کانگریس کے بغیر اتحاد بے معنی

فیصل فاروق

مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کو ٢٠١٩ء کے عام لوک سبھا انتخابات میں اقتدار سے بے دخل کرنے کیلیے ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی متحدہ محاز کیلیے کافی سرگرداں نظر آ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں نئی دہلی میں این سی پی، شیوسینا، سماجوادی پارٹی، بی جے ڈی، آر جے ڈی، ڈی ایم کے، ٹی ڈی پی اور دیگر کئی علاقائی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی قیادت سے بغاوت کرنے والے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا، ارون شوری اور بی جے پی کے ایم پی شتروگھن سنہا سے بھی ملاقات کی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اگر مایاوتی اور اکھلیش نے خواہش کا اظہار کیا تو وہ لکھنؤ جاکر ان دونوں سے بھی ملاقات کرسکتی ہیں۔ ممتا بنرجی کی اس کوشش کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔

ممتا بنرجی بخوبی جانتی ہیں کہ ریاستوں میں علاقائی جماعتوں کی سیاسی اہمیت کو قطعی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ انتخابات میں جھارکھنڈ میں کانگریس کے پاس اتنے ووٹ نہیں تھے کہ اس کے امیدوار جیت پاتے لیکن جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی حمایت سے کانگریس کے امیدوار راجیہ سبھا پہنچ گئے۔ مغربی بنگال میں بھی کچھ اسی طرح سے ممتا بنرجی نے اپنی حمایت کانگریس کو دی اور کیرلا میں لیفٹ پارٹی نے شرد یادو خیمہ کے امیدوار کو راجیہ سبھا پہنچنے میں تعاون کیا۔

دراصل بی جے پی اور اس کی ہمنوا جماعتوں کو روکنے کیلیے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا فیصلہ سیاسی اعتبار سے خاصا اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جماعتیں اب بائیں بازو کی پارٹیوں، کانگریس اور ترنمول کانگریس جیسی ہم خیال پارٹیوں کا گروپ ہوگا جو بی جے کی مخالفت میں خود کو انتہائی کمزور یا اکیلا محسوس کر رہی تھیں۔

بلاشبہ مختلف جماعتوں کا اتحاد کانگریس کے زیرقیادت ہی بی جے پی کے خلاف موثر مقابلہ کرسکتا ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں آج کی تاریخ میں کانگریس کے بغیر کوئی بی جے پی کے متبادل کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس وقت بی جے پی کی عوام مخالف اور خاص طورپر کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف مضبوط متحد اپوزیشن کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

حالانکہ ممتا بنرجی کے ساتھ ساتھ دیگرعلاقائی پارٹیاں بھی نہیں چاہتی ہیں کہ تیسرے مورچہ میں کانگریس کو شامل کیا جائے، اس کی سیدھی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ اپوزیشن لیڈران اور خاص طور پر شرد پوار راہل گاندھی کی قیادت کے حق میں نہیں ہے۔ سونیا گاندھی کو ان پارٹیوں کو بھروسے میں لینا ہوگا جو سیکولر اتحاد کی قیادت راہل گاندھی کے ہاتھوں میں دینے کیلیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات مان کر چلیے کہ کانگریس کے بغیر اتحاد بے معنی ثابت ہوگا، جس کے نتیجہ میں پورا پورا فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


1 تبصرہ
  1. اردو گلشن ممبئی کہتے ہیں

    انتہائی بہترین تجزیہ
    جناب فیصل فاروق صاحب

تبصرے بند ہیں۔