وہ خود نفرت ہے اور نفرت کا کاروبار کرتا ہے

کلیم الحفیظ

ملک میں ان دنوں نفرت کا کاروبار عروج پر ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے نفرت پر مبنی خبریں آرہی ہیں۔ کرناٹک میں ہندو میلے میں مسلمانوں کی دکانیں لگانے پر پابندی ،مسلم فنکاروں کے داخلے پر پابندی،مندر کے آس پاس مسلمانوں کو کاروبار نہ کرنے دینے کی دھمکی،اتر پردیش اور راجستھان میں مسجدوں کے سامنے اشتعال انگیز نعرے بازی،مہاراشٹر میں مسجدوں سے لائوڈ اسپیکر ہٹانے کی مانگ،جو اس سے پہلے ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی اٹھ چکی ہے۔ دہلی میں حج ہائوس کی تعمیر کی مخالفت،نوراتر کے موقع پر گوشت کے کاروبار پر مکمل پابندی،میرٹھ میں بریانی کا ٹھیلہ الٹا جانا،اتراکھنڈ سرکار کا یکساں سول کوڈ کا شوشہ چھوڑنا،مدھیہ پردیش کے ایک کالج میں مسلم طالبہ کے نماز پٹھنے پر ہنگامہ آرائی ،حلال میٹ کے خلاف آوازوں کا اٹھنا،کرناٹک کے ایک اسکول میں باحجاب لڑکیوں کو کلاس میں بیٹھانے پر 7 اساتذہ کی معطلی،جیسے واقعات آئے دن اخبارات کی شہ سرخیاں بننے لگے ہیں۔ کشمیر فائل نے بھی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔ مسلم دوکانداروں سے خریدو فروخت نہ کرنے کا اعلان پہلے لاک ڈائون میں ہوچکا ہے۔ داڑھی ٹوپی والوں کی لنچنگ کے واقعات بھی گزشتہ دنوں کثرت سے ہوئے ہیں۔ لوجہادکے نام پر بھی سبق سکھانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ دہلی کے جنتر منتر پرمسلمانوں کو مارنے اورکاٹنے کی بات بھی کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے۔ اگر نفرت کی یہی رفتار رہی تو وہ دن بہت قریب ہے جب مسلمانوں کو بسوں اور ٹرینوں سے اتار دیا جائے گا،یا ان کے لیے الگ کوچ کا نظم کیا جائے گا۔ جیسا کہ انگریزوں کے زمانے میں کالوں اور گوروں کے لیے کیا جاتا تھا۔

تازہ واقعہ ملک کی راج دھانی کا ہے۔ جہاں یتی نرسنگھ آنند نے ایک بار بھر قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہندوئوں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات کہی ہے۔ دہلی کی ہندو مہا پنچایت میں اس کی تقریر قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں،عدالت کی توہین ہے اس لیے کہ وہ اسی جرم میں ضمانت پر باہر ہے،اس کی ضمانت کی شرطوں میں یہ شرط موجود ہے کہ وہ یہ جرم دوبارہ نہیں کرے گا۔ لیکن اس کی زہر افشانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے عدالت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس نے ایک طبقے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات کہہ کر سماج کو تقسیم کرنے اور اپنے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا جرم کیا ہے۔ جس پریت سنگھ نے یہ پروگرام منعقد کیا تھا وہ خود بھی اسی جرم میں جیل جا چکا ہے اور وہ بھی ضمانت پر باہر ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ نفرت کے سوداگریہ بات کیوں کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان وزیر اعظم بن گیا تو آدھے ہندو مسلمان ہوجائیں گے ،چالیس فیصد قتل کردیے جائیں گے اور دس  فیصد دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں بن جائیں گے۔ اس دعوے میں کیا سچائی ہے۔ جب مسلمان آٹھ سو سال حاکم رہے تب ایسا نہیں ہوا تو بھلا اب کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مسلمان بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ کمزور ہیں ؟ مسلمان حاکم بھی رہے۔ مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں بھی کرتے رہے ،بچے بھی ان کے یہاں زیادہ ہوئے ،اس کے باوجود وہ ہندوئوں سے کم کیوں رہ گئے؟اگر پاکستان اوربنگلہ دیش کے مسلمان بھی شامل کرلیے جائیں تب بھی مسلمان 30فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ کیا واقعی بھارت کے ہندو اتنے بے وقوف ہوگئے ہیں کہ ایسی بے تکی باتوں پر یقین کرلیں گے۔ دراصل مذہب کا جنون عقل کو اندھا کردیتا ہے اور یہ اندھی عقل کچھ بھی سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

سوال یہ ہے کہ یہ پروگرام ملک کی راجدھانی میں ہوگیا۔ پولس کہتی ہے کہ ہماری اجازت نہیں تھی ،اگر اجازت نہیں تھی تو ہونے کیوں دیا گیا۔ دہلی کی یہی پولس کسی مسلم پارٹی کا چھوٹا ساپروگرام بھی بغیر اجازت نہیں ہونے دیتی وہاں سے کرسیاں اور مائک تک اٹھا کر لے جاتی ہے۔ پھر یہی پولس اس جلسے میں کھڑی تماشہ کیوں دیکھتی رہی؟پولس نے کارروائی کیوں نہیں کی ؟اس کے بجائے پولس نے ان صحافیوں پر مقدمہ ٹھونک دیا ہے جو اس پروگرام کی کوریج کررہے تھے ،پولس کا کہنا ہے کہ ان پترکاروں نے یہ بھاشن لوگوں تک پہنچا کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جس عدالت کا مذاق اڑایا گیا وہ عدلیہ کیوں خاموش ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ کی زبان کیوں بند ہے؟کیا وہ صرف مسلمانوں کے مذہبی رہنمائوں کے خلاف ہی کھلتی ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ نام نہاد سیکولرسٹ کہاں ہیں جو مسلمانوں سے ووٹ لیتے ہیں ؟سوال میڈیا سے بھی ہے کہ اسے شرجیل امام اور عمر خالد کے بیانات نظر آتے ہیں لیکن یتی کی بکواس سنائی نہیں دیتی؟امن و قانون کے تعلق سے یہی سوالات راجستھان کی کانگریس حکومت پر بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ کانگریس کی کیا مجبوری ہے کہ اس نے فسادیوں پر ابھی تک سخت کارروائی نہیں کی ہے؟

نفرت کسی بھی سماج کے لیے فائدے مند نہیں ہے۔ اس کے نتیجے ہمیشہ خراب ہی نکلے ہیں۔ نفرت کا انجام تقسیم در تقسیم ہے۔ نفرت کا یہی زہر 1947میں تقسیم کا سبب بنا تھا اور ملک نے بھاری تباہی جھیلی تھی۔ مسلمان تو آج تک اس درد سے تڑپ رہے ہیں۔ نفرت کا یہی زہر آئندہ بھی ملک کو نقصان پہنچائے گا۔ یہ واقعات کوئی حادثات نہیں ہیں کہ اچانک واقع ہوگئے ہوں۔ بلکہ منصوبہ بند سازش کا حصہ ہیں۔ یہ مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری ہے۔ کسی بھی دن ایسا ہوگا کہ کسی واقع کو بنیاد بناکر پورے ملک میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جائے گا۔ اسی لیے جگہ جگہ سینائیں بنائی جارہی ہیں۔ پہلے شیو سینا تھی ،پھر ہندو سینا بنی ،پھر ہندو یواواہنی اور درگا واہنی بنی اور اب سنگیت سوم جیسے مجرموں نے بھی سینا بنالی ہے۔

آر ایس ایس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے۔ اسی لیے اس نے ملک تقسیم کرایا تھا۔ اس نے سوچاتھا کہ مسلمانوں کا الگ ملک ہوجائے گا تو ہم باقی ملک پر ہندو قانون نافذ کریں گے۔ مگراس کی بدقسمتی  ہے کہ اس وقت کے رہنمائوں نے جمہوریت کا راستہ اختیار کرلیا اور سنگھ کے خواب دھرے رہ گئے۔ اب بڑی محنت کے بعد بی جے پی کی حکومت آئی ہے۔ ایوان میں بھی اکثریت حاصل ہے۔ اس لیے ملک کا ماحول خراب کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جائے ،یہاں بدامنی اس انتہا کو پہنچ جائے کہ منتخب حکومت کے بجائے صدر راج ہوجائے۔ صدر راج سے ڈکٹیٹر شپ میں نظام حکومت تبدیل کردیا جائے۔ لیکن انھیں شاید یہ معلوم نہیں کہ موجودہ دور پتھروں کا دور نہیں ہے جب انھوں نے دراوڑوں کو غلام بنالیا تھا۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ مسلمان لقمۂ تر نہیں ہیں۔ وقتی طور پر ابھی خاموش ہیں۔ ابھی انھوں نے حکمت اورمصلحت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔ ابھی وہ آئین کے دفاع کی کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن صبر اور برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر نفرت کا جواب نفرت سے دیا جانے لگا تو ملک کا کیا حال ہوگا ؟اس کا اندازہ شاید نفرت کے سوداگروں کو نہیں ہے ،انھیں نفرت کے پھلوں کی تلخی معلوم نہیں ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ملک کے چاروں طرف بد خواہوں کا راج ہے۔ کوئی ایک بھی پڑوسی ملک ہمارا اپنا نہیں ہے۔ جن سپر پاورز پر ہم تکیہ کیے بیٹھے ہیں وہ اپنے دفاع میں بھی کمزور ہیں۔ وہ یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں جھونک کر تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آج کے دور میں بھائی بھائی کا نہیں ہے تو کوئی پڑوسی کسی کا کیسے ہوسکتا ہے۔

نفرت کے اس ماحول میں کرناٹک جمیعت العلماء نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نفرت کا جواب محبت سے دیا جائے ،غیر مسلم مسلمانوں کا بائکاٹ کریں تو کریں لیکن مسلمان نہ کریں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ البتہ مسلمانوں کو اس نفرت کے ماحول کا مقابلہ ہر حال میں کرنا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں اس کا مقابلہ آئین کے ذریعے کرنا چاہیے ،عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا جانا چاہیے۔ نفرت کا دوسرا جواب محبت والا عمل ہے۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ نفرت کے سوداگر ہماری محبت کوہماری کمزوری سمجھنے لگیں ،ہمارے صبر کو بزدلی سمجھ بیٹھیں۔ اس لیے اپنے دفاع کا حق بھی استعمال کرنا چاہیے ،جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ انصاف پسند ہندوئوں کو ساتھ لے کر مسلم تنظیموں کو بھی کوئی حوصلہ مند اقدام کرنا چاہیے ،ان کی مسلسل خاموشی سے مسلمان خود کو بے سہارا اور یتیم سمجھنے لگے ہیں۔ نفرت کا جواب ووٹ کے ذریعے بھی جواب دیا جاسکتا تھا۔ لیکن مسلمانوں کی ناسمجھی نے بیشتر مقامات پر یہ موقع کھودیا ہے۔ وہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے جال میں ہر بار پھنس جاتے ہیں۔ اگر اپنی قیادت کے تحت ووٹ کا استعمال کیا جاتا تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ جیسا کہ تلنگانہ اور کیرالہ کے مسلمانوں کے ہیں۔

محبت کے ہر اک جذبے کا وہ انکار کرتا ہے

وہ خود نفرت ہے اور نفرت کا کاروبار کرتا ہے

اسے گر موت پیاری ہے تووہ مر کیوں نہیں جاتا

وہ سارے شہر کو جینے سے کیوں بیزار کرتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔