قوم سر سید کا یہ احساں بھلا سکتی نہیں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان ایک درویش صفت شخص میر تقی کے یہاں1817ء میں پیدا ہوئے ،سر سید کی عمر ابھی 22سال تھی تبھی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا ۔سر سید کا ماننا تھا کہ مسلمان جب تک علم جدید کی طرف راغب نہیں ہوں گے تب تک کامیابی نہیں ملے گی ۔سرسید کے نزدیک مذہب ان اخلاقی اور روحانی قدروں سے پہچانا جاتا ہے جو انسانیت،،خدمت خلق،باہمی محبت ،ایثار و قربانی اور انصاف کو عام کرتی ہیں ،انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم کو عام کرنے میں صرف کر دی۔پنڈت جواہر لعل نہرو نے سر سید کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سر سید نے اپنی پوری قوت جدید تعلیم کی طرف کی طرف مرکوز کر دی اور اپنی قوم کو ہم نوا بنانے کی کوشش کی ،وہ اپنی قوم کو کسی دوسری متوجہ ہونے نہیں دینا چاہتے تھے کیوں کہ یہ ایک مشکل کام تھا اور مسلمانوں کی ہچکچاہٹ دور کرنا اور مشکل تھا ۔سر سید نے تعلیم ہی کو کامیابی کی کنجی تصور کیا اور وہ تعلیم کو ہی برائی اور بھلائی میں تمیز کرنے ،ایجادات و اختراعات کو سمجھنے اور اخلاق و کردار کی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے ۔1863ء میں سر سید احمد خان نے ’’ٹرانسلیشن سوسائٹی ‘‘قائم کی جو آگے چل کر ’’سائنٹفک سوسائٹی کے نام‘‘سے مشہور ہوئی جس کے واسطے سے وہ مغربی اقوام کے علم و ادب سے مشرق کے بے شمار لوگوں کو روشناس کرانا چاہتے تھے ۔یہ سو سائٹی سر سید احمد خاں کے ساتھ علی گڑھ منتقل ہو گئی ۔اس دور میں سر سید نے ایک نعرہ وضع کیا : تعلیم حاصل کرو ، تعلیم حاصل کرو ، تعلیم حاصل کرو ۔سر سیداحمد خان ایک مختلف الحیثیات شخصیت تھے ۔جنہوںنے اپنی زندگی میں سیاسی ،تعلیمی،ادبی،تحقیقی،اور مذہبی غرض ہر قسم کے علمی اور قومی مشاغل میں حصہ لیا ،انہوں نے نہ صرف علمی میدان میں اپنا گہرا نقش بٹھایا بلکہ ہر جگہ دیر پا اثرات چھوڑے۔

            مذہبی مصلح کی حیثیت سے سر سید سب سے پہلے مجتہد تھے جنہوں نے جدید علم الکلام کی ضرورت کو محسوس کیا ۔یہ وہ دور ہے جب مغرب میں سائنسی اور مادی ترقی زوروں پر تھی اور اہل یورپ مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ خانوں میں رکھ چکے تھے ۔اس کا اثر مسلمانوں پر بھی ہو رہا تھا ۔جہاں تک قوم کا تعلق ہے سید احمد نے زور دیا کہ قوم کو اپنے ذہن میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انگریزوں کے فکر و فن اور ان کے طریقہ کار کا صحیح ڈھنگ سے جائزہ لے سکے ۔انہوں نے کلکتہ میں 1863ء میں مسلمانوں کے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:ہر طالب علم اس نتیجے تک پہنچے گا کہ حق کثیر العباد سے اور یہ کہ دنیا اس کے فرقہ،جماعت اور معاشرے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔جہالت ہماری سب سے بڑی دشمن ہے ۔اگر ہندوستان کے باشندوں کو انگلستان کی عظیم طاقت کا اندازہ ہوتا تو 1857ء کے ناخوش گوار واقعات ہر گز رونما نہ ہوتے۔

            سر سید احمد خان نے یوں تو بہت ساری تحریک کووجود میںلایا مگر علی گڑھ تحریک ان ساری تحریکوں میں ایک انفرادی حیثیت رکھتی ہے۔ علی گڑھ تحریک کو جاننے کے لیے انیسویں صدی کے نصف اول کے سیاسی منظر نامے کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔1857ء سے قبل کے سیاسی ،سماجی،اقتصادی اور مذہبی حالات کو بھی بہت بہتر نہیں کیا جا سکتا ہے ۔انیسویں صدی کے اوائل میں مغلیہ سلطنت برائے نام رہ گئی تھی ۔اس دور میں ہندوستان کے اکثر صوبے سرکش جاگیرداروں کے ماتحت تھے جو مغل بادشاہوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا ،ان کے لیے ان حالات کا مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا ۔1857ء کی جنگ آزادی میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی شکست ہو گئی اور مکمل طور سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہو گیا ۔1857ء کی جنگ آزادی سے ہندوستانی مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان سب سے زیادہ ہوا ،اس کی وجہ یہ تھی کہ اس جنگ میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور انگریزوں کا ماننا تھا کہ ہندوستانی مسلمان ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں ،اس جنگ آ زادی کے رد عمل میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ خسارہ ہوا ۔

            سر سید احمد نے 80برس کی طویل عمر پائی ۔1817ء میں دہلی کے معزز اور شریف گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ان کی زندگی کے احوال کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔پہلا دور 1817تا 1837ہے جو  انکے بچپن جوانی اور تعلیم کا دور ہے جس دور میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے آثار دکھائی دے رہے تھے ۔دوسرادور 1838تا1857کا احاطہ کرتا ہے اس دور میں سر سید کی بہت سی تصنیف منظر عام پر آئیں ۔اسی دوران انہوں نے نوکریاور دیگر ادبی خدمات انجام دیں ۔تیسرا دور 1877تک محیط ہے ۔اس دور میں انہوں نے قوم کے مابین اتحاد و اتفاق میل جول اور بھائی چارے پر زور دیا ہے ،اس دور میں انہوں نے لندن کا سفر کیا اور وہاں کی یونیورسیٹیوں کے تعلیمی نظام سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے لندن میں ہی اپنے ذہن میں ایک خاکہ بنا لیا تھا کہ ہندوستان میں ایک عظیم یونیورسٹی مسلمانوں کے لیے قائم کریں گے ۔اسی سفر کا نتیجہ ہے کہ سر سید نے ایک اہم کتاب ’خطبات احمدیہ‘لکھی ۔یہ کتاب ’لائف آف محمڈن‘کے جواب میں لکھی گئی تھی ۔ان کی زندگی کا آکری دور 1877تا 1897ہے یہ دور اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اس دور میں سر سید نے مذہبی ،سیاسی ،تعلیمی اور علمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔