جشن آزادی اور مسلمان

اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں مسلمانوں کے بارے میں سنجیدگی سے غورکریں

تبسم فاطمہ

آزادی ایک انفرادی اور اجتماعی احساس ہے— آزادی کا بدل کچھ بھی نہیں۔ آزادی نمائش نہیں۔ لیکن آزادی کے جشن کو مفاد پرست سیاست سے وابستہ کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ آزادی آسانی سے نہیں ملی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے غلامی کے بے رحم اور سنگین واقعات محض افسانہ بن کر رہ گئے۔ یہ آزادی کسی ایک قوم کی قربانیوں کا نتیجہ نہیں تھی۔ دوسوبرسوں کی غلامی کا ہر احساس رونگٹے کھڑے کرنے والا ہے۔ آزادی کے لیے ملک کے ہر طبقہ، ہر مذہب وملت کے لوگوں نے جان کی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جدوجہد آزادی کے صفحات سے مسلمانوں کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن افسوس نصاب کی کتابوں سے لے کر جشن آزادی کے اشتہارات تک، مسلم مجاہدوں کی کہانیوں کو سوچی سمجھی سازش کی بنا پر فراموش کیا جارہا ہے۔ ہندوستان کی نئی سیاست، نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کررہی ہے— اوراس تاریخ کے روشن صفحات میں مسلمانوں کی نمائندگی کہیں نہیں ہے۔ اس کے برعکس حکومت کے دو برس کے اقتدار میں بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ مسلمان کبھی حب الوطن نہیں ہوسکتے۔ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ مسلمانوں کو غدار اور پاکستانی ٹھہرانے والوں کی ایک بڑی جماعت اب بھی موجود ہے۔ حال میں ایک بھاجپا لیڈر نے یہ بھی بیان دیا کہ ہندو اور مسلمان کبھی بھائی بھائی نہیں ہوسکتے۔

70 ویں یوم آزادی کے موقع پر ترنگا یاترا نکالنے کی روایت کوئی نئی روایت نہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے اپنے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ عام آدمیوں کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کریں۔ وزیر اعظم کی نیت پر کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اس سوال کو خارج نہیں کیا جاسکتا کہ وزیراعظم کی نظروں میں عام آدمی کون ہے؟ یہ کسی مسئلہ سے زیادہ ایک برا المیہ ہے کہ جمہوریت کا محافظ اور ملک کے سب سے بڑے عہدے پر موجود شخص کے ہونٹوں پر دلتوں کا نام تو آتا ہے لیکن بھولے سے بھی مسلمانوں کا نام نہیں آتا۔ جذباتی تقریروں میں مودی دلتوں کو اپنا بھائی کہنے اور خود کو دلت بتانے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ شاید مودی نے اس سچ کو قبول کرلیا ہے کہ آرایس ایس برہمنوں کی پارٹی ہے اور ایک دلت ہوکر اگر آر ایس ایس ان پر بھروسہ کررہی ہے تو یہ اس کی سیاسی مجبوری ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ دلت بھی ناراض ہوتے ہیں تو آنے والے انتخابات میں بی جے پی کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہ معاملہ محض سیاست کا نہیں، جشن آزادی کا معاملہ ہے— اور یہ کیسے ممکن ہے کہ سب کے تحفظ کی باتکرنے والے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ کرنے والے شخص کو مسلمانوں سے اتنی نفرت محسوس ہوکہ وہ ان کا نام لینے سے بھی پرہیز کرے۔ مسلمانوں سے فاصلہ کہیں اس سیاست کا نتیجہ تو نہیں جو  اب ہندوستان میں ہندو راشٹر کے خواب کو سچ کرنا چاہتی ہے۔ ؟ کیا آر ایس ایس اور مودی کو سیاست کا یہ رول ماڈل پاکستان سے ملا ہے، جہاں سے اکثر، اقلیتوں پر ہونے والے ظلم کی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستانی سیاست کا نظام مختلف ہے۔ پاکستان تین طرفہ حکومت کے جبر کا شکار رہا ہے۔ ایک وہ حکومت جو اقتدار میں ہے، دوسری فوج اور تیسری ملاؤں یا علماء کی حکومت— ایک بڑا امتیاز یہ بھی کہ تقسیم کے بعد پاکستان کو جمہوریۂ اسلام پاکستان کا نام دیا گیا۔ اور جشن آزادی کا پہلا ترنگا ہندوستان نے جمہوریت کے نام سے لہرایا۔ اس جمہوری نظام میں کوئی چھوٹا بڑا نہ تھا، بلکہ سب ایک دوسرے کے برابر تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی مجموعی تعداد، کل پاکستانی آبادی کے لگ بھگ برابر ہے۔ تقسیم کے بعد سے ہی پاکستان افرا تفری، خانہ جنگی، محرومی اور بالعموم احساس کمتری کا شکار رہا ہے۔ پاکستان نے نفرت اوردہشت کے تخم بوئے، آج اسی کا خمیازہ اٹھانا پڑ رہا ہے— پاکستان کی اکثریت بھی کبھی اپنی حکومتوں سے خوش نہیں رہی، اس لیے پاکستانی سیاست کا رول ماڈل، ہندوستان میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

 70 برسوں میں جو کچھ مودی حکومت کررہی ہے، کیا یہی کام کانگریس نے نہیں کیا؟ 70 برسوں کا مجموعی جائزہ یہ بتاتا ہے کہ جو کام کانگریس خاموشی سے انجام دے رہی تھی، مودی اسی کام کو آر ایس ایس کی فکر کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ 70 برسوں کی ہندوستانی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مسلم وزیراعلیٰ نے پانچ برس کا ٹرم بھی پورا نہیں کیا۔ آسام میں سیدہ انورہ تیمور (صرف چھ ماہ )بہار میں عبد الغفور (دوبرس سے بھی کم کی مدت) کیرل میں سی ایچ محمد کویا (محض 54 دنوں کی حکومت) مہاراشٹر میں عبدالرحمن انتولے (دو برس سے بھی کم کی مدت) پانڈیچری میں ام فاروقی (ایک سال سے بھی کم عرصہ) البتہ راجستھان کے برکت اللہ خاں نے دو برس کا عرصہ گزارا۔ ہندوستان میں مسلمان کو دوسری بڑی اکثریت کہا جاتا ہے۔ لیکن قیادت کے طور پر مسلمانوں کی نمائندگی کہیں نظر نہیں آتی۔ صدر جمہوریہ کے طور پر ڈاکٹر ذاکر حسین، فخرالدین علی احمد، اے پی جے عبدالکلام کے پاس سیاسی طور پر کرنے کو کچھ زیادہ تھا نہیں۔ ویسے بھی صدر جمہوریہ کا عہدہ ایک ایسا باوقار عہدہ ہے جہاں زیادہ کچھ کہنے یا حکومت سے ٹکر لینے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ گیانی ذیل سنگھ اور دو ایک مثالیں ایسی ضرور ہیں، جہاں مرکزی حکومت کے موقف سے الگ اپنے موقف کو رکھنے کی جرأت سے کام لیا گیا۔ نائب صدر جمہوریہ کے طور پر ذاکر حسین، محمد ہدایت اللہ اور محمد حامد انصاری کا نام آتا ہے۔ المیہ یہ کہ ایسے پروقار عہدوں کا استعمال محض سجاوٹ کے طور پر ہوتا ہے اور ایسی شخصیتیں خود کو سیاسی معاملات سے دور ہی رکھتی ہیں — 2014 آتے آتے لوک سبھا میں صرف 23 ممبر آف پارلیامنٹ رہ گئے ہیں۔ راجیہ سبھا سے مسلمانوں کو اس بار دور ہی رکھا گیا۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ صرف مرکزی حکومت کی مخالفت کرنا درست نہیں۔ کیا ہندوستان کی باقی ریاستوں میں بھی مسلم مخالف مہم چل رہی ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی ہر جگہ سے کم ہوتی جارہی ہے۔ ؟ نتیش، لالو اور سیکولر کردار کی نمائندگی کرنے الی پارٹیاں کیا محض مسلمانوں کو لالی پاپ کی طرح سبز خواب دکھاتی رہی ہیں ؟ اور جب سیاسی سطح پرنتیجہ خیز لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو مسلمانوں کو کنارے کردیتی ہیں۔

ان سوالوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو قیادت دینے یا مسلمانوں کی قیادت میں کام کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔ 70 برس کی سیاست گواہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان اپنی پارٹی بنانا چاہتا ہے یا مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو کرنا چاہتا ہے، اس پرفوراً غدار یا پاکستانی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ 70 برسوں کی حکومت اور سیاست میں صرف مسلمانوں کا استعمال کیا گیا۔ تعجب یہ کہ حکومت کے ساتھ مسلم لیڈران کا یہ بھی رہا ہے کہ وہ بار بار ایک گھسا پٹا ٹیپ چلا دیتے ہیں کہ جہالت اور پسماندگی کی وجہ خود مسلمان ہیں۔ جب سوچی سمجھی منصوبہ بند سازش کے تحت کسی قوم کو محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جائے، اقتدار میں محض سجاوٹ کے طور پر اسے لایا جائے، اسے کوئی حق نہ دیا جائے، اسے مسلسل حاشیہ پر ڈھکیلنے کی کوشش ہو، روزگار اور کیریئر سے اسے دور رکھا جائے تو بہر صورت اس کا گراف گرتاہی جائے گا۔ اور یہی مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں ہوا۔ ہم 70 برس کی آزادی کا جشن ایسے موقع پر منارہے ہیں جب یوپی، پنجاب، اتراکھنڈ، گوااور منی پور کا انتخاب سامنے ہے۔ لیکن سوال اب بھی قائم ہے کہ کیا اقتدار کی جنگ میں مسلمان اب بھی ایک مہرہ ثابت ہونگے یا مسلمانوں کے شعوری طرز عمل میں کوئی تبدیل آئے گی۔ ؟ اب وہ وقت آگیا ہے جب حکومتوں کو بھی مسلمانوں اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ یہ وقت مسلمانوں کے لیے بھی امپاورمنٹ یعنی طاقت اور اتحاد کو دکھانے کا وقت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آزادی کے ستر برس میں مستقبل کے نام پر مسلمانوں کو کمیٹی اور کمیشن (سچر اور رنگناتھ مشرا) تو ملا لیکن نہ انصاف ملا نہ حقوق— ماضی کو یاد کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنے حال کی سوچیں اور مستقبل کے لیے تدبیر کریں۔ ملک کی آزادی کے 70برسوں میں اگر کچھ حاصل نہیں ہوا، تو اب آگے کچھ حاصل ہونے کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ مسلمانوں کو سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ دکھائے جانے والے خوابوں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال ہے، راستہ کیا ہے؟ جشن آزادی کے 70 برسوں میں اس سوال سے فرار حاصل نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان سیاسی اور عملی سطح پر کیا کریں ؟ کانگریس نے استعمال کیا۔ سیکولر پارٹیوں نے ووٹ بینک سمجھا۔ مودی حکومت کو مسلمانوں کا نام لینا بھی پسند نہیں۔ پھر مسلمان کہاں جائیں۔ یہ سوال آزادی کے جشن کو کہیں نہ کہیں پھیکا ضرور کردیتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔