یہود سے ہنود تک بلڈوزر کا آتنک

مسعود محبوب خان

مقتل سے آرہی ہے صدا اے امیرِ شہر
 اظہارِ غم نہ کر، میرا قاتل تلاش کر

     آج مجھے ایک قول یاد آرہا ہے، حالانکہ بہت ہی چھوٹا سا قول ہے مگر واقعی معنیٰ و مفہوم خیز حقیقت کو بیان کرتا ہے۔

     "میں اللّٰہ سے ڈرتا ہوں اور اللّٰہ کے بعد اُس شخص سے ڈرتا ہوں جو اللّٰہ سے نہیں ڈرتا۔”

     یہ قیمتی اور بڑا ہی سبق آموز درس ملتا ہے ہمیں شیخ سعدیؒ کے ملفوظات سے۔ تاریخی واقعات کی ورق گردانی کریں تو یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ خدا سے نہ ڈرنے والوں کی فہرست میں اقتدار و طاقت کے نشے میں مست لوگ ہی صف اول میں نظر آتے ہیں۔ دولت و شہرت کے مقابلے میں طاقت کا نشہ ___ انصاف کا قتل اور ظلم و استہزاء کے بھیانک و انسانیت سوز داستانیں رقم کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ نشہ کے لغوی معنی خود فراموشی، مدہوشی، مستی وغیرہ کے ہیں۔

     اقتدار کا مدہوش و بدمست ہاتھی اپنی چال میں بے انتہا مگن ہوتا ہے۔ وہ بدمستی و خود فراموشی کے عالم میں، اقتدار و سیاست (Power and politics) کے ساتھ ساتھ عدلیہ (Judiciary) اور ذرائع ابلاغ (Media) کے اصولوں کو روندتا ہوا بس دوڑے چلا جاتا ہے۔

     اقتدار و سیاست کے نشے میں ظلم کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کبھی سدا نہیں رہتا کیونکہ "اصل بادشاہت” اللّٰہ تعالیٰ کی ہے۔ ملک میں ظلم کی ایسی داستان لکھی جارہی ہے جسے دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھے، لیکن جب اصل مالک رسی کھینچتا ہے تو ظالم عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔

     اللّٰہ تعالیٰ ظلم کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔ جہاں وہ رحیم ہے، وہیں ربّ ذوالجلال، "جبار” بھی ہے اور ہر ظلم کرنے والے کو اُس کے ظلم کا بدلہ دیتا ہے۔

     طاقت اور اقتدار کے نشے میں مست ظالم اور مغرور حکمران دنیا کے لیے نشان عبرت بن جاتے ہیں، جس سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ دنیا مکافات عمل کا ذریعہ بھی ہے۔ اللّٰہ ربّ العزّت کو گردشِ ایام کو تبدیل کرنے دیر نہیں لگتی۔

    ابرہہ کا انجام ہی چشمِ تصور میں لائیں کس طرح اللّٰہ نے ایک طاقتور، بدمست، طاقت اور اقتدار کے نشے میں چور بادشاہ اور اس کی فوج کو ایک چھوٹے سے پرندے کے ذریعے عبرتناک انجام سے دوچار کیا۔ دنیا کے نشیب و فراز میں کسے اقتدار دے کر آزماتا ہے تو کسی سے لے کر آزماتا ہے۔

    اللّٰہ سے نہ ڈرنے والے لوگوں کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اقتدار میں رہیں، ہر لمحہ طاقت کے نشے میں مست رہیں، اقتدار مل جائے اور ساتھ میں طاقت کے نشے کی لت بھی پڑ جائے تو بڑی جلدی دل و دماغ پر بے حسی کا راج ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنے آپ کو کچھ اور سمجھنے لگتا ہے۔

     مسلمانانِ ہند اور ہماری موجودہ نام نہاد جماعتوں، اداروں اور تنظیموں کی کمزوریاں و نااتفاقیاں ہی باطل قوتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہورہی ہیں۔ ہمارے علمائے کرام، دانشورانِ امت، رہنمائے قوم، قائدین ملت اور مفکران اسلام کو اسلامی اجتماعیت کے دائرہ کار کے ساتھ، اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی اصل کی طرف رجوع کرکے ایک مضبوط لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، اگر اس عظیم کام کے لیے اگر ہماری موجودہ قیادت فیصلے لیتی ہے تو اللّٰہ کا شکر ادا کرنا ہوگا، اور اگر وہ اس کے لیے آمادہ نظر نہیں آتی ہیں، تو تبدیلی قیادت کے ضمن میں بھی ہمیں تیار ہونا ہوگا۔ اسی میں ہماری کامیابی کا راز مضمر ہیں۔

     ہماری غفلت اور ڈر و خوف کی نفسیات نے ہمیں کس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ حلق سے آواز ہی نہیں نکلتی!! جس کے نتیجے میں باطل پرستوں اور زعفرانی ہرکاروں کو چمن ہند کو ایک متشدد مذہبی ریاست میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل ہورہی ہیں۔ ملک کی مسموم فضاؤں میں زعفرانی زہر اپنا رنگ دکھا رہا ہے، حکومتی عفریت عوامی جذبات سے بیگانہ اپنے عزائم کی تکمیل اور اپنی انا کی تسکین میں مست ہے۔ ہندوستان کی لرزتی فضا میں چھائی ہوئی زعفرانی سمّیت و طاقت اور زعفرانی ظلم کے اقتدار کے بڑھتے قدموں نے ملک کی تصویر کو دنیا کے سامنے پیش کرکے رسوائی کا بدنما داغ ہی سمیٹا ہے۔ چوہتر سالہ مقتدرہ کی ظاہری ہمنوائی حاصل کرنے کے باوجود سواۓ کاسۂ گدائی کا کشکول پھیلانے کے مسلمانوں کے ہاتھ نہ کچھ آیا ہے، اور نا ہی کچھ ہاتھ آئے گا؟

     صدائے احتجاج عوام کا بنیادی حق ہے۔ لیکن مسلمانوں سے اس بنیادی حق کو بھی چھینا جارہا ہے۔ مسلمان جو اپنے خلاف امتیازی سلوک، ناانصافی، ظلم و اذیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی جرأت کررہا ہے، انہیں ٹارگیٹ بناکر ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے عبادت خانوں، گھروں اور تجارتی مراکز کو مسمار کیا جارہا ہے۔ بلڈوزرز کے ٹیررازم سے انہیں یک طرفہ کارروائی کرکے زمین دوز کرکے ڈر و خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ دکانوں اور مکانات کی مسماری کے سلسلے میں جب عوام نے سرکاری حکام سے حکم نامے دکھانے کو کہا تو انہیں اذیتیں برداشت کرنی پڑی۔

     ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کہا کہ "مظاہرے میں شامل افراد کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، جسے دل کر رہا ہے، اسے حراست میں لے لیا جارہا ہے اور اپنے لیے آواز بلند کرنے والےمظاہرین کا اس طرح سلوک کرنا، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ہندوستان کے وعدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔”

دہلی، کانپور، پریاگ راج (الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین دوز کردیا گیا۔ بل ڈوزرز کے آہنی ہاتھ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ظالموں کو آخر یہ حق کس نے دیا؟

    کچھ روز پہلے ماہ رمضان میں صوبے مدھیہ پردیش کی انتظامیہ نے رام نومی کے جلوس پر مبینہ پتھراؤ کے الزام میں مسلمانوں کے درجنوں مکانات اور دکانیں ظلم و بربریت اور زیادتی کے ساتھ مسمار کردئیے ہیں۔ کھرگون میں کرفیو کے باوجود مسلمانوں کی مساجد و املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ ریاست کے وزیر داخلہ نے کہا، "جس گھر سے پتھر آئے ہیں اس گھر کو ہی پتھروں کا ڈھیر بنا دیں گے۔”

     مکانات اور دکانیں مسلمانوں کی تھیں۔ کم از کم 45 مکانوں اور دکانوں کو مسمار کیا گیا، جن میں 16 مکانات اور 29 دکانیں شامل تھیں۔ بلڈوزرز کے ذریعے آئین اور انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ "کیا ملک کے کسی قانون یا ضابطے میں اس بلڈوزر کلچر کی گنجائش ہے؟”

     ماضی میں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی کے ضمن میں انتباہ جاری کیا گیا تھا نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچا کر قانون کا مذاق اڑانے والے متعصبانہ رویہ رکھنے والے افسران و ان کے اعلیٰ حکام پر سخت سے سخت کاروائی ہونا چاہیے۔ نیز اس طرح کی انہدامی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

     عبوری عرضداشت قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کرنے سے 15 روز قبل نوٹس جاری کرنا ضروری ہے۔ نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ 1958 کی دفعہ 10 کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہیے اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15/ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے اسی کے ساتھ ساتھ اتھاریٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے اس کے باوجود بلڈوزرز کی کاروائیوں کو جاری رکھا گیا ہے۔

     اہل اقتدار کی کاروائی میں یہ بات واضح ہوتی نظر آرہی ہے کہ افسران و انہدامی عملہ اور پولس یک طرفہ کارروائی کررہی ہے۔ اس تشدد میں پتھر چلاتے ہوئے جن ہندو نوجوانوں کے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں اور اس میں یہ بھی صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس بھی مبینہ طور پر ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ حالانکہ ان تمام ویڈیوز کو نظر انداز کردیا ہے اور جو پتھر مسلمانوں نے چلائے ہیں، اُن مسلمانوں کے فوٹو نکال کر ان کے پوسٹرز بنا کر عوامی مقامات پر چسپاں کیا جارہا ہے۔

     کچھ روز قبل ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک پولس افسر اپنے اعلیٰ افسر کو بتا رہا ہے کہ احتجاجی مظاہرین بی جے پی کے ایم ایل اے کے ساتھ بموں اور ہتھیاروں کے ساتھ آئے ہیں، مگر ان کے خلاف نہ کوئی کاروائی نا ایف آئی آر؟؟ ایک بی جے پی کے منسٹر کا بیٹا تعصب کی بنیاد پر کئی لوگوں کو اپنی گاڑی سے روندتا ہے مگر اسے کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں، مگر ان واقعات کو نظر انداز کرکے محض صدائے احتجاج بلند کرنے والوں اہل ایمان پر برق گرائی جارہی ہے۔ دستاویزی شواہد و قانونی کاغذات ہونے کے بعد بھی، بغیر کسی اطلاع و نوٹس کے مسلمانوں کی املاک کو آنا فانا میں زمین بوس کردیا جانا ناانصافی و ظلم ہے۔ اگر یہی تمہارے راجیہ کی علامتیں ہیں تو تم کو تمہارا ظلم و جبر والا راجیہ مبارک ہو!!

     درحقیقت یہ وہی نفسیاتی رویہ ہے جس میں طاقتور کسی بے بس کی بے بسی سے لطف اندوز ہوتا ہے، کیونکہ اُسے طاقتور ہونے کا احساس تبھی ہوتا ہے جب کوئی بے بس اُس کی مقتدر حیثیت کے سامنے بے یار و مددگار تڑپ رہا ہو۔ طاقتور ہونے کا یہ احساس اِس قدر نشہ آور ہوتا ہے کہ انسان اس کی خاطر ظلم و ناانصافی کی تاریخ رقم کرتا ہے، مال چھینتا ہے، کھوپڑیاں اُڑا کر اس کا پہاڑ بنا دیتا ہے اور نسلیں اُجاڑتا ہے۔

     طاقتور جس روپ میں بھی ہو، ہر صورت میں اپنی طاقت لامحدود حد تک بڑھا لینا چاہتا ہے کیونکہ یہ وہ نشہ ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا خواہ انسان خدائی کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرلے۔ اپنی اِسی بے لگام توسیع پسندانہ خواہش کے باعث وہ کمزور پر ظلم ڈھاتا ہے، اِس کے حقوق سلب کرلیتا ہے، سازش کرتا ہے، استحصال کرتا ہے۔ ظلم کے تباہ کن نتائج (Catastrophic Consequences of Cruelty کے نتیجے میں بیداری کی لہر پیدا ہوتی ہے۔

     یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ دنیا میں کوئی ایسا بلڈوزر ایجاد نہیں ہوا!جس نے مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی مضبوط بنیادوں کو منہدم یا مسمار کیا ہو!! ان شاء اللّٰہ! آزمائش کے یہ پرخطر ایام بھی گذر ہی جائیں گے، مگر ان ایام کو تبدیل کروانے کے لیے ہمارا کیا رول ہو اس پر ہمیں سوچنا ہوگا۔ ورنہ آنے والی نسلوں کے پاس ہمارے مرثیہ گوئی کے علاؤہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔ ہوش کے ناخن لیں، اور امت کے غم میں اور اس کے مداوا کے لیے سعی و جہد کریں۔ ان شاء اللّٰہ! اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔
كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُ‌سُلِي ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔ (اللّٰہ تعالٰی لکھ چکا ہے کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللّٰہ تعالٰی زورآور اور غالب ہے۔)

     ہماری اس ابتلاء و آزمائش کے اسباب و حل کے لیے اسلامی تعلیمات سے ہی رہنمائی حاصل کرنی ہوگی۔ اگر ہمیں واقعی موجودہ حالات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنا ہے تو ان آیات و احادیث کی روشنی میں ایک سمت سفر باندھنا ہوگا۔ روشنی و کامرانی کے منبع کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔

     روشنی و ہدایت، فتح و نصرت کا سر چشمہ قرآن کریم ہی ہے۔ جسے ہم نے جزدانوں میں سجا کر رکھا ہے۔
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً ( الفرقان: 30)۔
اور رسول فرمائیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

     وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (سورۃ آل عمران: 139)
تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے رہو۔

     وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۪۔
اور تم سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔ (سورۃ آل عمران: 200)

     نبی اسرائیل کے کافروں پر داؤد ؑ اور عیسی ؑ کی زبانی لعنت کی گئی، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے، جو کچھ بھی یہ کرتے تھے، یقیناََ وہ بہت برا تھا۔ (سورۃ المائدۃ: 78-79)

     اللّٰہ کے رسولﷺ نے فرمایا: "قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں "وہن” ڈال دے گا، تو ایک کہنے والے نے کہا: اللّٰہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے۔ (سنن ابو داؤد)

     موجودہ حالات میں بحیثیت مسلمان ہمیں وہن کی بیماری کا علاج ڈھونڈنا ہوگا۔ اس وہن کی بیماری نے ہمارے اس سفینے کو ڈوبنے کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں بشارت، غلبۂ دین، ابتلاء و آزمائش کے متعلق اپنے مطالعے کو بڑھانا ہوگا۔ ان شاء اللّٰہ! اسی میں سے ہمیں راہیں ہموار ہونگی۔

     سرورِ کائناتﷺ  نے ارشاد فرمایا: "مظلوم کی بد دُعا سے بچو کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کسی حقدار کو اس کے حق سے منع نہیں کرتا۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا، "مظلوم کی بددعا مقبول ہے اگرچہ وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کا فجور تو اس کی اپنی جان پر ہے۔”

    اللّٰہ تعالیٰ مظلوم و بے بس مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ انہیں اس ظلم کا مقابلہ کرنے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا