سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا 

مدثراحمد

ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے اس آبادی کے لحاظ سے انکی قیادت اورنمائندگی کرنے کیلیے تنظیمیں، ادارے اور جماعتیں بھی موجود ہیں۔ ہمارے یہاں جو تنظیمیں وادارے قائم کئے گئے ہیں انکے ناموں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یقیناً یہ تنظیمیں مسلمانوں کی یقینی طور پر قیادت کررہے ہیں۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے ہماری تنظیمیں اورادارے جس مقصداورارادوں کے ساتھ قائم کئے جاتےہیں وہ صرف کاغذی مقاصد بن کررہ جاتے ہیں بقیہ تمام مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ہماری تنظیمیں وادارے اپنے بائلا میں جو چیزیں بیان کرتے ہیں ان کو عملی جامہ پہنانے کیلیے شاید ہی انکی فکر اور انکی ذہین رہتا ہے۔ جسطرح سے سرکاری نظام میں نقلی نوٹ پائے جاتے ہیں اسی طرح سے کئی نقلی تنظیمیں موجود ہیں جو صرف نام کیلیے قائد تنظیمیں ہوتی ہیں اورکام کیلیے انکا کوئی وجود ہی نہیں رہتا۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام کی تمام تنظیمیں نقلی ہیں البتہ بیشتر تنظیمیں صرف قوم کو لوٹنے کیلیے بنائی گئی ہیں۔ ہندوستان کے تمام صوبوں کا معائنہ لیا جائے تو مسلمانوں کی تنظیمیں اپنےحقیقی نصب العین سے ہٹ چکی ہیں۔ ایک طرف اُمت مسلمہ مسلسل مسائل کا شکار ہورہی ہیں، گائو کشی، لوجہاد، گروہی تشدد، مدرسہ، مساجد، شرعیہ قانون، مسلم تعلیمی ادارے سب کے سب نشانے پر ہیں اور انکی بقاء کیلیے ہمارے یہاں نام نہاد تنظیمیں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ تنظیمیں اپنے آپ میں محض لوگوں کے سامنے طاقتورکے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس کا خمیازہ براہ راست مسلمانوں کو اٹھانا پڑرہا ہے۔

آج ہندوستان میں مسلمان اپنے سماجی حقوق مانگنے سے تو دور جو دیا جارہا ہے اسے عام لوگوں تک پہنچانے میں ناکام ہوئیے ہیں۔ آئین کے مطابق ملک میں تمام شہریوں کو حقوق دئے گئے ہیں خصوصاً اقلیتوں کے حقوق کو زیادہ تقویت دی گئی ہے۔ لیکن مجال ہے ہماری مسلم تنظیمیں کہ وہ ان حقوق کو عام لوگوں تک پہنچانے کیلیے کارگرثابت ہوسکے۔ ہم نے اکثردیکھا ہے کہ ان تنظیموں کا وجود عہدے حاصل کرنے اور چندے وصول کرنے تک محدود ہوچکا ہے۔ ایک طرف مسلمان مسلسل مارے جارہے ہیں مسلمانوں کی حفاظت کیلیے تنظیمیں ناکام ہورہی ہیں۔ اورجو تنظیمیں اس سمت میں کام کررہی ہیں ان تنظیموںکے پیر کھینچنے کا کام دوسری تنظیموں کے ذریعہ سے کیا جارہا ہے۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنی تنظیموں کو بڑھاوا دینے سے بھی گریز کرتے ہیں اگر کوئی تنظیمیں اچھا کام کرتی ہیں تو اسکی تائید کرنے کی بجائے خود مسلمان اس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اوردوسرے قوم کے لوگوں اوراداروں کو اپنا رہنما و رہبر تسلیم کرتے ہیں۔ دوسری قوم کے لیڈروں کی آئو بھگت کرنا آج مسلمانوں کا شیوہ ہوچکا ہے۔ وہ اپنوں کو ترجیح دینا نہیں چاہتے بلکہ دوسروں کی غلامی پسند کرتے ہیں۔ اگر یہی حال جاری رہا تو مسلمانوں کی حالت بدتر ہوگی۔ مسلمانوں کی قیادت کے نام پر جو تنظیمیں عمل میں لائی گئ ہیں ا ن تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو پامال نہ ہونے دیں۔ جب تنظیمیں راہ حق پر رہیں گی ظالموں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گی اس وقت تک مسلمانوں کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ البتہ جب تنظیمیں ہی خود خوف کا شکارہونے لگتی ہیں تو مسلمانوں پر آفت آنے لگتی ہے۔

آج سرکاری عہدوں، سیاستدانوں اور ان تمام حکومتی اداروںمیں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔ مسلمان اپنے آپ کو جہاں تیس مار خان سمجھتے ہیں وہیں انکی بتیسی توڑنے کیلیے حریف جماعتیں تیار ہیںاور مسلمان ان حریف جماعتوں کا سامنا کرنے کیلیے بھی تیار نہیں ہے۔ ملت اسلامیہ کو آج صحیح قیادت کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ ڈرپوک، جاہل گنوار قائدین کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلیے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرے۔ ہندوستان میں 2019 میں جو حکومت اقتدار پر آئی ہےا س کے آنے کے بعد تو مسلمان خوف وپریشانی میں مبتلاء ہوچکا ہے، ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے تو کئی جگہوں پر مسلمانوں کو دھتکارا جارہا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی تنظیموں کو مضبوط کرتے ہوئے آواز اٹھائیں۔ تنظیموں کی ذمہ داری محدود نہیں ہوتی اورنہ ہی یہ تنظیمیں سرکاری امداد کی بنیاد پر چلتی ہیں۔ تنظیمیں تو ملت اسلامیہ کی امانت ہیں اوراس امانت کے ذریعہ سے مسلمان اپنی آواز کو بلند کرسکتے ہیں۔

مسلمانوں کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ روایتی جلسے واجلاس کو چھوڑ کر قوم وملت کے حقوق کیلیے آواز بلند کریں تنظیموں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اپنی تنظیموں کے ذریعہ حکومتوں کی خوشامد کریں۔ صد سالہ، 50 سالہ جلسوںکو منعقد کریں، سیلاب، طوفان، زلزلوں کی آمد کا انتظار کریں تاکہ    چندوں کو جمع کر امداد کام کے نام پر اپنے گھروں کو بھی آباد کرلیں۔ اگر واقعی میں مسلمانوں کے پاس اپنے ماضی کی طرح ہمت وشجاعت ہے، 313 صحابہ اکرام ؅ کی ہمت کو ہر سال دہرانے کی بات کرتے ہیں تو انہیں بھی چاہیے کہ کم ازکم اپنی طاقت کے مطابق موجودہ حالات سے لڑیں اورمسلمانوں کو تحفظ فراہم کریں۔ 313 صحابہ اکرام ؅کی شجاعت ہمارے لیے صرف قصہ نہیں ہے بلکہ سبق ہے کہ اس واقع کی طرح ہی ہر دور میں ظالموں کے ساتھ مقابلہ کریں۔ اسی لیےعلامہ اقبالؔ نے کہا تھا کہ

  سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائےگا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تبصرے بند ہیں۔