پنجاب ہمارے لیے ایک سیاسی قومی نظریہ

عمیر محمد خان

یوپی انتخابات سے ثابت ہوا کہ  یقیناً قومی حوصلے غلامانہ ذہنوں میں پروان نہیں چڑھتے ہیں۔جس قوم کے پاس کوئی فکری نظام نہ ہو وہ  نہ تبدیل  ہوتی ہےاور نہ ہی ردو بدل کرنے میں کوئی اہم کارنامہ انجام دیے پاتی ہے۔   زوال یافتہ قوم کو باحوصلہ افراد  کو بلندی  سے گرتے ہوئے دیکھنے سے ہی  ان کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔۔عروج سے پستی میں ڈھنے والوں کو دیکھ کر ہی وہ مطمئن ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

فتح کو شکست میں بدل دینے سے ہی ان کو طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ابھرتے ہوئے کو غرق کردینا اور پرواز کرتے ہوئے کا شکار کرنا ہمارا قومی کھیل ہے!

           پنجاب اور یوپی کا موازنہ کریں تو ایک طرف سکھ قوم کی اکثریت کی ریاست اور دوسری جانب یوپی مسلم اکثریت کی ریاست۔ دونوں اقلیتی برادری، دونوں  مظلوم۔ زد وکوب  کئے ہوئے عوام پنجاب operation bluestar اور کچلےیوئے کسانوں کا شکار۔ یوپی فسادات کی آماجگاہ اور  بھیڑ زدگان  mob Lynching کے شکار مسلمانوں کا حلقہ۔دونوں ریاست کی مشتعل عوام۔

     انتخابات میں غیور سکھوں نے دونوں سیاسی جماعتوں کو سبق سکھا دیا۔اور ہم ملی فکر سے عاری، حمیت و غیرت سے بے پرواہ آہ وفغاں ہی کرتے رہے اور ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔ ایک دوسرے کو ملامت کرنے میں فعال ،اپنوں کو دھول چٹانے اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے میں ماہر افراد۔ عمل کے میدان میں وہ ایسا کر ہی دکھاتے ہیں!

اس قوم  کو تباہی کے لیےکسی باہری لشکر کی ضرورت نہیں جس کو اس کے افراد خود دیمک بن کے مضبوط ستونوں کو چاٹ جاتے ہوں۔ ۔۔۔اس قوم کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں جو اپنے ہی جسم کو اندر سے بھسم کردیتی ہو۔

                دونوں ریاستوں میں نئ سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ایک resounding majority سے پنجاب انتخابات میں کامیاب ہوئی دوسری ہماری ہم مذہب نووارد جماعت۔ ہم نے اسکا یوپی سے ہی صفایا کردیا۔ پنجاب کے بے باک ،زندہ افراد نے منجھی ہوئی دو سیاسی جماعتوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے swept outکردیا۔ ساتھ ہی انھیں یہ سبق پڑھا دیا کہ ہماری قوم کے کسی فرد پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قوم کے کسی بھی فرد کی تکلیف ہمارا قومی حزن ہے۔ اور ہم نے ہمارے ہی بھائیوں کو موقع دیئے بغیر خاموش کردیا۔ہم نے پھر ثابت کردیا کہ ہم ایک بھیڑ تھے جن کا کوئی موقف نہیں۔۔۔۔ہم بے نظام افراد کی بھیڑ ہے جن کو قومی مسائل ، فساد زدگان عوام، پچھڑی ہوئی ملت، بے روزگار عوام، تعلیمی پستی سے کوئی واسطہ نہیں۔

 آنے والی نسلوں کے لیے جن کے پاس کوئی عملی و فکری خاکہ نہیں۔۔۔۔ہم وہ لوگ ہیں جن کے پاس اپنے نونہالوں کے لیے کوئی مثالی سماجی معاشرہ ہے اور نہ ہی منصوبہ بند اہداف۔

           ہمارے پاس کچھ ہے تو بس ہورڈنگس، پمفلٹس، جلسے ،نعرے اور خوش کن خواب جن کی تعبیر ہے نہ حصول کے لیے کوئی تگ ودو۔ میری رائے آپ کو فضائی حملے لگے۔ مگر اس سے پیشتر تحریر  بعنوان   یوپی انتخابات ہمارے سیاسی عروج و زوال کی آزمائش ، میں کچھ عملی  نکات اور پہلوؤں کو میں نے اجاگر کیا تھا۔ جو صرف تنقیدی پلندہ نہیں تھا بلکہ اس میں   چند انتخابی طریقہ کاربھی تجویز کئے گئے تھے۔

                    ہم یوپی اور پنجاب کا جائزہ لیں۔ جب پنجاب  میں عاپ انتخاب میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتری تو یہ اس کا نوآموزی کا امتحان تھا۔ نہ صرف امیدوران نو آموز تھے بلکہ عوام کے لیے بھی یہ نووارد تھے۔ عاپ کس کا مکھوٹا ہے اس سے ہماری بحث نہیں۔ دشمن کے طریقہ کار اسکی strategy ہمارے لیے ایک نمونہ ہے۔ ایک ایک نکتہ قومی حوصلے کو سلام کرنے کا ہے۔ ایک زندہ قوم کیا کر سکتی ہے انھوں نے عملی طور سے کر دکھایا۔ ملی مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے پہاڑوں کو روندا جاسکتا یہ انھوں نے ثابت کیا۔ میدانوں میں صرف جلسے اور نعرے بلند نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ملت وقوم وملک کے عملی کردار بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ عمل اور کرداروں پر کتابوں کے ڈھیر لگائے جاسکتے ہیں مگر زمین پر افراد کو مثالی کرداروں میں کھڑا بھی کیا جاسکتا ہے یہ پنجاب کی عوام وخواص نے کر دکھایا ہے۔ یہ ہیں وہ خوابوں کی تعبیریں جن کو ہم صرف الفاظ اور نیند میں دیکھتے ہیں۔ پنجاب کے عوام کے خواب دن کے تابندگی میں دیکھے جاتے ہیں اور منصوبہ بند حصول سے شرمندہ تعبیر بھی کر لیے جاتے ہیں۔ زندہ قومیں ردوکد کا راستہ اختیار نہیں کرتی ہیں بلکہ  حوصلوں سے وہ عمل کر گذرتے ہیں۔ عزائم و حوصلوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور پرواز  بھی عطا کی جاتی ہے۔

  بہتر و مثالی تبدیلی کو قبول بھی کیا جاتا ہے اور بلا تعصب پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔

ہمارے لیے یہ سبق نیا نہیں۔۔۔حکمت و دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے اخذ کرلو۔

          دوسرا نکتہ پنجاب سے کسی سیاسی بصیرت کے اندھےنے یہ نہیں کہا کہ  عاپ کے نمائندوں کے انتخاب سے فسطائیت فتح حاصل کر لے گی۔ کیا خوف و تردد کے بادل عوام و خواص پر چھائے۔۔۔۔؟  کیا عوام کوڈر اور بزدلی کے جذبات سے مغلوب کیا گیا۔۔۔ ؟

ہرگز نہیں۔ بلکہ تبدیلی کو پسند کیا گیا۔ کیا ہم کو اس کی تعلیم نہیں دی گئی۔۔۔۔

اللّہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ القرآن

   تیسرا نکتہ، کیا دو بڑی ملکی سیاسی جماعتوں سے انتخاب میں حصہ لینے والے ان کے ہی مذہب کے قد آور راہنماؤں کی کسی نے دوہائی دی۔ ۔۔۔! کسی نے یہ گمراہ کن بات پیش کی کہ اگر یہ رہبران کو شکست سے دوچار کردیا جائے تو ہمارے  سیاسی مستقبل کا کیا ہوگا۔۔۔؟

 قومی مفادات شخصیات سے بڑھ کر ہوتے ہیں پنجاب کی عوام نے ہمیں یہ سبق پڑھا یا۔۔۔۔۔ قومی مفادات کے حصول میں جو بھی مانع ہوں انھیں اپنے مقام سے ہٹا دیا جاتاہے۔ اور یہ عمل زندہ معاشرے کی خاصیت اور زندہ قوم کے عوام وخواص کے جوہر ہوتے ہیں۔

    چوتھا نکتہ، کیا کسی نے سیکولرزم کے گن گاۓ۔۔۔۔؟   سیکولر جماعتوں کے نہ آنے سے یہ ہوگا___ وہ ہوگا۔ کیا کسی نے ایسی اشتعال انگیزی کی۔۔۔۔اور جنھوں نے کیا انھیں کنارے لگا دیا گیا۔ سیکولرزم عوام سے بالاتر نہیں۔ ۔۔۔عوام کی خوشحالی، سماجی بہبودی اور قومی ترقی  سیاسی جماعتوں اور کھوکھلے نعروں سے افضل نہیں۔

ہمارا وتیرہ رہا کہ ہم  برسوں سےسیاسی جماعتوں کے خیر خواہ رہے نہ صرف ہم بلکہ ہمارے بچے، پوتے ،نواسے ، پرپوتے پرنواسے بھی ان کے آداب بجا لانے والے  ہو گئے ہیں خواہ وہ ہمارےکوئی کام کریں یا نہ کریں۔

کونسے مقاصد کو ہم نے مد نظر رکھ کر اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال کیا؟

معاشی بدحالی کا رونا ہم روتے ہیں، تعلیمی پسماندگی کے شکایات کا انبار لگاتے ہیں، بے روزگاری کی شرح پر واویلا مچانے ہیں، پانی، بجلی مہنگائی ، ناانصافی  کےتذکرے کرتے ہیں۔

مگر  ہم نے ان اہداف  کو مطمح نظر بناکر انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ اب ان اہداف کی تکمیل کیسے ممکن ہو۔ کیا ہمارے حالات بے عملی سے تبدیل ہو جائیں گے۔

               پنجاب کی عوام نے بجلی پانی، روزگار اور تعلیم کو اپنے انتخابی اہداف بنائے اور انتخاب میں سبھی نو آموز و نو وارد افراد کو فتح سے ہم کنار کیا۔ قوم کے جھوٹے مدعیان اور پس و پیش کرنے والے ایک جانب تھے  قوم کے اہداف کو عملی کردار میں ڈھالنے والےعوام دوسری جانب۔

نئے چہروں کو ایک موقعہ دینے والے ایک طرف تھے اور اپنی کرسیاں اور مسندیں سنبھالنے والے دوسری طرف۔۔۔۔

چند ہیکٹرز زمینوں اور عمارتوں کے مالک ایک طرف اور تبدیلی کے خاکوں اور منصوبوں کے تخلیق کار دوسری جانب اور ہم نے دیکھا کہ پنجاب میں قومی حوصلے بلند ہوکر فتح یاب ہوئے۔

 اس جذبے کو کہتے ہیں عوام وخواص کا قومی حوصلہ۔۔۔ملی تخافر۔۔۔۔بلا تفریق حکمت و دانائی کی پذیرائی۔۔۔ الوالعزمی۔۔۔سیاسی بصیرت۔ جدت پسندی۔ فکری وعملی انقلاب برپا کرنے کی آزادی اور مقاصد جلیلہ کا حصول۔

قوم ایسے کرداروں سے آگے بڑھتی ہے۔ قوت  فکر جن کی اعلیٰ ہوتی ہے۔اہداف جن کے عوام وخواص کے فیضیابی کے لیے ہوتے ہیں۔عروج جن کا عمل و کردار سے ہوتا۔ تبدیلی جن کا خاصہ ہوتی ہے۔

 ورنہ بقول  علامہ اقبال:

قوت فکر و عمل پہلے فناہوتی ہے

پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔