گائے کے نام پر دوغلی سیاست

معصوم مرادآبادی

میگھالیہ سرکار میں بی جے پی کے وزیرسنبورشولئی نے حال ہی میں گائے سے متعلق ایک ایسا بیان دیا ہے، جو اگر کسی اور نے دیا ہوتا تو اب تک ملک میں کہرام مچ گیا ہوتا۔ شولئی نے اپنی ریاست کے لوگوں کومرغ، بھیڑ، بکرے کا گوشت یا مچھلی سے زیادہ گائے کا گوشت کھانے کو کہا ہے۔گزشتہ ہفتہ کابینی وزیر کا حلف اٹھانے والے سینئر بی جے پی رہنما شولئی نے کہا کہ’’ ایک جمہوری ملک میں ہرشخص اپنی پسند کا کھانا کھانے کے لیے آزاد ہے۔‘‘ انھوں نے صحافیوں کے روبرو کہا کہ ’’ میں لوگوں کو مرغ، بھیڑ، بکری کا گوشت یا مچھلی کھانے کی بجائے گائے زیادہ کھانے کے لیے راغب کرتا ہوں تاکہ یہ تصور دور ہوجائے کہ بی جے پی گئو کشی پر پابندی لگائے گی۔‘‘

مویشی پروری کے ریاستی وزیر مسٹر شولئی نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ پڑوسی صوبے آسام کے وزیراعلیٰ سے بات کریں گے کہ وہاں نافذ کئے گئے نئے ایکٹ سے میگھالیہ  میں مویشیوں کی نقل وحمل متاثر نہ ہو۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ گائے ہمارے ملک میں ایک ایسا مظلوم جانور ہے جس پر ہمیشہ سیاست ہوتی رہی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شمالی ہند کے باشندے گائے کو ایک’ مقدس مویشی‘ کے طورپر بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اسے ’ ماں ‘ کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ ہم بھی برادران وطن کے ان جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ مغل حکمراں بابر نے  ہمایوں کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ گائے کے تحفظ کے لیے خصوصی بندوبست کریں کیونکہ یہ ہندوؤں کے نزدیک  ’مقدس‘ہے۔ لیکن جب سے گائے کے معاملے میں سیاست داخل ہوئی ہے، تب سے صورتحال بڑی عجیب وغریب ہوگئی ہے۔خاص طورپرمرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد گائے اس ملک میں سیاست کا محور بنی ہوئی ہے۔ملک کے کئی صوبوں میں گائے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے ہیں اور گائے ذبح کرنے والوں کے لیے عمرقید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سب سے پہلے 1999میں مہاراشٹر میں گئوکشی کے خلاف قانون بنایا گیا تھا، لیکن وہ عرصہ تک صدرجمہوریہ کے دستخط کے لیے ان کی میز پرپڑا رہا۔آنجہانی صدر پرنب مکھرجی نے اس پر دستخط کئے اور اس طرح ملک کے کئی صوبوں میں گئوکشی کے خلاف قانون سازی عمل میں آئی۔ اس کے بعد گایوں کے تحفظ کے لیے سرکاری خرچہ پر جگہ جگہ گئوشالائیں بنائی گئیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن گائے کے تحفظ کے نام پر حالیہ عرصہ میں قتل وغارت بھی خوب ہوئی ہے اور گائے کے نام نہاد محافظوں نے اب تک گئو کشی کے جھوٹے الزام میں درجنوں مسلمانوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کرڈالا ہے۔ اس معاملے میں افواہوں کا بازار اس حد تک گرم ہے کہ مویشیوں کا کاروبار کرنے والوں اور گوشت کے تاجروں کا جینا حرام کردیا گیا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں خود ساختہ ’’ گئو رکشکوں ‘‘ کی دہشت آج بھی جاری ہے اور وہ جابجامسلمانوں کی وحشیانہ لنچنگ کرتے رہتے ہیں۔یہ واقعات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور حقوق انسانی کی کئی عالمی تنظیموں نے اس پر احتجاج درج کرایا ہے۔

ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ بی جے پی کو ایک ہندو انتہا پسند پارٹی کے طور پر گائے سے والہانہ عقیدت ہے اور وہ اس معاملے میں بہت سنجیدہ ہے، لیکن یہی بی جے پی شمال مشرقی ریاستوں کے عوام کو خوش رکھنے کے لیے جب گائے کا گوشت زیادہ مقدار میں کھانے کی دعوت دیتی ہے تو حقیقت حال واضح ہوکر سامنے آتی ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت میگھالیہ میں بی جے پی وزیر کا مذکورہ بیان ہے جنھوں نے کھلے عام اپنی ریاست کے باشندوں کو گائے کا گوشت زیادہ مقدار میں کھانے کی دعوت دی ہے۔ میگھالیہ کے مویشی پروری اور صحت کے وزیر سنبور شولئی نے شیلانگ میں ڈنکے کی چوٹ پر صوبائی باشندوں کو چکن، مٹن، مچھلی سے زیادہ گائے کا گوشت کھانے کی ترغیب دلائی۔ شولئی نے پچھلے ہفتہ ہی میگھالیہ میں کابینی وزیر کے طورپر حلف لیا ہے۔

مسٹر شولئی کے اس بیان کے بعدہمیں قوی امید تھی کہ بی جے پی نہ صرف یہ کہ انھیں زبردست پھٹکار لگائے گی بلکہ انھیں صوبائی کابینہ سے بھی برطرف کردیا جائے گا۔ لیکن اس انتہائی قابل اعتراض اور مذہبی جذبات کو چھلنی کردینے والے بیان کے کئی دن گزرنے کے باوجود بی جے پی کے کسی لیڈر کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور سب کے سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔یہاں تک کہ سنگھ پریوار کے وہ بہادر سپوت جو گائے کی نقل وحمل کے واقعہ پر ہی حد سے گزر جاتے ہیں، انھوں نے بھی مسٹر شولئی کے انتہائی قابل اعتراض بیان پر کوئی ہنگامہ نہیں کیا۔ اخبارات نے ضرور اس بیان کو متنازعہ قرار دیا ہے، لیکن بی جے پی نے اتنا بھی نہیں کہا کہ مسٹر شولئی کو ایسے متنازعہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔یہاں معاملہ چونکہ اقتدار اور ووٹ کا ہے، اس لیے مسٹر شولئی کے بیان کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا گیا اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔

سبھی جانتے ہیں کہ گائے شمال مشرقی صوبوں میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور منی پور کے باشندوں کی مرغوب غذا ہے اور وہ اس کا استعمال بے دھڑک کرتے ہیں۔ یہاں کی بیشتر آبادی قبائیلیوں پر مشتمل ہے جن کا رہن سہن اور خوردونوش باقی ہندوستان سے قطعی مختلف ہے۔ گائے کا گوشت کھانا وہاں کی قدیم روایت کا حصہ ہے اور جو کوئی بھی وہاں اقتدار میں رہنا چاہتا ہے، اسے عوام کی ان بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا پڑتاہے۔بی جے پی نے بڑے توڑجوڑ کے بعد ان ریاستوں میں یا تو براہ راست حکومت قایم کی ہے یا پھر وہ علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اقتدار میں شریک ہے۔ اس لیے وہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتی جس سے وہاں کے باشندے ناراض ہوں۔گائے کا گوشت کھانے کی کھلی ترغیب دینے والے مسٹر شولئی کے بیان پر بی جے پی کی مکمل خاموشی اس کا ثبوت ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں چونکہ مسلمانوں کی آبادی نہیں ہے اور یہاں قصاب کاکام بھی وہاں کی مقامی قبائلی آبادی کرتی ہے، اس لیے بی جے پی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔اس کے برعکس شمال مشرقی ریاستوں سے متصل آسام میں چونکہ 34 فیصد مسلم آبادی ہے، اس لیے وہاں مویشیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔حال ہی میں وہاں کے نئے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے یہ قانون نافذ کیا ہے کہ کسی بھی مندر کے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں گوشت کی خرید وفروخت پر پابندی عائد رہے گی۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا گئوکشی کا مسئلہ اس ملک میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہی کھڑا کیا گیا ہے۔ اس مسئلہ پر مسلمانوں کی قتل وغارتگری کرنا سنگھ پریوار کے ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا آغاز 2014میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی ہوگیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2015میں اس سلسلے کی سب سے بھیانک واردات راجدھانی دہلی سے متصل اترپردیش کے دادری قصبے میں عیدالاضحی کے موقع ہوئی تھی، جہاں محمداخلاق نام کے ایک شخص کو اپنے فریج میں گائے کا گوشت رکھنے کے جھوٹے الزام میں انتہائی بربریت اور درندگی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں گئوکشی کا جھوٹا الزام لگاکرمسلمانوں کی لنچنگ کی گئی۔ حکومت کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان وحشیانہ وارداتوں میں ملوث وحشی درندوں کو عبرتناک سزائیں دینے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں مرکزی وزیر جینت سنہا نے لنچنگ کے ملزمان کو باقاعدہ ہار پہناکر ان کا استقبال کیا۔اس کے بعد یوپی، مدھیہ پردیش، راجستھان اور ہریانہ میں گاؤ کشی کے جھوٹے الزامات کے تحت درجنوں مسلمانوں کی جانیں لی گئیں، لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گائے کا مسئلہ پوری طرح سے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ اگر بی جے پی یا سنگھ پریوار کو گائے سے ذرا بھی عقیدت ہوتی تو وہ پہلی فرصت میں اپنے اقتدار والی شمال مشرقی ریاستوں میں گئوکشی پر سخت پابندیاں عائد کرتی اور مسٹر شولئی کو نہ صرف میگھالیہ کابینہ بلکہ بی جے پی بنیادی رکنیت سے بھی برطرف کردیتی۔لیکن افسوس بی جے پی نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ گائے کا مسئلہ بی جے پی کے لیے ووٹ حاصل کرنے کا سیاسی وسیلہ ہے۔

کچھ عرصہ پہلے معروف دلت دانشور اور ’دلت وائس‘ کے ایڈیٹر وی ٹی راج شیکھر نے ’ ہندوستان میں گائے کی سیاست ‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی مضمون انگریزی میں تحریر کیا تھا۔ اس کا اردو ترجمہ ایک مختصر کتابچہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کتابچہ کے صفحہ 9 پر انھوں نے انگریزی ہفتہ وار ’آؤٹ لک‘ (مورخہ20  اپریل 2014)کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ 1960 میں حکومت ہند نے گائے کے ذبیحہ پرجسٹس اے کے سرکارکی قیادت میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ آرایس ایس کے سربراہ گولوالکر، پوری کے شنکر اچاریہ اور ڈاکٹر ورگیز کورین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ کمیٹی میں مسٹر گولوالکر سے عقلی بنیاد پر بحث ومباحثہ ہوا۔ مسٹر ورگیز کورین کو عقلی دلائل سے مطمئن نہ کرنے کے بعد گولوالکر نے تسلیم کیا تھا کہ’’ گائے کے ذبیحہ کا پروگرام صرف سیاسی ہے۔‘‘ یعنی مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔