ماب لنچنگ : ایک  سلگتا ہوا مسئلہ 

سیف الاسلام قاسمی

بھارت میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ سب سے سلگتا ہوا مسئلہ ہے ۔ آزادی سے لیکر آج تک مسلسل ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جس سے سماج میں نفرت و عداوت خوف وہراس اور شدت پسندی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ 2014 میں بی جے پی کے   اقتدار میں آنے کے بعد ماب لنچنگ کے واقعات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔23 جولائ 2019 کو ملک کی 49 بڑی ہستیوں نے وزیر اعظم کو خط لکھا ۔جس میں انہوں نے مسلمانوں ۔دلتوں اور دیگر اقلتیوں کے لنچنگ کے واقعات سے انہیں  آگاہ کرایا تھا۔ لیکن راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وقت جھارکھنڈمیں ہوئے ماب لنچنگ کے شکار تبریز انصاری کے موت پرصرف جھوٹی ہمدردی کا اظہار کیا تھا ۔ اوران کے اہل خانہ سے صرف تعزیت ہی کی تھی۔ در اصل اس ملک کے وزیر اعظم کا ہاتھ ہی مسلمانوں کی ماب لنچنگ اور گجرات فسادات سے رنگا ہوا ہے اسلاموفوبیا ان کے رگ رگ میں بسا ہوا ہے۔ وہ آر ایس ایس جیسی ہندوتوا تنظیموں کے دباؤ میں ہیں.  یہی وجہ ہے وہ ماب لنچنگ پر بات بھی نہیں کرتے ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کناڈا کے اونٹاریو میں  ٹرک ڈرائیور نے ایک مسلم خاندان کے چار افراد پر ٹرک چلادیا تھا. اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم ٹروڈاؤ نے پارلیمینٹ میں کہاتھا۔ کہ اگر کوئ شخص یہ کہتا ہے کہ کناڈا میں اسلاموفوبیا نہیں ہے تو وہ غلط ہے۔ اسلاموفوبیا موجود ہے مسلمانوں سے نفرت موجود ہے آپ اگر اس مقتول خاندان کے افراد سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہاں اسلاموفوبیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد اونٹاریو کے شہری اس مظلوم خاندان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں ۔لیکن ہمارے ملک میں نا وہ  وزیر اعظم ہیں جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کرسکے اور نا وہ شہری ہیں جو مثالی ہوں ۔جو نفرت آمیز اور قتل و غارت گری کے خلاف مظاہرے کریں۔ سڑکوں پر اتریں۔اور ایسے گھناؤنے جرم کے خلاف سخت سزا کی مانگ کریں۔ اس کے برعکس عدالت انہیں با عزت بری کردیتی ہیں اور عوام   ماب لنچنگ کے ملزمین کو جیل سے رہائ کے بعد مالا پہنا کر استقبال کرتی  ہے ۔ مشہور سماجی کارکن تیستا تیلواڈ نے انڈین امریکن مسلم کونسل کے ایک پروگرام میں کہا تھا.  کہ بھارتی مسلمان مستقل خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔

پچھلے ہفتے دیر رات بہار کے ضلع ارریہ کے  چکئ گاؤں میں چوری کے الزام میں 27 سالہ نوجوان اسماعیل کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کردیاگیا۔ یہ صرف اسماعیل کا ماب لنچنگ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی  بیوی کی لنچنگ ہے جو اس کے بغیر اب ادھوری ہے۔ یہ ان کے معصوم بچوں کے مستقبل کی لنچگ ہے جو اب یتیم ہیں۔ یہ ان کے بوڑھے باپ کی لنچنگ ہے جو اب اس بوڑھاپے میں بے سہارا ہے۔ یقین مانیئے لنچنگ صرف ایک شخص کی نہیں پورے خاندان کی ہوتی ہے۔ جس کا اثر آنے والی نسلوں پر ہوتا ہے. پروفیسر گریگوری اسٹانٹون نے کہا بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی صورت حال کو بھی بدتر کیا جارہا ہے۔

آپ اندازہ لگائیے ایک لنچنگ سے صرف ایک جان ہی نہیں ایک خاندان کا قتل کیا جاتا ہے.اور اسے معاشی طور پر سالہا پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔   اس کی وجہ عدلیہ کا سخت نہ ہونا  اور انصاف میں تاخیر کا ہونا ہے۔ پولس محکمہ کی جانچ میں لاپرواہی کرنا ہے۔بعض دفعہ تو پولس محمکہ الٹے مظلوم خاندان کے افراد کو پھنسانے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ آئین کی تمہید کے پہلے صفحہ پر جہاں سیکولر عوامی جمہوریہ بنانے کے لیے۔سماجی ۔معاشی اور سیاسی انصاف ۔خیال اظہار عقیدہ مذہب اور عبادت کی آزادی کی قسم کھائ جاتی ہیں۔ بہر کیف ہمیں حکومت کے سامنے اس گھناؤنے جرم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اور مجرم کو سخت سے سخت سزا دلانے کے لیے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ مظلوم افراد کے لیے کم از کم 50لاکھ اور روزگار دینے کی مضبوط انداز میں بات رکھنی ہوگی۔ تاکہ معاشرہ ماب لنچنگ جیسے گھناؤنے جرم سے محفوظ رہے۔ اور ملک میں امن و امان قائم رہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔