شراب پر پابندی : نیکی اور پوچھ پوچھ

عبیدالکبیر

پچھلے دنوں جب یوپی میں  چار لوگوں کو زہریلی شراب کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے بعد ایک بار پھر شراب پر پابندی کا مسئلہ موضوع بحث بن گیا ہے۔شراب پر پابندی بھارت میں کوئی غیر متعارف چیز نہیں ہے ۔اس سے پہلے ملک کی ریاست گجرات اور بہار میں شراب کے استعمال کو قانوناً ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔شراب پر پابندی کے حوالے سے عموماً جب بات کی جاتی ہے تو شراب کے کاروباری اور کچھ پینے کے شوقین حضرات اس کے خلاف اپنی “مجبوریاں “پیش کردیتے ہیں۔ منجملہ ان باتوں کے جو تائید میکشی میں پیش کی جاتی ہیں ایک اہم بات تاجران شراب کے روزگار کا مسئلہ اور اس سے ہونے والی سرکاری آمدنی  بھی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس سے تاجروں کا روزگار متاثر ہوگا اور  سرکاری ذرائع آمدنی کا ایک کھلا دروازہ ریاست کے لئے بند ہو جائے گا ۔اگر معاملہ کا صرف یہی ایک پہلو قابل التفات ہو تب تو بلا شبہ اس کا یہی نتیجہ تسلیم کیا جائےگا مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس سلسلہ میں کئی ایک حساس پہلو اور بھی ہیں جو یقیناً مذکورہ مسئلہ سے زیادہ حل طلب ہیں ۔شراب سے جہاں بظاہر کچھ فائدہ بھی  ہو جاتا ہے وہیں اس کے مفاسد اس سے کہیں زیادہ دور رس مہلک اور ہمہ گیر ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ تندرستی ہزارنعمت ہے،اور انسانی صحت کی قدر وقیمت کو سمجھنے کے لئے کسی طویل بحث ومباحثے کی چنداں ضرورت نہیں ۔اس بھری دنیا میں انسان کی جملہ سرگرمیوں کا خلاصہ ہی اپنی جان کا حفظ و امان ہے،حتی کہ مثل مشہور ہے “جان ہے تو جہان ہے”۔حفظ جان کے حساس مسئلہ کے پیش نظر انسان ہمیشہ  سے ایسے اسباب وعوامل سے پرہیز کرتا رہا ہے(یا کم ازکم اس کا قائل رہا ہے ) جو اس کی صحت کے لئے کسی بھی قسم کے خطرات پیدا کرنے کا باعث ہوں ۔ چنانچہ حفظان صحت کے کچھ نہ کچھ اصولوں کو ہر زمانے میں تسلیم کیا گیا اور جوں جوں انسانی ذہن نے ترقی کی اس میں روز افزوں اضافہ بھی ہوتا رہا ۔موجودہ دنیا میں انسان نے کافی کچھ ترقیاں کر لی ہے ۔بہت سی اشیا کی ماہیت اور خواص دریافت کرکے اس کے حسن وقبح کا ادراک بھی کر لیا ہے مگر چونکہ انسان بھی انہی اشیا کی طرح بجائے خود مخلوق ہے اس لئے اس کا معمولی علم کائنات کے موجودات کا قابل لحاظ احاطہ کرنے سے قاصر رہے۔اس ضمن میں  افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ جن اشیا کی مضرت کا کافی علم انسان کو اپنے تجربات کی روشنی میں حاصل ہو چکا ہے اس کے تئیں بھی انسان کا رویہ معقول نہیں ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں انسان ایک بار  پھر اپنے جذبات اور خواہشات  کی دہلیز پر اپنے علم وادراک کے تقاضوں  کو قربان کر رہا ہے اور بالآخر اپنی جان کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔آج کے سائنسی دور میں جہاں ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بڑے بڑے ادارے تحقیق وتجسس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور علم حیاتیات کےماہرین  ایک ایک چیز کے خواص میں غور کرکے اس کے نفع وضرر سے دنیا کو آگاہ کررہے ہیں اس میں یہ المیہ بڑا اندوہناک ہے کہ محض مادی منفعت کے پیش نظر ان مہلک اشیا کے استعمال کو روا رکھا  جائے ۔ منشیات کے حوالے سے پوری دنیا میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ انسانی جان کے لئے سم قاتل ہیں ۔جگہ جگہ چھوٹی بڑی سڑکوں پر بڑے بڑے اشتہارات اویزاں کئے جا تے ہیں اور ان کے پیچھے قومی سرمایے کا ایک معتد بہ حصہ صرف کیا جاتا ہے مگر طرفہ ماجرا ہے کہ پھر یہی چیزیں ہمارے بازاروں میں بڑے اہتمام کے ساتھ بیچی جاتی ہیں ۔ان کے لئے خصوصی لائسنس جاری کئے جاتے ہیں ۔ان پر اضافی ٹیکس لگایا جاتا ہے اور اس طرح یہ  چیزیں  اپنی مضرت میں مختلف النوع اضافوں کے ساتھ عوام تک پہنچتی ہیں ۔ انسانی سماج کے اس رویہ کو آخر کیا نام دیا جائے کہ جس چیز کو حکومتی سطح پر شجر ممنوعہ قرار دیکر عوام کو اس سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہو پھر اسی چیز کے لئے جگمگاتی منڈیاں بھی دستیاب ہوں ۔ گذشتہ دنوں ملک کی ریاست یوپی میں زہریلی شراب کی وجہ سے چار زندگیاں موت کی آغوش میں چلی گئیں ۔یہ ایک معاملہ تھا جو منظر عام پر آیا مگر نہ جانے کتنے حادثات ہیں جو اس جیسی چیزوں کے استعمال سے ہر لمحہ انسانی جان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں ۔شراب کی مضرت کواگر ایک جملہ میں بیان  کیا جائے تو بجا طور اسے ام الخبائث سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔اعداد وشمار سے قطع نظر  اگر ہم صرف  اپنے مشاہدے کی روشنی میں غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ شراب کے ساتھ کئی ایک سنگین جرائم کا خصوصی رشتہ ہے ۔سڑک حادثات ،گھریلو تشدد، خواتین کے ساتھ زیادتی اور لوٹ کھسوٹ کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے ۔سڑک حادثات سے متعلق یہ بات بہت واضح ہے کہ اس کا سبب زیادہ تر پینے کا شوق ہی ہوا کرتا ہے ۔گھریلو تشدد اور خانہ بربادی کے پیچھے بھی اس زہر سیال کا خاصا کردار پایا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی اور ان کا استحصال نیز لوٹ کھسوٹ کے واقعات خصوصاً دوران سفر اکثر جرائم پیشہ افراد منشیات کا سہارا لیکر انجام دیتے ہیں ۔شراب کے مادی اور روحانی مفاسد کا احاطہ ایک مختصر مضمون میں نہیں کیا جا سکتا تاہم  اس کے مہلک نتائج ہمارے سامنے ہیں ،ہم اپنی عقل و شعور سے کام لے کر اس کو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں ۔ ہمارے جو احباب اس مسئلہ کو خالص سائنٹفک نقطہ نظر سے بھی دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس زہر کی وجہ سے آج انسانی صحت پر کیا کچھ بیت رہی ہے ۔شراب خاص طور سے انسانی جسم کے اعضائے رئیسہ کو تدریجاً ناکارہ بنا دیتا ہے یہ دختر رز ہوش وخردمیں اختلال برپا کرنے کے ساتھ ساتھ  دل ،جگر گردہ اور دماغ سبھی  کو آخر کا ر غرق مئے ناب کر کے چھوڑتی ہے۔ان اسباب ونتائج کے پیش نظر ہمیں اپنے رویے اور انجام پر غور کرنا چاہئے ،کیا واقعی ہمیں اپنے مستقبل کا سودا صرف دوگھونٹ زہرکے عوض کرلینا چاہئے  ؟کیا چند سوداگروں کی آسائش کے لئے ایک ریاست کو اپنی رعایا کی جان ومال کا خسران عظیم برداشت کرنا چاہئے؟کیا سرمایہ کاری کے ایسے راستے ہم پر بند ہو چکے ہیں ہو مجموعی طور پر انسانی آبادی کی نشونما اور ترقی پر منتج ہوں؟ دنیامیں انسانی زندگی کا بقا وارتقا اور اس کا تحفظ بہت معنی رکھتا ہے ۔ہم اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو جس قدر ان چیزوں سے باز  رکھنے میں کامیاب ہوں گے ہماری  ہمہ جہت ترقی بھی اس سے راست طور پر وابستہ ہوگی۔

تبصرے بند ہیں۔