جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

حفیظ نعمانی

          بہوجن سماج پارٹی کے دوسرے چہرہ کے طور پر پہچانے جانے والے سوامی پرساد موریہ نے جب مس مایاوتی کا ساتھ چھوڑا اور ان پر الزامات کی بوچھار کردی تو مخالف پارٹیوں کے منہ میں پانی آگیا اور زبان ہونٹوں پر آگئی، کل تک جو ان کی مخالفت میں صبح و شام الفاظ کے بم برسایا کرتے تھے، انھوں نے ان کی سیاسی بصیرت اور تدبر کی شان میں قصیدے شروع کردئے، صرف اس لیے کہ موریہ غریب خانہ کو روشن کردیں۔

          یہ کوئی خود ستائی نہیں ہے بلکہ تحدیث نعمت ہے کہ ہم نے کہا تھا کہ موریہ صرف اتنا انتظار کریں گے کہ ان کی قیمت ان کے اندازکے مطابق لگادی جائے اور پھر وہ بی جے پی میں چلے جائیں گے جہاں ایک ایسے چہرہ کی تلاش ہے جسے زہریلا بتایا جاسکے۔ اتفاق سے آناً فاناً میں وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کی وزیر اعلیٰ کو ہٹا کر نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان کیا اور دوسری طرف یہ تک کہہ دیا کہ کوئی دلت بھائیوں کو نہ مارے اور نہ ستائے، اگر کسی کو غصہ ہی اتارنا ہے تو وہ مجھے مارے اور گولی مارنے کو جی چاہے تو مجھے گولی مار دے۔

          یہ وہ آواز ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اقتدار کی چھتری کی کمانیوں میں دلت ایسی کمانی ہے کہ اگر وہ نہ ہوئے تو نہ چھتری کھلے گی اور اگر کھل گئی تو بند نہیں ہوگی، سوامی پرساد موریہ یہی انتظار کررہے تھے کہ لوہا اتنا گرم ہوجائے اور جب انھوں نے دیکھ لیا تو پھر نہ اس کا انتظار کیا کہ اپنے اعلان کے مطابق ستمبر میں ریلی کرلیں اور نہ اس کا انتظار کیا کہ ان کے لیے ڈھول بجایا جائے، بس انھوں نے کہہ دیا کہ ’’لو میں آگیا‘‘ اور انھوں نے اپنے سیکڑوں ساتھیوں سے اپیل کردی کہ 2017ء میں ہونے والے الیکشن میں بی جے پی کی زبردست اکثریت والی حکومت بنانے کی کوشش میں لگ جائیں، بی جے پی کی ریاستی مجلس عاملہ کا جلسہ جھانسی میں ختم ہوگیا، توقع کی جارہی تھی کہ شاید وہاں یہ اعلان کردیا جائے کہ وزیر اعلیٰ کسے بنایا جائے گا؟ اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ سماج وادی کی جگہ لینے کے لیے بی ایس پی کی بہن جی گجرات تک اپنوں کی مرہم پٹی کرنے جارہی ہیں، اور صرف انہی کی آواز آرہی ہے کہ دلتوں اور مسلمانوں کو گئورکشا کے نام پر ستایا جارہا ہے۔ اور کانگریس نے وہ انداز اختیار کیا ہے کہ جیسے وہ 2014ء کی ذلت آمیز شکست کا حساب 2017ء میں برابر کرے گی، اس نے تاریخ کے ایک تابناک سورج کی طرح اپنی ساری کشتیاں دہلی میں جلا دی ہیں، اور وہ جو تاریخی جملے جنرل طارق نے کہے تھے کہ ’’این المفر؟ البحر من ورائکم والعدو امامکم‘‘ بھاگنے کا راستہ کہاں ہے؟ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے سامنے ہے۔ یہی سونیا گاندھی نے بنارس میں کہہ دیا، یہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ چوٹ کھاگئیں اور ہڈی کے سرجن کو آپریشن کی ضرورت محسوس ہوئی، لیکن یہ ملک نے پہلی بار دیکھا کہ مقبولیت کے جوش میں وہ کار کے بونٹ پر بیٹھ گئیں اور بھول گئیں کہ وہ صرف اے سی کمروں میں اب تک زندگی گذارتی رہی ہیں۔

          دلتوں نے جو ہزاروں برس سے زخم کھائے ہیں ان سے نجات کی روشنی انھیں گاندھی جی نے دکھائی تھی، دلتوں کے بھگوان سمجھے جانے والے ڈاکٹر امبیڈکر کے سامنے جب یہ بات آئی کہ دلتوں کو دس سال کے لیے ریزرویشن دیا جائے تو انھوں نے اس کی مخالفت کی تھی، شاید اس لیے کہ انھوں نے دستور میں سب کو برابر کا درجہ دیا تھا، انہیں یہ نہیں اندازہ ہوسکا کہ برہمن ان کو اتنی دور بیٹھائے گا جو ان کی جگہ ہے، اور اس لیے دلت کانگریس کے ساتھ لگے رہے، لیکن برس پر برس گذرتے رہے مگر اونچی ذات کے ہندؤوں نے وہ فاصلہ جو چلا آرہا تھا اسے بنائے رکھا، ایمرجنسی کے مارے ہوئے زخمیوں نے جب 1977ء میں جنتا پارٹی بنا کر الیکشن لڑا تو سب نے کاندھے سے کاندھا ملا کر کانگریس کا صفایا کردیا، بابو جگ جیون رام کو توقع تھی کہ اب تو وہی سب سے بزرگ ہیں اور کانگریس سے بغاوت کرکے وہ تنہا نہیں آئے ہیں بلکہ بہوگنا جی اور نندنی ست پنتھی کو بھی ساتھ لائے ہیں، اس لیے وزیر اعظم ان کو ہی بنایا جائے گا، لیکن اچانک مرار جی دیسائی کو بنادیا جن کاکارنامہ صرف نہرو اور خاندان کی مخالفت تھا، بابو جی پر جو گذری اس کا بار بار ہم ذکر کرچکے ہیں۔

          یہ ان کی آخری ا مید تھی جو 2014ء میں مودی صاحب کی تقریروں سے ہوئی کہ سب کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے مل جائیں گے، جس دلت کے گھر میں دس آدمی تھے اسے امید تھی کہ ایک کروڑ ملے گا، مودی جی نے جس طرح اور جس انداز سے کہا تھا اور بابا رام دیو جیسے بے داغ سے گواہی دلوائی تھی، انھوں نے مودی جی سے بڑھ کر کہا، اس کے بعد انھیں یقین ہوگیا کہ روپے ملنے کے بعد وہ ایسے کاموں کے پاس بھی نہیں جائیں گے جن کی وجہ سے ہندو ان سے نہ ہاتھ ملاتا ہے اور نہ برابر میں پڑی کرسی پر بیٹھنے کو کہتا ہے، اس کے علاوہ مودی جی نے اپنی تقریروں میں جو جو کہا اس نے سب کو ساون کا اندھا بنادیا، چوٹ کا اصول یہ ہے جو جتنی اوپر سے گر گیا اسے اتنی ہی زیادہ چوٹ لگے گی، اس بار ملک کے کروڑوں دلت بہت اوپر سے گرے ہیں، پٹنے اور ذلیل ہونے سے سب کو تکلیف ہوتی ہے، گجرات کے اونا میں جو کچھ ہوا اس میں نہ تو ان کا قصور تھا کہ اس گائے کو شیر نے مار دیا تھا اورنہ انھیں پولیس نے مارا بلکہ ان کے جیسے ہندوئوں نے اپنے ہاتھوں میں قانون لے لیا اور مارنے سے زیادہ ہزاروں بلکہ سوشل میڈیا میں آنے کے بعد کروڑوں انسانوں کے سامنے ذلیل کیا، اب ا نھوں نے قسم کھائی ہے کہ کھال نہیں اتاریں گے، اتنے بڑے معاملہ کو سنبھالنے کے لیے سوامی پرشاد موریہ کو اگر وزیر اعلیٰ بنانا پڑے تو سودا مہنگا نہیں ہے جبکہ کسی وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے لیے دہلی سے صرف ایک ٹیلی فون کافی ہے کہ استعفا دے دو۔

          سوامی پرساد موریہ برسوں سے بی ایس پی کے بڑے لیڈروں میں تھے، اور پوری زندگی ان کی یہ دیکھتے ہوئے گذری ہے کہ دلت غصہ میں کوئی فیصلہ اگر کرلیتے ہیں تو کتنے دن اس پر قائم رہتے ہیں ؟وہ جب بی ایس پی میں آئے تو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ چند برسوں کے بعد ہی برہمن ٹھاکر، راج پوت، بنئے، یادو، جاٹ اور مسلمان سب آجائیں گے یا نواب رام پور کے پوتے بھی بہن جی کے دربار میں ٹکٹ مانگنے آئیں گے، اور نسیم الدین صدیقی ان کے سب سے بڑے راز دار ہوں گے، انھوں نے معذرت کے انداز میں کہا تھا کہ ’’تلک ترازو اور تلوار، مارو ان کے جوتے چار‘‘ کا نعرہ کانشی رام جی نے نہیں بنایا تھا، وہ پڑھے لکھے آدمی تھے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ پھر کس نے یہ نعرہ دیا تھا؟بہن جی نے جب 2007ء میں حلف لیا اور دلایا تو وہ کنارے کی کرسی پر داہنا پائوں بائیں ٹانگ پر رکھ کر بیٹھ گئی تھیں تاکہ جو حلف لینے جائے وہ ان کا پائوں چھو کر جائے اور وہ اس طرح بیٹھی تھیں جیسے کملا پتی ترپاٹھی ہمیشہ بیٹھا کرتے تھے، موریہ جانتے ہیں کہ قسم بھی زیادہ دن نہیں چلتی، اسی لیے انھوں نے ستمبر کا انتظار کیا نہ ریلی کا، اب وہ اگر گجرات کے دلتوں کو گائے کی کھال اتارنے پر راضی کرلیتے ہیں تو یہ وہ احسان ہوگا جس کی قیمت صرف مودی جی دیں گے، اوروہ وزیر اعلیٰ کی کرسی بھی ہوسکتی ہے، چاہے چند مہینوں کی ہو، لیکن سابق وزیر اعلیٰ بھی بہت بڑی چیز ہوتی ہے، اب انتظار کیجئے اور دیکھئے کیا ہوتاہے؟

تبصرے بند ہیں۔