ظالم کی آزادی مظلوم کی بربادی

عبــدالعـــزیـز

        عام طورپراگرکوئی ملک کسی بیرونی ملک کی حکمرانی سے اپنے ملک کوآزادکراتاہے۔ اس کی  غلامی سے نجات حاصل کرلیتاہے تواسے آزادی کہتے ہیں۔ جس دن یہ سیاسی آزادی ملتی ہے اس دن کویوم آزادی کے نام سے منایابھی جاتاہے لیکن اگرملک کے اندرکے افراددوسروں کے سیاسی آزادی یامعاشی آزادی کوسلب کرلیتے ہیں توان کی غلامی کولوگ ٹھنڈے پیٹ برداشت کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ذات پات کانظام صدیوں سے قائم ہے اس نظام کوبرہمن چلاتے ہیں اوراس نظام میں برہمن حکمرانی کرتے ہیں، اس میں بڑی ذات کے لوگوں کو امان ہوتاہے مگرجولوگ نچلی ذات پات کے بندھن میں جکڑے ہوئے رہتے ہیں دھرم یامذہب کے نام پران کااستحصال ہوتاہے۔ جولوگ صدیوں سے اس چکی میں پستے ہیں ان میں سے ایک طبقہ قسمت یادھرم کے نام پراسے نہ صرف برداشت کرتاہے بلکہ اسے پُن سمجھ کرخوش دلی سے قبول کرلیتاہے۔ چندسالوں سے نچلی ذات جسے اب دلت کے نام سے جاناجاتاہے بیداری آئی ہے وہ اپنے سیاسی حقوق کوسمجھنے لگے ہیں۔ کاشی رام نے ذات پات کے بندھن سے دلتوں کوآزادکرانے کانعرہ دیااس کاسب سے اچھااثراترپردیش میں ہوا، مایاوتی جوکاشی رام کی شاگردہ تھیں انہیں دوبارسیاسی اقتدارکی کرسی پربیٹھنے کاموقع ملا۔ پنجاب میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ ہرریاست میں کچھ نہ کچھ اثرپڑا۔ گجرات جہاں دلت بری طرح سے ستائے جارہے تھے جب گجرات کے اونامیں دلت نوجوانوں کومری ہوئی گائے کی کھال اتارنے میں زودکوب کیاگیااورٹی وی نیوزچینلوں میں اس کی کلپنگ دکھائی گئی تودلتوں کے اندربیداری کی لہرپیداہوگئی۔ بی جے پی اورآرایس ایس کے اندربھی چہ میگوئیاں جب ہونے لگی تومسٹرنریندرمودی بھی خاموش نہ رہ سکے۔ گائے کے نام نہادمحافظوں کوبرابھلاکہدیااورانہیں غنڈہ اوربدمعاش کہکران پرسے پردہ ہٹانی کی جرأت کی۔

        دلتوں کے اندربیداری کی ایک وجہ توحدسے زیادہ ظلم ہے، ان کواپنی مظلومیت کااحساس آہستہ آہستہ ہوا، دوسری وجہ یہ ہے کہ ریزرویشن سے ان کوپڑھائی لکھائی کے مواقع زیادہ ملے جس کے نتیجہ میں وہ سرکاری نوکریوں میں قابل لحاظ جگہوں یاعہدوں پرفائز ہوئے۔ پارلیمنٹ، اسمبلیوں میں بھی انہیں ریزرویشن کی وجہ سے اچھی خاصی نمائندگی ملی۔ پنچایت اوربلدیاتی اداروں میں بھی ان کی تعدادقابل لحاظ ہوگئی۔ ان کے اندربیداری آہستہ آہستہ بڑھی ہرپارٹی ان کواپنے اندرشامل کرنے کی دوڑمیں شامل ہوگئی۔ دلتوں کی جگہ جیسے جیسے خالی ہوتی گئی ان کی جگہوں کومسلمان پُرکرنے لگے۔ مسلمانوں کے اندردلتوں سے کم پڑھنے لکھنے کاجذبہ اورعدم تحفظ کی وجہ سے وہ پیچھے کی طرف بڑھتے گئے بعض ریاستوں میں ان کی حالت دلتوں سے بھی بدترہوگئی جب سے نریندرمودی کی حکومت ہوئی ان پرمظالم بھی پہلے سے زیادہ بڑھ گئے۔ ظالم کوآزادی اس قدرمل گئی کہ گائے گوشت کے شک وشبہ پرکسی مسلمان کوقتل کرناان کے لئے آسان ہوگیا۔ دہشت اورخوف کایہ عالم طاری ہواکہ پنجاب سے جانورلاتے ہوئے ٹرک کاڈرائیوراورخلاصی ندی میں کود گئے۔ ڈرائیوراپنی جان پانی میں کودکرنہ بچاسکا، خلاصی محسن اپنی جان کسی طرح بچانے میں کامیاب ہوگیا۔

        جب ظالم کوآزادی ملتی ہے تومظلوم ظالم کی آہٹ سے بھی خوفزدہ ہوجاتاہے۔ آہستہ آہستہ خوف اورڈرکی نفسیات مظلوم کی زندگی کاحصہ بن جاتاہے۔ ظالم محلہ، بستی، شہر، ریاست ہرجگہ آزادپھرتاہے نہ اسے قانون کادباؤکچھ کرپاتاہے اورنہ قانون کی حکمرانی کااسے خوف ہوتاہے۔ ظالم جب خودتخت پربیٹھاہوتونچلی سطح کے ظالموں کے حوصلے بھی بلندہوجاتے ہیں۔ اس طرح ظلم کی رسی درازہوتی چلی جاتی ہے، مظلوم کی آوازآہستہ آہستہ دبتی چلی جاتی ہے۔ ظالم جیسے جیسے آزاد ہوتاہے، آزادحکمرانی کرتاہے ویسے ویسے مظلوم کی بربادی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ نہ دستورکے دفعات کچھ آڑے آتے ہیں اورنہ عدلیہ کارگرہوتی ہے کیونکہ انتظامیہ ظالم کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ سب کوmanage کرلیتاہے اس طرح ظالم کی آزادی مظلوم کی بربادی کابہت بڑاذریعہ ہوتاہے۔ مظلوم اس وقت بیدارہوتاہے جب پانی سرسے اونچاہونے لگتاہے مگرمظلومیت سے اس وقت نجات حاصل کرنانہایت دشوارگزارکام ہوجاتاہے۔ اس لئے کہاگیاکہ ظلم کرنااورظلم سہنادونوں غلط ہے۔ ظلم چھوٹاہویابڑااس کے خلاف آوازبلندکرناچاہئے۔ ممکن ہوتوظلم کوطاقت سے بھی روکاجاناچاہئے تاکہ ظلم تناوردرخت کی شکل اختیارنہ کرسکے۔ طاقت سے مرادجمہوری ہوناچاہئے اورطاقت کے مظاہرے سے بھی مرادپُرامن ہوناضروری ہے۔

تبصرے بند ہیں۔