ہندو توا ایجنڈے کی طرف رواں دواں ہندوستان

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اسلام کا سب سے بنیادی اورہم سے اہم عقیدہ جس پر اسلام کی بنیاد قائم ہے، وہ ’’توحید‘‘ہہے، اللہ عزوجل کی جانب سے دنیا میں جتنے بھی پیغمبر تشریف لائے، ان کی بنیادی تعلیم میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ’’توحید‘‘ کی تعلیم دیتے، اللہ عزوجل کا اس حوالہ سے ارشاد گرامی ہے : ’’ وماأرسلنا من قبلک من رسول إلا نوحی إلیہ أنہ لا إلہ إلا أنا فاعبدون‘‘ ( الأنبیاء: ۲۵) جس طرح اللہ عزوجل کی ذات کو یکتا وواحد تصور کرنا ہے، وہی اس کی خدائی میں کسی کو شریک کرنا بھی سنگین گناہ ہے، جس کو فرمایا گیا’’ إن الشرک لظلم عظیم‘‘ قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے اپنی یکتایت اور واحدانیت کی تعلیم بے شمار جگہوں پر دی ہے، نناوے مقامات ایسے ہیں جہاں توحید کا صراحتا ذکر آیا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں بھی توحید کی دعوت دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ کے اندر فرمایا :’’ جو شخص’’ لا إلہ إلا اللہ ‘‘ کہہ لے وہ جنت میں داخل ہوجائے، ’’من قال لا إلہ إلا اللہ دخل الجنۃ‘‘ اور ایک جگہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’جو بھی لا إلہ إلا اللہ پر یقین رکھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگا توہ جنت میں داخل ہوگا’’من مات وہو یعلم لا إلہ إلا اللہ دخل الجنۃ ‘‘ ( مسلم، حدیث : ۲۶)

جس طرح سے کلمہ میں ایک اکیلے اللہ کی وحدانیت کے اقرار کی تعلیم ہے وہی دوسرے معبودان باطلہ کی شرکت کوبھی ناپسندہ قرار دیا گیا ہے، شرک، یہ توحید کی ضد ہے، یعنی نفع ونقصان، بیماری وصحت، عطا واختیاراور علو مرتبت وغیرہ میں کسی کو اللہ عزوجل کے ہم سر قرار دینا یہ شرک کہلاتا ہے، شرک اس قدر بڑا ظلم ہے اور اس قدر اللہ عزو جل کی نگاہ میں مذموم شیء ہے کہ انبیاء علیہ السلام نے اپنی ذات کو شرک سے بری قرار دیا ہے، ، حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ یا قوم إنی برئ مما تشرکون‘‘ ( الأنعام: ۷۸) اور حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ واشھدوا إنی بری مما تشرکون‘ ‘ (ہود: ۵۴) میں تمہارے شرکیہ وکفریہ اعمال سے بالکل بری ہوں ، اسلام نے شرک کے مواقع اور مظنوں جگہوں کو بھی شرک قرار دیا فرمایا’’ الطیرۃ شرک‘‘ بدشکونی لینے سے منع کیا کہ اس میں بجائے خالق کے مخلوق کے مؤثر ہونے کا مدعی ہوتا ہے، یعنی پرندوں کی چال وغیرہ سے شکون لیناہے، اس لئے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ اور اس کا یہ یقین ہے کہ توحید اور شرک یہ دو بالکل متضاد امر ہیں ، ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ وہ کونسی چیزیں جو جنت اور جہنم کو واجب کرتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنتی ہے اور اور جس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو وہ جہنمی ہے (مسلم ) بلکہ نبی کریم ﷺ حضرت معاذ بن جبل کو نصیحت کی تھی کہ اگر تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تب بھی شرک کے مرتکب نہ ہونا ’’ لا تشرک باللہ شیئا وإن قتلت اور حرقت ‘‘ ( مسند احمد)

کسی مسلمان سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسے اعمال کو انجام دے جس میں شرک اور غیر اللہ کو معبود ٹھہرانا لازم آتا ہے، محبت تو ماں باپ سے بھی ہوتی ہے، بیوی بچوں اور بھائی بہنوں سے بھی ہوتی ہے اور اس وطن سے بھی ہوتی ہے جس میں اس نے جنم لیا، لیکن ایسا کو عمل جس سے اللہ عزوجل کی ذات کی ساتھ شرکت لازم آتی ہو، اس کی شریعت ہر گز اجازت نہیں دیتی، صحابہ نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ تعظیمی کرنے کی اجازت چاہی تو آپﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمادیا، لیکن کیا جائے کہ جس وطن کے لئے مسلمانوں نے اپنی قربانیاں دیں ، جس گلستان اپنے خون وپسینے سے سنوارا انہیں سے ایسے الفاظ کہلوا کر ان کی حب الوطنی کے امتحان لینے کی کوشش کی جارہی ہے، جو الفاظ سراسر کفر وشرک پر مشتمل ہیں ، کبھی’’بھارت ماتاکی جئے ‘‘  جیسے الفاظ کے کہنے پر زور دے کر مسلمانوں کی حب الوطنی کو تولنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی یوگا اور سوریہ نمسکار اور کبھی اسکوں میں ’’سروتی وندا ‘‘ کے لزوم کے ذریعے بچوں کو اس مشرکانہ اعمال پر ابھارنے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ در اصل اس طرح کی ایشوز کو اٹھا کر ہندوستان کی فسطائی تنظیمیں ہندوستان کو ہندو راسٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے، ہر روز ایک نیا مسئلہ پیش کر کے مسلمانوں پر ہر طرف سے گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یکساں سول کوڈ کی نفاذ کی بات کہی جاتی ہے، طلاق ثلاثہ جیسے خالص مذہبی اور انفرادی زندگی سے متعلق مسئلہ میں دخل اندازی کی جاتی ہے، در اصل یہ ساری چیزیں ہندوستان کے مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کر کے ان کے اندر ہندوانہ رسم ورواج کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ جو اہم مسائل کے ذریعے مسلمانوں کی حب الوطنی کا اندازہ اور ہندو وانہ رسم ورواج میں اور ہندوانہ تہذیب وثقافت میں مسلمانوں کو رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے چند وہ یہ ہیں :

۱۔ بھارت ماتا کی جائے : 

آریس یس اور موجودہ حکمرانوں کو اصرار ہے کہ ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کہا جاتا ہے، کہ ہندوستان کی محبت کی علامت اور نشانی ہے، ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘ اس میں ویسے وطن کو معبود کہنے کے معنی آتے ہیں ، جس کی چند ایک وجوہات ہیں : اول یہ کہ اس بدنام زمانہ ناول میں درج کیا جانے والا نعرہ ہے جسے ۸۸۲اء میں بنگال کے ہنکم چندرا چٹرجی نے آنند امت کے نام لکھا، اس ناول کا مرکزی خیال یہی ہے کہ وطن کو معبود قرار دیا جائے، دوسرے ہندوستان میں بنارس ہری دوار وغیرہ میں چار مندریں ایسے ہیں جن کو ’’بھارت ماتا ‘‘ کے نام سے بنایا گیا ہے، تیسرے : ماتا کے معنی اگرچہ ماں کے آتے ہیں ، لیکن ہندو دیوں کو بکثرت ’’ماتا‘‘ جیسے درگا ماتا، کالی ماتا، لکشمی ماتا، یا گائے ماتا، چوتھے: بھارت ماتا در اصل ہندوؤں کی ایک دیوی کا نام ہے، ان کے مطابق اس کے ایک ہاتھ میں تلوار یا ترشول ہے، اور وہ شیر پر بیٹھی ہوئی ہے، دوسرے ہاتھ میں بھگوا جھنڈا ہے، اور بعض تصویروں میں اس کے کئی کئی ہاتھ ہیں ، جس میں گلاب وغیرہ مختلف اشیاء اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ، پانچویں : یہ کہ ہندوستان، انڈیا، بھارت یہ سب الفاظ مذکر ہیں ، اور ’’بھارت ‘‘ کا نام جس راجا کے نام پر رکھاگیا وہ مرد تھا، نہ کہ عورت، اس لئے بھارت ماتا میں اس شخص کی جانب نسبت نہیں ہوتی، یہ کسی مذہبی دیوں کی جیت ہی کا نعرہ ہے، ا س کے علاوہ ’’جئے ہند‘‘ جس میں ’’جئے ‘‘ کے معنی زندہ کے ہیں ، اوراسی معنی کے لحاظ سے ’’ جئے ہند‘‘ کہا جاتا ہے، اور حی اور زندہ رہنے کی کی صفت اللہ عز وجل کی کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے برادران وطن ’’جئے شری رام‘ ‘’’جئے ہنومان‘ ‘، ’’جئے بجرنگ بلی‘‘ کے وغیرہ کے نعرے لگاتے ہیں ، اس لئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے نعروں میں وطن کی محبوبیت کا نہیں معبودیت اشارہ ملتا ہے، اور خصوصا ہندؤوں کی دیوں کی نسبت سے یہ نعرہ لگایا جاتا ہے، اس لئے مسلمان اس نعرے کو بطور مسلم اور موحد کے اس قسم کا نعرہ بالکل نہیں لگاسکتے۔

 ۲۔ وندے ماترم:

مختلف مواقع سے وندے ماترم کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا، اس کو کالجوں سمیت تمام تعلیمی اداروں میں نفاذ کی کوشش کی گئی، یعنی تعلیمی اداروں اور آفسوں اور اسمبلیوں اور دوسرے جگہوں میں ’’وندے ماترم‘‘ کی لزوم کی بات کہی جارہی ہے، اس ’’وندے ماترم ‘‘ کے مسئلہ کو لے کر مسلمانوں کی حب الوطنی کو شک کے دائرہ میں لایا گیا، اس گیت کا پس منظر اور اس کے تخلیق کار جس کا نام بنکم چندر چڑجی تھا، جنہوں نے آنند مٹھ نامی ناول لکھی اور اس کا ایک حصہ ’’وندے ماترم‘‘ ہے، یہ آنند مٹ ناول بنیادی طور پر مغل حکمرانوں سے ہندوؤں کی جنگ کے موضوع پر مشتمل ہے، یہ ایک مسلم مخالف ناول ہے، اس کا مرکزی کردار بھوانند نامی ایک برہمن سنیاسی ہے جو ہندوؤں کو مغل حکرمانوں کے خلاف اکستا ہے، یہ ناول سراسر نفرت اور فرقہ پرستی پر مشتمل ہے، وندے ماترم ایک ایسی ناول کا حصہ ہے جس میں مسلم مخالف جذبات کو ابھارا گیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف اپنی دیوی اور دیوتاؤں کی قسمیں کھائی گئی ہیں ، اس وندے ماترم کا ترجمہ یہ ہے :

’’ وندے ماترم‘‘

۱۔ میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں !

اچھے پانی، اچھے پھلوں ، بھینی خشک جنوبی ہواؤں

اور شاداب کھیتوں والی میری ماں !

۲۔ حسین چاندی سے روشن رات والی

شگفتہ پھلوں والی، گھنے درختووں والی

میٹھی ہنسی، میٹھی زبانی والی

سکھ دینے والی، برکت دینے والی میری ماں !

۳۔ تین کروڑ گوں کی پرجوش آوازیں

ساٹھ کروڑ بازؤوں میں سنبھلنے والی تلواریں

کیا اتنی طاقت کے ہوتئے ہوئے بھی اے ماتو کمزور ہے

تو ہی ہمارے بازؤوں کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں

تو دشمن کے لشکر کی غارت گر ہے میری ماں !

۴۔ تو ہی میرا علم ہے، تو ہی میرا دھرم ہے

تو ہی میرا باطن ہے، تو ہی میرا مقصد ہے

تو ہی جسم کے اندر کی جان ہے تو ہی بازؤوں کی طاقت ہے۔

دلوں کے اندر تیر ی حقیقت ہے

تیری ہی محبوب مورتی ہے، ایک ایک مندر میں

۵۔ تو ہی درگا دس مسلح ہاتھوں والی

تو ہی کملا کنول کے پھولوں کی بہار

تو ہی پانی ہے علم سے بہرور کرنے والی

میں تیرا غلام ہو، غلام کا غلام ہوں

اچھے پانی اچھے پھلوں والی میری ماں !

میں تیرابندہ ہوں اے میری ماں

اس کے ترجمہ کو بغور پڑھ کر خود فیصلہ کیجئے کیا یہ ترانہ مشرکانہ کلمات، دیوی دیوتاؤں کے ذکر اور وطن کو معبود قرار دینے پر مشتمل نہیں ہے، کیا اس کے ذریعے واقعتہ وطن کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یا اس کے دیوی دیوتاؤں کی عزت وتعظیم کی دعوت او روطن کو معبود قرار دینے دعوی ہے ؟

۳۔ یوگا : 

یہ کسرت اور ورزش کا عمل بھی خالص ہندووانہ تہذیب کواپنے اندر لئے ہوئے، ہنددؤں کی مذہبی کتاب بھگوت گیتا کاچھٹا بات فلسفہ یوگا کے لئے مختص ہے، جس میں سری کرشنا نے ارجن کو یوگا کے سلسلے میں تفصیل سے سمجھایا ہے، یوگا سنسکرت کا لفظ ہے، ’’یوج‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی شامل ہونے ہیں ، یوگا کی تقریبا 185ورزشی ترکیبی ہیں ، یوگا کرنے والے کو یوگی کہاجاتا ہے، یوگا کرنے والے اصل مشاق یوگڑ ابتداء میں ، دوران یوگا اور ختم پر کئی اشلوک ورد کرتے اور گاتے رہتے ہیں ، ان میں سے ایک او رطویل ترین روحانی ومقدش اشلوک جو سنسکرت میں ہے اس کا ختصار کے ساتھ ترجمہ حسب ذیل ہے :

’’میں نہ آقاہو اور نہ وجبہ، نہ عقل ہوں ، نہ سونچ، نہ سن سکتا ہوں اور نہ الفاظ میں بول سکتا ہو، نہ سونگھ سکتا ہوں ، اور نہ دیکھ سکتا ہوں ، میں روشنی اور ہوا میں اپنے آپ کو پاتاہوں ، نہ زمین پر، نہ آسمان میں ، خیات اور مسرات دوبارہ پیدا ہوتے ہیں ، نعمتوں کا نعمت ہوں ، میرا کوئی نام نہیں ، میری کوئی زندگی نہیں ، میں سانس نہیں لیتا، کسی شی نے مجھے ڈھالا نہیں ، میری کوئی جسمانی اخراج نہیں ، ذہانت وحقیقت اور مزہ ودرد میری میراث نہیں ، نہ مقدس کلمات، نہ عبادت، نہ مقدس سفر، میں نہ غذا ہوں او رنہ کھانا او رکبھی میں نے کھانا کھایا ہے، خیالات اور مسرت ہو، اور میں آخر میں کرم میں مل جاؤں گا، نہ معلوم ہے اور نہ علم اور نہ کبھی علم رکھتا تھا، میں غیر مجسم ہوں ، میں احساسات میں رہتا ہوں ؛ لیکن وہ میرا مسکن نہیں ‘‘۔

 ان روحانی اشلو ک میں خودی اور خودی کا انکار اور تمام عبادات اور مقدس کلمات کا انکار، علم اور تعلیم کا انکار شامل ہے، اس میں اپنے آپ کو نعمت وکرم قرار دیا گیا ہے اور آفاقی روح میں ضم ہوجانے کا اقرار کیا جاتا ہم، یوگا پڑھے اور کہے جانے والے سینکڑوں اشلوک اس طرح کے کلمات پر مشتمل ہیں ، ان کی روشنیمیں  پتہ چلتا ہے یوگا ایک خالص ہندو مذہب کا عمل ہے، اس کی جڑیں ہندو تعلیمات میں پیوست ہیں ، اس لئے مسلمانوں اس قسم کے مراقبوں کی کوئی ضرورت نہیں ، خود اسلام نے مسلمانوں کے لئے روزانہ اور سال میں کئی مرتبہ روحانی ترقی اور مراقبے کے موقع عنایت فرماہئے، ہر دن فرض سنت اور نفل نمازوں میں قیام ورکوع وسجود وقاعدہ میں نمازی دھیان لگاتا ہے، ماہ صیام فرض روزں ، اعتکاف مسجد اور حج وعمرہ میں جو تلاوت وتسبیح واذکار پڑھے جاتم ہیں وبہترین اسلامی مراقبہ ہے، یوگا یہ عمل مہارشی منی، آچاریہ، سنیاسی در اصل یہ سب ہندوراہب اور تپسیا میں رہبانیت میں زندگی گذارتے ہیں ، یوگا ان رشیوں اور راہبوں کی خصوصی لازمی وزرزش وکسرت ہے، جس کے ذریعہ وہ روحانی ارتقاء کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، اسلا م نے رہبانیت، ترک دنیا، اور تپسا والی زندگی کا خاتمہ کیا اور عائلی ودنیوی زندگی کو اسلام کا لازمی حصہ قرار دیا ’’ ورھبانیۃ ابتدعوہا ما کتبناھا علیھم إلا ابتغاء رضوان اللہ، فما رعوہا حق رعایتھأ ‘‘  ( الحدید : ۳۷)

ہاں رہبانیت تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے ان پر اسے واب نہ کیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی‘‘اس لئے یہ یوگ کا عمل بھی کفر وشرک کے اعمال پر مشتمل ہے، اس لئے اس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ شرعا ممنوع ہے، اس کے کلاسس وغیرہ میں شرکت کرنا بالکل شرک اور کفر ہے، اس لئے اس سے احتراز کیا جائے۔

اگر یوگا کے متعلق من حیث کل شریعت اسلامی کا حکم معلوم کریں تو پھر یہ ناجائز اور ممنوع قرار پاتا ہے ؛ کیوں کہ یہ ورزش وکسرت ایک مخصوص مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہے، اس طریقہ ورزش کا نہج اور طریقہ کار اور اجزاء ترکیبی کفر خفی سے بھرے ہوئے ہیں ، یوگا کی کسرت محض صحت کی تندرستی کے لئے نہیں کی جاتی؛ بلکہ روحانتی وہندو تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے جاتی ہے۔

۴۔ سوریا نمسکار:

یوگا کی مشق اور تمرین میں ایک عمل ’’سوریا نمسکار‘‘ ( Surya pranayama)  بہت اہم ہے، یوگی کے لئے ضروری ہے کہ مشق کی ابتداء یا اختتام مشرق کی جانب آنکھیں بند کر دونوں ہاتھوں کو کر سوج کو پراناما( آداب وسلام ) بجالائے، یہ سورج کی پرستش کیاایک شکل ہے۔

بی کے ایس اینگر نے ویدوں کے حوالے سے اس کیتعریف میں لکھا ہے ’’پراناما سے جسم اور عقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہوجاتی ہیں اور مقدس آگ کے شعلے انہیں توانائی اور رعنائی کے ساتھ پاک کردیتے ہیں ، تب ایک شخص دھرانا اور دھیانا کے قابل ہوجاتا ہے، اس مقام تک پہنچنے کے لئے طویل مدت درکار ہوتی ہے ( Light of yoga: 461)

ہندو مذہب کے عقائد میں سوریا پوجا کو بڑی اہمیت حاصل ہے، زندگی کے بیشتر کا م طلوع شمس کے رخ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں ، ہر روز سورج کی پوجا وپرستش کی جاتی ہے، تمام مندروں کے دروازے مشرق کی طرف کھلتے ہیں ، سورچ، چاند، ستارے اور زمین، بحر، پہاڑوں اور دریاؤں کی پوجا کی جاتی ہے، تاریخ انسانی میں جن اقوام نے انبیاء ورسل کیلائی ہوئی ہدایت کا انکار کیا اور جہالت وگمراہی میں ڈوپے رہے ان میں کفر وشرک اپنی انتہا کو تھ، وہ سورج کے علاوہ نظام شمسی میں پائے جانے والے تمام سیاروں اور ستاروں اور کہشکاؤں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے۔

ہزارں سال قبل ہند مہاگروؤں مں مشہور ماہرین نجوم فلکیات گذرے ہیں ، عقل قدیمہ نے نظام شمسی کی کارکردگی کو دیکھ کر دھوکہ کھایا اور اسے اپنا رب اکبر سمجھ بیٹھے ہیں اوریہ ہندو عقیدہ کی بنیاد کا حصہ بن گیا۔

اللہ عزوجل نے ان تمام بد عقیدگیوں اور مشرکانہ وکافرانہ تصورات کی نفی کی ہے، ان کی حقیقت کو قرآن کریم میں تفصیل سے بیان فرمایا: قرآن اور سائنس کے نظام شمسی کے تصور میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے، یہ سورج، مخلوق، توانائی، قوت اور صحت کے ساتھ رات اور دن، مہینوں ، سالوں کے حساب کے لئے ہیں ، تمام جاندار سورج، چاند، ستارے اور سیارے مخلوق ہیں سب اللہ کا حکم بجالاتے ہیں ، قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے ’’ وسخر لکم اللیل والنہار، والشمس والقمر، والنجوم مسخرات بأمرہ‘ ‘ ( نحل: ۱۲)  ا’’ اس نے تمہارے لئے رات ودن سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے، اوراس کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں ور ایک جگہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’ لا تسجدوالشمس والقمر واسجدوا الذی خلقھن ‘‘  ( فصلت: ۳۷) ( تم نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو، بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے)۔

سابقہ اقوام میں سورج کی پرستش اور اور اس کو خالق اور رب تصور کرنے کا رواج تھا، جب نور ہدایت سے سرفراز ہوئے تو سورج کی حقیقت سامنے آجاتی، حضرت ابراہیم ابتداء میں جب توحید خالص کے مراحل طئے کر رہے تو وہ ابتداء میں سورج کو معبود سمجھ بیٹھے ’’فلما ری الشمس بازغۃ قال ہذا ربی وھذا أکبر‘‘ ( الأنعام : ۷۸) پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو کہا یہ میرا سب سے بڑا رب ہے، پھر جب سورج غروب ہوگیا تو اس طرح کے شرک کفر وباطل سے اپنی براء ت اظہار کرلی۔

قرآن کریم نے واضح حکم کے ذریعہ کسی بھی چیز کے آگے سجدہ ریز ہونے کو حرام قرار دیا ہے ’’لا تسجدو ا للشمس والقمر، واسجدوا للہ الذی خلقھن‘‘ ( فصلت :۴۱) ’’تم نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاندکو، بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے )۔

اس آیت کی روشنی میں کسی بھی قسم کی سورج سے عقیدگی، سورج کا تصور اور سورج سے ذرہ بقرار کی دلی وابستگی بندہ کو کافر ومشرک بنادیتی ہے، سورج اور چاند کی جانب احتراما جھکنا، رکوع کرنا یا سجدہ کرنا، نمسکار وسلام بجالانا سب سخت ممنوع اور حرام ہے، سجدہ اور عبادت تو اللہ رب العالمین کو کرنا چاہئے، جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا۔

یہ اس طرح کے اعمال جس کو ملک کے باسیوں پر لگاؤ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ درصل ہندو توا کی جانب ملک ڈھکیل لے جانے والا ہے، یہ فسطائی طاقتیں ملک کی جمہوریت ختم کر کے ملک کو زعفرانی اور بھگوائی رنگ میں رنگنا چاہتی ہیں ، اس طرح کے کفریہ وشرکیہ اعمال کا ارتکاب ایک مسلمان بحیثیت مسلمانکینجام نہیں دے سکتے، وہ اللہ عزوجل کی وحدانیت اور یکتایت میں ذراسا شائبہ بھی برداشت نہیں کرسکتے، پھر کیوں کر اس طرح کے کلمات اور نعرے اور افعال اور اعمال انجام دے سکتے ہیں جس میں کفر کا شبہ ہوتا ہے، خصوصا یہ سارے اعمال بردران وطن کی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں ۔

اس لئے بحیثیت ایک مسلمان کے جہاں اس طرح اعمال کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی کرنی ہے، اس کے کرنے سے روک دینا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔