زی نیوز کی بے شرمی

ابوعدنان چمپارنی
ابھی کل کی بات ہے جبکہ فسطائی طاقتیں ذاکر نائک کی کردارکشی کررہی تھیں اور انہیں دہشت گردی کا نائک بتا رہی تھیں لیکن اب زی نیوز ڈاکٹر ذاکر نائک کے تعلق سے ایک دوسری بدتمیزی پر اتارو ہے۔ آج بتاریخ ۱۵؍جولائی 2016ء ڈاکٹرذاکر نائک نے سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ سے اسکائپ کے ذریعہ ہندوستانی میڈیا سے مخاطب ہوئے جس میں بہت سارے صحافیوں نے ذاکر نائک پر لگے الزامات پر صفائی چاہی اور تقریبا دو گھنٹے تک مختلف سوالات پوچھے لیکن اس پریس کانفرنس میں بدنام زمانہ چینل زی نیوز کا رویہ انتہائی غیر شائستہ رہا اور اس کے ایک شاطر رپورٹر نے سازش کے تحت پریس کانفرنس میں ہنگامہ کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی اور موضوع سے ہٹ کر متعدد بے ہودہ سوالات کئے۔ پریس کانفرنس کے دوران اس شاطر رپورٹر نے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کیا ہے؟ کتنے بچے ہر سال اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور کتنے مسلم بچے اسکول نہیں جا پاتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سوالات پریس کانفرنس سے متعلق نہیں تھے کیونکہ ذاکرنائک پر الزام لگایا گیا تھاکہ ان کے لیکچرس سے مسلمان بچے دہشت گرد بن رہے ہیں اور وہ اپنی تقریروں کے ذریعہ تشدد پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔زی نیوز کو چاہئے تھا کہ اس کے سوالات اسی سے متعلق ہوتے اور اس کا رپورٹران کے بیانات کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کرتا تاکہ اس بدنام زمانہ چینل نے ہفتہ بھر جو کچھ ان کے خلاف اسٹوری چلائی ہے ،اسے اپنے شکوک و شبہات کے جوابات مل پاتے اور اسے معلوم ہوپاتا کہ ذاکر نائک دہشت پسند نہیں بلکہ امن پسند داعی اور عظیم اسکالر ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زی نیوز اور اس جیسے دیگر شرپسندوں کو معلوم ہے کہ ذاکرنائک کا دہشت گردی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور فسطائی طاقتوں کواس معاملہ میں اپنی پسپائی کا احساس ہوگیا ہے اور انہیں معلوم ہے کہ ذاکر نائک ایک امن پسند ہیں تبھی تو انہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کیا اور پریس کانفرنس میں طوفان بدتمیزی کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد اس بدنام زمانہ چینل نے یہ اسٹوری چلانی شروع کی کہ اس نے اپنے سوالات سے ذاکر نائک کو ایکسپوز کردیا اور ان کی بولتی بند کردی اور ذاکر نائک لاجواب ہوگئے۔۔واہ رے زی نیوز ، تیری بے شرمی کا کیا کہنا۔۔۔
مسلمان وطن عزیز میں حددرجہ پسماندہ ہیں اور ان کی تعلیمی، معاشی اور اقتصادی حالت انتہائی خراب ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ نے اس بات کو واضح کردیا ہے۔ آرایس ایس نواز زی نیوز چینل کو چاہئے کہ اگروہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے اتنا ہی سنجیدہ ہے تو وہ ایک مہم چھیڑے کہ حکومت سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرے لیکن ہمیں یقین ہے کہ زی نیوز ہرگز ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کو مسلمانوں سے محبت نہیں ہے بلکہ وہ چینل ہمہ وقت مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مشغول رہتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف مہم چھیڑے رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے آج کی تاریخ میں سچر کمیٹی کی سفارشات کو حکومت نافذ کرنا چاہے تو سب سے پہلے یہی چینل اس کے خلاف ہوہلا مچائے گاکہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے خصوصی پروگرام کیوں چل رہے ہیں، دھرم کے نام پر مراعات کیوں دی جا رہی ہے بلکہ سفارشات نافذ کرنے والی پارٹی کو ووٹ پالیٹکس کرنے کا الزام لگایا جائے گا۔۔۔ لہذا، زی نیوز کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کا جھوٹا بہی خواہ بننے کی ناکام کوشش کرنا چھوڑدے کیونکہ اس کے مکروہ چہرے سے پردہ ہٹ چکا ہے اور وہ پوری طرح سے ایکسپوز ہوچکا ہے۔۔ زی نیوز کو چاہئے کہ وہ اس قدر بے شرمی کا مظاہرہ کرکے جمہوریت کے چوتھے رکن میڈیا سے لوگوں کا اعتماد ختم نہ کرے۔بلکہ میں حکومت سے التماس کرنا چاہوں گا کہ اسے چاہئے کہ وہ زی نیوز کی دریدہ دہنیوں اور برہنہ گفتاریوں پر سخت ایکشن لے، کیونکہ وہ مسلسل ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کا خون کرنے پر بضد ہے، اور ایک باعزت شہری کی کردار کشی کی مرتکب ہوئی ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ زی نیوز کا ایڈیٹر سدھیر چودھری اور اس کا باس سبھاش چندرا کول گیٹ معاملے میں سوکروڑ اگاہی کے ملزم ہیں اور یہ سدھیر تہاڑ جیل بھی جاچکا ہے، جس کا ایڈیٹر اور باس ہی ملزم ہو اس سے خیر کی امید تو فضول ہے۔۔۔ لیکن حکومت سے التماس ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی نبھاتے ہوئے باعزت شہریوں کو میڈیا ٹرائل کا شکار ہونے سے بچائے اور اس کے خلاف سخت کاروائی کرے تاکہ آئندہ میڈیا والوں کے لئے یہ نظیر بن سکے۔

تبصرے بند ہیں۔