مزدوروں اور کسانوں کو نظر انداز کرکے ہم نئے ہندوستان کی تعمیر نہیں کرسکتے

ہندوستان کے شعبۂ صحت عامہ اور اقتصادی ڈھانچے کی جان نکل چکی ہے

عادل فراز

کورونا وائرس کا اثر دن بہ دن ہندوستان میں بڑھتا جارہاہے۔ اس مہلک وائرس نے دنیا کے اقتصادی،سماجی اور صحت عامہ کے نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ امریکہ جیسی سُپر پاور اس کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آرہی ہے۔ ہمارا ملک جو وزیر اعظم نریندر مودی کے بقول’ ویشوگرو‘ بننے کی کگار پر تھا،موجودہ حالات سے نپٹنے میں ناکام نظر آرہاہے۔

ہندوستان کے شعبۂ صحت عامہ اور اقتصادی ڈھانچے کی جان نکل چکی ہے جس میں سرکار دوبارہ روح پھونکنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس وائرس نے ہمیں یہ بارور کرادیاہے کہ مودی سرکار فقط نعروں کی سرکارہے جس کی زمینی حقیقت بالکل الگ ہے۔ موجودہ صورتحال کے سبب تمام صنعتیں اور اقتصادی ڈھانچہ تباہی و بربادی کا شکار ہے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور دیہاڑی و مزدوری کرنے والے یومیہ غذا سے بھی محروم ہیں۔کسانوں کو فصلوں کی نیلامی کا انتظار ہے مگر سرکار کے پاس ان کے لیے کوئی منظم اور مضبوط لائحۂ عمل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کسانوں کی فصلیں ان کے گھروں میں پڑی ہیں۔

بھوک اور بے روزگاری سے بلبلاتے ہوئے مزدور گھر واپسی کی کوشش کررہے ہیں مگر روز بہ روز سڑک حادثوں میں ان کی جانیں جارہی ہیں۔ پولیس بے رحمی کے ساتھ ریاستوں اور شہروں کی سرحدوں پر انہیں پیٹ رہی ہے جیسے مودی سرکار کے مطابق’ مسلمانوں کی طرح‘ یہ مزدور بھی ’ در انداز‘ ہوں۔غریب راشن نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہے۔ سرکاری راشن کی دوکانوں کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں مگر غیر منظم نظام ان کی ضرورتوں کی تلافی کے لیے ناکافی نظر آرہاہے۔ سرکار عجلت میں لگ رہی ہے اور ٹھوس لائحۂ عمل کے بغیر مسلسل لاک ڈائون میں توسیع کی جارہی ہے۔ اگر لاک ڈائون نافذ کرنے سے پہلے ان غریبوں اور مزدوروں کے بارے میں غوروخوض کیا گیا ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ مگر وزیر اعظم مودی نے ہمیشہ ہر فیصلہ اسی طرح عجلت میں لیاہے جس کے پیچھے کوئی نظم و ضبط نظر نہیں ہوتاہے۔خواہ وہ نوٹ بندی کا فیصلہ ہو یا ’جی ایس ٹی ‘ کے نفاذ کا مسئلہ ہو۔ ‘

لاک ڈائون کے نفاذ سے پہلے اگر وزیر اعظم مزدوروں کی گھر واپسی پر دردمندی کے ساتھ غور فرماتے تو آج مہاجر مزدور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو پہونچ چکے ہوتے۔ ’عوامی کرفیو ‘ کے اعلان سے پہلے یا فوراََ بعد انکی گھر واپسی کے لیے خصوصی اقدامات کئے جاتے۔ ا نہیں ہفتہ بھر کی مہلت دی جاتی تاکہ وہ بسوں اور ٹرینوں کے ذریعہ اپنے گھرجاسکیں۔ مگر جس طرح ’عوامی کرفیو‘ او ر لاک ڈائو ن کے نفاذ میں سیاسی وجوہات کی بنیاد پر تاخیر کی گئی، اسی طرح مزدوروں کے لیےٹھوس اقدام کرنے میں بھی دیر ہوگئی۔ ’نمستے ٹرمپ‘ کے فوراََ بعد ہندوستان میں لاک ڈائون کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی مگر وزیر اعظم مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سرکار گراکر بی جے پی کی سرکار بننے کا انتظار کرتے رہے۔ اگر کرونا وائرس کا واحد علاج ’ لاک ڈائون ‘ ہی تھا تو پھر اس کے نفاذ میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی ؟۔ ساتھ ہی مکمل نظم و ضبط کے ساتھ لاک ڈائون کا اعلان کیوں نہیں ہوا؟۔ مگر کیا کیا جائے، وزیر اعظم ہمیشہ آدھی رات میں خواب سے چونکتے ہیں اور بغیر کسی پیش منصوبہ بندی کے اہم فیصلوں کا اعلان فرمادیتے ہیں۔

 لاک ڈائون کا اعلان بھی ’نوٹ بندی ‘ کی طرز پر کیا گیا۔ سرکار یہ سوچ رہی تھی کہ ’لاک ڈائون‘ اور’سوشل ڈسٹینسنگ‘ کے ذریعہ کرونا پر قابوممکن ہے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ لوگوں کو گھروں میں قید کرکے، تالی ا ور تھالی بجواکر اس مہلک وباپر فتح پانا آسان ہوگا۔ مگر سرکار کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اس کی اہم وجہ ’ٹیسٹنگ ‘ کی کمی بھی رہی۔ اول تو ہمارے پاس صحت عامہ کے شعبے میں کوئی مثالی پیش رفت نہیں ہے،جس کی حقیقت سامنے آچکی ہے۔ مودی جس ’گجرات ماڈل ‘کی بنیاد پر اقتدار میں آئے تھے اس ماڈل کی پول کھل چکی ہے۔ جب گجرات جیسی ’ ماڈ ل ریاست‘ میں ٹیسٹنگ کی بری حالت ہے تو ہم ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں زیادہ ٹیسٹنگ کی کیسے امید کرسکتے ہیں۔ مہاراشٹر کے بعد گجرات کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے مگر اب تک وہاں ڈیڑھ لاکھ کے آس پاس بھی’ٹیسٹنگ ‘ نہیں ہوسکی، جبکہ گجرات کی کل آبادی  ۶ کروڑ سے متجاوز ہے۔ یہی حال دوسری ریاستوں کا بھی ہے جہاں آبادی کے تناسب سے ٹیسٹنگ نہیں ہوسکی ہے۔
اس لمبی چوڑی تمہید کا واحد مقصد یہ ہے کہ سرکار کے پا س ’لاک ڈائون ‘ اور ’سوشل ڈسٹینسنگ ‘ پر عمل کروانے کے علاوہ کوئی دوسری حکمت عملی نہیں ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی الگ منصوبہ ہوتا اور لاک ڈائون سے پہلے پیش منصوبہ بندی کی جاتی تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔ سڑک حادثات میں مزدوروں کی جان نہ جارہی ہوتی۔ غریب اپنے گھروں تک پہونچنے کے لیے اپنی محنت کی گاڑھی کمائی پانی کی طرح نہ بہارہے ہوتے۔ اگرغریب مزدوروں کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہوتا تو وہ پولیس کی بربریت کا شکار نہ ہوتے، مگر ہماری سرکارنے کبھی سنجیدگی کے ساتھ مزدوروں کے حقوق اور ان کی پریشانیوں کے بارے میں فکر نہیں کی۔ کیونکہ ان کے نزدیک مزدور بڑی بڑی کمپنیوں اور امیروں کے لیے’ کولہو‘ کے ’بیل ‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ا ن کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ان کے لیے سرکاریں اپنے بجٹ میں فقط لبھائونے اعلانات کرتی ہیں مگر زمین پر حقیقت یکسر الگ ہوتی ہے۔ یہی حال کسانوں کا ہے جن کی فصلوں کی نیلامی کے لیے منڈیوں میں نظم و ضبط نظر نہیں آیا۔کتنے ہی کسان ایسے ہیں جو اب تک اپنی گیہوں کی فصل فروخت نہیں کرسکے ہیں۔

 جو لوگ ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعہ اناج منڈیوں تک لے جارہے ہیں ان سے بھی پولیس وصولی کررہی ہے۔ پولیس کا یہ بے رحم اور غیر انسانی چہرہ ہمارے ’کرپٹ سسٹم ‘ اور ’غیر سنجیدہ سرکاری نظام ‘کی کہانی بیان کرتاہے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ یہ پیش آنے والا ہے کہ کیا لاک ڈائون کھلنے اور کورونا پر قابو پالینے کے بعد یہ مزدور اپنے کام پر واپس لوٹیں گے ؟ کیا بڑے بڑے شہر جو اب چھوٹے شہروں کے مزدوروں سے خالی ہوچکے ہیں، دوبارہ ان کی آمد کی امید رکھیں گے ؟۔ شاید یہ امید اب دم توڑتی نظر آرہی ہے۔

اب جبکہ لاک ڈائون کےچوتھے مرحلے کا آغاز ہوچکاہے اور مزدور اب بھی گھر واپسی کی کوششو ں میں مصروف ہیں۔ سرکار کو چاہیے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنائے اور انہیں گھر تک پہونچانے کے لیے مضبوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ چھوٹےچھوٹے بچے ان کے ساتھ سفر کررہے ہیں جن کے کھانے پینے کی کوئی سہولت نہیں ہے ان کے لیے معقول انتظام کیا جائے۔ ریاست اور شہر کی سرحدوں پر ان کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام ہو۔ مزدور جس طرح ٹرکوں اور لاریوں میں جانوروں کی طرح سفر کررہے ہیں ان کے لیے زیادہ سے زیادہ بسیں اور گاڑیاں مہیا کرائی جائیں۔ جبکہ اب مزدوروں کو یہ یقین دہانی مشکل ہوگی کہ سرکار ان کی حفاظت اور گھر واپسی کے لیے سنجیدہ ہے مگر پھر بھی ممکنہ کوشش کی جائے۔ پولیس کی بربریت اور بے رحم غیر انسانی رویے پر شکنجہ کسا جائے۔

غرضکہ مزدوروں کی حفاظت اور گھر واپسی کے لیے جو بھی مزید اقدامات کئے جاسکتے ہیں ان پر فوری غور کرنا سرکار کی اولیت ہونی چاہیے۔ اس وقت متزلزل اقتصادی ڈھانچے کی بحالی کے ساتھ دم توڑتے مزدوروں اور کسانوں کی زندگیاں بچانا بھی سرکار کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ یہ مزدورہماری اقتصادیات اورسماجیات کااہم حصہ ہیں جنہیں نظر انداز کرکے ہم نئے بھارت کی تعمیر کاخواب نہیں دیکھ سکتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔