چوکیدار کا وکاس

نازش ہما قاسمی

گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر نریندر مودی کے آگے ’چوکیدار‘ کا اضافہ کردیا۔ ان کے اس طرح کرنے سے ان کی پارٹی کے دیگر لیڈران، عہدیداران وغیرہ نے بھی چوکیدار کی لڑی لگادی اور دیکھتے ہی دیکھتے چوکیدار ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔ بھکت خوش ہوگئے انہیں دو دن کا وقتی روزگار مل گیا اور بے روزگاری سے پریشان نوجوان سوال وجواب کرنے لگے، جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ نے بڑا ہی اہم سوال کیا کہ اگر آپ چوکیدار ہیں تو میرا بیٹا دوسال سے کہاں ہے؟ اس کا جواب اب تک نہیں بن پڑا۔ کچھ صارفین نے نیرو مودی اور وجے مالیا کے بھاگنے پر سوال کیے کہ اگر آپ چوکیدار تھے تو آپ کے سامنے یہ کیسے بھاگے؟ بی جے پی کے اقلیتی مسلم وزیر ایم جے اکبر نے بھی اپنے ٹوئٹر پر چوکیدار کا اضافہ کردیا جس کی وجہ سے صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور سوال کرنے لگے کہ واہ می ٹو کی زد میں آنے والا بھی چوکیدار ہوگیا۔

اسی درمیان گجرات کے پاٹیدار رہنما اور کانگریسی لیڈر ہاردک پٹیل نے چوکیدار ہیش ٹیگ کو سبوتاژ کرنے کےلیے اپنے نام کے آگے بیروزگار ہاردک پٹیل لکھاجو ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے دلوں کی آواز بن گیا اور انہوں نے اپنے نام کے آگے بے روزگار لکھ کر روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے چوکیداروں سے سوال کرنے لگے کہ ہمارے ساتھ جو وعدہ کیاگیا تھا وہ آخر کیا ہوا۔ یہ تو آپ چائے والے سے چوکیدار بن گئے، یہ آپ کی ترقی ہوئی نہ کہ ہماری، ہم کل بھی بیروزگار تھے اور آج بھی بیروزگار ہیں۔ ہمیں تو وکاس کا جھانسا دیاگیا تھا کہ ہمارا وکاس ہوگا؛ لیکن ہم آج بھی صبح نوکری کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں اور رات بھی نوکری نہ ملنے سے پریشاں، ہر دن نوکری کی آس میں گزر جاتا ہے؛ لیکن آپ کا وکاس آج تک نہ ہوا۔ ہمیں روزگار سے نہیں جوڑا گیا، ہماری حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ کیایہی وکاس ہے، کیا آپ کے نزدیک بے روزگاری ہی روزگار ہے؟؟ اگر ایسا ہے تو الیکشن ۲۰۱۹ میں ہم آپ کے وعدے پر بھروسہ نہیں کرنے والے ڈیجیٹل ترقی کا خواب دکھا کر جو آپ عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ہم اب اس جھانسے میں نہیں آنے والے۔

سو اسمارٹ سٹی صرف انٹرنیٹ تک ہے ہم بے روزگار نوجوانوں نے سو اسمارٹ سٹی کو پورے ہندوستان میں تلاش کیا؛ لیکن ہمیں نہیں ملا، کاش مل جاتا تو آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کسی اچھے سے آفس کے نزدیک پکوڑا تلنے کی دکان کھول کر روزگار سے منسلک ہوجاتے اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے۔ وعدوں میں ناکام لیڈران کا اپنے نام کے آگے چوکیدار لگانے سے راہل گاندھی کا یہ قول ثابت ہوگیا ہے کہ چوکیدار ہی چور ہے۔ جتنے بھی لیڈران ہیں سبھی پر کچھ نہ کچھ الزامات عائد ہیں، اگر منصفانہ و عادلانہ جانچ کی جائے تو سبھی کی چوری ثابت ہوجائے گی۔ عوام بھی بے وقوف نہیں ہیں انہیں بھی پتہ چل گیا ہے کہ چور کون ہے اور چوکیدار کون؟اگر لفظ ’چوکیدار’ پر غور کیاجائے تو چوکیدار کچھ لمبا ہوجاتا ہے، شارٹ کٹ میں ’کیدا ‘کو حذف کرکے ’چور‘ پڑھیں تو مطلب و مفہوم سب واضح ہوجائے گا اور آپ کی سمجھ میں بالکل آجائے گا کہ جو چوکیدار ہے وہی چور ہے، کالے دھن کولاکر دینے کا وعدہ کیا؛ لیکن یہاں کا سفید دھن اپنے دیگر چور ساتھیوں کی مدد سے باہر پارسل کروادیا اور ان بھگوڑوں کو بھی بھگا دیا گیا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ ان بھگوڑوں کو پکڑا جاتا، آپ اس دور میں بھی اتنے احمق ہیں بے وقوف ہیں کہ ملک کی ہائی سیکوریٹی کے باوجود نیرو مودی وجے مالیا چنپت ہوجائے اور اسے بھگوڑا قرار دیا جائے اور آپ یقین کرلیں، کیا یہ بغیر حکومت کے ممکن ہے؟ نہیں تو ثابت یہ ہوا کہ جو آپ کے ساتھ چوکیدار کا کھیل کھیل رہا ہے وہ بھی اس چوری میں شامل ہے۔ نیرو مودی لندن میں گرفتار ہوگیا ہے اور اس کی گرفتاری پر چوکیدار لوگ ایسے خوش ہورہے ہیں جیسے نیرو مودی کو نہرو نے لندن بھاگنے دیا تھا، گرفتاری کا سارا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ الیکشن کے مدنظر عوام کو بھٹکانے کےلیے گرفتاری کاڈھونگ رچا گیا ہے۔

  قوم کا مستقبل ملک کے نوجوان ہوتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ فرقہ پرستی، ہندو مسلم کھیل سے اٹھ کر آگے کی سوچیں، سازشوں میں نہ پھنسیں، ملک کی حفاظت کے لیے ملک کو اچھے ہاتھوں میں سونپیں وہ ہاتھ جو آئین کی پاسدار ہو، وہ ہاتھ جہاں نفرت کے بجائے محبت کے گیت گائے جائیں، وہ ہاتھ جہاں مسجد بھی  محفوظ ہو اور مندر پر بھی آنچ نہ آئے۔ آپ نے پانچ سالہ دور اقتدار میں دیکھ لیا ہے کہ کس طرح نفرت کا بازار گرم ہوا، آپ کے خون کو ہندو مسلم کے نام پر گرم کیاگیا، اور بھینٹ بھی آپ کو چڑھایاگیا کوئی لیڈر کا بیٹا، کوئی لیڈر بھینٹ نہیں چڑھا؛ بلکہ عوام ہی نفرت کے شکار ہوکر بھیڑ کی بھینٹ چڑھے۔اس لیے ۲۰۱۹ کا الیکشن اہم ہے آپ ترقی و خوشحالی کو ووٹ دیں، سیکولر امیدواروں کو جتائیں اور ملک کو نفرت سے بچائیں۔

آپ ملک کے مستقبل ہیں، اچھی سوچ، اچھی لگن اور اچھی فکر کے ساتھ بڑھیں۔ ہندوستان محبت کی زمین ہے یہاں کچھ نفرت کے سوداگروں کو اقتدار نصیب ہوگیا ہےآپ ان نفرت کے سوداگروں سے اقتدار چھین کر سیکولر ہاتھوں میں ملک کی کمان دیں تاکہ ملک کی تہذیب برقرار رہے۔

تبصرے بند ہیں۔