اب تیل بنے گا مہنگائی کا سبب

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بہت ہوئی مہنگائی کی مار اب کی بار مودی سرکار، اس وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آئی بھاجپا حکومت اپنے دوسرے وعدوں کی طرح اس میں بھی ناکام رہی۔ کبھی آلو پیاز نے آنسو نکالے تو کبھی ٹماٹر لال ہو گیا۔ کبھی دالیں تھالی سے نائب ہوئیں تو کبھی کھانے کا تیل کڑھائی سے اڑ گیا۔ کوکنگ گیس، ایندھن مہنگا ہوا تو کبھی ریل، بس کا کرایا بڑھا۔ آنے جانے کے ذرائع مہنگے ہونے سے گزر بسر کا خرچ بڑھ گیا ۔ اس کے لئے اولے، بارش، سیلاب، سوکھے یا کسان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ فصل کے رکھ رکھاؤ کا بندوبست نہ کر پانے اور زرعی پالیسیوں کی ناکامی کو حکومت نے کبھی قبول نہیں کیا۔ نہ ہی اس سے نبٹنے کیلئے ملک میں موجود زرعی ماہرین کی خدمت حاصل کی گئی۔ مہنگائی کے خلاف نہ کوئی عوامی تحریک چلی اور نہ ہی یہ الیکشن میں مدا بن پایا ۔ اس کی وجہ سے برسراقتدار جماعت کے غرور کی انتہا نہ رہی ۔ وہ کچھ بھی کر سکتی ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اسی احساس کا نتیجہ ہے۔

پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب کووڈ 19 سے بچنے کیلئے کی گئی مکمّل تالا بندی سے عام آدمی کی قمر ٹوٹی ہوئی ہے ۔ مصیبت کو موقع میں بدلنے کی نصیحت دینے والی حکومت نے بڑی چالاکی سے اس موقع کو اپنی کمائی کے لئے استعمال کیا۔ چونکانے والے فیصلے لینے میں ماہر ہو چکی سرکار نے پیٹرول سے ڈیزل کو مہنگا کرکے عوام کو جمہوریت کے نام پر بچھے ریڈ کارپٹ کے نیچے کی پتھریلی زمین پر ننگے پیر چلنے کو مجبور کر دیا ہے۔ اس نے لا علاج بیماری کا خوف جھیل رہے عوام کو راحت پہنچانے کے بجائے خزانہ بھرنے کو ترجیح دی۔ جبکہ دنیا کے جن ممالک میں جمہوریت ہے وہاں کی سرکاریں عوامی فلاح کو اپنی ترجیحات سے اوپر رکھتی ہیں ۔ کئی ممالک نے لمبے عرصہ تک لاک ڈاؤن رکھا جس کا اثر روزگار اور کاروبار پر پڑا ۔ وہاں کی حکومتوں نے ان پریشانیوں کو کم کرنے والے فیصلے لئے ۔ اس کے برعکس بھارت سرکار نے جو فیصلے لئے اس سے نہ کاروباری، نوکر پیشہ افراد کو راحت ملی نہ عام آدمی کو ۔ پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ خزانہ صرف حکومت کے لئے ہے ۔ عوام کے لئے نہیں اگر عوام کے لئے ہوتا تو لاکھوں، کروڑوں لوگ یوں دشواریوں کا سامنا نہ کر رہے ہوتے۔

تیل کی قیمتوں میں لاک ڈاؤن کے دوران 82 دن تک بدلاؤ نہیں ہوا۔ لیکن پھر 7 جون سے پیٹرول، ڈیزل کے ریٹ میں یومیہ تبدیلی شروع ہوئی ۔ تیل کی قیمت میں 22 بار اضافہ ہو چکا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ملک کی راجدھانی دہلی میں پیٹرول 80.43 اور ڈیزل 80.53 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے ۔ یہ تب ہو رہا ہے، جب 2003 کے بعد کچے تیل کی قیمت اپنی سب سے نچلی سطح یعنی 40 ڈالر فی بیرل پر ہے۔ پہلے بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا ملک میں پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں پر ویسا ہی اثر ہوتا تھا ۔ حکومت کا کام کاروباری ادارے کی طرح پیسہ کمانا نہیں بلکہ اپنے عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے ۔ جس کا خرچ معمولی ٹیکس لگا کر پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن بیتے کچھ وقت سے حکومت اپنی رئیسی کی خاطر کاروباری ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ جس کی تازه مثال کچے تیل میں تاریخی گراوٹ کے باوجود بھارت میں پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔

یاد دلا دیں جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو تیل کی قیمت میں اضافہ اس کی سیاست کا اہم حصہ تھا ۔ وہ یو پی اے حکومت پر طرح طرح کے الزام لگاتی تھی ۔ سڑک پر تھالی بجا کر، گیس سلنڈر لے کر احتجاج کرتی تھی۔ اب کانگریس بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو بی جے پی کو برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ وہ کانگریس کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے۔ اس وقت فلمی ہستیاں امیتابھ بچن، پریش راول، اکشے کمار، انوپم کھیر، ٹی وی اداکارہ سے سیاست داں بنی اسمرتی ایرانی اور یوگ گورو سے کاروباری بنے بابا وغیرہ عوام کو یقین دلا رہے تھے کہ مودی جی حکومت سنبھالیں گے تو تیل 35 روپے لیٹر ملے گا۔ 2014 میں بی جے پی کی حکومت بننے کے کچھ دن بعد تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آئی تو اسے مودی جی نے اپنی قسمت بتایا تھا ۔ لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ اس سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں ۔ بس اس کے بعد ہی پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا کھیل شروع ہوا ۔ ابتدا میں تیل کے دام بڑھاتے وقت عوام کی آنکھوں میں یہ کہہ کر دھول جھونکی گئی کہ مستقبل میں کچا تیل مہنگا ہونے پر، ملک کو سستا پیٹرول، ڈیزل فراہم کرنے کے لئے حکومت بفر تیار کر رہی ہے۔ اس لئے مہنگا تیل خرید کر حکومت کا ساتھ دیں ۔ واضح رہے کہ 2002 میں تیل کمپنیوں نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں ہر پندرہ دن میں تبدیلی کی شروعات کی تھی ۔ جسے 2017 میں مودی حکومت نے یومیہ کر دیا ۔ پندرہ دن میں چار، پانچ روپے سے زیادہ کا اضافہ نہیں ہوتا تھا لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب آٹھ سے دس روپے بڑھائے گئے ہوں ۔ وہ بھی اس وقت جب ملک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے ۔ ویسے حکومت نے بڑی ہوشیاری سے 23 مارچ 2020 کو اقتصادی بل لا کر ایکسائز ڈیوٹی میں آٹھ روپے تک کے اضافہ کی پارلیمنٹ سے منظوری لے لی تھی ۔ اس بل کے مطابق پیٹرول پر خصوصی اضافی ٹیکس 10 سے 18 روپے فی لیٹر تک لے سکتی ہے، ڈیزل پر اسے 4 سے بڑھا کر 12 روپے تک کیا جا سکتا ہے۔

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے وقت 16 مئی 2014 کو بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تھی۔ تب بھارت میں پیٹرول کی قیمت 71.41 روپے تھی ۔ جس میں مرکز کا ٹیکس 9.20 پیسے تھا۔ آج کچا تیل قریب 40 ڈالر فی بیرل ہے اور پیٹرول کی قیمت 80.43 روپے فی لیٹر جس میں مرکز کا ٹیکس 33 روپے یعنی 258 فیصد ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت 55.49 روپے تھی۔ جس میں مرکز کا ٹیکس 3.46 روپے تھا۔ آج ڈیزل کی قیمت 80.53 روپے ہے جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 32 روپے یعنی 820 فیصد ہے ۔ ایکسائز ڈیوٹی میں اتنا اچھال کیوں آیا اس کا جواب کوئی دینے کو تیار نہیں ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مطابق گزشتہ سالوں میں ایکسائز ڈیوٹی 12 مرتبہ بڑھائی گئی ہے ۔ یو پی اے حکومت کو تیل سے 90 – 99 کروڑ مل جاتے تھے ۔ وہیں بی جے پی نے 2017 میں تیل سے 2.72 لاکھ کروڑ کمائے ۔ ماہر معاشیات مدن سب نویس کا کہنا ہے کہ ملک کو 5.5 لاکھ کروڑ سالانہ کی آمدنی صرف تیل سے ہوتی ہے ۔ اس میں سے تین لاکھ کروڑ روپے مرکزی حکومت کے حصہ میں آتے ہیں ۔ شاید اس موٹی کمائی کو دیکھتے ہوئے ہی حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھا ہے ۔ کانگریس کے ملکارجن کھڑگے نے 2018 میں پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پہلے چار سال میں حکومت نے تیل سے 11 لاکھ کروڑ کی آمدنی کی ہے ۔ سونیا گاندھی نے اپنے تازه بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ چھ سالوں میں تیل سے 18 لاکھ کروڑ اضافی وصول کئے ہیں۔

پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا سیدھا اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے ۔ دو پہیا اور چار پہیا گاڑیوں کا استعمال کرنے والے ملازمین، کاروباریوں اور اپنا کام کرنے والوں کو آمد و رفت پر زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی خدمات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مہنگا ڈیزل زراعت، ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل کو متاثر کرتا ہے ۔ کسان مکتی مورچا کے صدر اور ماہر زراعت وی ایم سنگھ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے کھیتوں کی جتائی، فصلوں کی سینچائی، منڈی میں اناج بھیجنے وغیرہ کی لاگت کم از کم 20 فیصد بڑھ جائے گی۔ اس لئے حکومت کو خریف فصلوں کا ایم ایس پی بغیر دیر کئے 20 فیصد بڑھانا چاہئے۔ جبکہ دھان کے ایم ایس پی 2.9 ، جوار 2.7 ، مکا 5، ارہر 3.4 ، مونگ 2 اور سویابین میں 4.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگا ڈیزل نہ صرف کسانوں پر قہر برپائے گا بلکہ اس سے صنعتوں کی ریڑھ پوری طرح ٹوٹ جائے گی۔

لاک ڈاؤن اور مہاجر مزدوروں کے چلے جانے سے چھوٹی و منجھولی کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں، کئی بند ہونے کے کگار پر ہیں۔ جو چل رہی ہیں وہ بھی لڑ کھڑا رہی ہیں ۔ موٹر انڈسٹری تو ویسے ہی بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ اب تیل مہنگا ہونے سے ڈیزل کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ ملک میں 90 لاکھ چھوٹے بڑے ٹرک ہیں ۔ ان میں سے 60 فیصد بکنگ نہ ملنے سے کھڑے ہیں۔ آل انڈیا موٹر کانگریس کے صدر کلتار اٹوال کا کہنا ہے تیل مہنگا ہونے سے ٹرک آپریشن کا خرچ 20 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ اس سے مال بھاڑے میں اضافہ ہوگا جو مہنگائی کا سبب بنے گا۔ دیش میں 16 لاکھ رجسٹرڈ بسیں ہیں جن میں سے 1.70 لاکھ بسیں سرکاری ہیں۔ ان کا کرایا بڑھے گا جس سے آمد و رفت مہنگی ہو جائے گی ۔ اس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اتنا ہی نہیں اس کا اثر سرکاری یوجناؤں اور ملازمین کے بھتوں پر بھی پڑے گا۔ جس کی وجہ سے حکومت کو اپنی اسکیموں کا خرچ بڑھانا پڑ سکتا ہے ۔ کورونا بحران میں راحت دینے والے پیکج میں اتنے ٹویسٹ دیئے گئے کہ وہ بالکل بھی راحت دینے والا ثابت نہیں ہوا۔ اب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ادھ مری عوام کی مصیبتوں کو اور بڑھانے والا ہے۔ شاید اس کے ذریعہ حکومت عام آدمی کا دھیان اپنی یوجناؤں کی ناکامیوں کی طرف سے ہٹانا چاہتی ہے۔ مصیبت کے وقت اپنے عوام کو مشکلات میں مبتلا کرنا ملک کے حق میں نہیں ہے۔ وقت رہتے ایکسائز ڈیوٹی کو ختم نہیں کیا گیا تو میک ان انڈیا کا سرکاری جھنجھنا بھی کھنکنا بند کر دے گا۔

تبصرے بند ہیں۔