یوپی الیکشن: سیاست، اپیل اور مشورہ

جاوید اختر بھارتی

جہاں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے وہیں اتر پردیش میں سب سے زیادہ سرگرمی ہے کیونکہ اترپردیش میں سب سے زیادہ اسمبلی کے حلقے ہیں یعنی ہر صوبے سے زیادہ سیٹ ہے اترپردیش میں جس کا قدم جم گیا تو اس کی دھاگ مرکزی حکومت پر بھی رہتی ہے اسی لیے اترپردیش میں سبھی سیاسی پارٹیاں پیر جمانے کی کوشش کرتی ہیں وعدے پر وعدہ اور دعوے پر دعویٰ کا سلسلہ چل رہا ہے کوئی ٹکٹ مل جانے کی خوشی میں اچھل رہا ہے تو کوئی ٹکٹ کٹ جانے کی وجہ سے پھوٹ پھوٹ کر رورہا ہے اب یہاں کچھ دیر تک عام آدمی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور بالکل سوچنا بھی چاہیے کہ آخر ٹکٹ کٹ گیا کینسل ہوگیا تو رونے کی ضرورت کیا ہے آخر کیوں رورہے ہیں قوم کی خدمت کا موقع چھن گیا اگر قوم کی خدمت ہی کرنی ہے تو کوئی بھی کمیٹی، تنظیم، پلیٹ فارم بناکر قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، رات کے اندھیرے میں بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، دن کے اجالے میں بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، بغیر ایم ایل اے ہوئے بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے اور آج بھی ایسے انسان ہیں جو قوم و ملت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ صرف وہی جانتے ہیں یا کہ جس کا تعاؤن کرتے ہیں نہ انہیں ایم ایل اے بننے کا شوق ہے اور نہ اپنے ذریعے کی گئی خدمات کا پرچار پرسار کرنے کا شوق ہے، نہ وہ کسی پارٹی سے ٹکٹ مانگنے جاتے ہیں اور نہ ہی ٹکٹ حاصل کرنے کی لائن میں لگتے ہیں مگر پھر گھوم پھر کر بات وہیں پر آتی ہے کہ ٹکٹ نہیں ملا تو روئے کیوں ؟ اس سے تو یہی ثابت ہوتاہے کہ آپ کے سینے میں قوم کی خدمت کا جذبہ نہیں بلکہ دولت کمانے کا جذبہ زیادہ تھا یا ہے جو موقع چھن گیا-

اب آئیے آگے بڑھئیے تمام لوگ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ متحد ہونا چاہیے اور ووٹ تقسیم نہیں ہونا چاہیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ باپ کسی پارٹی کا سپوٹر تو بیٹا کسی پارٹی کا سپوٹر اور دونوں اپنی اپنی پارٹی کی کامیابی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور دونوں مشورہ بھی دیتے ہیں کہ ووٹ تقسیم نہیں ہونا چاہیے اور باتیں ایسی ایسی کہ لگتا ہے حکومت بنانا بگاڑنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور پارٹی سے ہمدردی اتنی کہ پارٹی کی کمیوں پر ایسا پردہ ڈال نے کی کوشش کرتے جیسے یوں لگتاہے کہ پارٹی کے ہائی کمان ہیں-

مختلف چہرے ایسے ہیں جو پینٹ شرٹ، کوٹ ٹائی پر بھی مشتمل ہے اور شیروانی و جبہ و دستار پر بھی مشتمل ہے وہ بھی سیاسی پارٹیوں پر اور لیڈران پر الزام تراشیاں کرنے میں بھی مصروف ہے ، کہیں دبی زبان میں کسی پارٹی کی حمایت کرنے میں مصروف ہے، کہیں عوام سے اپیل کرنے میں مصروف ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ بنٹنا نہیں چاہئیے اور بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو برداشت کرلینا چاہیے مگر یہ ہمت نہیں ہوتی کہ لوگوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ سیاست میں حصہ لو اور آگے بڑھو، آخر آج ملازمت کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کی ضرورت ہے اور یونیورسٹی کے لیے زمین کی ضرورت ہے اور زمین کے لیے فنڈ کی ضرورت ہے اور مضبوط فنڈ کے لیے ایم پی، ایم ایل اے بننا ضروری ہے اور ان دونوں عہدے پر منتخب ہونے کے لیے سیاست میں حصہ لینے کی ضرورت ہے جب آپ سیاست میں حصہ لیں گے تو ودھائک اور ایم پی منتخب ہونے کا موقع مل سکتا ہے پھر آپ کو مخصوص کوٹہ ملے گا ، فنڈ ملے گا آپ تعلیم کے لیے یونیورسٹی کی تعمیر کراسکتے ہیں اور علاج کے لیے اسپتال کی تعمیر کراسکتے ہیں اپنے علاقے میں بجلی پانی سڑک جیسی سہولیات عوام کو فراہم کراسکتے ہیں پتہ چلا کہ دنیاوی بہت سے مسائل کا حل سیاست ہے اسی لیے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے کہا ہے کہ سیاست ماسٹر چابی ہے دنیا کا ہر تالا سیاست سے کھل سکتا ہے اور جمہوریت میں جو طبقہ سیاست سے دور ہے سمجھو وہ وہ ناکام ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ جمہوری نظام میں پارٹی کا سپوٹر بننے سے تو کچھ حاصل ہوسکتا ہے مگر پارٹی کا بھگت بن کر کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور جب کوئی پارٹی کا بھگت ہوجائے گا تو اسے بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان بھی نظر نہیں آئے گا اور پارٹی کی کوئی کمی بھی نظر نہیں آئے گی وہ دن رات پارٹی اور اپنے لیڈروں کی تعریف میں لگا رہے گا اور آج یہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے ہے-

جہاں تک بات علماء کرام کی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ علماء کرام کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ علماء کرام بڑھ چڑھ کر سیاست میں حصہ لیں تاکہ آج جو سیاست بدنام ہوچکی ہے تو ایسی بدنام سیاست کا خاتمہ ہو اور ایسی سیاست کا آغاز ہو کہ ملک میں اگر کسی ایک مکان کو آگ لگے تو کسی کی زبان پر ہندو مسلمان کا جملہ نہ آئے بلکہ زبان پر یہ جملہ آئے کہ ایک ہندوستانی کا مکان جل رہا ہے، ہندو اور مسلمان کے نام پر سیاست بند ہوکر برادران وطن کے نام پر سیاست شروع ہوسکے اور جب علماء کرام سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے تو بہت زیادہ امید ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی جو بھید بھاؤ ہے اس کا بھی خاتمہ ہوسکے گا پھر ہم یہ کہہ سکیں کہ نہ مذہب اسلام میں اونچ نیچ ذات برادری کا جھگڑا ہے نہ مسلمان میں ہے،، ایسے تو ہم کسی سے کہتے ہیں تو جواب دیتا ہے کہ مانا کہ مذہب اسلام میں چھوا چھوت نہیں ہے، ذات برادری کا جھگڑا نہیں ہے، بھید بھاؤ نہیں ہے مگر مسلمانوں میں تو ہے،، اور یہ صحیح بات ہے کہ یہ بیماریاں اور خرافات مذہب اسلام میں تو نہیں ہیں اور پیغمبر اسلام نے ان سب کو پیروں تلے روند دیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ رنگ و نسل، عرب و عجم، ذات برادری کی بنیاد پر کسی کو فوقیت نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک وہ مکرم ہے اور اس کا مقام ومرتبہ بلند ہے جو متقی ہے مگر افسوس کہ آج بھی اس کے برعکس بہت سے لوگوں کے سروں پر بھوت سوار ہے اور وہی لوگ الیکشن میں اپیل و حمایت کرنے اور مشورہ دینے میں آگے آگے رہتے ہیں اسی لیے ان کی اپیل صدا بصحرا ثابت ہوتی ہے اور حمایت و مشورہ ہوا میں ہی اڑتا ہے اور ایسا تو ہونا ہی ہے کیونکہ بغیر معاہدے اور بغیر سمجھوتے کے حمایت و اپیل کیسی,, اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔