عدلیہ کے وقار کے تحفظ کی ضرورت

ججوں کو خود احتسابی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری نظام والے ملک ہندستان میں قانون و انصاف کی جو بد تر حالت ہوگئی ہے اور جس طرح عدالتوں میں ماورائے انصاف فیصلے ہورہے ہیں کہ عدلیہ خود انصاف کی طلبگار بن گئی ہے۔ گذشتہ 6؍ سالوں میں عدالت کے فیصلے کو دیکھا جائے توایسامحسوس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ملک کی عدالت ملک کی صاحب اقتدار پارٹی کے سامنے بے بس ہے اور مجبورمحض بن کر فیصلے سنارہی ہے۔ گذشتہ دنوں 28؍ سال پرانے ایودھیا مسجد انہدام معاملے کی سماعت کرتے ہوئے لکھنؤ واقع سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، کلیان سنگھ، اوما بھارتی، ونے کٹیار اور سادھوی رتم بھرا سمیت 32؍ ملزمین کو بری کردیا، تب بھی عدلیہ کو شرم سار ہونا پڑا۔واضح رہے کہ اس معاملے کے 16؍ ملزمین کی پہلے ہی موت ہوچکی ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج سریندر کمار یادو نے سبکدوش ہونے سے قبل اپنے دیئے گئے فیصلے میں کہاکہ بابری مسجد انہدام واقعہ منصوبہ بند نہیں تھا، عام عوام نے جب ےہ فیصلہ سنا تو وہ حیران و ششدر رہ گئی، کیوں کہ پورا ملک جانتا ہے کہ 6؍ دسمبر 1992؍ کو کار سیوکوں کی لاکھوں کی بھیڑ نے دن کی روشنی میں بابری مسجد کا ڈھانچہ منہدم کردیا تھا اور پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ اس کے بعد 16؍ ستمبر 1992؍ کو جج لبراہن کی قیادت میں ایک رکنی کمیشن بنایا گیا تھا۔ کمیشن نے 17؍ سال بعد اپنی رپورٹ سونپی تھی۔ کمیشن نے 100؍ سے زائد گواہوں سے پوچھ گچھ کی تھی اور اپنی رپورٹ میں کمیشن نے متنازعہ ڈھانچہ گرائے جانے کے معاملے کو منظم اور منصوبہ بندمعاملہ بتایا تھا۔ لیکن سی بی آئی کے اسپیشل کورٹ کے جج سریندر یادو کے حالیہ فیصلے سے ایسا لگتا ہے کہ 6؍ دسمبر 1992؍ کے واقعہ کی سماعت کے وقت ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔اس منصوبہ بند واقعہ کو پورے ملک نے دیکھا تھا، میڈیا نے ہمت کرکے اس کی کوریج بھی کی تھی، اس دن مرلی منوہر جوشی واوما بھارتی کی موجودگی میں لال کرشن اڈوانی نے انتہائی اشتعال انگیز خطاب بھی کیا تھا۔ اسی خطاب کو سننے کے بعد کارسیوک اور زیادہ مشتعل ہوگئے تھے۔ یوپی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی واضح ہدایت تھی کہ کارسیوکوں پر گولی نہیں چلنی چاہیے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی ہدایت پر افسران نے کسی طرح کی دفاعی کارروائی نہیں کی تھی اور لاکھوں کی بھیڑ میں آئے کارسیوکوں نے لال کرشن اڈوانی کا خطاب سنتے ہی مشتعل ہوکر سال 1527؍ میں بنی قدیم اور عالی شان بابری مسجد کو توڑ دیا تھا۔ پورے ملک کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کو توڑنے سے قبل سال 1990؍ میں بھاجپاکے فائر برانڈ نیتا لال کرشن اڈوانی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے رتھ یاترا پر نکلے تھے اور 23؍ اکتوبر 1990؍ کی صبح ہی بہار کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد کے حکم پر اڈوانی کو سمستی پور سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اڈوانی کی گرفتاری کی خبر سننے کے بعد اٹل بہاری واجپئی نے کہاتھا کہ ان کی پارٹی اور وی پی حکومت کے درمیان 20؍ اکتوبر 1990؍ کو خفیہ معاہدہ ہوا تھا کہ لال کرشن اڈوانی اپنی رتھ یاترا مکمل کرنے کے بعد ایودھیا میں کار سیوا بھی کریںگے اور یوپی کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کو بھی اس بات کا علم تھا۔ اٹل بہاری واجپئی نے کہاتھاکہ مجھے پتہ نہیں اس معاہدہ سے واپس جانے کا کوئی دبائو تھا یا پھر جنتادل کااندرونی خلفشار اس کاذمہ دار تھا۔ واجپئی نے کہاتھا کہ ہوسکتا ہے کہ وزیر اعظم وی پی سنگھ اور ملائم سنگھ یادو کے درمیان عدم اتفاق کے سبب اڈوانی گرفتار کئے گئے ہوں۔ اڈوانی کی گرفتاری کے سبب بی جے پی نے وی پی سنگھ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی جس کی وجہ سے وی پی سنگھ کی حکومت گرگئی تھی۔ وی پی سنگھ حکومت کے خلاف مندر برہم استر تھا۔ اس واقعہ نے ملک کی سیاست کے معنی بدل دیئے تھے۔ نومبر 1992؍ میں بابری مسجد گرائے جانے کا منصوبہ تیار کیاگیا تھا۔ نومبر 1992؍ میں سی سی پی اے کی کم از کم 5؍ بیٹھک ہوئی۔ اس میں ایک بھی کانگریسی لیڈر نے نہیں کہاکہ کلیان سنگھ کو برخواست کردینا چاہیے۔ جبکہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔ بابری مسجد گرانے کے منصوبہ میں کہیں نہ کہیں کانگریس بھی شامل تھی اوراس طرح مرکزی اور ریاستی حکومت کی ساز باز سے 6؍ دسمبر 1992؍ کو بابری مسجد منہدم کردی گئی۔ اسی بابری مسجد انہدام کا نتیجہ ہے کہ 2014؍ میں مندر تعمیر کے نام پر واضح اکثریت سے مرکز میں مودی کی قیادت مےیں بی جے پی حکومت آئی۔ ساتھ ہی 2019؍ میں بھی مودی حکومت رام مندر تعمیر کے نام پر پھر سے اقتدار میں آئی۔ بابری مسجد کی زمین پر اب تک مندر نہیں بنا  لیکن رام مندر تعمیرکے نام پر حکومت میںآتے رہے۔ اس کے لیے مودی حکومت نے 9؍ نومبر 2019؍ کو سپریم کورٹ کے من مانے فیصلے کے بعد سنگ بنیاد رکھا۔ اسی کی دوسری کڑی سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا فیصلہ ہے جس میں جج سریندر کمار یادو نے ثبوتوں کے فقدان اور مشتعل بھیڑ کو روکنے میں معاونت کرنے کا حوالہ دے کر سبھی ملزمین کو بری کردیا۔ ملک کی تاریخ میں جس طرح 6؍ دسمبر 1992؍ کا دن اس ملک کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے، اسی طرح 9؍ نومبر 2019؍ اور 30؍ ستمبر 2020؍ کا دن بھی ہندستانی تاریخ مےں سیاہ دن کی حیثیت سے جانا جائے گا۔

 ویسے گذشتہ 6؍ سالوں میں مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ ملک کی جمہوریت جن 4؍ ستونوں یعنی عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا پر کھڑی ہے وہ  چاروں ستون کمزور ہورہے ہیں، خاص طور پر عدلیہ سے عوام کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔ عدلیہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کو بچانے میں اپنی جواب دہی سے بھاگ رہی ہے یا پھر لالچ یا حکومت کے دبائو میں کام کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کے اعلیٰ عہدہ پر فائز شخص نے 9؍ نومبر 2019؍ کو بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی کے ریٹائر ہونے کے بعد بھاجپا حکومت نے یکطرفہ فیصلہ دینے کے عوض میں راجیہ سبھا کا ممبر بناکرانھیں انعام دیا۔ اس کے ساتھ ہی بہار میں ایگزی کیوٹیو کا رنگ ہر کسی نے دیکھا ہی ہے کہ کس طرح سے گذشتہ ایک سال میں بہار کے ڈی جی پی رہے گوپتیشور پانڈے نے اسمبلی انتخاب کی سرگرمی شروع ہوتے ہی اپنے عہدہ سے 6؍ مہینہ پہلے ہی وی آر ایس لے لیا اور انتخاب لڑنے کے لیے جدیو کا دامن بھی تھام لیااور نتیش کی مدح سرائی کرنے لگے۔ عدلیہ اور ایگزی کیوٹیو کا اگر ایسا کردار رہا تو مستقبل میں ملک کے ہر فرد کا اعتماد عدلیہ اور ایگزی کیوٹیو سے اٹھ جائے گا جو جمہوریت کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ جبکہ ملک میں میڈیا کا کردار جمہوریت کے تئیں کیسا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اگر ملک کی جمہوریت کو بچائے رکھنا ہے تو محبین وطن، انصاف پسند افراد کو مذہب و طبقے سے اوپر اٹھ کر کو آگے آنا ہوگا تبھی ملک کی جمہوریت محفوظ رہ سکے گی۔

تبصرے بند ہیں۔