بھارت میں مسلمانوں کی تنزلی : ذمہ دار کون؟

ذوالقرنین احمد

آزادی کے بعد سے بھارت میں کانگریس اقتدار پر قابض رہی ہے۔ اور گزشتہ ستر سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک، آئینی حقوق سے محروم رکھنا، سرکاری اداروں، تعلیمی، سیاسی میدان میں کمزور اور تنزلی میں دھکیلنے میں اگر سب سے زیادہ کسی کا کردار ہے تو وہ کانگریس پارٹی ہے۔ جس نے مسلمانوں کے ساتھ ستر سالوں تک نا انصافی کی ہے۔ اور صرف جھوٹے وعدوں کے ذریعے مسلمانوں کے ووٹوں کو حاصل کیا۔ بھگوا سنگھی فرقہ پرستوں سے خوفزدہ کرکے مسلمانوں کو ووٹ بینک بناکر اپنی کرسیوں کو بچاتے رہے۔ اس میں ان خود سوختہ دلال مسلم لیڈران بھی  ذمہ دار ہے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلیے قوم کا سودا کرکے ظالموں کا ساتھ دیا ہے۔

آج مسلمانوں کی مضبوط قیادت کا نا ہونا ، تعلیمی میدان میں پچھڑے رہنا، اور غربت کے معاملے میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوجانا، سرکاری نوکریوں میں انکا فیصد ایک دو فیصد تک محدود رہنا، معاشی حالت بد سے بدتر ہونا، مسلمانوں کے پاس اپنے تعلیمی اداروں کا فقدان، اور ایسی بہت سارے مسائل سے دوچار رہنا دن بہ دن ملک‌ میں انکے لیے دائرہ محدود ہوجانا، یہ سب مسائل سے دوچار کرنے میں کانگریس سر فہرست ہے۔

آج ہی کی تاریخ میں 10 اگست 1950 کو وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے آئین کی دفعہ 341 میں مذہبی پابندی عائد کرکے مسلمانوں کو ریزرویشن کے حق کے محروم کردیا تھا۔ جبکہ آزادی کے بعد بھارت کو ایک جمہوری غیر مذہبی ملک قرار دیا گیا تھا، برطانوی حکومت نے  1927 1928 میں سائمن کمیشن کے نام سے ایک وفد بھارت بھیجا تھا جس کی مخالفت کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہوسکا تھا ، جس کا مقصد مستقبل میں ہندوستانی حکومت کے ڈھانچے اور طرز کا تعین کرنا تھا ، لیکن 1932 میں گول میز کانفرنس میں کمیشن کی سفارشات کو قبول کرلیا گیا، اور 1943 میں اس کا نفاذ عمل میں آیا، جس کی وجہ سے ملک سبھی پسماندہ طبقات کو ریزرویشن ملنے لگا، مگر 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد آئین کے نفاذ کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے آئین کے خلاف ورزی کرتے ہیں ، اس ریزرویشن کی دفعہ میں مذہب کی قید لگا دی، اور ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنے کیلیے ہندو ہونا لازمی قرار دے دیا، یہ سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا یا اور کچھ لیکن اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے دلوں میں مسلمانوں کے لیے نفرت اور عداوت بھری ہوئی تھی، جس کے بعد سیکھ برادری نے اس مذہبی قید کے خلاف احتجاج کیا اور 1956 میں ہندو کے ساتھ سیکھوں کو ریزرویشن کا حق دیا گیا۔

 کانگریس حکومت نے پسماندہ مسلم طبقات کو ریزرویشن سے محروم کردیا، جس میں آرٹیکل 14 کے خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 14 کی رو سے سیکولر ہندوستان میں مذہب و مسلک، رنگ و نسل، ذات پات، علاقہ میں کسی قسم تفریق نا کرتے ہوئے سبھی کو یکساں حقوق دیے گئے ہیں، آج مسلمانوں کو آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں جمہوریت اور آئین کے قاتل کون لوگ ہے اور سب سے پہلے جمہوریت کو قتل کرنے کا کام کس نے کیا ہے اور کیوں کیا ہے صرف اس لیے مسلمانوں کو ہمیشہ پسماندہ اور غربت میں رکھا جائے، وہ تعلیمی اور سیاسی محاذ پر ہمیشہ بے وزنی کا شکار رہے اور وہ اپنے حقوق کو حاصل نا کرسکے۔ اتنا ہی نہیں کانگریس کی  مسلم دشمنی کا یہ کھلا ثبوت دیکھے کہ 1958 میں آئین میں ترمیم کرتے ہوئے یہ اضافہ کردیا گیا کہ اگر مسلم برادریاں ہندو مذہب اختیار کرلے تو انھیں پھر سے ریزرویشن کا حق حاصل ہوگا۔ ذرا اس قانون کی ترمیم پر غور کیجیے کے دھرم پریورتن کرانے والے سب سے پہلے کون لوگ ہے۔ اور انھوں نے کتنی چلاکی کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق اور انکے مذب عقیدے پر ڈاکہ ڈالنے کا کام کیا ہے۔ تاکہ کسی بھی طرح سے مسلمانوں کو ملک میں مجبور اور بے یار و مددگار کردیا جائے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان 70 سالوں سے کانگریس کی جھوٹی دوستی کے جال میں پھنس کر ذلت و  پستی کی عمیق گہرائیوں میں جارہا ہے۔ آج مسلمانوں کو ہوش میں آنے کی ضرورت ہے۔

 اپنے حقوق حاصل کرنے کیلیے اپنی قیادت کہ مضبوط کرنا ضروری ہے، صرف ایسے لیڈر اور سیاسی جماعت کا ساتھ دینا چاہے جو حق اور حصہ داری کی بات کریں۔ ورنہ پھر ایسے جھوٹے مکار فریبی لیڈروں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ جو قوم اور ملک کا سودا کرتے ہیں۔ جب تک قوم سیاسی بے وزنی کا شکار رہے گی وہ اپنے حقوق کو حاصل نہی‌ کرسکتی ہے۔ اپنے حقوق کو حاصل کرنا ہے تو سیاست میں اپنے قدموں کو مضبوط کرنا ہوگا اپنے اپنے علاقائی سطح پر قیادت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ تاکہ ان فرقہ پرستوں اور مسلم دشمن عناصر کو یہ بات سمجھ میں آجائے کہ مسلمان صرف ووٹ بینک نہیں ہے جو تمہاری جھوٹی دوستی اور جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کرکے اپنے آپ کو بے مول کردے۔ اب مسلمانوں کو سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلیے اپنے لیڈر تیار کرنے چاہیے جو حقیقت میں قوم کے صحیح رہنمائی اور قیادت کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔