کشمیری قائدین تیار 

ندیم خان

(بارہمولہ، کشمیر)

جب سے دنیا نے طاقت کی بنیاد پر قبضہ کو غلط ٹھہراتے ہوئے ریاستوں کا اجتماعی نظم قائم کیا ہے سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کو عالمی اصول کا درجہ حاصل ہوگیاہے۔ تجربات نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ تشدد کبھی کسی مسئلہ کاحل نہیں ہو سکتا ہے۔ جائز مطالبات تک بندوق کی نوک پر تسلیم نہیں کرائے جاسکتے ہیں۔ اب ہرطرح کے تنازعات اور جھگڑے کا نمٹارہ اسی عالمی اصول کے تحت ہوتا ہے۔مسئلہ چاہے کتنا ہی قدیم اور پرانا کیوں نہ ہو اس کے حل کیلیے ’سیاسی عمل ‘کا ہی ہتھیا ر کارآمد ہے۔اس کا ادراک فریقین کو جتنی جلد ہوجائے مسئلہ اسی نسبت سے جلد حل ہوجاتا ہے۔ برسوں پرانے مسئلہ کشمیرکا حل بھی اسی فارمولہ میں پنہاں ہے اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ فریقین بھی اس فارمولہ کو کارآمد سمجھنے لگے ہیں۔اسی سیاسی عمل کو تیز کرنے کیلیے 2برسوں کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیری لیڈروں کا اجلاس بلایا۔اس اجلاس میں ملکی آئین، جمہوریت اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے کم و بیش تمام رہنما شامل ہوئے ۔

5 اگست 2019 کو جب ہندوستان نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کردیا تھا۔اس وقت کے حالات کی سنگینی کے پیش نظرکشمیرکے سیاسی قائدین کو قید و نظر بندبھی کیاگیا۔ ان اقدامات کی دلیل دیتے ہوئے کہا یہ گیا تھا کہ اس سے وادی میں امن قائم ہوجائے گا اور شدت پسندی اور علیحدگی پسندی کی راہ روک دی جائے گی۔ لیکن امید کے برخلاف یہ آرزو پوری نہیں ہوئی اور وادی میں آئے دن تشدد اور انتہا پسندی کے واقعات ہو تے رہے۔ان 2برسوں میں ںشدت پسندی کے درجنوں واقعات سامنے آئے جس کی وجہ سے مرکز کے نامزد گورنر کی جانب سے سیاسی مذاکرات، مفاہمت اور بات چیت کے عمل کے بعد اب ریاست میں منتخب حکومت کی ضرورت کا احساس ہونے لگا تھا۔یہ اجلاس اسی ضرورت کی تکمیل کی جانب حکومت کا پہلا قدم مانا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے  اس اجلا س کا کوئی مخصوص ایجنڈانہیں رکھاگیا  لیکن غالب گمان سب کا یہی تھا کہ اس اجلاس میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات، اسمبلی حلقوں کی حد بندی سمیت درجنوں نزاعی معاملات زیرغور آئیں گے۔

جموں وکشمیر سے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد وزیراعظم مودی کی زیرصدارت یہ پہلا اجلاس تھا ۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب حد بندی کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے موجودہ اسمبلی حلقوں کی تنظیم نو اور7 نئی نشستوں کے قیام پر جموں و کشمیر کے تمام ڈپٹی کمشنرز سے تبادلہ خیال کیاتھا۔

اجلاس سے قبل کشمیری قائدین کے بیانات بھی اس امر کے غماز تھے کہ وہ ریاست میں سیاسی عمل کے خواہش مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد انتخابات ہوجائیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی نے بھی حکومت کی دعوت کو رد نہیں کیا  اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں کے14قائدین اس اجلاس میں شامل ہوئے۔ نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور 5اگست2019کے بعد قائم ہونے والے گپکار اتحاد کے چیئرمین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا یہ بیان بھی مستحسن ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان وغیرہ سے بات نہیں کرتے، انہیں اپنے وطن کے وزیراعظم سے بات کرنی ہے اس لیے وہ اس اجلاس میں آئے ہیں۔اسی طرح کانگریسی لیڈر سیف الدین سوز نے بھی اس امیدکا اظہارکیا ہے کہ اس اجلاس میں حکومت کشمیریوں کی بات سنے گی۔ تاہم کچھ عرصہ قبل تک بھارتیہ جنتاپارٹی کی اتحادی رہی پی ڈی پی کا موقف دیگر تمام قائدین سے ہٹ کر ہے۔ 434دنوں تک کی نظر بندی کاکرب جھیل رہی ںپی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اجلاس میں تو شامل ہوئیں مگرا نہوں نے پاکستان سے بھی مذاکرات کی بات کہہ کر ایک نیا شوشہ چھوڑدیالیکن  اس رائے کو بیشتر کشمیری قائدین نے مسترد کردیا۔

مانا جارہا ہے کہ حکومت، مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں جمہوری عمل شروع کرنے کے لیے انتخابات کراسکتا ہے۔ حالانکہ اس کے لیے حد بندی جلد مکمل کرنا ہوگا۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت اس سال دسمبر سے آئندہ سال مارچ 2022 کے درمیان انتخابات کراسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اسی وقت اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں بھی اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ اسی ضمن میں حکومت چاہتی ہے کہ جلد ازجلد حد بندی کا کام مکمل کرلیا جائے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جموں وکشمری میں جاری حد بندی کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنا ہے تاکہ وہاں اسمبلی انتخابات کرائے جاسکیں اور ایک منتخب حکومت کی تشکیل ہوسکے، جو ریاست کی ترقی کی مضبوطی دے۔ جموں وکشمیر کے 14 سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹے کی میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے اس میں شامل لیڈروں کو کشمیر میں ہر موت کے حادثہ پر ذاتی غم کا اظہار کیا، چاہے وہ بے قصور شہری کی ہو، کسی کشمیری لڑکے کی ہو، جس نے بندوق اٹھائی تھی یا سیکورٹی اہلکاروں کے کسی رکن کی ہو۔

اجلاس سے قبل طر ح طرح کی باتیں ہورہی تھیں، یہ کہاجارہاتھا کہ کشمیری لیڈران اپنے مسئلہ کے حل کیلیے پاکستان کے بعد اب چین کو دعوت دے رہے ہیں لیکن ان کشمیری قائدین کی اجلاس میں شمولیت نے ان تمام افواہوں کی تردید کردی ہے بلکہ یہ قوی امکان بھی پیدا ہوچلا ہے کہ کشمیرمیں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہوجائیں گے اورعوام کی ایک منتخب حکومت ریاست کا نظم و نسق سنبھال لے گی۔

وزیر اعظم مودی نے میٹنگ کے بعد کئی ٹوئٹ کرکے کہا کہ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند تبادلہ خیال میں جموں وکشمیر کی سمت میں چل رہی کوششوں میں ایک اہم قدم تھا، جہاں ہمہ جہت ترقی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہماری ترجیح جموں وکشمیر میں زمینی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔ حد بندی تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ وہاں انتخابات ہوسکیں اور جموں وکشمیر کو ایک منتخب حکومت ملے، جو جموں وکشمیر کی ترقی کو مضبوطی دے‘۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی قیادت والے پینل کو مرکز کے زیر انتظام ریاست میں حد بندی کی ذمہ داری ملی ہے۔ مرکزی حکومت نے اگست 2019 میں سابقہ جموں وکشمیر ریاست کا خصوصی درجہ ختم کردیا تھا اور اس کی تشکیل نو کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ مرکز کے زیر انتظام ریاست کا وجود اکتوبر، 2019 میں آیا۔ حد بندی کی قواعد کے بعد جموں وکشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہوجائے گی۔ اسمبلی کی 24 سیٹیں پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں آنے کی وجہ سے خالی رہتی ہیں-

دوسری طرف کشمیر میں دانشور کہتے ہیں بھارتی حکومت کی ان تمام کوششوں کا عوام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑنے والا اور اس سے زمینی صورت حال بھی نہیں تبدیل ہونے والی۔ وادی کشمیر کے سرکردہ وکیل اور ماہر قانون ریاض خاور کہتے ہیں کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت دنیا کو یہ تاثر دے سکے کہ کشمیر میں جمہوری عمل بحال کیا جا رہا ہے کیونکہ کشمیر میں تو جمہوریت نام کی کوئی چيز نہیں ہے.

مجموعی طور پر حکومت کی جانب سے بلائے گئے اس اجلاس میں شامل ہونے والے کشمیری قائدین میں کہیں نہ کہیں نیک نیتی نظر آرہی ہے اور وہ خلوص دل سے کشمیرکو ملک کی مین اسٹریم سے جوڑے رکھنے کے خواہش مند بھی ہیں۔اور یہ امید بندھی ہے کہ اس اجلاس کے نتیجہ میں نہ صرف کشمیر میں امن برقراررہے گا بلکہ عام کشمیریوں کو بھی اس سیاسی عمل کے طفیل پرسکون، پرامن، مستحکم اور خوش حال کشمیر نصیب ہوگا۔ تاہم کوئی ضروری نہیں ہے کہ ایک ہی اجلاس میں تمام نزاعی مسائل حل ہوجائیں لیکن یہ اچھا آغاز ضرور ہے۔ وزیراعظم کی اس رائے پر سبھی نے اتفاق کیا ہے کہ پنچایت سے لے کر اسمبلی تک کے انتخابات ہوں اور کشمیری نوجوان ملک  کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے، اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مودی سرکار کو واقعی میں کشمیری قوم کے لیے ہمدردی ہے یا یہ سب ڈرامہ کچھ ہی مدت تک محدود رہنے والا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔