کانگریس: عروج سے ڑوال کی طرف

جاوید اختر بھارتی

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ کانگریس پارٹی نے حکومت کی ہے اور کانگریس میں کبھی مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے، مولانا اسعد مدنی بھی تھے، کریم چھاگلہ بھی تھے، حمید دلوائی بھی تھے، سی کے جعفر شریف بھی تھے اور محسنہ قدوائی، نجمہ ہیبت اللہ، ضیاء الرحمن انصاری وغیرہ بھی تھے،، کانگریس کا بڑا جلوہ تھا ان مسلم سیاسی چہروں کو ساڑھے چار سال تک چھپا کر رکھا جاتا تھا صرف چھہ ماہ کے لیے ان کو عوام اور بالخصوص مسلمانوں کے درمیان بھیجا جاتا تھا ہاں بیچ میں جب کہیں فرقہ وارانہ فساد برپا ہوجاتا تھا تو سکون اور ہوجانے کے بعد انہیں بھیجا جاتا تھا اور وہ مسلم سیاسی چہرے مسلمانوں کی آبادیوں، بستیوں اور علاقوں میں پہنچ کر کانگریس پارٹی کی طرف سے معافی مانگا کرتے تھے اور اس بات کا یقین دلایا کرتے تھے کہ اب مستقبل میں فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوں گے اور کانگریس مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی طویل عرصے تک یہ سلسلہ چلا یعنی کانگریس کی حکومت بنتی رہی، فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے، مسلم سیاسی چہرے معافی مانگتے رہے، کانگریس کی کامیابی کے لیے راہ ہموار کرتے رہے اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوتی رہے نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس سے دلت اور مسلمان اوب گیا اور مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی ہو گیا کہ یاتو کانگریس مسلم سیاسی رہنماؤں کو استعمال کررہی ہے یا کہ خود مسلم سیاسی رہنماؤں نے دولت اور شہرت حاصل کرنے اور اپنا منصب برقرار رکھنے کے لیے اپنی ہی عوام کو دھوکا دینے کا دھندا بنا لیا ہے چنانچہ مسلمانوں اور دلتوں نے کانگریس کو ہرانے کا تہیہ کرلیا اور 1977 میں ہرایا مگر جو دوسری حکومت جنتا پارٹی کی قیادت میں بنی وہ پائیدار ثابت نہیں ہوئی اور ڈھائی سال میں وہ جنتا پارٹی کی حکومت دھراشائی ہوگئی اور پھر کانگریس کی حکومت قائم ہوئی لیکن کانگریس کی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں آئی۔

 پھر فسادات کا سلسلہ شروع ہوا اور وہیں سے کانگریس کا زوال شروع ہوا مگر اسی دوران دلتوں نے صرف کانگریس کو ہرانے کا تہیہ نہیں کیا بلکہ خود سیاسی طور پر بیدار ہونے کا بھی تہیہ کرلیا بھوکے پیاسے رہ کر اپنے سماج کی آبادیوں میں جاکر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بارے میں بتانا شروع کیا اور اسی دوران کانگریس میں کچھ خلفشار ہوا راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے اور کابینی وزراء مستعفی ہونے لگے ممبران پارلیمنٹ بھی استعفیٰ دینے لگے راجیو گاندھی کا کابینہ میں وی پی سنگھ وزیر تھے انہوں نے بھی استعفیٰ دیا اور جنتا دل بنائی اور 1989 کے عام انتخابات میں جنتا دل اور بی جے پی میں اتحاد ہوا اور الیکشن میں کامیابی بھی ملی اور وی پی سنگھ وزیر اعظم بھی بنے مگر دلت اس وقت تک جہاں سیاسی طور پر بہت حد تک بیدار ہوگیا وہیں ہندؤں کی بیکورڈ برادری نے بھی اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کیا گیارہ ماہ چلی وی پی سنگھ کی حکومت اسی دوران منڈل کمیشن کی رپورٹ نافذ کرنے کا وی پی سنگھ کی حکومت نے فیصلہ کرلیا تو بی جے پی نے بابری مسجد کا معاملہ اٹھا کر رتھ یاترا نکال دیا نتیجہ یہ ہوا کہ جنتا دل اور بی جے پی میں شدید اختلاف ہوگیا بہار کے سمستی پور ضلع میں رتھ کو روک دیا گیا تو بی جے پی نے جنتا دل سے حمایت واپس لے لی اور وی پی سنگھ کی حکومت گرگئی۔

 1991 میں پھر پارلیمانی انتخابات ہوئے تو مسلمانوں نے جنتا دل کو ووٹ دیا مگر بی جے پی کو جنتا دل سے اتحاد کرلینے کی وجہ سے تقویت مل گئی اور آج تک طاقتور ہی ہوتی گئی اور مسلمان 1991 سے اب تک بی جے پی کو ہرانے میں لگا ہوا ہے اور ہندو بیکورڈ 1991 میں ایسا سیاسی طور پر بیدار ہوگیا کہ اسے ہر شعبے میں حصہ داری مل گئی اور اقتدار کا مزا چکھ لیا اور آج بھی چکھ رہا ہے اور مسلمان آج تک یہی ثابت کرنے میں لگا ہے کہ ہم ہی سیکولر ازم کو بچانے والے ہیں اور ہم ہی بی جے پی کو ہرانے والے ہیں اور بی جے پی مضبوط ہوتے ہوتے اتنی مضبوط ہوگئی کہ 2014 میں مکمل اکثریت سے بھی زیادہ سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اب تو کوئی پارٹی اپنا سیکولر ازم ثابت نہیں کر سکتی اور ہندو بیکورڈ کامیاب اس لیے ہوا کہ اس نے سماجی نعرہ بلند کرنا شروع کردیا اسے اس بات کا یقین ہوگیا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہندو مانا جاتا ہے اور ہمارے ووٹوں سے جب حکومت بن جاتی ہے تو ہمیں برادری میں بانٹا جاتا ہے اور ہمارے ساتھ اونچ نیچ، چھوا چھوت اور بھید بھاؤ کیا جاتا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ ہم برادری کا ہی نعرہ لگائیں اور انہوں نے نعرہ لگایا پندرہ پچاسی کا، انہوں نے نعرہ لگایا کہ ووٹ ہمارا راج تمہارا نہیں چلے گا اور مسلمانوں نے بی جے پی کو ہرانے کا نعرہ 1991 میں لگایا تو آج تک لگا رہے ہیں آج بھی انہیں سماج کا نعرہ لگانے میں شرم آتی ہے جس کے نتیجے میں بیکورڈ مسلمان کی سیاسی شناخت گم ہوگئی-

آخر کب احساس ہوگا کہ سامنے والے سے جب بھی کوئی کہے گا کہ میں مسلمان ہوں تو سامنے والا بھی کہے گا کہ میں ہندو ہوں اور سامنے والا جب بھی کہے گا کہ میں انصاری، منصوری، قریشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں تو دوسرا سامنے والا بھی کہے گا کہ میں یادو، راجبھر، نشاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں،، بی جے پی بھی اب کانگریس کے راستے پر چلنے لگی ہے بیکورڈ اور دلت طبقے کو نظر انداز کرنے لگی ہے مگر چونکہ ہندو بیکورڈ سیاسی طور پر بیدار بھی ہے اور متحد بھی ہے اور مسلم بیکورڈ سیاسی طور پر بیدار بھی نہیں ہے اور نہیں تو مسلمانوں کے نام پر متحد ہونے کی اپیل کرنے والوں کی جذباتی نعروں اور تقریروں میں مست مگن ہے یاد رہے کہ مسلمانوں کی سیاسی شناخت تبھی قائم ہوگی جب مسلمان خود نعرہ لگائے گا کہ دلت پچھڑے ایک سمان،، ہندو ہوں چاہے ہوں مسلمان،، اس کے علاوہ اگر جذباتی اور مذہبی بنیاد پر سیاسی شناخت قائم کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی تو فائدہ سے کہیں زیادہ نقصان ہی اٹھانا پڑے گا،، مسلم مجلس، مسلم لیگ، مسلم فورم، جسٹس پارٹی سب ختم ہوگئی اسے بھی دھیان میں رکھنا ہوگا-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔