کیا ایگزٹ پول صحیح ثابت ہوں گے؟ 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

اترپردیش میں آخری مرحلے کی ووٹنگ کے بعد آئے ایگزٹ پول کے رجحانات نے سب کو چونکا دیا ہے۔ ان میں بی جے پی کی بھاری اکثریت کے ساتھ اترپردیش میں واپسی دکھائی گئی ہے۔ اترپردیش میں کس کی حکومت بنے گی یہ تو 10 مارچ کو معلوم ہوگا۔ لیکن رجحانات سے کچھ سوال ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ایگزٹ پول نے پہلے مرحلے کی 58 سیٹوں میں سے ایس پی، آر ایل ڈی گٹھ بندھن کو آٹھ سیٹیں دی ہیں۔ دو مراحل کی ووٹنگ میں مسلمانوں کے سات فیصد ووٹ بی ایس پی کو اور آٹھ فیصد بی جے پی کو ملنے کی نشاندہی کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جاٹ مسلم اتحاد اور کسان تحریک کا گٹھ بندھن کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جاٹوں نے 2017 کی طرح ہی بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔ یادو لینڈ کے لوگوں نے اکھلیش یادو کے بجائے نریندر مودی اور یوگی میں بھروسہ دکھایا ہے۔ آواره مویشی، بے روزگاری، مہنگائی اور کورونا کے دوران حکومت کی بے پروائی الیکشن کو متاثر نہیں کر سکی۔ ریلوے بھرتی میں ہوئی بد احتیاطی اور سڑکوں پر لاٹھیاں کھانا بے روزگار نوجوان اور ان کے والدین بھول گئے۔ دلتوں کو ووٹ کرتے وقت اپنے اوپر ہوئی زیادتیاں یاد نہیں آئیں۔

خواتین نے اناؤ، لکھنؤ، ہاتھرس اور آگرہ وغیرہ کے واقعات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ برادریوں کے لیڈران، پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور وعدے رائے دہندگان کا من نہیں بدل سکیں۔ پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کی ریلیوں میں جمع ہوئی بھیڑ ووٹ میں نہیں بدل سکی۔ لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں نعرہ بھی خواتین کی رائے نہیں بدل سکا۔ 2017 میں آخری مرحلے کی 54 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 29 اور اس کے حلیفوں نے 7 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ او پرکاش راج بھر، سوامی پرساد موریا، پلوی پٹیل وغیرہ بھی اس کے ساتھ تھے۔ بی جے پی کی لہر نہ ہونے کے باوجود ایگزٹ پول میں یہاں سے بھاجپا کو 40 سیٹیں ملتی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔

اترپردیش کے انتخابی حلقوں میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کو گھسنے سے روکنا، بھاجپا کے خلاف ناراضگی کی علامت ہے۔ لیکن ایگزٹ پول سے نہیں لگتا کہ اس کے خلاف عوام میں کوئی ناراضگی تھی۔ پچھلی مرتبہ 1.2 فیصد پولنگ بڑھنے سے بی جے پی کو 265 سیٹوں کا فائدہ ہوا تھا۔ اس بار 0.94 فیصد ووٹنگ کم ہوئی ہے تو کیا اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ تمام ایگزٹ پول کے رجحان ایک جیسے کیوں ہیں؟ کیا سب نے ایک ہی سیمپل کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا ہے یا ان ایجنسیوں نے کسی کی ہدایت پر یہ رجحان جاری کئے ہیں؟  انڈیا ٹوڈے نے اپنے سروے میں بی جے پی  کو 326 سیٹیں دی ہیں اور ٹی وی 9 نے 211 اس لحاظ سے دونوں کے درمیان 115 سیٹ کا فرق ہے۔ ایگزٹ پول میں پانچ سے دس سیٹوں کا فرق سمجھ میں آتا ہے لیکن فرق سو سے زیادہ سیٹوں کا ہو تو اعتبار کرنا مشکل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ستر دن پہلے کے اوپینین پول اور ایگزٹ پول میں یکسانیت کیسے ممکن ہے۔ ایگزٹ پول میں اوپینین پول سے بی جے پی کی پانچ سیٹ بڑھا کر اور ایس پی کی گیارہ سیٹ کم کرکے دکھائی گئی ہیں۔ جبکہ اس وقت سوامی پرساد موریا اور بی جے پی کے تین وزراء پارٹی چھوڑ کر اکھلیش یادو کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ راج بھر، کرشنا پٹیل، جینت چودھری وغیرہ کے ساتھ ان کا گٹھ بندھن نہیں ہوا تھا۔ طلبہ کی حمایت بھی انہیں حاصل نہیں تھی۔ ان کی اور پرینکا گاندھی کی ریلیوں میں جمع ہونے والی بھیڑ کا بھی کسی کو اندازہ نہیں تھا۔

ابھی تک جتنے بھی ایگزٹ پول آئے ہیں ان میں سے بہت کم صحیح ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے رجحان اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ ان کا سیمپل سائز کیا تھا اور یہ سیمپل کس علاقے سے لیا گیا ہے۔ 2017 میں کسی بھی ایگزٹ پول نے اترپردیش میں بی جے پی کو تین سو سیٹیں نہیں دی تھیں۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتی ہوئی دکھائی گئی تھی۔ لیکن وہاں کانگریس کی حکومت بنی تھی۔ بہار میں ایگزٹ پول مہا گٹھ بندھن کی حکومت بننے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ مگر وہاں حکومت این ڈی اے کی بنی۔ جھارکھنڈ میں ایگزٹ پول کے مطابق بی جے پی واپسی کر رہی تھی لیکن وہاں حکومت جے ایم ایم کی بنی۔ مغربی بنگال میں تو ایگزٹ پول نے بی جے پی کی حکومت بننے کا تقریباً یقین دلا دیا تھا۔ وہاں کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مانیں تو بی جے پی کی اکثریت والے ایگزٹ پول کے لیے بڑی رقم خرچ کی گئی ہے۔ ایگزٹ پول کے رجحان پر بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ ہم نے الیکشن میں عوام کے مسائل پوری طاقت سے اٹھائے ہیں۔ آخری مرحلے میں مشرقی یوپی کے لوگوں نے بی جے پی کا صفایا کر دیا ہے۔ 10 مارچ کو آنے والے نتائج سے سب کو معلوم ہو جائے گا۔ جینت چودھری نے کہا کہ بی جے پی کے ووٹ کو کو لے گئی۔ اترپردیش میں گٹھ بندھن کی سرکار بنے گی۔ پرینکا گاندھی نے امید افزا لہجے میں کہا کہ ہم سے جتنا ہو سکتا تھا پوری محنت اور ایمانداری سے کیا۔ 10 مارچ کا انتظار کریں گے۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو نے صلاح دیتے ہوئے کہا کہ آخری ووٹ کی گنتی ہونے تک سماجوادی گٹھ بندھن کو ہوشیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں جن جگہوں پر گٹھ بندھن کے امیدواروں کو جیتا ہوا بتایا گیا تھا۔ انتظامیہ کی مدد سے وہاں سرٹیفکیٹ کسی اور کو دے دیا گیا۔ گنتی کے وقت اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

بظاہر شیتل سنگھ، اجیت انجم، شرت پردھان، راجیو رنجن، شمبھو ناتھ سنگھ وغیرہ صحافیوں کی گراونڈ رپورٹ اور زمینی حقائق ایگزٹ پول کے حق میں نہیں ہیں۔ تو پھر ان رجحانوں کو لے کر اتنا شور کیوں ہے؟ فوری طور پر دو تین باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ کیا اس کے ذریعہ سرکاری افسران کو بی جے پی کی واپسی کا پیغام دینا ہے۔ تاکہ ووٹوں کی گنتی کے وقت وہ بھاجپا کا خیال رکھیں؟ بہار الیکشن میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد بی جے پی کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنا اور گٹھ بندھن کے حامیوں کو مایوسی کرنا ہو سکتا ہے۔ تاکہ کاؤنٹنگ سینٹرز پر ان کی چوکسی ڈھیلی پڑ جائے۔ یہ ایگزٹ پول سٹے بازوں کا کھیل بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اس کے ذریعہ کروڑوں روپے ادھر سے ادھر کر سکتے ہیں۔ اگر ان سوالوں کے بجائے واقعاً ایگزٹ پول کے رجحان صحیح ثابت ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ تمام مسائل پر ہندو مسلم نفرت حاوی ہے۔ لوگ اوپر سے کچھ بھی کہہ رہے ہوں لیکن ان کے دل میں سماجی نفرت جگہ بنا چکی ہے۔ عوام نے الیکشن میں اپنے بنیادی مسائل مہنگائی، بے روزگاری، غُربت، افلاس، نابرابری، عدم مساوات، ناانصافی، قانون کے راج، صحت اور تعلیم کی جگہ کمنڈل کو منتخب کیا ہے۔ اس سے بی جے پی کے لیے 2024 کی لڑائی ضرور آسان ہو جائے گی لیکن یہ سوچ آنے والے دنوں میں ملک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی۔ بہر حال انتخابات کے نتائج سے ہی معلوم ہوگا کہ ایگزٹ پول کے رجحان صحیح ثابت ہوئے یا عوام۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔