاس لانے کے لئے بہت جذباتی ہوکر رونے دھونے اوربڑے بڑے دعووں کے ساتھ اور انتہائی پر اعتمادی بلکہ فخر کے ساتھ جو اقدامات کئے تھے وہ ناکام ہوگئے جس کی وجہ سے اب لوگوں کی رائے بھی بدلنے لگی ہے جس کا اندازہ گجرات میں بیوپاریوں عوام کسانوں اور نوجوانوں کی طرف سے راہل گاندھی کو جو حمایت ملتی نظر آرہی ہے اس سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کے باعث بی جے پی پر جھنجھلاہٹ بھی طاری ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس نے علی الاعلان اپنی مرکزی سیاست ’ ہندوتوا ‘ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ جب گجرات میں راہل گاندھی کا عوامی استقبال ہو ا، انہوں نے بیوپاریوں طلباء اور نوجوانوں کی سبھاؤں کو خطاب کیا اور ان کے سوالات کے جوابات دئے اور مودی جی کے وکاس کے نعرے اور اس کے لئے کئے گئے اقدامات کی اور ان کے سنہری وعدوں کی خوب دھجیاں اڑائی اورساتھ ہی ساتھ اپنی اس مہم کو مندروں کے دوروں سے نرم یا سیکولر ہندوتواکا تڑکا دینے کی بھی کوشش کی اسی وقت  راہل کا جواب دینے کے لئے بی جے پی نے گجرات کی بجائے یوپی میں راہل گاندھی کے حلقہء انتخاب امیٹھی کو چنا اور وہاں ان کے بلکہ ان کی خاندان کے کام کو چیلنج کیا اور ساتھ ہی ساتھ یوپی کی حکومت نے تاج محل کو ریاست کے سیاحتی مقامات کی فہرست سے نکال کر ایودھیا کو نیا سیاحتی مرکز بنا نے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایودھیا میں سریو ندی کے کنارے ’ بھگوان رام ‘ کا سو میٹر اونچا مجسمہ نسب کر نے اور دوسرے مختلف گھاٹوں اور اکھاڑوں کو سنوارنے کا پروگرام ہے اور یہ صرف یوپی کی حکومت کایا کٹر ہندوتوا سیاست داں یوگی ادیتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ یوپی کا ذاتی کارنامہ نہیں ہے بلکہ اس میں مودی جی کی مرکزی سرکار بھی شامل ہے بلکہ مودی سرکار کا حصہ اس میں زیادہ ہے۔

دی ہندو آن لائن کی خبر مطبوعہ10، اکتوبر 2017 کے مطابق یہ کوئی  195 کروڑ 90 لاکھ روپئے کا پروجیکٹ ہے اور مودی سرکار اس کے لئے 133 کروڑ 7 لاکھ روپئے یوگی سرکار کو دے چکی ہے۔ یعنی بی جے پی رام اور ایودھیا کے نام اسی ہندوتوا سیاست کی طرف لوٹنے کا اعلان کر چکی ہے جس نے اسے مضبوط کر کے آج واضح اکثریت دلائی ہے۔ حالانکہ یہ بات یوگی جی اور مودی جی دونوں کو اورپارٹی صدر امت شاہ سمیت تمام بڑے لیڈروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مجسمہ لگانے سے زیادہ ضروری کاماتنے ہی خرچ سے اسپتالوں میں آکسیجن کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنانا اور وہاں ہونے والی اموات کو کم کر نے کے اقدامات کرنا، کسانوں کو سہولیات بہم پہنچانا اور نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنا ہے لیکن صاحب شاید ان کے نزدیک یہ چیزیں وکاس کے شمار میں نہیں آتیں شاید اسی لئے لوگ کہہ رہے ہیں کہ وکاس پاگل ہوگیا ہے۔

کہا جاسکتا ہے کہ ان مجسموں کی تنصیب سے لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا لیکن آؤٹ لک میگزین آن لائن کی ایک خبر مطبوعہ 26، اکتوبر 2015کے مطابق سردار پٹیل کا مجسمہء اتحاد مودی جی کے میک ان انڈیا کے برخلاف ہمارے دشمن ملک چین میں بن رہا ہے تو اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ ‘بھگوان رام ‘ کا یہ مجوزہ مجسمہ انڈیا میں بنے گا۔ یعنی جس طرح سردار پٹیل کے دنیا کے سب سے اونچے مجسمہ کی تیاری میں بھارتی شہریوں کے لئے روزگار کے مواقع نہیں اسی طرح ’بھگوان رام ‘ کے اس مجوزہ مجسمہ میں بھی ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید کم ہی ہے۔ خیر یہ روزگار ووزگار کو جانے دیجئے تعجب تو حکومت، بی جے پی، سنگھ اوراپنے آپ کو حب الوطنی کا ٹھیکیدار سمجھنے والے ملک کے دیگر افراد پر ہے کہ اس سے ان کے نیشنلزم کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچی، نہ انہیں دیش ہت کا خیال آیا اور نہ ہی دیش دروہ کا۔ اور نہ ہی چین کی معمولی سستی مصنوعات بیچنے والوں کو زدوکوب کر نے والوں کو اس کا کوئی ملال ہوا۔

ویسے بی جے پی کی ہندوتوا سیاست بلکہ جارحانہ ہندوتواکوئی حیرت کی بات نہیں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی نے جب بھی اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی یا اس سے ذرا بھی ہٹی مات کھائی۔ ایک وقت میں ہندوتوا کے فائر برانڈ لیڈر اور بی جے پی کی بنیاد کے پتھر اور اپنے جارحانہ ہندوتوا کے ذریعہ اسکی عمارت کھڑی کر نے والے لال کرشن اڈوانی نے جب ’فیل گڈ‘ اور ’انڈیا شائننگ ‘ کے نعرے کے ساتھ جارحانہ ہندوتوا سے ہٹنے کی کوشش کی انتخابات ہار گئے اور جب خود سیکولر ہونے کی کوشش کی تو ان کے اپنے ہی پیروکاروں نے انہیں دیوار پر دے مارا۔ مطلب صاف ہے کہ بی جے پی اور اس کے لیڈران کے منھ سے ترقی کی باتیں عوام کو اچھی نہیں لگتیں وہ ان سے مذہب اور نیشنلزم کے نام نفرت کا پرچار ہی سننا پسند کرتے ہیں اور خود بی جے پی اور سنگھ کو بھی اس کا بخوبی ادراک ہے کہ ان کاجو لیڈر اس سیاست سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسے دیوار پر مار کر اس کی جگہ دوسرا جارحانہ لیڈر لے آتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہندوتوا کی یا نفرت اور جانبداری کی کوئی بھی سیاست دیر پا نہیں، ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ سائیکل چلتا رہے گا کہ اقتدار میں آنے والا ہرجارح ہندوتوا لیڈر سب کا ساتھ سب کا وکاس کر نے کی کوشش کرے گا، اپنے آپ کو سیکولر بنانے کی کوشش کریگا اور دیوار پر مارا جائے گا۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں بہ ظاہرترقی اور وکاس کے نام پر اقتدار حاصل کر نے میں بی جے پی کو جوکامیابی ملی دراصل وہ بھی صرف وکاس کے نام پر نہیں تھی بلکہ اس میں اس وقت کی کانگریس حکومت میں یکے بعد دیگرے ہوئے گھپلوں گھوٹالوں کے خلاف عوامی ناراضگی اور مودی جی کی ہندوتوا سیاست داں بلکہ ہندو ہردے سمراٹ کے طور پر شہرت کا رول وکاس سے زیادہ رہا کہ مودی جی بذات خود ہندوتوا کی ترقی یافتہ صورت ہیں اور بی جے پی کے روایتی ووٹوں کو کیش کر نے کے لئے ان کا نام ہی کافی تھا۔

انہوں نے بھی اپنے اس ترقیاتی ایجنڈے کو گؤ ماتا ‘،بیف بین، لو جہاد، بہو لاؤ بیٹی بچاؤ،گھر واپسی،پنک ریوولوشن اور شمسان و قبرستان کے ذریعہ بیلینس کر نے کی کوشش کی لیکن اب جبکہ لوک سبھا انتخابات کے دوران انہوں نے حقیقت کے خلاف ترقی اور روزگار کے جتنے وعدے کئے تھے وہ پورے نہ ہو سکے بلکہ ان وعدوں کی تکمیل کے لئے کئے گئے اقدامات بھی ان کے گلے کی ہڈی بن گئے ایسے میں ان کے پاس اپنی اوقات پر آنے کے سوا چارہ بھی نہیں اورانہوں نے اس کی شروعات کردی ہے ابھی تو صرف ’بھگوان رام ‘ کے مجسمہ کی اور سیاحت کے لئے نیا ایودھیا بنانے کی بات ہوئی آگے اس سے بھی بڑھ کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ ان کا مجوزہ وکاس سچ مچ پاگل ہو گیا ہے۔ سو سچے دیش پریمیوں کو چوکنارہنا ضروری ہے کہ پاگل اچھے برے کی تمیز کے بغیر کچھ بھی کرسکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔