آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب

عادل فراز لکھنؤ
گئو رکشاکے نام جس طرح انسانوں کی ہتیا کی جارہی ہے یہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ ہم ان واقعات کو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب سمجھتے ہیں جو یرقانی و زعفرانی تنظیموں کا مرہون منت ہے۔ جس ملک میں جانوروں کو مذہبی تقدس دیدیا جائے وہاں انسانوں کی جانیں جانوروں کے موت سے بھی ارزاں ہوں گی۔ حال میں ہوئے واقعات کے تناظر میں کہا جاسکتاہے کہ ہندو متشدد تنظیمیں ملک میں بے لگام گھوم رہی ہیں۔ ان کے لئے نہ قانون کی کوئی حیثیت ہے اور انسان کی جان کی کوئی قیمت ہے۔ بربریت اور ظلم کا عالم یہ ہے کہ کمزوروں کو وحشیانہ طریقوں سے مارا جارہاہے۔ حد یہ ہے کہ مذہبی جنون خواتین کی حرمت کو پامال کررہاہے اور ہماری حکومت اور ہمارا قانون صرف تماشائی ہے۔ گذشتہ دو سالوں میں ان تنظیموں نے کتنی سیاسی پینترے بازی کی، بے خواف کتنے جرائم کئے، کتنے گڑے مردے اکھاڑے گئے اور کتنے ضروری مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے غیر ضروری مسائل کو توجہ کا مرکز بنادیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت بھی انہی تنظیموں کی سیاسی پینترے بازی کی بنیاد پر اپنے سیاسی منصوبے مکمل کررہی ہے یعنی عوام کو غیر ضروری مسائل میں اتنا الجھادیا جائے کہ ان کی توجہ ترقیاتی کاموں اور مہنگائی سے ہٹ کر انہی مسائل پر مرکوز رہے۔ مگر عوام کا مزاج بن گیاہے کہ وہ ہر مسئلے کو دوسرے مسئلے کے سامنے آتے ہی دماغ سے نکال دیتے ہیں۔ لہذا گئو رکشا کے نام پر ہورہے مظالم اور دلتوں پر جاری تشدد کی خبروں کے بعد بھی عوام کی توجہ مہنگائی کے مسائل سے نہیں ہٹ سکی۔ ان تنظیموں کو چاہئے کہ سرکار کی مدد کے لئے اب کوئی دوسرا مسئلہ اٹھائیں ورنہ یوپی انتخابات میں اب گئو رکشا، دلتوں پر ہوئے تشدد اور مذہبی جنون کے واقعات انکی ہمدرد حکومت کی نیّا ڈبودیں گے۔
در اصل ہندو متشدد تنظیمیں گئو رکشا کے نام پر دلتوں کے دلوں میں اپنا ڈر بٹھانا چاہتی ہیں۔ جس طرح گجرات میں مردہ گائے کی کھال اتارنے کے جرم میں دلتوں کو بے رحمی کے ساتھ پیٹا گیا وہ ظاہر کرتاہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟گائے کا تحفظ اور مردہ گائے کی کھال اتارنا دونوں ماحولیات کا حصہ ہیں مگر مذہبی بالادستی کی جنگ میں جب انسانیت مرجاتی ہے تو ماحولیات کی فکر کون کرتاہے۔ چونکہ ہمارا قانون اور حکومتیں اسی فکر کے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں لہذا اس بربریت اور تشدد کے جواز پیش کئے جاتے ہیں۔بیف کی فراہمی کے جرم میں خواتین کو سرعام زدوکوب کیا گیا مگر پولس نے مجرمین پر سختی دکھانے کے بجائے متاثرہ خواتین کو حراست میں لے لیا۔  حقیقت یہ ہے کہ پولس اور حکومتوں کا رویہ اقلیتوں کے لئے اب مایوس کن نہیں بلکہ حیران کن ہوتا جارہاہے۔ اب دلت سمجھتے ہیں کہ جس ملک میں ہم زندگی گذار رہے ہیں وہاں آئین ہند کے نام کس آئین کا بول بالاہے اور کس قومی نظریہ کی ترویج میں زعفرانی تنظیمیں کوشاں ہیں۔ یہ نظریہ نہ مسلمانوں کو قبول کرتاہے اور نہ دلتوں کو انسانیت کے دائرے میں رکھتاہے۔
گئو رکشا کے نام پر جو دہشت اور قتل و خون کا بازارگرم ہے اس کی وہی حقیقت منظر عام پر آتی ہے جو میڈیا کے ذریعہ عوام تک پہونچتی ہے۔ حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔ بیف کی فروخت کے نام پر اور گئو رکشا کے جنون میں ہندو متشدد تنظیمیں ہر دن اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ کچھ دن پہلے ہریانہ اور یوپی کی سرحد پر ایک مسلم نوجوان کو شیوسینکوں نے گئو تسکری کے جرم میں گولی ماردی تھی جس کی خبر کسی کو نہیں لگی۔ سہارنپور کے آس پاس کے علاقے جو ہریانہ کی سرحد سے ملتے ہیں ہر رات پولس، ہندو تنظیموں اور گئو تسکری کرنے والوں میں فائرنگ ہوتی ہے۔ کئی بار پولس والوں کو گولی بھی لگی مگر ہندو تنظیموں کے خلاف کھٹر حکومت میں کاروائی کرنا اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ پولس نے جن گئو تسکروں کو گرفتار کیا ان میں اکثر غیر مسلم ہیں۔ مگر ہندو تنظیموں کا سارا غصہ اقلیتوں اور دلتوں پر پھوٹتا ہے۔ ہم خود شاہد ہیں کہ ان سرحدی علاقوں میں ہندو نیل گائے کے قہر سے بچنے کے لئے مسلمانوں کی مدد لیتے ہیں اور مسلمان سوروں کی فصلوں میں تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لئے ہندؤوں اور سرداروں کی مدد طلب کرتے ہیں۔ اب تو ان علاقوں میں دہشت کا یہ عالم ہے کہ دودھ کے لئے گائے پالنے والے بھی توبہ کرچکے ہیں۔ جہاں ہر گھر میں بھینسوں کے ساتھ دودھ کے لئے گائے موجود ہوتی تھی اب گائے کا نام و نشان نہیں ملتا۔اگر کسی کو گائے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ یہ ہمت نہیں کرتا کہ جہاں سے گائے خریدی ہے وہاں سے اپنے گھر تک لے کر آجائے۔ یہ ذمہ داری یا تو کسی سردار یا کسی اونچی ذات کے ہندو کے حوالے کی جاتی ہے تاکہ گئو رکشکوں کے جنون سے بچا جاسکے۔ وہ ہندو متشدد تنظیمیں جو یہ راگ الاپتی گھومتی ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں بھی احادیث میں موجود ہے کہ گائے کے گوشت میں نقصانات زیادہ ہیں اور اسکے دودھ میں شفا ہے اگر کچھ سالوں تک انکا مذہبی جنون اسی طرح حاوی رہا تو گائے پالنے والے نہیں ملیں گے۔ کیونکہ دودھ کے لئے لوگوں کے پا س دوسرے جانور موجود ہیں۔ ہوسکتاہے ان کے دودھ میں گائے کے دودھ جیسی تاثیر نہ ہو مگر گئو رکشکوں کے عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے گائے پالنے سے نجات بہتر ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان گئو رکشکو ں نے اب تک سڑکوں پر گھوم رہی بے سہارا گایوں کے لئے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا۔ گئو رکشا کے لئے گئو شالے تعمیر نہیں کئے گئے۔ سڑکوں پر پڑی ہوئی مہلک امراض میں مبتلا گایوں کے علاج کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ گھاس کی جگہ گندگی کے ڈھیروں پر منہ مارتی گایوں کے لئے چارہ کا انتظام نہیں کیا مگر گئو رکشا کے نام پر کمزور وں پر تشدد ضرور کرتے نظرآتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ گئو رکشا تو صرف بہانہ در اصل اقلیتوں اور دلت برادریوں کو دہشت زدہ کرنا مقصد ہے۔ یہ تنظیمیں نہیں چاہتی ہیں کہ مسلم اقلیت اور دلت برادری سیاسی و سماجی طور پرمنظم ہو ں اور اقتدار میں انکی کوئی حصہ داری ہو۔ لہذا وہ دھرم کی آڑ میں وہ سب کچھ کرتے ہیں جسکی اجازت نہ دھرم دیتاہے اور نہ ہمارا آئین۔مگر حکومتوں میں بیٹھے ہوئے گئو رکشک انہیں سیاسی پشت پناہی فراہم کراتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ ہر جرم بڑی آسانی سے کرگذرتے ہیں۔
حیرت ہوتی ہے کہ اقلیتوں اور دلتوں پر جاری ظلم و تشدد کے واقعات پر حکومتی افراد اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے ان واقعات کو صحیح ٹہرانے کے لئے مختلف جواز پیش کرتے ہیں۔ ا س وقت مرکزی حکومت کی ملک میں کیا سیاسی حالت ہوچکی ہے اس کا محاسبہ کرنے کے بجائے ذات اور دھرم کی سیاست کا بازار گرم کیا جارہاہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ موجودہ حکومت کا حال کانگریس سے بد تر ہو جائے اور سانپ نکل جانے کے بعد بی جے پی کی نیا کے کھویا لاٹھی لیکر لکیر پیٹتے رہیں۔ اگر اب بھی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے ان متشدد مذہبی تنظیموں پر سختی نہیں برتی تو ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ ابواب کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ آج جس طرح متنازع تاریخی کرداروں کو ایشو بناکر سیاست کی جارہی ہے کل موجودہ  سیاسی کرداروں کو ایشو بناکر سیاست کی جائے گی۔

تبصرے بند ہیں۔