جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں!

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی 
ان دنوں برصغیر کے ماحول پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ اور ہندوستان اور پاکستان کے عوام دونوں ملکوں کے درمیان ایک چھوٹی ممکنہ جنگ کی توقعات کے ساتھ فی الوقت میڈیا اور خاص طور سے سوشیل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ہر کوئی جنگ کی صورت میں اپنی برتری ثابت کرنے اور دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگا ہے۔ جب بھی دنیا میں جنگ کا ماحول گرماتا ہے ایسے موقع پر شاعر اور ادیب کو یاد کیا جاتا ہے اور ان سے امید رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے قلم کا جادو جگائیں اور کچھ ایسی بات کرجائیں کہ جنگ نہ ہو اور ہر طرف امن و آمان قائم ہوجائے اور لوگ انسانیت کو درپیش بڑے مسائل کے حل کی جانب متوجہ ہوجائیں۔ ہندوستان اور پاکستان ایک تہذیب کے حامل دو پڑوسی ممالک ہیں۔ اکیسویں صدی میں ان دونوں ملکوں کے عوام غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور بہتر انسانی زندگی کی ضروریات کے مسائل کے حل کے ساتھ چل رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا ماضی ماضی ہوتے ہوئے بھی اپنے حال میں انہیں یہ بات یاد دلاتا ہے کہ جنگ چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی ان کے لئے قابل برداشت نہیں ہے۔ دنیا کہ بڑے ممالک چھوٹے ملکوں میں اسلحہ کی دوڑ کی خاطر جنگ کے حالات پیدا کراتے ہیں اور چھوٹے ممالک اپنی کمزور معیشت کے ہونے کے باوجود پیدا شدہ حالات میں ہتھیاروں کے سوداگر بڑے ممالک کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور گردنوں تلے قرض میں مبتلا ہوکر ان ممالک کے غلام بن جاتے ہیں۔ دور حاضر میں ایک مرتبہ پھر ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو اردو کے مشہور شاعر ساحر ؔ لدھیانوی کی نظم’’ اے شریف انسانو!،، سے سبق حاصل کرنا چاہئے جب کہ انہوں نے یہ نظم ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ کے تباہ کن حالات کے بعد تاشقند معاہدے کی سالگرہ کے موقع پر نشر کی گئی تھی۔ نظم کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ذکر ہے جو اس دور میں جس قدر بھیانک تھے آج جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں اور خطرناک اور بھیانک ہیں۔ آئیے دیکھیں ساحر ؔ کی نظم کا پہلا حصہ کیا ہے اور اس میں وہ کیا کہتے ہیں۔

خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ غیروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں آپ اور ہم رہیں تو بہتر ہے

جب ہم ساحر ؔ کی نظم کا تجزیہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ساحرؔ نظم کے آغاز میں ایک ناصح کی طرح خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانی خون کی بڑی عظمت ہے لوگوں کواپنے اور پرائے میں تقسیم کرتے ہوئے کسی کا خون بہانا اچھا نہیں ہے خدا نے انسان کو اس زمین پر پرامن رہنے کیلئے بھیجا ہے کچھ لوگ شیطان کے دوست ہوجاتے ہیں اور اپنے ذاتی فائدے کیلئے جنگ کے نام پر شیطانی حرکتیں کرتے ہیں اس سے ساری دنیا کا امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ظاہر ہے ساحرؔ کے اشارہ دنیا کی ان بڑی طاقتوں کی طرف ہے۔ جو خود تو بدی کا محور ہیں لیکن دوسروں کو بدی کا محور قرار دینے کے چکر میں ہتھیاروں کی سوداگری کرتے ہیں۔ اس لئے ساحرؔ کہتے ہیں کہ جنگ دنیا کے مشرقی حصہ میں ہو یا مغربی حصہ میں یہ جنگ نہیں بلکہ عالمی امن کا خون ہے۔ سائنس کی ترقی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ انسان نے ہتھیار کے نام پر اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان کرلیا ہے۔ جنگ میں تباہی والے بم گرائے جاتے ہیں جس سے ملک کی سرحدیں اور رہائشی علاقے برباد ہوجاتے ہیں مکان کھنڈر بن جاتے ہیں ایک مکان کو تعمیر کرنا مشکل ہوجاتا ہے مکانوں میں زندگی رہتی ہے لیکن ایک بم تھوڑی دیر میں سینکڑوں مکان برباد کردیتا ہے اور ہزاروں زندگیاں اجڑ جاتی ہیں اس لئے ساحرؔ زور دے کر کہتے ہیں کہ جنگ کے نام پر بم ڈالنے سے زندگی کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اور ٹوٹے مکان اجڑی زندگیاں بسانے کیلئے کافی دولت و محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بم ڈالنے سے کھیت جل جاتے ہیں اناج کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اور ٹوٹے مکان اُجڑی زندگیاں بسانے کیلئے کافی دولت و محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بم سے زمین بربادہوجاتی ہے۔ افغانستان اور عراق اور دنیا کے دیگر ممالک میں جنگ کے بعد ہونے والی ٹوٹ پھوٹ اور سہولتوں کی تعمیر کے لئے بے شمار دولت صرف کی گئی اور ترقی پذیر ممالک کو مقروض بنایا گیا۔ جنگ میں اکثر ہار ہوتی ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے فتح ملی ہے اور وہ جشن مناتا ہے تو اس کا یہ جشن ہارنے والوں کی لاشوں پر ہوتا ہے۔ اس لئے کسی کو برباد کرکے خوش ہونا اچھا نہیں ہے۔ ساحرؔ ایک اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنگ بڑا مسئلہ ہے جنگ کے ساتھ آگ اور خون ہوتاہے اور جنگ کے ختم ہونے کے بعد انسانی ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے ساحرؔ لدھیانوی دنیا کے سمجھدار انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ائے شریف انسانو! اگر ایسی وجہ جنگ کاماحول بھی ہوتو جنگ کو ٹالنا چاہئے۔ اور لوگوں کو امن کی حالت میں چین و سکون سے اپنے گھرں میں رہنے دینا چاہئے۔ یہی بڑی عقلمندی ہے۔ دنیا میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی ذمہ داری والے ادارے اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا پردہ فاش کرے اور چھوٹے ممالک میں امن اور جنگ ٹالنے کو یقینی بنائے۔ ساحرؔ نے جنگ کے نقصانات بیان کرنے کے بعد بھٹکی ہوئی انسانیت کو یاد دلایا کہ ہمارے سامنے جنگ کے اور بھی تو میدان ہیں۔ دیکھئے ساحر ؔ کیا کہتے ہیں۔

برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو      گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
حاصل زندگی خرد بھی ہے      حاصل زندگی جنوں ہی نہیں
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں   فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہونچے       ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے بربریت سے      امن تہذیب و ارتقاء کے لئے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے    امن انسان کی بقاء کے لئے
جنگ افلاس اور غلامی سے          امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے    امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمایے کے تسلط سے    امن جمہور کی خوشی کے لئے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف    امن پرامن زندگی کے لئے

نظم کے دوسرے حصہ میں ساحرؔ کچھ تجاویز پیش کرتے ہیں تاکہ جنگ کو ٹالا جاسکے۔ ساحرؔ کہتے ہیں کہ کسی پراپنی برتری ثابت کرنے کیلئے کیا جنگ ضروری ہے جبکہ تعلیم و صحت کھیل کود اور دیگر شعبوں میں ترقی کرتے ہوئے ایک ملک دوسرے ملک پر اپنی برتری ثابت کرسکتا ہے۔ اولمپک گیمس دنیا بھر میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی اچھی مثال ہیں۔ جاپان نے سائنس اور ٹکنالوجی میں امریکہ پر بھی برتری ثابت کردی۔ اس طرح جنگ ہی برتری دکھانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ ساحرؔ کہتے ہیں کہ اپنے گھر کے اندھیرے کو مٹانے کسی اور کا گھر جلانا درندگی اور دیوانہ پن ہے آج امریکہ پٹرول کی خاطر دنیا بھر میں جنگ کرتے ہوئے آگ لگارہا ہے اور سب ہی چپ ہیں یہ امریکی درندگی نہیں تو اور کیا ہے۔ ساحرؔ کہتے ہیں کہ انسان کو جنگ لڑنے کیلئے دوسرے میدان بھی ہیں صرف خون بہانا ہی جنگ نہیں۔ بلکہ عقل کو استعمال کرتے ہوئے زندگی کے دیگر میدانوں میں ترقی کرسکتے ہیں۔
دنیا میں جہالت کا اندھیرا چھایا ہوا ہے علم کو عام کرنے کی جنگ کرتے ہوئے جہالت کو دورکیا جاسکتا ہے۔ ادیب اور شاعر اپنے افکار کے ذریعہ یہ کام کرسکتے ہیں اور اقبال جیسے شاعروں نے اپنی فطری و فلسفیانہ شاعری کے ذریعہ یہ کام کردیا۔ دنیا میں امن قائم رکھنے کیلئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے لیکن اقوام متحدہ جنگوں کو ٹالنے میں ناکام رہا۔ چنانچہ اقوام متحدہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے دنیا میں پھیلی بربریت، لوٹ مار، غارت گیری قتل و خون کو روکنے کیلئے انسان کو جدوجہد کرنا ہے آج کی سیاست گندگی ہوگئی ہے دھوکہ دہی جھوٹ اور رشوت عام ہوگئی ہے۔ اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ عوام کسی ایک طبقہ کو دہشت گرد سمجھنے لگیں۔ جب کہ حکومت کے زیر سرپرستی دہشت گردی بھی ایک ایسا موضوع ہے جسے دنیا کے بھولے بھالے عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج میڈیا کا رول بھی کافی خطرناک ہوگیا ہے۔ اور لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لئے حادثات پر مبنی خبریں تیار کی جارہی ہیں اور پروپگنڈہ نما صحافت کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر بھرا جارہا ہے ایسے میں تعلیم یافتہ اور سنجیدہ طبقے کو یہ جان لینا چاہئے کہ میڈیا میں پیش کردہ ہر خبر درست نہیں ہوتی اور یہ کہ ہر خبر کے پیچھے ایک خبر ہوتی ہے جس کی تہہ تک پہونچنا ضرورت ہے۔ ہماری سیاست سے ان برائیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں پھیلی غربت، ڈکٹیٹرشپ، سرمایہ دارانہ نظام اور جنگی ذہن رکھنے والوں کے خلاف بھی امن پسند مہذب لوگوں کو جدوجہد کرنا چاہئے۔ اس طرح کی جدوجہد دنیا میں دیرپا امن قائم رکھ سکتی ہے۔
اس طرح ساحرؔ لدھیانوی کی نظم ’’اے شریف انسانو!،، کے ذریعہ یہ پیغام دیا ہے کہ ملکوں پر قبضے کے لئے جو جنگیں ہورہی ہیں اس سے انسانیت کو بھاری نقصان ہورہا ہے جبکہ انسانیت کی ترقی کے کام کرتے ہوئے دنیا میں تہذیبی، سماج و معاشرتی ترقی کی جاسکتی ہے۔ اور دورحاضر کے بشمول ہر زمانے میں اردو زبان بولنے والے برصغیر کے عوام کوساحرؔ کی اس نظم سے سبق حاصل کرتے ہوئے دیر پا امن اور زندگی کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کی فکر کرنی چاہئے

تبصرے بند ہیں۔