پہاڑی قبیلہ کی تحریک

قوم خطرے میں اورلیڈر پہلی بارخطرے میں!

الطاف حسین جنجوعہ

           ‘پہاڑی قبیلہ‘جن کی سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں وکشمیر میں9.1فیصد آبادی ہے، چار دہائیوں کے زائد عرصہ سے آئینی حق ’شیڈیول ٹرائب‘کی حصولی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ پہاڑی قبیلہ جن کا مخصوص رہن سہن، تہذیب وتمدن ثقافت اور نسلی شناخت ہے، تقسیم ِ برصغیر ِ ہند سے قبل جموں وکشمیر میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا قبیلہ تھا لیکن 1947کے سانحہ کے بعد اِس کی آبادی سرحدی اضلاع پونچھ، راجوری، کرناہ، اوڑی، ٹنگڈار، کیرن، لولاب، کوکرناگ کے علاوہ اننت ناگ، گاندربل شوپیان کے علاوہ وادی کشمیر کے دیگر چند علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جوکہ تعلیمی، سماجی، اقتصادی طور کمزور ہیں اور دیگر طبقہ جات کے ساتھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سول اور پولیس انتظامیہ میں پہاڑی قبیلہ کی نمائندگی آٹے میں نمک برابر ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پہاڑی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے بچے ذہین ہیں لیکن بہترین مواقعے اور سازگار ماحول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ اِس پوزیشن میں نہیں کہ اِس مسابقتی دور میں وہ دیگر ترقی پذیر/ترقی یافتہ قوموں کے ساتھ مقابلہ کر کے تعلیمی اداروں، پروفیشنل کالجوں میں داخلہ لے سکیں یا سرکاری ملازمتیں پاسکیں۔ یونین پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیے جانے والے قومی سطح کے امتحانات (آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی آر ایس)میں ماسوائے ایک کے، کوئی بھی آج تک کامیاب نہ ہوسکا۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کی طرف سے NET/JRFکے ششماہی امتحانات میں بھی پہاڑی قبیلہ کے طلبا سخت محنت کے باوجود چند نمبرکم ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دیگر ملکی سطح کے تقابلی ومسابقتی امتحان میں قبیلہ کی نمائندہ صفر ہے۔

          چار دہائیوں کے زائد عرصہ سے جاری ’ایس ٹی ‘کی جدوجہد میں اگر چہ پہاڑی قبیلہ کو کھوئی ہوئی پہچان دینے اور فلاح وبہبودی کے لیے کچھ عبوری اقدامات اُٹھائے گئے لیکن ’درج فہرست قبیلہ‘کا درجہ ملنے تک یہ سارے اقدامات …جیسے کہ…( کلچرل اکیڈمی میں پہاڑی شعبہ کا قیام،پہاڑی طلبا کے لیے ہوسٹل، قبیلہ کی فلاح وبہبودی کے لیے پہاڑی مشاورتی بورڈ، طلبا کے لیے اسکالرشپ اور جموں وکشمیر کے اندر 4فیصد ریزرویشن وغیرہ کارگر نہیں۔ چونکہ ایس ٹی دینے کا حد اختیار حکومت ِ ہند کا ہے، اور یہ وہی جماعت دے سکتی ہے جو قومی سطح پر برِسراقتدار ہو، اس لیے طویل جدوجہد کے بعد سال 1989کو جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جن طبقہ جات کو ایس ٹی درجہ دینے کی سفارش کی گئی، اُس میں ’پہاڑی قبیلہ ‘بھی شامل تھا، لیکن اُس وقت مرکز نے سیاسی فیصلہ لیا باقی طبقہ جات جس میں گوجر اینڈ بکروال بھی شامل تھے، کو ایس ٹی درجہ دیا اور پہاڑی قبیلہ کو نظر انداز کر دیاگیا۔ ایسا اُس وقت کے جموں وکشمیر میں پیداشدہ صورتحال کا توڑ کرنے کی غرض سے اہم سیاسی قدم کے طور کیاگیا۔ اس فیصلے کے بعد سے ’پہاڑی قبیلہ کے بیشتر لوگ سماجی، تعلیمی اور اقتصادی طور پچھڑتے ہی گئے۔ گوجر اور پہاڑی قبائل کے لوگ ایکساتھ رہتے، رہن سہن، اُٹھنا بیٹھنا سب مشترکہ تھا۔ گھر ساتھ جڑے ہیں، زمینوں کی حدود ملتی ہیں۔ صرف زبان الگ الگ بولنے کا فرق باقی تعلیمی، سماجی، معاشی صورتحال یکساں تھی، لیکن 1991کو حکومت ِ ہند نے ایک قبیلہ کو مراعات دیکر پلکوں پر بٹھایا تو دوسرے کو نظر انداز کر کے دو بھائیوں کو ایکدوسر ے کے آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔ جب دو بھائی برابر کے حقدار ہوں، ایک کو حق ملے، دوسرے کو محروم کردیاجائے تونتیجتاً اُن میں اختلافات فطری عمل ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دونوں طبقات میں دوریاں بھی بڑھنا شروع ہوگئیں اور سیاستدانوں نے اِس کا بھرپور فائیدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی الگ الگ سیاسی دکانیں کھول لیں۔ گوجر اینڈ بکروال قبائل کو چونکہ ’ST‘درجہ حاصل ہوچکا تھا، نے اُس کا بھر پور فائید ہ اُٹھاتے ہوئے زندگی کے ہرشعبہ جات میں خود کو منظم کر لیا۔ ساتھ ہی تحقیقی کام پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ گوجر اینڈ بکروال طبقہ کو’ ایس ٹی ‘دلانے کی جدوجہد میں پہاڑی قبیلہ کے سیاسی لیڈران کا بھی نمایاں رول رہا لیکن تاریخ اِس بات کی بھی گواہ ہے کہ پہاڑی قبیلہ کی جب باری آئی تو بدلے میں اِس کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتے ہوئے بلواسطہ یابلاواسطہ طور سازشوں کا ایک جھال بُنا گیا جوآج ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے لیکن اِس کے باوجود ’پہاڑی قبیلہ ‘اپنے آئینی حقوق کی حصولی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ 70کی دہائی میں پہاڑی قبیلہ کی شروع ہوئی اِس طرح میں سیاسی لیڈران، ادبا، شعراء، گلوکاروں، قلمکاروں اور قبیلہ کی دینی وسماجی شخصیات نے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا اور آ ج بھی یہ عمل جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات غلطیاں بھی ہوئیں اور کئی مواقعوں پر قبیلہ کے مطالبہ کو صحیح ڈھنگ اور صحیح پلیٹ فارم پر پروجیکٹ بھی نہ کیاجاسکا اور یہ بھی سچ ہے کہ چند مراعات پانے کی خاطر منڈیٹ کا سودا بھی کیاگیا۔

          5اگست 2019سے پہلے پہاڑی قبیلہ کو تعلیم اور سرکاری ملازمت میں ریزرویشن نہ تھی لیکن اب مرکزی زیر انتظام جموں وکشمیر میں سیاسی ریزرویشن سے اگر کسی قبیلہ کو نقصان ہونے کا حدشہ ہے، تو وہ پہاڑی قبیلہ ہے کیونکہ جہاں جہاں گوجر اینڈ بکروال قبائل کی آبادی ہے، وہیں پر پہاڑی قبیلہ کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ اگر پہاڑی طبقہ کو’شیڈیول ٹرائب ‘دیئے بغیر نشستیں ریزرو کر دی گئیں تو یہ قبیلہ کی Political Deathکے مترادف ہوگا، جس میں قبیلہ کے لوگوں کو الیکشن لڑنے کا حق نہیں رہے گا صرف وہ ووٹر رہ جائیں گے۔ سیاسی بے اختیاری کا مطلب انتظامی، سماجی سطح پر مکمل بے اختیاری ہے اور اِس کا احساس وارڈ، پنچایت، بلاک، تحصیل، ضلع  اور صوبائی سطح پرہر ادارے کے اندر ہورہاہے اور مزید شدت کے ساتھ ہوگا۔ تیس برس قبل جب پہاڑی قبیلہ کو نظر انداز کیاگیا تو اُس وقت اندازہ نہیں تھاکہ اِس کا نقصان کس قدر ہوگا لیکن آج کا نوجوان جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، وہ اب کی بار دوبارہ نظر انداز کئے جانے پر مستقبل میں ہونے والے نقصانات اور سماجی، تعلیمی وسیاسی بے اختیاری کا بخوبی اندازہ کرسکتا ہے، اسی وجہ سے پچھلے کچھ عرصہ سے تعلیم یافتہ نوجوان اِس معاملے کو لیکر فکرمند بھی ہیں اور سنجیدہ بھی، جوکہ اپنے بزرگوں اور دیگر قدر آور شخصیات کی خدمات کا اعتراف اور احترام کرتے ہوئے خود بھی اِس تحریک میں متحرک ہوئے ہیں جنہیں توقع ہے کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس ‘‘نعرے پر کاربند بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت والی این ڈی اے حکومت سے اُن کے ساتھ انصاف کرے گی۔ نوجوان اِس بات کو سمجھتے ہیں کہ پہاڑی گوجر کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پہاڑی قبیلہ کی سماجی۔ تعلیمی، سیاسی واقتصادی بااختیاری کے لیے آئین ِ ہند کے تحت حقوق کی حصولی کے لیے ایک ’تحریک ‘ہے، یہ کسی شخص، قبیلہ، ذات، یا عقیدہ کے خلاف نہیں بلکہ اپنی فلاح وبہبودی کے لیے تحریک ہے، یہ کسی کا حق چھیننے کی بات نہیں بلکہ اپنا حق لینے کی تحریک ہے جو حق آئین ِ ہند نے دیا ہے، مگر پہاڑی قبیلہ اُس سے آج تک محروم ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں کئی مراحل پر ہوئی غلطیوں اور ’پہاڑی کاز ‘کے نام پر حاصل عوامی منڈیٹ پر کھرا اُترنے میں ہوئی ’چوک ‘سے عام لوگوں میں قیادت کے تئیں بد اعتمادی بہت زیادہ ہے اور صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ کسی بھی لیڈر پر عوام اعتماد کرنے کو آسانی سے تیارنہیں۔ یہ بات عام ہے کہ سیاسی لیڈران کے لیے صرف الیکشن کے دوران ’پہاڑی قوم‘خطرے میں آتی ہے، لیکن الیکشن کے بعد لیڈر ان تو محفوظ ہوجاتے رہے مگرقوم پر خطرہ برقرار رہا، مگر ’’اب کی بار قوم بھی خطرے میں اور قیادت (Leadership)بھی خطرے میں ہے‘۔ اگر پہاڑی قبیلہ کی فلاح وبہبودی کے لیے جموں وکشمیر میں کہیں سے بھی اگر کوئی بھی آوازبلند کرتھا، کوئی کام کرتا ہے، اُس کی سراہنا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر نوجوان قیادت اِس کے لیے کوئی کوشش کر رہی ہے تو بزرگوں کو اِس سے ’انا ‘کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ، اُن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُن کی اصلاح ومناسب رہنمائی کرنی چاہیے۔ ’تحریک ‘کسی ایک شخص یا چند افراد کا کام نہیں ہوتا، بلکہ یہ پوری قوم کی جملہ کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اِس میں ہر ایک کوایک اپنی سطح پر، اپنی حیثیت، بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالنا ہوتا ہے۔ آج کے دور میں قبیلہ کے ذی شعور افراداِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اِس تحریک میں کس کس کا رول رہا ہے اوروہ ہر ایک کے محسن بھی ہیں۔ ’کریڈٹ ‘تو وہ ہوتا ہے جس سے نسلیں یاد رکھیں اور اِس زمرے میں وہی شامل ہوتے ہیں جومخلص رہے ہیں۔ اِس وقت پہاڑی قبیلہ کے لوگ نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں تمام تر سیاسی، نظریاتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر تعلیم یافتہ نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ماضی، حال کو ملحوظ ِ نظر رکھ کر یہ محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اِس سے قبل سیاسی جماعتوں کا پہاڑی قبیلہ کے ’ایس ٹی‘مطالبہ کے تئیں کچھ کیااور مرکز میں کس جماعت کے کن لیڈران نے پہاڑی قبیلہ کی پیٹھ میں کئی بار وار کئے اور مستقبل میں کون سی جماعت پہاڑی قبیلہ کے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے۔ پہاڑی قبیلہ کی سیاسی لیڈرشپ کے لیے آزمائشی گھڑی ہے کیونکہ وہ پہلی بار خطرے میں ہیں۔

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا