جذبۂ حب الوطنی اور اردو زبان

راحت علی صدیقی قـاسمی

        اردو زبان گنگا جمنی تہذیب کی ضمانت دار، اتحاد و اتفاق کی پیامبر، پیار محبت کی علامت اور نشانی ہے۔ پورے ہندوستان کو اردو زبان متحد کرتی ہے، ہر خطہ اور ہر علاقے میں الگ الگ بولیاں بولی جاتی ہیں، مختلف افراد مختلف الفاظ کا تلفظ کرتے ہیں۔ ملیالم، تیلگو، بنگلہ، پشتو، کھڑی بولی کچھ میل کی مسافت طے ہوتے ہی الفاظ نامانوس اور عجیب و غریب معلوم ہوتے ہیں۔ کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جیسے کسی پرندہ کی چہچہاہٹ اور کسی درندہ کی غراہٹ ہمارے کانوں میں پڑے مگر مفہوم ہمارے ذہن میں نہیں آپاتا، یہی حالت ملک کے افراد کی ہوتی ہے جب وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔ اب ان حالات کا جائزہ لیجئے جب ملک میں انگریز کا تسلط قائم ہوچکا تھا، ظلم و جبر، تشدد و استبداد کی تاریخ رقم کی جارہی تھی، حالات و واقعات سے غم واندوہ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، آگ میں جلتے افراد، پھانسی کے پھندوں پر جھولتے انسان گولیوں کا نشانہ بنتے، ملک کے معصوم باشندے ظالم قوم ہندوستانیوں کو شکستہ کررہی تھی، ان کے حوصلے کو توڑ رہی تھی، ان کے ارادوں کو مستحکم نہیں ہونا دینا چاہتی تھی، ان کے بکھرے وجود کو متحد نہیں ہونا دینا چاہتی تھی، انہیں ذلت اور قید وبند میں رکھنے کا اس سے بہترو عمدہ ہتھیار کیا ہوسکتا تھا کہ ان میں افتراق و انتشار کے پودے کی آبیاری کی جائے۔ اسی طریقۂ کار پر انگریز آگے بڑھ رہا تھا، اپنوں کی غداری ان کے قافلہ کو رفتار بخش رہی تھی، اب ضرورت آن پڑی تھی ایک ایسے ذریعہ کی جو تمام اہل وطن کو اتحاد کے حسین زیور سے آراستہ کردے، ان کے قلوب میں سرد پڑے جذبۂ حب الوطنی کو شعلہ جوالہ بنا دے، جو خرمن باطل کو جلاکر خاک کرڈالے، انگریزوں کو ندامت و شرمندگی سے دوچار کردے۔ ظاہر ہے کہ اتحاد اسی وقت ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کے جذبات و احساسات اور تاثرات کو سمجھ سکتے ہوں، سن سکتے ہوں، محسوس کرسکتے ہوں، اس کے لئے ضرورت تھی ایک ایسی ہندوستانی زبان کی جس سے ملک کا ہر فرد مانوس ہو، اپنے احساسات کو اس زبان کے الفاظ میں پروسکتا ہو۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ یہ صلاحیت سنسکرت کے اندر موجود نہیں تھی، وہ چند ہندو مذہبی خانوادوں تک سمٹ کررہ گئی تھی، فارسی سے بھی یہ کام لیا جانا ناممکن تھا، مغلوں کے زوال نے اس پر مردنی طاری کردی تھی، انگلش کا تو تصور ہی محال تھا۔ جو قوم گوری چمڑی والوں کی مشق ستم بنی ہوئی ہو بھلا کیسے ان کی زبان پر متحد ہو سکتی ہے۔ اب صرف اردو زبان باقی تھی جس نے ریختہ سے اردوئے معلی تک کا سفر مختصر عرصہ میں طے کیا تھا۔ ملک کا ہر باشندہ اس زبان میں اپنے تاثرات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اسے سمجھ سکتا تھا۔ چنانچہ پنجاب کے مشہور اردو اخبار زمیندار کا حال یہ تھا کہ لوگ اسے ایک پیسے میں خریدتے اور دو پیسے دے کر اس کے مضامین وخبریں سنتے اور ملکی احوال سے باخبر ہوتے تھے۔ چنانچہ دانشواران قوم نے ملکی احوال کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت کو سمجھ لیا اوراخبارات و رسائل کے ذریعہ لوگوں کے جذبات میں زندگی پیدا کرنے اور ان کو جنگ آزادی پر متحد کرنے اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار کرنے کی کامیاب سعی کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے بصیرت افروز مضامین نے امت کو نئی زندگی عطاکی اور ’’الہلال‘‘، ’’البلاغ‘‘ سے لے کر مولانا حسرت موہانی کے ’’اردوئے معلی‘‘ ظفر علی خان کے ’’زمیندار‘‘ کا تاریخی و کامیاب سفر اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ آزادی میں اردو زبان کا کتنا بڑا کردار ہے۔ اب تمام افراد متحدہورہے تھے، انہیں ضروت تھی ایک نعرہ کی جو ان کے لہو کو گرمادے، جذبات کو مشتعل کردے، وہ نعرہ بھی انہیں اردوزبان نے ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کی شکل میں عنایت کیا۔ یہ نعرہ باطل کے خلاف ہتھیار بنا، اس نعرہ نے خاص و عام پر یکساں اکثر کیا، ہر مذہب کا پیرو اس نعرہ کو لگاتے ہوئے انگریزوں سے بھڑ جاتا اور جام شہادت نوش کرلیتا کیونکہ انسانی مزاج اس کا بات کا عکاس ہے کہ نظم انہیں نثر کے مقابلہ میں زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اشعار کا اختصار اور مٹھاس ان کے من کو موہ لیتا، ہے کانوں پر بار محسوس نہیں ہوتا، تکلیف میں سکون کے احساسات کا پروردہ ہوتا ہے۔ اس ضرورت اور وقت کے تقاضہ کو بھی اردو شاعری نے پورا کیا اور وطن پر مٹنے اور جان نچھاور کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ ملک سے محبت کو ماحول میں رچادیا۔ اردو شاعری نے اعلان کیا کہ جتنی تکالیف اور اذیتیں انگریز ہندیوں کو دے گا، جتنے ظلم کے پہاڑ ان پر توڑے جائیں گے، جتنی ہولناک اور سخت سزائوں کا ان پر ارتکاب کیا، اتنی ہی وطن کی محبت ان کے قلوب میں راسخ ہوتی جائے گی، اس جذبہ کو حسرت موہانی نے ان الفاظ میں اداکیا    ؎

 اچھا ہے اہلِ جور کئے جائیں سختیاں

پھیلے گی یونہی شورشِ حُبِ وطن تمام

        یہ جذبہ ہر ہندوستانی کے دل میں پیدا ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہیں سوروں کی کھالوں تک میں بند کرکے نذر آتش کیا گیا، ان کے جسم کا ریشہ ریشہ جل کر بھسم ہوگیا مگر وطن کی محبت ان کے قلب سے جدا نہ ہوسکی، وہ اس انتظار میں نہیں بیٹھے رہے کہ انقلاب آسمان سے اترے گا یا انقلاب کوئی فرشتہ ہوگا، جو سرزمین ہند پر آئے گا بلکہ انہیں اردو شاعری نے یہ حوصلہ اور سلیقہ بخشا کہ انہوں نے وہ انقلاب برپا کیا جسے تاریخ انسانیت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور وہ تاریخ کا سنہرا دور ہے۔ انہی کیفیات کو اسرار الحق مجازؔ اس طرح الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں   ؎

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر

 جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

        ان الفاظ نے ہندوستانیوں کو فلسفۂ انقلاب سے آشنا کیا اور یہ جذبہ اتنا بلند ہوا کہ لال چند فلک نے یہ الفاظ کہے اور ظاہر ہوا کہ اردو شاعری حب الوطنی کو کس درجہ تک ہندوستانیوں کے قلوب میں پیوست کرنا چاہتی تھی۔ یہ شعر پڑھئے اور خوداندازہ کیجئے     ؎

دل سے نہ نکلے گی مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

        یہ شعر ان احساسات کی بھرپور ترجمانی کررہاہے جو آزادی کے لئے ہر ہندوستانی کے دل میں ہونا ازحد ضروری تھے اور ہوئے بھی تبھی ہم آزادی جیسی نعمت عظمی سے بہرمند ہوسکے، آزادی کے نغمے اور ترانے گنگنا سکے، خوشی میں جھوم سکے اور اردو شاعر نے آزادی کے متوالوں کو ملک کے جیالوں کو فراموش نہیں کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا، آزادی ان کی قربانی کاثمرہ تھی۔ اس حقیقت کو بھی اردو شاعری نے زمانے کے سامنے اجاگر کیا اور فراق گورکھپوری نے اس انداز سے منظرکشی کی     ؎

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

اچھل رہاہے زمانے میں نام آزادی

        اور اس زمین میں ایک اور مثال ملاحظہ کیجئے     ؎

خون شہیداں وطن کا رنگ لاکر ہی رہا

آج جنت نشاں ہندوستاں آزادہے

        امین آلوسی کے یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ اردو شاعری نے کس حدتک جذبۂ حب الوطنی کومہمیز کیا اور وطن سے عشق اور لگاؤ کے جذبات کس حدتک اردو اشعار میں موجود ہیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود آج اردو زبان کس دوراہے پر کھڑی ہے یہ نصف النہار کی طرح عیاں ہے، اس کے ساتھ کیسا رویہ اور سلوک کیا جارہا ہے سب دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی زبان کہہ کراسے نفرت و تعصب کی زبان قرار دیا جارہا ہے۔ ملک کی 70ویں یوم آزادی منانے کے بعد آج ہم اسی راہ پر چل پڑے ہیں جہاں سے ہمیں اردو زبان کھینچ کر آزادی کی منزل تک لے گئی تھی خدا خیر کرے۔

تبصرے بند ہیں۔