بھارت میں مذہبی آزادی اور رواداری

ذکی نور عظیم ندوی

ادیان و مذاہب کا طالب علم ہونے کی وجہ سے جب ہندوستان کی دینی و مذہبی صورت حال اور یہاں پائے جانے والے مختلف مذاہب و  ادیان کا جائزہ لینے کے لیے اس موضوع پر دوسرے مذاہب اور دوسرے ملکوں کے مصنفین کی قدیم و جدید تحریروں کے مطالعہ کا موقع ملا تو اس موضوع پر لکھنے والے بیشتر اہل قلم نے ہندوستان کی سب سے اہم اور بڑی خوبی و امتیاز یہ بیان کی کہ یہ وہ عظیم ملک ہے جس میں دنیا میں پائے جانے والے تمام بڑے مذاہب و ادیان ہی نہیں بلکہ ان سے نکلنے والے تقریبا تمام چھوٹے بڑے مذاہب اور تمام عقائد کے ماننے والے افراد پائے جاتے ہیں۔

اس طرح عہد قدیم سے ہی ہندوستان کی شناخت ایک ایسے ملک اور تہذیب و ثقافت کے طور پر رہی جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرےسے اور ان کے مذاہب و عقائد سے براہ راست واقف ہوئے۔اس کے باوجود وہ اپنے اپنے مذاہب پر عمل پیرا رہے ، لیکن آپسی معاملات میںایک دوسرے کےمعاون اور باہمی الفت و مودت کے ساتھ اس طرح رہے کہ وہ انسانی تاریخ میں مذہبی رواداری کی مثال بن گئےاور اس طرح ان کے مذہبی معاملات اور رسم و رواج میں بھی دوسرے مذاہب کا کسی قدر اثر ہوا اوریہاں کے بیشتر مذاہب کم یا زیادہ لیکن ایک دوسرے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

 یہی وجہ ہے کہ یہاں اسلام اور ہندومت جیسے بڑے مذاہب پر بھی ایک دوسرے سے متاثر ہونے کے اثرات نمایاں ہونے لگے، لہذا اسلامی نظام مساوات کے مطالعہ اورکسی حد تک اس کےبعض عملی نمونوں سے متاثر ہونے کی وجہ سے ہندومت میں موجود طبقاتی نظام اور اونچ نیچ کے خلاف زبردست تحریک چلی اور عام نظام اور معمولات میں اس کی وجہ سے فرق و تفریق کا مزاج کمزور بھی ہوا اور ایک حد تک اسے غیر قانونی اور غیر عملی بنادیا گیا یہاں تک کہ بڑے پیمانہ پر ریزرویشن تحریک نے سر اٹھایا اور اس کو قانونی حیثیت مل گئی۔

اسی طرح اسلام جس کا سب سے بڑا امتیاز عقیدہ توحید یعنی صرف اللہ کی پرستش و عبادت ہے وہ ہندو تہذیب اور ہندو بھائیوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے( جو ہر بڑی شیئ اور مؤثر چیزوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں ) کافی حد تک متاثر ہوا اور بعض مسلمان بے شعوری طور پر اللہ واحد کے علاوہ مختلف قبروں، مزاروں، خانقاہوں اور کبھی کبھی تو بعض نامعلوم مقامات، درختوں اور استھانوں کو بھی وہ رتبہ دینے لگے جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اللہ کے علاوہ کسی کے لیے قطعا جائز نہیں۔

اس طرح ہندوستان میں غیر شعوری طور پر دوسرے مذاہب سے متاثر ہونے کا سلسلہ شروع ہوا اور اس کی وجہ سے مذہبی شعار میں کمزوری اور دوسرے مذاہب کے بعض امور کی طرف رجحان کسی قدر نہ صرف بڑھنے لگا بلکہ دھیرے دھیرےچند لوگ تو اپنے مذاہب کی اعلانیہ تبدیلی، دوسرے مذاہب اور اس کے ماننے والوں سے رسم و رواج اور شادی بیاہ رچانے اور ان کے مذہبی طور طریقےپوری طرح اختیار کرنے لگے۔ اور اس طرح اپنے سابقہ مذہب سے مکمل طور پر بے تعلق ہوگئے۔

مذکورہ بالا صورت حال اور سماجی پس منظر کو دیکھتے ہوئے آزادی ہند کے بعد ملک کی دستور سازی کے موقع پر اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکا اور دستور میں اظہار رائے اور دیگر اہم امور میں آزادی کے ساتھ قانونی طورپر آرٹیکل ۲۵ میں مذہب کی آزادی کا بھی حق دیا گیا اور اس آرٹیکل میں یہ صراحت کر دی گئی کہ تمام ہندوستانیوں کو آزادئ ضمیر اور آزادی سے کوئی بھی مذہب قبول کرنے، اس کے مطابق عمل اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق حاصل ہے، جب کہ آرٹیکل 26 میں یہ بھی صراحت کر دی گئی کہ یہاں کے باشندوں کو مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لیے ادارے قائم کرنے، ان کو چلانے، اپنے مذہبی امور کا خود انتظام کرنے،منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے مالک ہونے، اس کو حاصل کرنے اور ایسی جائیداد کا قانون کے مطابق انتظام کرنے کی بھی آزادی حاصل ہوگی۔

عام ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں مذہب کے تعلق سے مذکورہ بالا مزاج کے مطابق بہت سے واقعات دیکھنے کو ملتے رہے اور دستور میں کسی بھی مذہب پر عمل یا بغیر کسی لالچ اور زور زبردستی خود اپنی مرضی سے مذہب بدلنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی آزادی کے باوجود بھی مذہب کی تبدیلی کو اگر کچھ لوگوں، خاندانوں اور افراد نے کھلے دل سے قبول کیا اور متعلقہ افراد سے حسب سابق تعلقات، آپسی رکھ رکھاؤ اور معاملات میں فرق نہ آنے دیا، تو ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جس کا سخت رد عمل سامنے آیا اور مذہبی تبدیلی کی وجہ سےبعض اوقات متعلقہ افراد کو سماج، خاندان، زمین و جائیداد اور دیگر حقوق سے مکمل طور پرمحروم اور پوری طرح الگ تھلگ کردیا گیا۔

گھر خاندان اور قریبی افراد کی طرف سے تبدیلی مذہب کو قبول نہ کرنے بلکہ اس کی مخالفت اور سخت ردعمل کی وجہ سے متعلقہ افراد کو بے شمار مالی، رہائشی، تعلیمی، سماجی اور بہت سی دیگر دقتیں پیش آنے اور روز مرہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں بری طرح متاثر ہونے لگیں جس کو دیکھتے ہوئے بعض رفاہی تنظیموں، ان کے ذمہ داروں، ممبران اور کبھی کبھی بعض افراد نے انفرادی طور پر مذکورہ شخص کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے اخلاقی طور پربنا تفریق مذہب و ذات ان کی مدد کا وہ جذبہ دکھایا جو ہندوستان جیسے بڑے ملک میں عام بھی ہے اور ضروری بھی۔

اپنی مرضی سے مذہب کی تبدیلی ہندوستان میں کوئی جرم یا غیر قانونی عمل نہیں اس وجہ سے مذہبی تبدیلی کے بعد اس کو قانونی دائرہ میں لانے اور کبھی کبھی ناموں کی تبدیلی اور بعض دیگر امور کے لیے قانونی معلومات اور امداد کی بھی ضرورت پیش آئی جس کے لیے بعض افراد اور اداروں نے قانونی چارہ جوئی اور امداد میں بھی پہل کی اور اس سلسلے میں ہر ممکن امداد اور کبھی کبھی اس کے لیے ضروری مشورے اور مالی تعاون بھی پیش کیا۔

ہندوستان کے اسی سماجی تانے بانے اور مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد کے ایک ساتھ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے باہمی پیار و محبت اور اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے، اپنے اپنے مذہب کی دعوت، اس کی خوبیوں اور امتیازی پہلؤوں کی نشر و اشاعت کی دی گئی آزادی ہندوستان کی عظمت کا سب سے بڑا راز اور اس کا  وہ نمایاں امتیازی پہلو ہے جس کا تصور دنیا میں ہندوستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک ہرگز نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ہندوستان کو وہ خوبصورت گلدستہ سمجھا جاتا ہے جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے پھول کی حیثیت سے اپنی خوشبو بکھیرتے اور گلدستہ کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں اور ان خوبیوں کو دستور کے ذریعہ قانونی حیثیت دے دئے جانے کی وجہ سے "کثرت میں وحدت” اس ملک کا امتیاز اور اس کی شان قرار پائی۔

 اسی وجہ سےہندوستان کا مذہبی شخص خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو دوسرے ملکوں کے مذہبی افراد سے بہتر نمایاں اور مذہبی رواداری کا حامل ہوتا ہے اور یہاں کے سماجی نظام اور پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہ ہونا ضروری بھی ہے۔اسی طرح وہ ہندوستانی مسلمان جو پختگی اور عزیمت کے ساتھ اپنے دین اور اس کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا، اس کے داعی، اس کے تحفظ کے لیے فکر مند اور اس کی قانون کے دائرہ میں نشر و اشاعت کے لیے کوشاں وسرگرم ہیں وہ دوسرے ملکوں یہاں تک کہ مسلم اور عرب ملکوں کے مسلمانوں سے بھی زیادہ قابلِ قدر ہیں کہ وہ اسلام کو عادت کے طور پر رائج رسم ورواج کے بجائے دوسرے مذاہب کے پیرو کاروں اور ان مذاہب کی تعلیمات کے بیچ اسلام کو سمجھ کر اور اختیارکرکے اس پر پوری طرح عمل پیرا ہی نہیں بلکہ اس کے داعی وعلم بردار کی حیثیت سے ہندوستان میں اصل ہندوستانی مزاج و فکر "مذہبی آزادی اور آپسی رواداری” کی بھی ترجمانی کر رہے ہیں۔ اور دین اسلام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنے دینی و اسلامی فریضہ سے بھی غافل نہیں ہیں۔

 مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی اور آپسی رواداری ایک ناقابل تردید حقیقت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ اور ہندوستان جیسے مختلف النوع معاشرہ میں اپنی مرضی اور صوابدید سے مذہبی تبدیلی سے آپسی معاملات میں فرق آنا، اس کی وجہ سے دشمنی اور منافرت کا ماحول پیدا ہونا یا کرنا، نہ ہندوستان کے حق میں ہے نہ یہاں کے باشندوں کے، اس لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے، ہندوستان کے وسیع پس منظر اور مفاد میں مناسب رویہ اختیار کرنے اور آپسی رواداری کو فروغ دینے کے لیے صحیح فیصلہ لینے کا مطالبہ اور تقاضہ ملک کی ترقی و خوشحالی اور پر سکون ماحول کے لیے نہایت ضروری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔