کانگریس نہ بھولے کہ اسے نئی زندگی ملی ہے

حفیظ نعمانی

سلمان خورشید صرف سابق وزیر خارجہ اور سابق وزیر ہی ہیں ہماری معلومات کی حد تک اس وقت پارٹی کا کوئی عہدہ ان کے پاس نہیں ہے لیکن خاندانی اور اپنے پرانے تعلق کی بناء پر شاید انہوں نے وہ بات کہی ہے جو کسی ذمہ دار کو کہنا چاہئے تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس کے لئے اپنے دم پر 2019 ء میں اقتدار حاصل کرنا مشکل ہے۔

یہ بات سلمان خورشید کہیں یا کوئی اور عہدیدار کہے ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلانا ناممکن ہے۔ بلکہ کہنا تو یہ چاہئے کہ وہ چار سال تک اپنی مخالفت اور نئی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نہ صرف زندہ ہے بلکہ وزیراعظم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہی ہے یہ ایک معجزہ سے کم نہیں ہے۔ 2014 ء میں وزیراعظم بننے کے بعد جو ابتدائی تقریریں کیں ان میں حیدر آباد کی پہلی تقریر میں انہوں نے کانگریس مکت بھارت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ وہ ریلی تھی جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر سننے کے لئے آنے والوں کو پانچ روپئے کا ٹکٹ لینا پڑا تھا۔ اس وقت ان کے چاہنے والوں کو کیا معلوم تھا کہ مودی ایسی حکومت کریں گے کہ اس کے بعد ان کی تقریر سننے والے ہر آدمی کو تین سو روپئے دینا پڑیں گے تب بھی وہ آدھی تقریر کے بعد اٹھ کر بھاگ جائے گا۔

آر ایس ایس نے جب انہیں وزیراعظم کا اُمیدوار بنایا تھا تو انہوں نے ملک پر اکیلے حکومت کرنے کے لئے سب سے زیادہ زور کانگریس کی طرف سے عوام کے دلوں میں نفرت بھرنے پر دیا تھا اور نفرت کے اس کھیل میں وہ یہ بھول گئے کہ حکومت کے ذریعہ عوام کو ہر مصیبت سے نجات دلانا بھی ہے۔ مودی جی کی حکومت میں لوگ اتنا پریشان ہوئے کہ کانگریس سے نفرت کے بجائے ان سے نفرت کرنے لگے اور ان کے دل میں کانگریس کے لئے نرم گوشہ بن گیا۔ جس کا مظاہرہ پہلے اسی گجرات میں ہوا جو وزیراعظم کا گڑھ ہے کہ وہ جیتے تو مگر رو روکر جیتے۔ اور اس کے بعد کرناٹک میں جہاں جشن فتح بھی منالیا تھا وہاں اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اور ان کی ذلت پر پورے ملک نے تالی بجائی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کے علاوہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جسے پورے ملک میں پہچانا جاتا ہے لیکن وہ حکومت بنا نہیں سکتی مگر بنوانے میں سب سے اہم کردار اس کا ہوگا۔ یہ بات پورے ملک نے تسلیم کرلی ہے کہ مودی سرکار پوری طرح فیل ہوگئی اگر وزیراعظم نے نوٹ بندی کے ہتھیار سے سب کو بھکاری نہ بنایا ہوتا تو ان چار برسوں میں جتنے صوبوں میںکانگریس کی حکومت گئی ہے اس کے بجائے برابر کی ٹکر ہوتی۔ اب حکومت بدلنا اس لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ کانگریس کی مخالف ہے یا سیکولر پارٹیوں کی بلکہ اس لئے ضروری ہے کہ ملک کا ہر طبقہ ہر برادری ہر ذات اور ہر خاندان چیخ پڑا ہے اور جس بھرشٹاچار اور گھوٹالوں سے عاجز آکر کانگریس کو اتنا ذلیل کیا تھا اس سے کئی گنا بھرشٹاچار بڑھ گیا ہے اور سارا ملک مان رہا ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ، مسز سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر نہ کسی بھرشٹاچار کا ایسا الزام ہے جیسے وزیراعظم مودی پر رافیل سودے میں لگایا جارہا ہے اور نہ ایسا الزام ہے کہ ان تینوں میں سے کسی نے کسی اناڑی اور ناتجربہ کار کو ملک کی حفاظت کے لئے خریدے گئے جنگی جہازوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی ہو اور اسے 30  ہزار کروڑ روپئے بھی دے دیئے ہوں۔

وزیراعظم کو فخر ہے کہ ان کے زمانہ میں رشوت ختم ہوگئی اور حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹرک جس میں کچھ بھی لدا ہو وہ کسی شہر کے کسی تھانے کے سامنے سے بغیر پولیس کو ان کی من مانگی رشوت دیئے بغیر نہیں گذر سکتا۔ مودی جی نے ایک ملک ایک ٹیکس کا نعرہ دے کر جی ایس ٹی لگایا تھا وہ تو ہر کاروباری ادا کرنے پر مجبور ہے اس کے علاوہ ہر تھانہ نے اپنا جی ایس ٹی نام کا ڈنڈا لگا رکھا ہے اگر بھینسیں جارہی ہیں تو دو، اگر لکڑی جارہی ہے تو دو، اگر انڈے جارہے ہیں تو دو، اگر قربانی کے بکرے جارہے ہیں تو دو۔ اور مودی سرکار کے سارے وزیر دیکھ رہے ہیں کہ ہر سڑک پر سودا بیچنے والے کھڑے ہیں اور سڑک کا کرایہ پولیس وصول کرتی ہے۔

اب مسئلہ متحدہ محاذ بنانے کا ہے جو سب کے دل کی آواز ہے۔ راہل گاندھی نے کہہ تو دیا ہے کہ اگر حلیف پارٹیوں نے کہا تو میں وزیراعظم بن سکتا ہوں۔ انہیں اس سے پہلے پورے ملک میں یہ دیکھنا چاہئے کہ کس صوبہ کی حکمراں پارٹی کیا چاہتی ہے؟ پانچ ریاستوں میں جو اسی مہینے الیکشن ہورہا ہے ان میں کانگریس نے وہ نہیں کیا جو کرناٹک میں کیا تھا۔ اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ نئی زندگی ملی ہے اس کے سامنے ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ ایسا ماحول بنائے کہ سب محسوس کریں کہ راہل وزیراعظم بننے کا ماحول بنا رہے ہیں اور مودی جی کو صرف اسی لئے ہٹا رہے ہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ان کا مقصد یہ نظر آئے کہ وہ حکومت بدلنا چاہتے ہیں اس کے بعد سب جس کو وزیراعظم بنانا چاہیں بنادیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ راہل گاندھی کی فراخ دلی کو دیکھ کر سب ان کو ہی بنادیں۔

ہر پارٹی کے اندرونی حالات ہوتے ہیں جن کو اس کے ذمہ دار ہی جانتے ہیں۔ اگر راہل گاندھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مقابلہ پر کتنی ہی پارٹیاں آجائیں وہ مدھیہ پردیش اور راجستھان جیت لیں گے۔ اور جیت بھی لیں تو ہر کوئی ان کی تائید کرے گا اور اگر مس مایاوتی نے اتنے ووٹ کاٹ لئے کہ پھر بی جے پی آگئی تو ذمہ دار وہ ہوں گے۔ راہل گاندھی کو اگر دو صوبے پھر جاتے نظر آرہے تھے تو جانے دیتے مایاوتی اپنی فطرت کے خول سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنی پارٹیاں سامنے ہیں وہ سب سے نیچے ہیں لیکن ان کے دماغ میں بسا ہوا یہی ہے کہ جو دلت ہے وہ ان کا ہے کتنے دلت ان کو چھوڑکر چلے گئے اور کتنوں نے ان کی اصلیت جان لی لیکن ان کی اکڑ وہی ہے کہ ابھرتا ہوا دلت لیڈر انہیں بوا بھی نہ کہے سب ان کی کرسی بچاتے رہیں۔ اگر یہی شوق تھا تو پھر وہ ممتا بنرجی کی طرح سیاست میں جیسے آئی تھیں اسی حالت میں رہتیں تو دیکھتیں کہ مودی جی اگر صوبہ کا وزیراعلیٰ بھی بناتے تب بھی بہن جی کو چھوڑکر نہ جاتے۔ لیکن وہ تو دوست کے پیچھے ایسی بھاگیں کہ ہر سیاسی لیڈر کو مات کردیا۔ بہرحال وہ شطرنج کا اہم مہرہ ہیں اور نفع کم نقصان زیادہ پہونچا سکتی ہیں جس کا اندازہ دسمبر میں ہی ہوجائے گا۔ اب راہل جو فیصلہ کریں یہ سمجھ کر کریں کہ انہیں نئی زندگی ملی ہے اور جو اُن کا ہے اس کے لئے ہر قربانی دینا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔