بھارت میں آبادی کا مسئلہ: حقیقت یا سیاست 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

آسام کے راستے پر چلتے ہوئے اترپردیش نے بھی دو بچوں والے بل کی قواعد شروع کر دی ہے۔ اس مجوزہ بل سے سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ بل کے بارے میں یوگی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے آبادی پر قابو پانے اور ریاست کی آبادی کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ ریاستی حکومت اس پر عملدرآمد کیلیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ایک طرف انعامات کے ذریعہ آبادی کنٹرول کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ تو دوسری جانب کنٹرول نہ کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔ مثلاً دو سے زائد بچے والوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔ وہ سرکاری نوکری کے لیے اپلائی بھی نہیں کر سکیں گے۔ جو ملازمت کر رہے ہیں انہیں پرموشن نہیں ملے گا۔ وہ حکومت کی 77 فلاحی اسکیموں کے فائدوں سے محروم رہیں گے۔ انہیں پنچایت الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی اور راشن کارڈ پر چار لوگوں کا ہی نام درج ہوگا وغیرہ۔ آبادی (کنٹرول،استحکا اور بہبود) بل 2021 ایسے وقت لایا گیا ہے جب الیکشن میں محض چھ سات ماہ بچے ہیں۔ اس کے پیچھے جو دلیل دی گئی ہے وہ بھی غلط ہے کہ ملک میں سارے مسائل کی جڑ بڑھتی آبادی ہے۔ دراصل بی جے پی خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے ذریعہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اس شک کو بل کے اگلے سال نافذ کرنے کے فیصلے سے مضبوطی ملتی ہے۔ اسی لیے حزب اختلاف اسے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔

آبادی بل اس پارٹی کی حکومت لائی ہے جس کی اپنی سابق شکل جن سنگھ خاندانی منصوبہ بندی کی مخالف تھی۔ اور اس کے لیے سیاسی زمین تیار کرنے والی وشوہندوپریشد سختی سے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس وقت اترپردیش میں برسراقتدار بی جے پی کے اپنے پچاس فیصد ارکان اسمبلی کے دو سے زائد بچے ہیں۔ اس کے 304 میں سے 152 کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں۔ اسی طرح ایک ایم ایل اے کے آٹھ، ایک کے سات اور آٹھ کے چھ چھ اور 15 کے پانچ پانچ بچے ہیں۔ جبکہ 44 ارکان اسمبلی کے چار چار اور 83 ارکان کے تین تین بچے ہیں۔ اگر مذکورہ قانون اسمبلی میں نافذ ہو جائے تو یہ تمام ارکان نااہل قرار دے دیے جائیں گے۔ کم و بیش یہی صورت حال پارلیمنٹ میں بھی ہے۔ گورکھپور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن پارلیمنٹ میں آبادی کنٹرول پرائیوٹ ممبر بل پیش کرنے والے ہیں اور ان کے خود چار بچے ہیں۔ لوک سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق 168 موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 105 ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ دو سے زائد بچوں والا شخص ممبر اسمبلی یا پارلیمنٹ بن سکتا ہے لیکن پنچایتی انتخاب نہیں لڑ سکتا۔ یہ امتیازی سلوک آئین کی رو کے بھی خلاف ہے۔

جہاں تک آبادی پر قابو پانے کا سوال ہے بھارت ان چند ممالک میں سر فہرست ہے جنہوں نے سب سے پہلے خاندانی منصوبہ بندی کو متعارف کرایا۔ ملک نے 50-1952 میں ہی خاندانی بہبود کی پالیسی کو اپنایا لیا تھا۔ لیکن غریبی اور ناخواندگی کی وجہ سے شروع میں اس پر عمل کرنے میں دشواریاں آئیں۔ 75 -1977 ایمرجنسی میں کی گئی زور زبردستی نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو اتنا بدنام کر دیا کہ لوگوں نے اس پر بات تک کرنی چھوڑ دی۔ مگر ملک میں فیملی پلاننگ کا عمل جاری رہا۔ ان اقدامات کے نتائج شرح تولید میں کمی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ 50-1955 میں جو شرح پیدائش 5.9 فیصد تھی وہ تیزی سے کم ہو کر 2.3 فیصد پر آ گئی۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کی آبادی جلد ہی استحکام کے قریب پہنچنے والی ہے۔ یعنی 2.3 فیصد کی شرح میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ملک میں آبادی کی شرح 2.1 (ہم دو ہمارے دو) ہونی چاہیے۔ جو ماہرین کے مطابق آنے والے کچھ برسوں میں خود بخود آنے والی ہے۔ کئی ریاستوں میں تو شرح پیدائش قومی شرح سے بھی کم ہے۔ مگر شدت پسند ہندو تنظیمیں اور دھرما چاریہ جھوٹے پروپیگنڈے، من گھڑت اعداد وشمار کے ذریعہ ہندو آبادی کو یہ بتاتے رہے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی اپنی آبادی بڑھا کر جلد ہی اکثریت میں آجائیں گے اور ہندو اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ یہ پروپیگنڈہ بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ یہی لوگ ایک طرف ہندوؤں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور دوسری طرف آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون بنانے کی مانگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

آبادی میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اکثر کہا جاتا ہے کہ 2025 تک ملک کی آبادی چین سے زیادہ ہو جائے گی۔ جبکہ وزیراعظم نریندرمودی اپنی پہلی میقات میں ملک کی بڑی آبادی کے فائدے گناتے نہیں تھکتے تھے۔ دراصل نریندرمودی کو بڑی تعداد میں غیرملکی کمپنیوں کے بھارت آنے اور بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے معیشت کے تیز رفتار سے بڑھنے کی امید تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بڑی تعداد میں نوجوان کامگاروں کی ضرورت ہوگی۔ بھارت میں 54 فیصد آبادی پچیس سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ 62 فیصد افراد ورکنگ ایج گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی عمر 15 سے 59 سال کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے بھارت دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی والا ملک ہے۔ اسی لیے وزیراعظم اپنی آبادی کو ڈیموگرافک ڈویڈنڈ بتا رہے تھے۔ مگر متوقع غیرملکی سرمایہ کاری نہ ہونے سے پچھلی بار امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس بار تو ایسا کچھ ہونے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آ رہا۔ کورونا وبا سے معیشت کی رفتار اتنی سست ہو گئی کہ برسر روزگار تھے وہ بھی بے روزگار ہو گئے۔ بے روزگار نوجوانوں کی فوج حکومت کو بوجھ محسوس ہو رہی ہے۔ اسی لیے آبادی کو ڈیموگرافک ڈجاسٹر بتایا جا رہا ہے۔

اعداد وشمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ملک کی آبادی جلد ہی استحکام کے قریب پہنچنے والی ہے۔ کئی ریاستوں میں تو یہ شرح قومی شرح سے بھی نیچے ہے۔ رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے نامہ نگاروں سے کہا کہ 2019 میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش اپنے اپنے سروے میں آبادی بڑھانے کی ضرورت کو سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں، ہماچل پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں زرخیزی کی شرح 1.2 تک گر گئی ہے۔ کچھ ریاستیں 2030 تک بزرگ آبادی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ آنے والے بیس سال میں بھارت کے لیے اپنی بزرگ آبادی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ چین جس کی ہمارے یہاں اکثر مثال دی جاتی ہے اس نے بزرگ ہوتی آبادی کے مسئلہ سے نبٹنے کیلیے 2016 میں ون چائلڈ پالیسی کو ٹو چائلڈ کر دیا تھا اور اب تھری چائلڈ پالیسی کر دیا ہے۔

جن ریاستوں میں زرخیزی کی شرح قومی شرح سے زیادہ ہے ان میں بہار، اترپردیش، جھارکھنڈ، راجستھان اور مدھیہ پردیش قابل ذکر ہیں لیکن ان کی شرح نمو میں بھی لگاتار کمی آرہی ہے۔ ایک پی آئی ایل کے جواب میں مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں کہہ چکی ہے کہ وہ ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے تحت دو بچوں کی تعداد تک محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے آبادی کا تناسب بگڑ جائے گا۔ مرکز کی رائے کے خلاف اترپردیش حکومت آبادی بل لا رہی ہے  جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں زرخیزی کی شرح 1999 میں 4.06 تھی جو 2017 میں گھٹ کر 3.0 ہو گئی۔ اس وقت یہ 2.7 فیصد ہے، جو اگلے چند برسوں میں قومی شرح کے برابر آ جائے گی۔ اس معاملہ میں یوپی سے بھی خراب صورتحال بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی ہے۔

طبقات کی بنیاد پر اگر زرخیزی کا جائزہ لیں تو 1.2 بچے فی میریڈ کپل کے حساب سے سب سے کم شرح زرخیزی جین طبقہ میں ہے۔ اس کے بعد سکھوں میں 1.6، بودھوں میں 1.7 اور عیسائیوں میں 2.0 فیصد ہے۔ مذہبی طبقوں (ہندو اور مسلم) کو چھوڑ کر باقی طبقات میں بچوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کو لے کر اکثر بات کی جاتی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (5) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 96 فیصد مسلم آبادی والے لکش دیپ، 68 فیصد مسلم آبادی والے جموں وکشمیرمیں آبادی کی شرح نمو 1.4 فیصد ہے۔ 34 فیصد مسلم آبادی والے آسام میں یہ شرح ایک 1.7 فیصد،27 فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال میں 1.6 فیصد، 26 فیصد مسلم آبادی والے کیرالہ میں 1.8 فیصد اور 20 فیصد مسلم آبادی والے صوبے اترپردیش میں 2.4 فیصد ہے۔ جبکہ ریاست کی اوسط شرح نمو 2.7 فیصد ہے۔

اس مختصر جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ بچوں کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ انتخابی کمیشن کے چیف کمشنر ایس وائی قریشی اور ماہرین آبادی کے مطابق غریب، ناخواندہ اور جن کی صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ہوتی ان کے بچے زیادہ ہوتے ہیں۔ غریبوں کے بچے کم عمری میں کام کرنے لگتے ہیں۔ اس سے خاندان کو مالی مدد ملتی ہے۔ غریبوں کے مقابلے تعلیم یافتہ برسر روزگار لوگوں کے بچے کم ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں زرخیزی کی شرح ملک اور ریاست کی ترقی کا آئینہ ہے۔ اس لحاظ سے برسراقتدار جماعت یا اس کے ساتھیوں کا آبادی کنٹرول کرنے کی دھن بجانا بے مطلب ہے۔ یہ روزگار، مہنگائی، صحت اور معیشت کے مورچہ پر حکومت کی ناکامی کی طرف سے محض دھیان ہٹانے کیلیے ہے۔ ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور کا کہنا ہے کہ لکس دیپ، آسام اور اترپردیش میں آبادی کم کرنے کی بات اتفاق نہیں اس کا مقصد غریبی، ترقی کے سوالات کو صرف نظر کر سیاست اور فرقہ واریت ہے۔ اگر حکومت میں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ آبادی کو ملک کی ترقی میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہو تو آبادی ملک کے لیے طاقت یا نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس وقت بنیادی سہولیات، وسائل اور روزگار مہیا کرانا حکومت کے لیے چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ عوام کو کسی نہ کسی بہانے آپس میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔