مردم شماری، قادیانیت، میڈیا اور عدلیہ

عبدالعزیز           

            انگریزوں کی جب ہندستان میں حکومت تھی تو انگریزوں نے اپنی حکومت کو پائیدار اور مستحکم بنانے کیلئے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ ایک طرف مسلمانوں اور ہندوؤں میں تفریق اور لڑائی جھگڑا کرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے، دوسری طرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے اندر بھی خلفشار اور انتشار کا ایسا بیج بوتے تھے تاکہ ہندستان میں جو لوگ انگریزی حکومت  سے نفرت اور بغاوت کا جذبہ رکھتے ہیں وہ متحد نہ ہونے پائیں اور نہ ہی ان کے اندر طاقت اور قوت پیدا ہو۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا اس لئے انگریز اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں کو ہی سمجھتے تھے۔ جب ہندو اور مسلمان متحد اور منظم ہوکر آزادی ہند یا انگریزوں کی غلامی سے نجات کیلئے نہیں لڑ رہے تھے اس وقت مسلمانوں کے اندر انگریزوں سے بغاوت اور ان کے خلاف جہاد کا جذبہ موجزن تھا۔ اسی زمانہ میں جب مسلمان علماء اور مجاہدین انگریزوں سے برسر پیکار تھے۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے ایک کلرک (Clerk)کو نبوت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دی۔ پنجاب کے قادیان میں پیدا ہونے والے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی، مسیح موعود بننے کا دعویٰ پیش کردیا۔ نبوت کا دعویٰ پیش کرکے پنجاب کے چند مسلمانوں کو اپنا ہم نوا بنالیا۔ دوسری طرف انگریزی حکومت کی حمایت او ر تائید کا بھی بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے خود لکھا ہے کہ ’’برطانیہ کی حکومت کے حق میں میں نے اتنی کتابیں لکھیں اور اتنے پمفلٹ لکھے اور شائع کئے ہیں کہ پچاس الماریوں میں بھی نہیں سما سکتے ہیں ‘‘۔ جہاد کو انھوں نے باطل قرار دیا۔ ان کا یہ مصرعہ مشہور ہے  ع  آئیں گے مسیح کریں گے جنگوں کا التوا۔

            بدقسمتی سے ہندو فرقہ کے بڑے بڑے دانشور، بیرسٹر اور جج صاحبان مرزا غلام احمد قادیانی کی انگریز پرستی اور برطانیہ حکومت کی وفاداری کو نظر انداز کرتے ہوئے قادیانیوں کے خلاف عام مسلمانوں کی مخالفت کونہ صرف ناپسند کیا بلکہ اسے عدم تحمل (Intolerance) کہنا شروع کیا۔ ان میں سے ایک بڑا نام پنڈت جواہر لال نہرو کا ہے۔ انھوں نے 1936ء میں کلکتہ کے ماڈرن ریویو (Modern Review) میں تین مضامین قادیانیوں کے حق میں لکھے کہ مسلمان قادیانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ تسلیم کرنے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کے عدم تحمل کا یہ ثبوت ہے۔ اس کے جواب میں علامہ شیخ محمد اقبالؒ نے ایک مضمون لکھا کہ ’’آخر مسلمان کیوں قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے ہیں اور کیوں انھیں مرتد اور ملحد سمجھنے پر مجبور ہیں ‘‘۔ 21جون 1936ء کو علامہ اقبال جواہر لال نہرو کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :

            ’’بہت بہت شکریہ؛ گزشتہ روز آپ کا ایک خط مجھے موصول ہوا۔ آپ کا خط مجھے ایسے وقت میں ملا جب میں آپ کے مضامین کے جواب میں ایک مضمون لکھ چکا ہوں۔ میرا یہ یقین ہے کہ آپ کو احمدیوں کے سیاسی رویہ اور چال سے کماحقہ واقفیت نہیں ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں تفصیل سے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی اصل وفاداری کا سرچشمہ کیا ہے اور احمدی فرقہ نے اسلام سے کیوں اور کس مقصد کیلئے بغاوت کی ہے۔

            میرے مضمون کی اشاعت کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ مسلمانوں میں بھی بہت سے ایسے پڑھے لکھے لوگ ہیں جو احمدیوں کی باغیانہ روش اور ملحدانہ تعلیمات سے واقف نہیں ہیں۔ آپ کے مضمون سے اندازہ ہوا کہ آپ احمدی فرقہ کی تحریک سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ پنجاب کے مسلمانوں کو جو آپ کے مداح ہیں آپ کے اس رویہ سے بڑا صدامہ پہنچا ہے۔ احمدی آپ کے آرٹیکل سے بہت خوش ہوئے اور آپ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے میں احمدی پریس اور پبلی کیشن کا بہت بڑا رول ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ میرے مضمون کا اثرا ہوا ہے۔ مجھے مذہبیات سے بہت دلچسپی نہیں ہے لیکن احمدیوں کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ میں نے یہ آرٹیکل اسلام اور ہندستان کے حق میں لکھنے کی سعی کی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ احمدی یا قادیانی اسلام اور ہندستان کے غدار اور باغی ہیں ‘‘۔

            آزادی کے بعد بھی کچھ لوگ قادیانیوں کے ہمدرد رہے۔ 1971ء میں وی آر کرشنا ایئر نے کیرالہ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے فیصلہ صادر کیا کہ ’’احمدی اسلام کا ایک فرقہ‘‘ ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلہ نامہ میں لکھا کہ ’’اس مسئلہ پر اچھی طرح غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ قانون کی روشنی میں دے رہا ہوں۔ مجھے کوئی ہچکچاہٹ یا پس و پیش نہیں ہے کہ احمدی اسلام کا ایک فرقہ ہے‘‘۔ آزادی سے پہلے پٹنہ اور مدراس ہائی کورٹ کے ججوں نے بھی کرشنا ایئر کے فیصلہ سے ملتی جلتی باتیں کہی تھیں اور فیصلے صادر کئے تھے۔

            کرشنا ایئر نے قانون کی روشنی میں بات کہی ہے مگر کس قانون کی روشنی میں اور وہ کیا قانون ہے یہ بات نہیں بتائی۔ ہندستان کا کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ کوئی ایسی جماعت جو کسی مذہب میں اپنی شمولیت کا دعویدار ہو اور اپنے کو ایک فرقہ سمجھتی ہو، اسے ملکی قانون اس کو مذہب کا ایک فرقہ قرار دیتا ہو۔ یہ چیز مذہبوں اور جماعتوں کا اندرونی مسئلہ ہوتی ہے۔ اس کو مذاہب یا جماعتیں اپنے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق حل کرتی ہیں۔ عدالت کے دائرہ اختیار سے یہ چیز باہر ہوتی ہے۔

            دنیا بھر کے مسلمان علماء، ماہر اسلامی قانون سب کا اتفاق ہے کہ قادیانی خارج از اسلام ہیں، بلکہ اسلام کے باغی اور غدار ہیں۔ انھیں اسلام کو کمزور کرنے کیلئے عالم وجود میں لایا گیا ہے۔ امت مسلمہ سے ان کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں۔

            عصری تعلیم کے علماء یا ماہر قانون اگر قادیانیوں کی کتاب پڑھ لیں تو انھیں آسانی سے معلوم ہوجائے گا کہ قادیانی دنیا کے سارے مسلمانوں کو اسلام سے منحرف اورامت احمدیہ یعنی قادیانی مذہب سے خارج سمجھتے ہیں۔ 1974ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں پر بحث و مباحثہ شروع ہوا تو اس کے بارے میں پروفیسر عبدالغفور رکن قومی اسمبلی پاکستان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :

            ’’دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سے ممبران کو قادیانیت کے سلسلے میں بہت کم معلومات حاصل تھیں۔ اس کا بھی اندازہ ہواکہ کچھ ممبران قادیانی پروپگنڈوں سے متاثر ہیں لیکن جو مواد خود قادیانیوں نے پیش کئے ہیں اس نے ان کی آنکھیں کھول دیں، پارلیمنٹ نے آخری یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قادیانیوں اور لاہوریوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے جیسا کہ مرزا ناصر احمد نے بتایا کہ جومسلمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے وہ ان کے عقیدہ کے مطابق کافر ہیں۔ مسٹر صدر الدین نے یہ کہا کہ جو مسلمان مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں لاتے وہ ان کے عقیدہ کے مطابق کافر ہیں، مسٹر صدر الدین نے یہ کہا کہ مرزا نے جہاد کو باطل قرار دیا ہے۔ ایسے ہی مرزا ناصر احمد نے بتلایا کہ اسرائیل میں ان کا ایک مرکز ہے اورجب میں غیر ممالک کا سفر کرتا ہوں تو اسرائیل سفراء مجھ سے انٹرویو لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ قادیانی رہنمائوں کے بیانات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ اپنے علاوہ تمام مسلمانانِ عالم کو غیر مسلم سمجھتے ہیں ‘‘۔

            رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام 6 اپریل 1974ء کو مکہ مکرمہ میں اسلامی تنظیموں کی جو عالمی کانفرنس ہوئی تھی جس میں دنیا کے گوشہ گوشہ سے مسلم تنظیموں کے ایک سو چالیس وفود شریک ہوئے تھے اس نے بالاتفاق آراء یہ قرار داد پاس کی:

            ’’قادیانیت ایک تخریب پسند فرقہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی تباہی چاہتا ہے‘‘۔

            ہندستان میں 2011ء کی مردم شماری میں قادیانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ قرار دیا گیا ہے۔ ہندستانی میڈیا جو مسلم دشمنی میں آگے رہتا ہے اسے مردم شماری کے عملے کی یہ ادا کافی پسند آئی ہے۔ وہ قادیانیوں سے ہمدردی دکھانے کیلئے مردم شماری کے عملے کی تائید و حمایت کر رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم تنظیمیں اور علماء اور لیڈر اچھی تیاری کے ساتھ قادیانیوں کی اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کو غیر مسلم بھائیوں اور خاص طور سے میڈیا کے افراد کو حکمت عملی کے ساتھ بتائیں۔ یہ بھی ان کے علم میں ثبوتوں کے ذریعہ لائیں کہ قادیانی فرقہ انگریزوں کا پیدا کردہ ہے جو جنگ آزادی کے خلاف تھا۔ علامہ اقبالؒ نے جو مضمون پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں لکھا ہے وہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اسے بھی نکال کر لوگوں کو پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں۔ علامہ اقبال کا خط بھی راقم نے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ اگر کوئی صاحب مفت یا قیمتاً منگانا چاہیں تو بھیج دی جائے گی۔

تبصرے بند ہیں۔