مسلم خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اورگودی میڈیا کا منافقانہ رویہ

مولانا سیدآصف ندوی

          گودی میڈیا جو اکثر مسلم خواتین کی مظلومیت کا رونا روتا رہتا ہے ، اور ہماری موجودہ زعفرانی حکومت بھی جس نے یکم اگست ؍۲۰۱۹ کو پارلیمنٹ میں انسداد طلاق ثلاثہ بل پاس کروایاتھا ، اور ابھی حال ہی میںیکم اگست ؍۲۰۲۱ کو اس تاریخ کو”مسلم خواتین کے حقوق کا دنـ” کے طور پر بھی منایا ہے ، گویا اس نے اس بل کو پاس کرواکر صدیوں سے ظلم و بربریت کا شکار چلی آرہیں مسلم خواتین کو ابدی نجات دلوادی تھی۔ لیکن حیرت ہے کہ خود ملک کی راجدھانی اور دارالسلطنت دہلی میں دہلی پولس ڈیفینس میں خدمات انجام دے رہی ۲۱ سالہ سب انسپکٹر صبیحہ سیفی کے ساتھ چار انسان نما درندوں نے نہ صرف جنسی زیادتی کی بلکہ اس کی اجتماعی عصمت ریزی کے بعداس کے جسم کے نازک حصوں کو چاقو سے کاٹ ڈالا، اور پھر بڑی درندگی کے ساتھ اس معصوم کو قتل بھی کردیا۔ اس دلخراش سانحے پر نہ میڈیا میں کوئی ہلچل پیدا ہوئی اور نہ ہی یومِ حقوقِ مسلم خواتین منانے والوںکے کانوں پرکوئی جوں رینگی، جبکہ دہلی کا لاء اینڈ آرڈر "یوم حقوقِ مسلم خواتین ” منانے والی اور پارلیمنٹ میں طلاقِ ثلاثہ بل پاس کرانے والی اسی حکمران جماعت ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس زعفرانی حکومت نے دیگر اور اداروں کی طرح میڈیا کو بھی پوری طرح ـ "زعفران زار” بنادیا ہے ۔

          اتفاق سے اس سانحے کے ایک ہی دو دن بعد ایک معروف ٹی وی ایکٹر کا حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا اور وطنِ عزیز بھارت کا پورا میڈیا اس واقعے کے ایک ایک گوشے اور پہلو پر روشنی ڈالنے کے کارِخیر میں لگ گیا۔سب انسپکٹر صبیحہ سیفی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے سانحے کو جس میں ظلم و زیادتی اور حیوانیت و بربریت کی تمام حدیں پار کردی گئی تھیں، نظر انداز کرکے میڈیا کا کسی شخص کی طبعی موت کو لے کر دن بھر ہنگامہ برپاکرنے کو صحافتی اقدارسے بغاوت اور اخلاقی دیوالیہ پن کے علاوہ کیا کہا جائیگا۔ نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری دنیا میںروزانہ  لاکھوں لوگ حرکتِ قلب کے بند ہوجانے سے موت کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک معمول کی بات ہے، لیکن محض اس وجہ سے کہ فوت شدہ شخص کا تعلق شوبز سے ہے ،وہ ایک فلمی ستارہ ہے، اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد معاشرے میں موجود ہے ، اس کی خبر کو نشر کرنے سے چینل کی ٹی آر پی بڑھ سکتی ہے ،تمام چینل اس کو نشر کرنے میں لگ گئے۔ پتہ نہیں گودی میڈیا اس منافقت کو کب چھوڑیگا؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حادثات و واقعات کو مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھنا اورانہیں زہرآلود نفرت بھرے انداز میں بیان کرنا گودی میڈیا کے لیے صحافت کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ کورونا کے پہلے مرحلے میں تبلیغی جماعت کو لے کر میڈیا کی زہر افشانی اور دوسرے مرحلے میں کمبھ کے میلے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت پر اس کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے ۔

           موجودہ دور میں ہمارے سماج اور معاشرے میں کسی بھی اہم واقعے یا سانحے کو اجاگر کرنے یا دبانے میں میڈیا کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے ، میڈیا کا رویہ اگر مثبت ہو تو بہت سے مسائل فوری بنیاد پر حل ہوسکتے ہیں لیکن اگر میڈیا کا رویہ منفی ہو یا محض تماشائی کا ہو تو پھر بہت سے معاملات نہ صرف سردخانوں میں چلے جاتے ہیں بلکہ بگاڑ کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ہمارے وطن عزیز کی میڈیا میں پڑوسی ممالک اور بیرونی اقوام کے سیاسی اتھل پتھل کو لے کر شوروغوغا کرنے اور ڈیبیٹ کرنے کی ہُوڑ لگی ہوئی ہے ، اور اپنے ہی ملک کے بنیادی مسائل ، عوام کی پریشانیوں، مہنگائی کی مار، کسانوں کی بے بسی، پسماندہ طبقات کے استحصال ، جنسی زیادتیوں جیسے انتہائی اہم مسائل سے چشم پوشی و پہلوتہی کرنا عام بات بنی ہوئی ہے ، ان حالات میں ہماری اپنی بے حسی اور خاموشی بھی کسی قیامت سے کم نہیں ، ہم میں سے ہر شخص حالات سے باخبر ہوتا ہے بلکہ حل بھی جانتا ہے لیکن اس کو حل کرنے کے لیے کوئی ایک شخص بھی  قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ حالات یہ کہ رہے ہیں کہ یہ وقت عہد کہن کے قصوں اور ماضی کی داستانوںسے لطف اندوز ہونے اور اسلاف کے کارہائے نمایاں پر محض فخر کرنے کی بجائے میدان عمل میں کود پڑنے اوراپنے مسائل کو قانونی و دستوری دائروں میں رہتے ہوئے حل کرنے کا ہے۔

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ، ہونے والا ہے

دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

یہ خاموشی کہاں تک؟  لذّتِ فریاد پیدا کر

زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔