یوکرین میں کابا؟ یوکرین میں یوپی با !

ڈاکٹر سلیم خان

یو پی میں یوگی جی نے سب سے بڑے بھوجپوری  گلوکار اور اداکار روی کشن سے ایک نغمہ گنوایا۔  یہ ان کا حق تھا  کیونکہ دنیا کی سب سے امیر پارٹی کے لیے کسی عام سے گلوکار سے ترانہ گنوانا اپنی توہین تھا۔ وہ تو ممکن ہے امیتابھ بچن کی خدمات حاصل کرلیتے لیکن جیا بچن ایوان بالا میں سماجوادی پارٹی کی رکن ہیں اور کئی بار بی جے پی کی مخالفت کرچکی ہیں اس لیے اسے مناسب  نہیں سمجھا گیا۔ روی کشن کے گیت  کا مکھڑا تھا ’ یوپی میں سب با‘ یعنی اترپردیش میں سب ہے۔  بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اس نغمہ  کو مقبول کرنے پر خوب زور لگایا تو روی کشن کے ذاتی  یو ٹیوب چینل پر اسے8 لاکھ72 ہزار لوگوں نے دیکھا اور ریکارڈ بنانے والی کمپنی کے چینل پر 25 لاکھ   ناظرین نے اس سے لطف اندوز ہوئے۔  یہ بڑی تعداد ہے لیکن اس کے جواب میں بہار کی نیہا راٹھوڑ  جو پیشہ ور گلوکار نہیں بلکہ سیاسی  جہد کار ہیں نے ’یوپی میں کابا؟‘  کے مطلع والا ترانہ گایا اس کو نیہا کے چینل پر 73 لاکھ لوگوں نے دیکھا اور ایک دیگر چینل پر ناظرین کی تعداد 37 لاکھ تھی۔ یعنی تقریباً34 لاکھ کے مقابلے ایک کروڈ دس لاکھ ناظرین۔ اس کے بعد روی کشن نے دوسرا حصہ نہیں بنایا مگر نیہا نے دوسرا اور تیسرا حصہ بھی بنادیا جس کو  40اور30 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔ اس فرق سے یوگی اور اکھلیش کی مقبولیت کے فرق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یوپی میں کابا کے بعد  اب وقت آگیا ہے کہ نیا ترانہ ’یوکرین میں کابا؟ ‘ بنایا جائے۔ یوکرین اور یو پی میں یو کے علاوہ اور بھی بے شمار مماثلت ہے۔ ان میں   سب سے اہم با ت یہ ہے کہ یوکرین  کے  صدرولادیمیر زیلنسکی کی جو حالت  فی  الحال  روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بنارکھی ہے وہی حال اتر پردیش میں اکھلیش یادو نے نریندر مودی کا کررکھا ہے۔ ویسے اگر کوئی سوچتا ہے کہ ولادیمیر زیلنسکی کا موازنہ یوگی ادیتیہ ناتھ سے کیا جانا چاہیے تو وہ غلطی پر ہے۔ فی الحال یوگی جی  دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں اور اب سیدھا مقابلہ مودی اور اکھلیش کے درمیان ہے۔ دراصل یوگی نے بڑی لمبی دوڑ لگائی۔ اس کی شروعات کرشن کنہیا کے متھرا سے ہوئی جہاں  بی جے پی کے رکن پارلیمان ہرناتھ سنگھ یادو نے خواب دیکھا کہ کرشن   جی  چاہتے ہیں  یوگی ان کے مدھوبن سے انتخاب لڑیں ۔ یوگی بہت خوش ہوئے مگر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا کیونکہ مغربی اترپردیش میں جینت چودھری اور اکھلیش یادو کے اتحاد نے بی جے پی کی ہوا خراب کردی تھی۔

اس کے بعد یوگی جی وہاں سے بھاگ کر رام نگری ایودھیا پہنچے۔ آج تک اترپردیش میں جتنے وزرائے اعلیٰ گزرے ہیں ان میں  سب سے زیادہ یوگی نے ایودھیا کا دورہ کیا ہے۔ ہر سال دیوالی کے موقع پر چراغوں کی تعداد بڑھا کر وہ نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتے رہے ہیں لیکن اس سے کسی غریب کے گھر کا چراغ نہیں جلا۔ ایودھیا  سے یوگی کے انتخاب جیتنے کا مطلب ہندوتوا کے مرکز میں  مودی کے بجائے یوگی کے برانڈ کو تقویت حاصل ہونا تھا  اس لیے مودی جی  نے اپنے آدمی اے کے شرما سے سنی اور شیعہ کا جھگڑا لگا کر یوگی کا چراغ گل کردیا۔ دراصل شیعہ سنی کی اصطلاح تقریب فہم  کے لیے  استعمال کی گئی  ہے جبکہ  ہندوسماج  میں  وشنو اور شیوا  کے ماننے والوں میں کم اختلاف نہیں ہے۔ دونوں اپنے اپنے دیوتا تو عظیم ترین مانتے ہیں ۔ ایودھیا کے ۹۹ فیصد سادھو سنت وشنو کو ماننے والے ہیں جبکہ یوگی ادیتیہ ناتھ کا تعلق شیوا فرقہ  سے ہے۔ اس لیے شرما نے سادھو سنتوں کو اور انہوں نے یوگی کو سمجھایا کہ بھیا تمہاری دال یہاں نہیں گلے گی۔ اس کے بعد یوگی کے لیے گورکھپور کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں  بچا۔

گورکھپور پارلیمانی نشست سے جب یوگی ادیتیہ ناتھ نے استعفیٰ دیا  تھا تو ان کی جگہ   بی جے پی نے اپنے  سابق  ریاستی  اکائی کے نائب صدراوپندر دت شکلا کو امیدوار بنایا اور وہ   سماجوادی پارٹی سے ہار گئے۔ یہ ایک وزیر اعلیٰ کی بہت بڑی رسوائی تھی کہ وہ خود اپنی نشست نہیں بچا سکا۔ یہی حال نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا ہوا کہ ان کی خالی کی جانے والی سیٹ بھی بی جے پی ہار گئی۔ اس کا مطلب تو یہ تھا اقتدار میں آنے کے بعد ۶ ماہ کے اندر ہی اس کا زوال شروع ہوگیا تھا مگر میڈیا کے فریب سے اسے چھپایا گیا لیکن بکرے کی اماں کب تک خیر منائے گی ایک ایک دن چھری کے نیچے آئے گی سو وہ دن صوبائی انتخاب کا ٹھہرا۔ اس بار چونکہ برہمن بی جے پی سے ناراض ہیں اس لیے آنجہانی اوپندر دت کی بیوی  سبھاوتی شکلا اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ سماجوادی پارٹی میں آگئیں اور اکھلیش  نے کمال ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے  انہیں  اپنا امیدوار بھی  بنادیا۔ اکھلیش کی اس دانشمندی نے یوگی کی ہوا اکھاڑ دی۔  اس طرح خود اپنے گڑھ میں یوگی کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

مودی جی  تو شاید اسی کا انتظار کررہے تھے۔ ان کو  جب پتہ چلا کہ گورکھپور میں بھی  یوگی کی حالت پتلی ہے تو انہوں نے شہر کے سارے ہورڈنگ سے یوگی کی تصویر ہٹوا دی۔ کسی وزیر اعلیٰ کی اس سے بڑی  توہین نہیں ہوسکتی کہ اس کے اپنے حلقۂ انتخاب  کی تشہیر سے اسے غائب کردیا جائے۔ اس  اہانت آمیز سلوک کے بعد  وہاں خطاب کرنے کے  مودی تشریف لائے تو وہ کس منہ سے یوگی کی تعریف کرتے۔ ویسے بھی پہلے وہ ’آئے گا تو یوگی ہی‘ کہہ کر انہوں نے  کیشو پرساد موریہ کے پرامید حامیوں  کو ناراض کرہی دیا تھا ۔ اس لیے وزیر اعظم نے یوکرین کا راگ چھیڑ دیا اور اپن گھسے پٹے انداز میں سوال کرنے لگے کہ اس اتھل پتھل کے زمانے میں ملک کو طاقتور رہنما  چاہیے یا نہیں ؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ یوگی کے نام پر نہیں بلکہ مودی کے لیے کمل پر مہر لگائیں ۔ اس طرح مودی جی آئندہ قومی انتخاب میں اپنے اقتدار کے خطرے کا اعتراف کرکے ابھی سے تیاری شروع کردی۔

روس کووزیراعظم  مودی  نے یوکرین سے مذاکرات  کا مشورہ دیا اس پرعمل بھی ہوا مگرتادمِ تحریر کوئی حل نہیں نکل سکا۔ اس درمیان روسی حملے سے یوکرین میں طبی تعلیم حاصل  کرنے والےکنڑی  نوین کمار کے موت کی خبرآگئی۔  یہ راہل گاندھی یا رویش کمار کے ذریعہ پھیلائی جانے والی افواہ نہیں تھی  بلکہ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنے  ٹوئٹ  میں تسلیم کیا کہ  یوکرین کے خارکیف میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت  ہوگئی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہم گہرے دکھ کے ساتھ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آج صبح خارکیف میں ہوئی (روسی)بمباری میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت ہو گئی۔ وزارت ہندوستانی طالب علم کے اہل خانہ  کے رابطے میں ہے۔ ہم طلبا کے گھر والوں سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔‘‘ نوین کمار  خارکیف میں  واقع گورنر ہاؤس پر صبح 7 بجے کے قریب دیگر طلبا کے لیے  کھانے  لانے کی خاطر  لائن میں لگا ہوا تھا کہ حملہ  کی زد میں آ گیا۔ نوین خرکیف میڈیکل یونیورسٹی میں چوتھے سال کا طالب علم تھا۔ ان کے فون کی وجہ سے شناخت ممکن  ہوسکی۔

نوین کی موت کے بعد راہل گاندھی سمیت حزب اختلاف نے تو مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا  مگر یوکرین پر روسی حملے پرایوان بالا میں بی جے پی کے رکن  سبرامنیم سوامی نے بھی  موجودہ  حکومت کو نہیں بخشا۔ انہوں نے ٹویٹ میں سوال کیا  کہ روس نے یوکرینکے اندر گزشتہ سال کے دہلی اعلامیہ میں برکس  قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔کیا مودی میں پوتن کو پیچھے ہٹنے کیلیے کہنے کی ہمت ہوگی؟ اس پر ایک صارف نے مودی کی مدافعت میں لکھا کہ مودی چٹان اور سخت مقام کے درمیان پھنس گئے ہیں ۔ ایسے  میں معتدل رہنا ہی بہترین (حکمت عملی) ہے اور وہ یہی کررہے ہیں ۔ اس بیجا وکالت پر سوامی کاپارہ چڑھ گیا اور انہوں نے ایسی بات کہہ دی کہ اگر کوئی اور کہتا تو اس بغاوت کا مقدمہ لگا دیا جاتا اور گودی میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ سوامی نے لکھا 140کروڈ مہذب لوگوں کا وزیر اعظم  ’سیاسی ہیجڑا‘  نہیں ہوسکتا۔ ایک اور ٹویٹ میں سوامی نے یہ بھی لکھا کہ:’’کیا ہندوستان کے پالیسی سازوں پوتن کے ساتھ ستی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟ ‘‘۔ کسی وزیر اعظم پر خود اپنی پارٹی کے رکن پارلیمان کی جانب  سے  اس سے زیادہ توہین پہلے کبھی  نہیں ہوئی ہوگی۔ اس کے باوجود مودی  جی کی خاموشی  بے بسی اور کمزوری کی علامت  نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔