یوگی کے بعد اب اڈانی کے ستارے بھی گردش میں

ڈاکٹر سلیم خان

سیاست کی دنیا میں جس طرح یوگی ادیتیہ ناتھ وزیر اعظم کے منظور نظر تھے  اسی طرح معیشت کے میدان میں گوتم اڈانی مودی جی کی آنکھوں کا تارہ ہیں لیکن اتفاق سے   اس ہفتہ ان کا ستارہ بھی اچانک گردش میں آگیا۔ اتوار کی شب یوگی دہلی سے لوٹے اور اگلے دن  اڈانی گروپ کمپنیوں کے شیئر پتوں کی مانند بکھرنے لگے۔ اس گرواٹ کی وجہ یہ تھی کہ  نیشنل سیکیورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) نے غیر ملکی فنڈز سے منسلک تین غیر ملکی سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کے اکاؤنٹس منجمد کردیئے۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان  اداروں کے تار اڈانی  گروپ سے  جڑے ہوئے ہیں۔ منجمد شدہ البولا انویسٹمنٹ فنڈ لمیٹڈ، کرسٹا فنڈ لمیٹڈ اور اے پی ایم ایس انویسٹمنٹ فنڈ لمیٹڈ کے پاس اڈانی  گروپ کی چار کمپنیوں میں تقریباً 43،000 کروڑ روپے کے شیئر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ14؍جون کی صبح اڈانی انٹرپرائزز کے جو  شیئر 1،379.40 روپے پر ٹریڈ ہو رہے تھےوہ شام تک  222.05 روپے یا 13.87 فیصدسستے ہوگئے۔ یہی حال اڈانی پورٹس اور اسپیشل اکنامک زون کے شیئر کا بھی ہوا کہ ان کی قیمت میں  120.25 روپے یا 14.34 فیصد کی کمی ہوگئی اور وہ  718.55 روپے پر آگئے۔ اسی طرح اڈانی گرین انرجی اڈانی ٹرانسمیشن اور اڈانی پاور کے حصص میں بھی 5 فیصد کی کمی نظر آئی۔

مودی جی کو جس اترپردیش کے پنچایت انتخاب سے قبل مغربی بنگال میں پہلا  جھٹکا لگا اسی طرح اڈانی گروپ کو بھی پہلاخسارہ اپریل کے مہینے میں ہوا۔ اس وقت  گوتم اڈانی کو امریکی  شیئر بازار ڈائو جونس نے جھٹکا دے دیا تھا۔ اس نے اڈانی کی کمپنی اڈانی پورٹس پر یہ  الزام لگاکر  اپنے انڈیکس سے باہر کردیا تھا کیونکہ  اس کے جمہوریت کا خاتمہ  کرنے اور شہریوں کا قتل عام کرنے والی میانمار کی فوج سے تعلقات نکل آئے۔  اس اقدام  کی وجہ سے اڈانی پورٹس امریکی بازاروں میں بزنس کرنے سے محروم ہو گئی ۔ اس  خبرکے عام ہوتے  ہی  اڈانی گروپ کے شیئرس میں 5؍ فیصد تک کی  گراوٹ درج کی گئی۔ ہندوستان کے ساتھ میانمار کی تجارت میں اضافہ کی خاطر اڈانی گروپ رنگون میں بندرگاہ تعمیر کررہا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت  کو بھی ۲۱؍ سو کروڑ  روپے کہ اس ٹھیکے کے لیے  اڈانی گروپ ہی ملا۔  یہ اتفاق بھی  ہوہوسکتا ہے  لیکن ضروری نہیں۔

اڈانی گروپ کی یہ درگت اس لیے  حیران کن ہے کیونکہ  یہ معاملہ اسی دورانیہ میں ہوا جبکہ مودی جی کی ساکھ اندرون ملک اور بیرون ملک گررہی تھی۔ اس کے باوجود مارچ (2020) میں عالمی سطح پرارب پتیوں کی جو فہرست شائع ہوئی اس سال   چالیس ہندوستانیوں کا اضافہ نظر آیا۔ اپنی دولت میں اضافے کے معاملے میں اڈانی نے دنیا کے امیرترین جیف بیزوس اور ایلون مسک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اڈانی گروپ کی دولت تقریبا دوگنی ہوکر 32 بلین ڈالر پرپہونچ گئی۔ امبانی تو خیر صرف ایک مقام اوپر چڑھے لیکن اڈانی تو  20 پائیدان چڑھ کر  عالمی سطح پر 48 ویں امیر ترین اور ہندوستان میں دوسرے امیرترین سرمایہ دار  بن گئے۔ ان کے بھائی ونود کی دولت میں 128 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ان دونوں گجراتیوں کے علاوہ بیجو رویندرن اور آنند مہندراکی دولت میں بھی  100 فیصد کا  اضافہ نظر آیا۔ ایسے میں راہل گاندھی  کا  سوال جائز نظر آتا ہے  کہ جب ہر شخص کورونا وبا کے سبب کشمکش کررہا  ہے توصنعت کار گوتم کی دولت میں 50 فی صدکااضافہ کیسے ہوا؟ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ  آپ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور وہ 12 لاکھ کروڑ روپئے بناتے ہیں۔ اور ان کی دولت میں 50 فیصداضافہ ہوجاتاہے۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کیوں ؟ اس سوال کے جواب میں بے حس  قوم خاموش ہے کیوں کہ اس کی حالت اس شعر کی مانند ہے ؎

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

 بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

راہل گاندھی  کے سوال کا جواب اڈانی گروپ کے ایک حالیہ فیصلے میں سامنے آیا۔  مودی سرکار نے اپنے پسندیدہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوائی اڈوں کے انتظام و انصرام کو  نجی ہاتھوں میں ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت 2019میں اڈانی گروپ نے لکھنو، جئے پور، احمد آباد، منگلور، ترواننت پورم اور گوہاٹی  کے ٹینڈر ۵۰ سال کے لیے جیت لیے۔ دوسال بعد اپنی آمدنی میں اضافہ کی خاطر لکھنو ہوائی اڈے کا نرخ 10گنا بڑھا دیا یعنی 1000فیصد اضافہ کیا۔ یہ خرچ براہِ راست مسافروں سے نہیں بلکہ ہوائی کمپنیوں سے وصول کیا  جائے گا  مگر وہ اپنے گھر سے تھوڑی نہ دیں گی۔ وہ اس کی وصولی مسافروں سے کرکے اڈانی کو اداکریں گی ۔ اس سے قبل  جب دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدر آباد میں اضافہ کیا گیا  تو اس کی مخالفت ہوئی لیکن اڈانی کی مخالفت تو مودی کی مخالفت ہے اور مودی کے خلاف بولنا قوم دشمنی ہے اس لیے کون یہ جرأت کرے گا؟ اور  کوئی کرے تو بعید نہیں کہ  یوگی جی اس پر این ایس اے لگا کر جیل بھیج دیں گے یا انکاونٹر کروا دیں گے۔  جولوگ پر یشان ہیں کہ اچانک لکھنو میں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی   تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ  آئندہ  سال وہاں صوبائی انتخاب ہے۔ بی جے پی کو  تشہیر کے لیے جو دولت چاہیے  وہ کہاں سے آئے گی ؟

وطن عزیز میں بہت سارے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مودی جی ان سرمایہ داروں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے  ہندوتوا کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور ہندو راشٹر بنارہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو معلوم کرنا چاہیے کہ ان کا اپنے رائے دہندگان کے ساتھ کیا سلوک  ہے۔ اڈانی اور امبانی جیسے گجراتیوں پر  مودی سرکار کی نوازشیں تو اوپر بیان ہوگئیں اب یہ دیکھیں کہ وہ اپنے رائے دہندگان کے ساتھ کیا معاملہ کررہے ہیں اور کورونا کے دور میں ان کا کیا حال ہے؟  احمد آباد کی ایک 23 سالہ خاتون  گھروں میں کام کرتی تھی ۔ نوکری چلی گئی تو اس نے ایک بے اولاد جوڑے کے لیے متبادل ماں بننے کا فیصلہ کیا۔ یعنی وہ اپنی بچہ دانی میں کرائے پر دوسروں   کا بچہ پالے گی۔  اس طرح کے 20 تا 25 واقعات گجرات میں سامنے آچکے ہیں کیونکہ ایسا کرنے والوں کو 3تا 4لاکھ معاوضہ مل جاتا ہے۔ ایسا کرنے والی خواتین بتاتی ہیں کہ کورونا کے زمانے ملازمت چھوٹ گئی یا شوہر انتقال ہوگیا۔ کھانا وغیرہ بنانے کا کام شروع کیا تو وہ بھی ٹھپ ہوگیا مجبوراً اس شرمناک کام کے لیے مجبور ہونا پڑا۔

ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی کا بھی حال مختلف نہیں ہے۔ یہاں پر پرچون کی دوکان کے مالک   راکیش کمار نے اپنی دکھ بھری داستان کچھ اس طرح سنائی کہ اس کی عمر 55 سالہے اور وہ  پچھلے 18 سالوں سے یہ کام کر رہا ہے لیکن پہلی بار کاروبار میں 25٪ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی طرح کے  چھوٹے تاجروں  کو فی الحال بڑے سرمایہ داروں  مثلاًریلائنس اور ڈی مارٹ  جیسوں سے مسابقت کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ کاروبار آن لائن ہوگیا ہے۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ  اسےصرف وہی لوگ آرڈر دیتے ہیں جن کے پاس  اس کا موبائل فون نمبرہے  جبکہ دوسروں کے نمبر انٹر نیٹ پر مل جاتے  ہیں۔ دوسری لہر کے دوران اس کے لیے اپنے پانچ ملازمین  کی تنخواہ ادا کرنا مشکل ہو گیا تھا  کیونکہ دوکان صرفچار گھنٹے کے لیے کھل پاتی تھی  اور اوپر سےپولیس ہراساں کرتی تھی جبکہ بڑے سرمایہ دار دھڑلے سے  شٹر گرا کر اپنا کاروبار کرتے تھے ۔

مالی دارالحکومت ممبئی میں خوردہ فروشوں  کی تنظیم ریٹیلرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (آر اے آئی) کے سی ای او کمار راجاگوپلان نے مطالبہ کیا تھا  کہ حکومت کو غیر ضروری خدمات کی گھریلو فراہمی کو کچھ کھپت برقرار رکھنے اور ان کاروبار کو جاری رکھنے کی اجازت دینی چاہیے۔ شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر دوسری چیزوں کے علاوہ غیر خوراکی اشیا کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں مشکلات کے بغیر ان ضروریات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ملٹی پلیکس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر کمل گیانچنداانی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی کو ایک خط لکھا تھا  جس میں کہا گیا کہ آٹھ مہینوں تک کوئی محصول نہیں آیا۔ لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں ملٹی پلیکس سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا اور دوسرے مرحلے میں اس پر ایک بار پھر برا اثر پڑا۔ وہ شعبہ اب دیوالیہ پن کی جانب رواں دواں ہے۔ مغربی ہندوستان کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر پردیپ شیٹی نے نشاندہی کی کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کے سبب ریاست میں تقریبا  35فیصد ہوٹل اور ریستوراں بند ہوے۔ دوسرے  لاک ڈاؤن کے سبب  کم از کم 30 فیصد  ریستوران مستقل طور پر بند ہوجائیں گے۔

ممبئی کے ویویانا مال کے سی ای او گرو وینیت سنگھ کے مطابق  پہلے لاک ڈاؤن کے بعد ملک میں سب سے پہلےمہاراشٹرا ندر مال کھولے گئے اورپانچ ماہ اندر  ابھی پہلی لہر سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ  دوسری لہر آگئی۔ اس پے درپے مصیبت میں  حکومت کی طرف سے کبھی کوئی مدد نہیں ملی۔ یہ حالت اس  مہاراشٹر کی ہے جو سب سے امیر ترین ریاست ہے، اور ہندوستان کی کل جی ڈی پی کے تقریباً 15 فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔ ممبئی میں واقع ریٹنگ ایجنسی کیئر ریٹنگس نے اندازہ لگایا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ہر مہینے میں جی ڈی پی کا تقریبا 5.4 بلین ڈالر ضائع ہو رہا ہے۔ ایشیاء پیسیفک مالیاتی اداروں، ایس اینڈ پی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ وبائی بیماری کو کنٹرول کرنا ہندوستان کی معیشت کے لیے ایک کلیدی خطرہ ہے۔ رپورٹ میں  انکشاف کیا گیا ہے کہ  قومی معیشت پر لاک ڈاؤن کے  وسیع اثرات طویل المدت ہوں گے۔     فی الحال قومی معیشت کی حالت دن بہ دن دگر گوں ہورہی ہے  اور سرمایہ داروں کے وارے نیارے ہوتے جارہے۔  تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کی جانب بروقت  توجہ نہیں دی گئی تو    اس سنگین ماحول کی کوکھ سے خدا نخواستہ  خانہ جنگی جنم لے سکتی ہے۔

(۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔