بلڈوزر کا سیاسی استعمال: کس کے ذہن کی پیداوار؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک میں گزشتہ کچھ عرصہ سے بلڈوزر کے کا شور ہے۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں اس کا استعمال ہو رہا ہے۔ یوگی حکومت نے 2017 سے یوپی میں بلڈوزر کا استعمال شروع کیا۔ کہا یہ گیا کہ بلڈوزر مافیا اور غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی زمینوں پر چلایا جا رہا ہے۔ مختار انصاری، عتیق اور وکاس دوبے کے نہ صرف مکان توڑے گئے بلکہ اعظم خان کے ذریعہ بنائی گئی جوہر یونیورسٹی کو بھی تہس نہس کردیا گیا۔ اربوں روپے کی جائیدادیں برباد ہو گئیں۔ عام طور پر سڑکوں کو چوڑا کرنے، گندگی، کوڑا کرکٹ ہٹانے یا تعمیراتی کاموں میں بلڈوزر کو استعمال ہوتے دیکھا گیا ہے۔ لیکن سیاسی طاقت کا اظہار کرنے، حزب اختلاف کا حوصلہ توڑنے، خوف پیدا کرنے اور دبدبہ بنائے رکھنے کے لیے بابا بلڈوزر ناتھ نے اس کا استعمال کیا۔ یوپی انتخابات میں وہ اسی نام سے مشہور ہوئے۔ اترپردیش کے بعد گجرات، مدھیہ پردیش کے اندور، بھوپال، اجین کھرگون میں بلڈوزر کی کاروائی پھر دہلی میں اس کا دوہرانا یعنی جس علاقے میں پتھراؤ ہو، غنڈہ عناصر یا دنگا فساد کے ملزموں کے مکان اناً فاناً میں گرا دینے سے ایک نئے قسم کے کرمنل جسٹس سسٹم کے درپیش ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تعزیرات ہند (آئی پی سی) میں اس کا التزام ہے۔ اگر بلڈوزر کا استعمال اسی طرح جاری رہا تو ممکن ہے آنے والے دنوں میں آئی پی سی میں بدلاؤ دکھائی دے۔ حزب اختلاف کو پارلیمنٹ میں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ دنگا فساد والے علاقوں میں حکومت نے 2014 کے بعد کتنے مکانات کو گرایا ہے۔ ان اعداد وشمار سے یہ طے ہو جائے گا کہ جہاں جہاں ڈبل انجن کی سرکار ہے وہاں آئی پی سی پر کتنا عمل یا کتنی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے بڑوانی اور کھرگون میں رام نومی کا جلوس نکالنے کو لے کر ہوئے ہنگامہ کے دوران جم کر پتھراؤ ہوا۔ واضح رہے کہ جب بھی ہندوؤں کی کوئی شوبھا یاترا نکلتی ہے تو اس کا انتظام مندر یا آر ڈبلیو اے کی انتظامیہ کے حضرات کرتے ہیں۔ لیکن بائیک ریلی کے نام پر شوبھا یاترا وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل کے ذریعہ نکالی جاتی ہے۔ یہ ہندوتوا وادی، بنیاد پرست تنظیمیں ہیں جن کا ہندو سناتن دھرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش ہنگامہ انہیں بنیاد پرستوں کی وجہ سے ہوا۔ جس کے بعد شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت نے یوگی پر سبقت حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں گھروں کو بغیر سوچے سمجھے گرا دیا۔ ایسا تاثر دیا گیا مانو پتھر بازی کرنے والے مسلمان ہوں اور ان کے گھروں کو توڑا گیا ہے۔ لیکن مسمار کئے گئے مکانات میں غیر مسلموں کے گھر بھی شامل ہیں۔ اب حکومت نے انہیں دوبارہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی گاڑھی کمائی کا ضیاع ہے۔

دہلی کے جہانگیر پوری میں بھی ہنومان یاد میں نکالی گئی بائیک ریلی کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں فساد برپا ہوا۔ پولس کے مطابق یہ شوبھا یاترا بغیر اجازت نکالی گئی تھی۔ اس میں آئی بھیڑ لاٹھی، ڈنڈے، تلوار، پستول اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس تھی۔ پھر بھی پولس نے یاترا کو نکلنے دیا۔ البتہ فسادیوں پر پولس کی فوری کاروائی قابل تعریف ہے۔ اس 40 منٹ میں حالات کو کنٹرول کر لیا۔ اس سے میڈیا کو سنسنی پھیلانے کا موقع نہیں ملا۔ اگلے دن میڈیا کو خبر بنانے کے لیے بی جے پی کے ریاستی صدر نے ایم سی ڈی کو خط لکھا کہ جہانگیر پوری سے روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر چلایا جائے۔ لیکن تجاوزات ہٹانے کے بہانے بلڈوزر ان لوگوں پر چلا جو چھوٹے موٹے کام یا نوکری کر رہے تھے۔ اسی خط کی بنیاد پر ایم سی ڈی نے دہلی کے مختلف علاقوں سے تجاوزات ہٹانے کا پورا پروگرام بنا دیا۔ ایم سی ڈی کی میقات 18 اپریل کو ختم ہونے پر مرکزی حکومت نے اس میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔ بلڈوزر دہلی کے مختلف علاقوں میں چلایا گیا لیکن شاہین باغ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ میڈیا کے ذریعہ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ مسلمان انکروچمنٹ کرتے ہیں۔ مگر جب ایم سی ڈی کا بلڈوزر شاہین باغ پہنچا تو اسے یہاں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ملا۔ دہلی میں ایم سی ڈی پر پندرہ سال سے بی جے پی اقتدار میں ہے۔ اس کا دائرہ کار سڑکوں کو صاف کرنا، راستوں سے ٹھیلے، کھونچے ہٹانا، کچرا اٹھوانا، کوڑے کرکٹ کا بندوبست کرنا، غیر قانونی پارکنگ کو روکنا وغیرہ شامل ہے۔ وہ اپنا کام نہ کرکے تجاوزات ہٹانے کے نام پر بلڈوزر چلا رہی ہے۔ یہ خالص سیاسی ڈرامہ اور طاقت کا غلط استعمال ہے۔

طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھارت میں سب سے بلڈوزر کا استعمال 1976 میں ایمرجنسی کے دوران ہوا تھا۔ اس وقت دہلی کو خوبصورت بنانے کے نام پر کالونیوں کو توڑا گیا تھا۔ ترکمان گیٹ پر سب سے بڑی کارروائی ہوئی تھی۔ اس میں دو تین دن کے اندر قریب پانچ سو لوگ شہید ہو گئے تھے۔ سنجے گاندھی یہاں کنٹرول میں تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین وہی جگ موہن تھے جو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور بعد میں جموں کشمیر کے گورنر بنے تھے۔ انہیں کے زمانے میں کشمیر میں بڑا قتل عام ہوا۔ کشمیری پنڈتوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے۔ سنجے گاندھی نے پرانے شہر کو خوبصورت بنانے کے نام پر سیکڑوں لوگوں کو مار ڈالا اور ان کے گھر اجاڑ دیئے۔ یہاں سے نکالے گئے لوگوں کو ہی اندر لوک میں بسایا گیا تھا۔ اس وقت 90 فیصد بلڈوزر کا استعمال مسلمانوں کے خلاف ہوا تھا۔ کانگریس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اس کے بعد کانگریس کو کبھی وہ طاقت حاصل نہیں ہوئی جو اس کا خاصا تھا۔

سوال یہ ہے کہ خوف پیدا کرنے، طاقت کے اظہار اور سیاسی دبدبہ قائم رکھنے کے لیے بلڈوزر کے استعمال کا خیال کہاں سے آیا۔ تاریخی اوراق الٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں بلڈوزر کا پہلا سیاسی استعمال جرمنی میں ہٹلر نے کیا تھا۔ بقول سیاسی مبصر ڈاکٹر تسلیم رحمانی اس نے خوف پیدا کرنے کے لیے 1936 سے 1941 تک پانچ سال بلڈوزر چلائے تھے۔ وہ برلن کی جگہ جرمنیہ کے نام سے نیا شہر بنانا چاہتا تھا۔ اس نے قریب 23750 اسٹرکچر بلڈوز کئے تھے۔ یہ سب یہودیوں کے مکان تھے۔ دوسری مثال اسرائیل کی سامنے آتی ہے۔ اسرائیل نے 1945 میں امیونٹی ڈیفنس ریگولیشن قانون بنایا جو اس کے آئین کی دفعہ 119 کا حصہ ہے۔ اس کے مطابق کے مطابق کوئی بھی شخص توڑ، بھوڑ، تشدد کرتا ہوا پایا جائے، یا اس کے تشدد کی کاروائی میں شامل ہونے کا شک ہو، اس کے مکان کو ڈھا دینے کا انتظامیہ کو اختیار ہے۔ اس کے علاوہ آئین نے اسرائیلی فوج کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی بھی بلڈنگ کو زمین بوس کر سکتی ہے۔ اسرائیل ان قوانین کو فلسطینیوں کے خلاف غازہ پٹی، ویسٹ بینک کے ساحلی علاقوں اور یروشلم میں من مانے ڈھنگ سے استعمال کرتا ہے۔

بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس ہٹلر، مسولینی اور اسرائیل کے نظریات کی حامی ہے۔ وہ سیاسی طاقت کے ذریعہ ہندوتوا کے ایجنڈے کو نافذ کرنا چاہتی ہے۔ تو کیا بلڈوزر کا سیاسی استعمال اسی کی صلاح پر ہو رہا ہے؟ کیا حکومت بلڈوزر کا خوف پیدا کرکے اپنے مخالفین کی زبان بند رکھنا چاہتی ہے؟ کیا اس کے ذریعہ مہنگائی، بیروزگاری، معیشت کی کمزوری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی سوالات سے عوام کا دھیان ہٹانا چاہتی ہے؟ مقصد جو بھی ہو لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جس نے بھی بلڈوزر کو ظلم اور طاقت کی علامت کے طور پر استعمال کیا نہ صرف سیاسی مستقبل بلڈوز ہوگیا بلکہ اس کا کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ بی جے پی کو ان سابقہ مثالوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ حکومت سمجھداری سے کام لے بلڈوزر کا استعمال کرنے کے بجائے آئین کے مطابق قانون کا راج قائم کرے۔ یہ حکومت اور عوام دونوں کے حق میں بہتر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔