صابیہ کو کب ملے گا اب انصاف؟

امام علی مقصود فلاحی

موجودہ دور میں ایک سماجی مسئلہ، جس نے ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر گمبھیر صورت اختیار کرلی ہے، خواتین کی عزت و آبرو کی پامالی اور عصمت دری ہے۔ وہ اپنوں اور پرایوں دونوں کی جانب سے زیادتی اور دست درازی کا شکار ہیں۔ کوئی جگہ ان کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ گھر ہو یا دفتر، پارک ہو یا بازار، ٹرین ہو یا بس، ہر جگہ ان کی عصمت پر حملے ہو رہے ہیں اور انھیں بے آبرو کیا جا رہا ہے۔ کبھی معاملہ عصمت دری پر رک جاتا ہے تو کبھی ظلم کی شکار خاتون کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایک گھناونی صورت اجتماعی آبروریزی کی ہے، جس میں کئی نوجوان مل کر کسی معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں، پھر بڑے درد ناک طریقے سے اسے قتل کردیتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔

جیساکہ ابھی چند روز قبل دہلی کی سرزمین سنگم وہار میں ایک معاملہ پیش آیا جس میں ایک ایکیس سالہ لڑکی کی عزت کو تار تار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ لڑکی جسکا نام صابیہ سیفی تھا وہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ ایک پولیس آفسر تھی، اسکا تعلق سول ڈیفنس سے تھا، وہ ایک سرکاری ملازم تھی، وہ ایک غریب گھرانے کی تھی، اسکی ماں نے مزدوری کرکے اسے پالا تھا، اسکے باپ نے مزدوری کرکے بڑے محنت سے اسے پڑھایا تھا، ابھی وہ ایک کنواری لڑکی تھی، گھر کا پورا خرچہ اٹھاتی تھی، اپنے ماں باپ کو خوش حال رکھتی تھی، ایک دن جب وہ آفس گئی تو واپسی کے وقت ہی اغوا کر لی گئی، اسکے بعد اسے فرید آباد لے جایا گیا اور اغوا کرنے والے بھی کوئی عام آدمی نہیں تھے بلکہ وہ بھی اسی گروہ سے وابستہ تھے۔

اسی گروپ کے کچھ لوگوں نے اسے حوس کا نشانہ بنایا اور اسکی عزت کو تہ و بالا کردیا اور آخر میں اسے درد ناک سزا دے کر، اسکے پرائیویٹ بوڈیز کو  چاقو سے کاٹ کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پھر جب اسکی لاش پائی گئی چھری کے ساتھ پائی گئی، اس حال میں کہ اسکا جسم مسخ ہو گیا تھا، اسکی چھاتیاں کاٹ دی گئی تھی۔ جب اسکی لاش فرید آباد پولیس کو ملی تو اس نے ہاسپٹل کے حوالے کیا، اسکا پوسٹ مارٹم کرایا، اور میڈیکل رپورٹ کو مخفی رکھ کر اسے لواحقین کے حوالے کردیا۔ شکایت درج کروانے کے لیے لواحقین نے جب سنگم وہار پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا ، تو پولیس نے ان کی شکایت قبول کرنے اور رجسٹر کرنے سے انکار کردیا۔

صابیہ کا خاندان ہفتے سے سنگم وہار میں اپنے گھر کے باہر احتجاج کرتا رہا، سی بی آئی تحقیقات اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا رہا، لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہ کیا گیا۔اہل خانہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں ، لیکن حکام ان کی درخواست سننے کے لیے ان تک نہیں پہنچے۔

قارئین: ذرا اس پر بھی توجہ کریں کہ وہ میڈیا جو آج تک افغانستان کی بات کرتا رہا، وہ چینل جس میں آج تک طالبان کی باتیں ہوتی رہی، وہ گودی میڈیا جو افغانستان کی بیٹیوں کی آواز اٹھاتا رہا۔آج جب خود اسکے ملک کی بیٹی کی عزت کو تار تار کیا جارہا ہے، اسے انصاف نہیں دیا جارہا ہے، گھر والے کئی دنوں سے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انکی سنوائی نہیں ہورہی ہے تو آج یہ گودی میڈیا کس بل میں جا چھپا ہے، آج وہ گودی میڈیا اس آفیسر کو انصاف کیوں نہیں دلا رہا ہے؟

 اسکے گھر والوں کی مانگ کو پورا کیوں نہیں کروا رہا ہے؟ کیا اس دیس کی بیٹیاں محفوظ ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اس دیس کی بیٹی کا حال افغانستان کی بیٹیوں سے بھی برا ہے۔وہاں کی بیٹیاں جاہل ہی سہی محفوظ ضرور ہیں، لیکن اس دیس کی بیٹاں پڑھ لکھ کر بھی محفوظ نہیں رہیں۔وہاں کی بیٹیاں اگر چہ گولی کا نشانہ بنتی ہیں پر اس دیس کی بیٹاں کسی بھیڑیے کی حوس کا شکار ہوکر اپنی جان دیتی ہیں۔

 دہلی کے کیجریوال جو سول ڈیفنس کے نام پر  ڈھنڈورا پیٹتے تھے اور کہتے تھے کہ اسکے ذریعے دہلی والوں کی حفاظت کریں گے، آج کہاں ہیں وہ؟ ذرا ان‌ سے پوچھو کہ جب آج خود سول ڈیفنس کی خاتون ہی محظوظ نہیں رہی اور ڈی ایم کی آفس میں کام کرنے والی جب خاتون ہی اغوا کر لی گئی تو دہلی کی خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری وہ کیسے لے سکتے ہیں؟

اور ذرا ان سے سوال کریں جو ملک کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں، مودی جی اور امت شاہ سے ذرا سوال کریں کہ خود انکے ناک کے نیچے دہلی جیسے مرکز میں، ایسا واقعہ کیسے پیش آرہا ہے؟

ارے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگانے والے کہاں چلے گئے؟

جب ایک آفیسر کا ایسا درد ناک واقعہ پیش آیا تو کو سرکاری ملازم، اور بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے والا کوئی شخص کیوں نہیں کھڑا ہوا؟ کیوں نہیں کوئی سامنے آکر اسکے انصاف کا مطالبہ کیا؟

کیوں نہیں ابھی اسکے مجرموں کو پکڑا گیا؟

کیوں نہیں ابھی تک انکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا؟

کیا اسی لیے کہ وہ ایک مسلم خاتون تھی؟ یا اس لیے کہ وہ ایک غریب گھرانے کی تھی؟

یہ سوال ہے جو ان لوگوں سے پوچھنا ہے جو دہلی کے رکھوالے ہیں، جو سول ڈیفنس کے نام کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، ان لوگوں سے پوچھنا ہے جو دہلی کے ڈی ایم اور سی ایم ہیں، ان لوگوں سے پوچھنا ہے جو بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا مہم چلاتے ہیں۔

اور ساتھ ہی ساتھ ہم سب کو مل کر بلا تفریق مذہب و ملت، قانون کے دائرے میں رہ کر انصاف کی گوہار لگانا ہے، کیونکہ ہم سب پہلے نمبر پر بھارت کے شہری ہیں بعد میں ہندو، مسلم ،سکھ، عیسائی ہیں، اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل کو ہماری بہن بیٹیوں کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

کیونکہ ہم نے تو سوچا تھا کہ نربھیا کیس کے بعد دہلی پاک صاف ہوجائے گا، لیکن شاید ابھی نہیں ہوا ہے، کیونکہ یہ دردناک معاملہ بھی اسی دہلی میں پیش آیا ہے، اسی ہم سب کو اب اس دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو پاک کرنا ہے تاکہ اس دیس کی بیٹیاں جہاں بھی رہیں محفوظ رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔